6

بخار اور اس کا آسان گھریلو علاج

بخار بذات خود کوئی مرض نہیں ہے بلکہ امراض کی علامت ہے۔ جسم میں گرمی کا بڑھ جانا بخار کہلاتا ہے۔ مگر جسم میں گرمی کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں انہیں سے بخار کی کیفیت میں بھی فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے انہیں مختلف صورتوں میں دیکھا جاتا ہے اور ان کے نام بھی الگ الگ ہیں۔ ان کی تشخیص میں کوئی دقت نہ آئے اور ان کا علاج بھی اچھی طرح سے ہوسکے۔ ایسے بخار کی ۶۴ اقسام ہوتی ہیں لیکن یہاں انہیں کا ذکر مقصود ہے جو عوام کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ تر کھانے پینے کی بدپرہیزی سے ہوتا ہے اس کے علاوہ کچھ اثر ماحول کا بھی ہوتا ہے۔

ملیریا کا بخار

ایلوپیتھی کا نظریہ ہے کہ ملیریا بخار مچھروں سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن دیسی طریقۂ علاج کے نقطۂ نظر سے ملیریا کو آیوروید میں وشم بخار یعنی موسمی بخار یا فصلی بخار کہا جاتا ہے، اس کا اثر پانچ طریقوں سے ہوتا ہے۔ (۱) مسلسل بخار ہونا (۲) ہر روز بخار اترنا اور چڑھنا (۳) ہر دوسرے دن بخار آنا (۴) ہر تیسرے روز بخار آنا (۵) ہر چوتھے روز بخار ہونا۔

اس بخار کی عموماً تین کیفیات ہوتی ہیں (۱) سردی لگنا (۲) بخار آنا (۳) پسینہ آنا۔

علامات: سردی لگ کر کپکپی ہوتی ہے۔ سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ بخار ۱۰۱ سے ۱۰۷ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ تین چار گھنٹے بعد پسینہ کے ساتھ بخار اتر جاتا ہے۔

وجہ :جس طرح ہیضہ، پلیگ اور چیچک وغیرہ امراض کے جراثیم ہوتے ہیں۔ ملیریا بھی خون میں ایک قسم کے جراثیم کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ ملیریا کے جراثیم انتہائی لطیف ہوتے ہیں۔ یہ جراثیم اینوفلیس نامی مچھر یا ملیریا کے مریض کے جسم میں ملتے ہیں۔ یہ لطیف جراثیم انسانی جسم میں داخل ہوکر اپنی نسل بڑھانے میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اسی بخار کو ملیریا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ بخار کسی بھی موسم میں ہوسکتا ہے لیکن برسات میں نظام ہاضمہ سست ہوجانے کی وجہ سے امراض کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔ کیونکہ اس وقت آب و ہوا آلودہ ہوجانے کی وجہ سے یہ وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی خاص تشخیص یہ ہے۔ یہ بخار پسینہ آکر اترتا ہے۔ سردی کے ساتھ چڑھتا ہے۔

آسان گھریلو علاج

سب سے پہلے مریض کو ہلکا جلاب دے کر اس کا پیٹ صاف کیجیے۔ دس تلسی کے پتوں کا کاڑھا بنائیے۔ اس میں سیندھا نمک اور کالی مرچ پیس کر ملا دیجیے اس کو دن میں تین چار مرتبہ پیجئے۔ دو خشک نیم کی پتیاں پیس کر ایک سے تین گرام کی مقدار میں گرم پانی کے ساتھ دن میں تین مرتبہ لیجیے۔ دوا تین ماشہ پان کے چونے کو پانچ تولہ پانی میں گھولیے، اس میں ایک لیموں کا رس ڈالیے تھوڑی دیر بعد نتھرا ہوا پانی مریض کو اس وقت پلائیے جب بخار سردی کے ساتھ چڑھنے والا ہو یہ دوا چوتھا بخار ہے جوچوتھے روز آنے والے بخار تک کرتے رہیے۔ یہ خاص طور پر مفید ہے۔ دوا نیم کے اندر کی چھال کو سکھا لیجیے۔ اسے کوٹ کر پیس لیجیے اس کا دو ڈھائی گرام سفوف گرم پانی کے ساتھ لیجیے۔

بچاؤ :ہر روز تلسی کے تین چار پتے کالی مرچ کے تین چار دانوں کے ساتھ چبا کر کھانے سے ملیریا سے بچا جاسکتا ہے۔ مارچ، اپریل اور اگست،ستمبر کے مہینوں میں نیم کی کونپل صبح چبا کر کھانے سے ملیریا بخار نہیں ہوتا۔ مکان کی صفائی رکھیے گندھک اور کگل کی دھونی مکان میں دیجیے۔ نیم کی پتیاں جلائیے۔ اس کے دھوئیں سے تمام مچھر بھاگ جائیں گے۔

ٹائیفائیڈ (معیادی بخار)

یہ بخار کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اسے موتی جھارا بھی کہتے ہیں۔ اس بخار میں مریض کے جسم پر موتی جیسے چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں۔ معیادی بخار اس بخار کی بھی معیاد مقرر ہوتی ہے یہ اکیس روز، ایک ماہ یا دو ماہ کی ہوتی ہے۔ اسی لیے اسے معیادی بخار کہتے ہیں۔

آنتوں کا بخار

یہ مرض انہیں لاحق ہوتا ہے جو صفائی نہیں رکھتے۔ گندگی کی وجہ سے کئی جراثیم جسم میں داخل ہوجاتے ہیں کہ وہ چھوٹی آنت میں پہنچ کر وہاں زخم بنادیتے ہیں۔ آنتوں میں زخم کی وجہ سے اسے آنتوں کا بخار بھی کہتے ہیں۔

تیمارداری: اگر مریض کی پوری تیمارداری کی جائے تو اس کا جسم صاف شفاف اور صحت مند ہوکر کایا کلپ ہوجاتی ہے۔ ورنہ یہ مریض کو زندگی بھر پریشان کرتا ہے۔

علامت:اس بخار میں صبح شام کے درجہ حرارت میں ایک یا دو ڈگری کا فرق رہتا ہے۔ دو تین روز بعد بخار تیز ہوجاتا ہے اور ۱۰۴ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور بخار کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس بخار کا درمیان میں اترنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ بخار کی گرمی سے دانوں کو ڈھلنے میں آسانی رہتی ہے۔

تنبیہ:اس مرض میں زیادہ دست ہونا، دست میں خون آنا، پیٹ کا پھولنا، بخار کا ایک دم اترنا، بخار کے بگڑنے کی علامات ہوتی ہیں۔

صحت بخش غذا: ابلے ہوئے پانی میں لونگ ڈال کر دینا چاہیے۔ رقیق غذا دی جانی چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ اناج بالکل نہ دیں۔ صرف پپیتا، چیکو، موسمبی کا رس، ناریل کے پانی کو گرم کرکے پلائیے۔ انہیں گرم پانی میں ابال کر اور رس کو گرم کرکے دیجیے۔ گائے کا ہلکا دودھ دیجیے۔ لیکن دودھ تازہ ہونا چاہیے۔ اس مرض میں چائے کافی مفید ہے پانی زیادہ مقدار میں دینا چاہیے تاکہ پیشاب زیادہ آکر بخار کی شدت کو کم کردے، صفائی کا پورا دھیان رکھنا چاہیے۔

آسان گھریلو علاج:دوا: گولر کے دودھ کو پانی میں ابال کر پلانا چاہیے۔ دبے ہوئے دانے باہر آجائیں گے۔

دوا: برہمی وٹی کی ایک گولی دو لونگ اور چار تلسی کے پتے انہیں پانی میں گھس کر گرم کرکے دیجیے جسے اگھاسا کہتے ہیں۔ اس مرض میں دوا کی نہیں پرہیز کی زیادہ ضرورت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹرعبدالجبار

تبصرہ کیجیے