4

امتحان سے پہلے خود اپنا امتحان لیں

نام : مریم فاطمہ٭

اسکول کا نام : کانونیٹ آف جسس اینڈ میری

حاصل شدہ نمبر : %۹۰ (نوّے فیصدی)

درجہ : دسویں بورڈ

………………

س: آپ اس کامیابی کو کس طرح دیکھتی ہیں؟

ج: یہ ایک تسلی بخش نتیجہ ہے۔ اس کے لیے میں خدائے واحد اور اپنے والدین کی ممنون و مشکور ہوں۔ میں نے جو نشانات طے کیے تھے اس میں مجھے بہت حد تک کامیابی ملی۔

س: آپ کی اس کامیابی کا راز کیا ہے؟

ج: کلاس میں سنجیدگی، مستقل مزاجی، خود اعتمادی، لگاتار سبق کو دوہرانا یہ چند چیزیں ہیں جس کو میری کامیابی کا راز کہا جاتا ہے۔

س: آپ کی اس کامیابی میں آپ کے والدین اور دیگر خویش و اقارب کا کیا حصہ ہے؟

ج: میرا یہ ماننا ہے کہ والدین کے مدد کے بغیر یہ کام مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ میں ممنون و مشکور ہوں اپنی والدہ محترمہ کی جنھوں نے مجھے سوشل اسٹڈیز پڑھائی اور اسی مضمون میں میں نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ والد محترم نے بھی تمام تر مصروفیات کے باوجود اپنی پوری شفقت و محبت کے ساتھ ہماری تعلیم میں دلچسپی جگائی۔

س: سنجیدہ تیاری کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟

ج: سنجیدہ تیاری کے لیے وقت کی تقسیم بہت ضروری ہے۔ کلاس میں پڑھائے گئے اسباق کا رویزن (۲ گھنٹے) ریاضی کے لیے ۲ گھنٹے اور اسی طرح دیگر مضامین کے لیے ۲، ۲ گھنٹے روزانہ صرف کرنا کافی ہے۔ لیکن یہ تمام چیزیں سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ہوں۔

س: کیا آپ اپنے روزانہ کے معمول پر روشنی ڈال سکتی ہیں؟

ج: پری بورڈ سے پہلے میرا رویہ بالکل نارمل تھا لیکن پری بورڈ کے بعد میں نے اپنے معمول کو ایک بارپھر سے روائز کیا۔ پری بورڈ کے بعد جو دو تین ماہ کا وقفہ ملا اس میں میں نے فجر کے بعد رویزن کا کام اور اس کے بعد تمام مضامین کی پریکٹس وغیرہ کا کام کیا۔

س: آپ کے مطابق ایک آئیڈیل تیاری میں کیا کیا چیزیں ہونی چاہئیں؟

ج: تمام مضامین پر یکساں توجہ دی جائے۔ سائنس کے مضامین میں پریکٹیکل کا خاص خیال رکھا جائے۔ کیوں کہ پریکٹیکلس میں پورے کے پورے نمبر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ کسی بھی سبق کو اتنی ہی اہمیت دی جائے جتنی کا وہ مستحق ہو۔ یعنی یہ کہ آپ مارکس ڈسٹریبیوشن کے بارے میں بخوبی جانتے ہوں کہ یہ چیپٹر کتنے مارکس کا ہے۔

ٹکسٹ بک کا بغور مطالعہ کریں کیونکہ امتحان میں کچھ چیزوں کو چھوڑ کر، جس کی مقدار ۵ فیصد کہی جاسکتی ہے، کے علاوہ کوئی چیز باہر سے نہیں آتی ہے۔ سابقہ امتحانات کے پرچوں کی مشق بہت ضروری ہے۔ یہ تمام چیزیں متعینہ وقت میں ہوں۔ آپ امتحان دینے سے پہلے خود اپنا امتحان لیں۔

س: آپ کی نظر میں سب سے بڑی غلطی جو آپ نے کی؟

ج: ہندی مضمون سے بے توجہی۔ اس میں جتنی توجہ درکار تھی وہ میں نے نہیں دی۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹی چھوٹی غلطیاں جیسے ایک سوال میں کچھ زیادہ وقت دے دینا وغیرہ کو سب سے بڑی غلطی کہا جاسکتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے ریاضی اور سائنس کے مضامین میں ۱۰۰ میں ۱۰۰ لانے سے روک دیا۔

س: آپ کے مستقبل کا منصوبہ کیا ہے؟

ج: میں نے بائیلوجی کے ساتھ سائنس اسٹریم میں داخلہ لیا ہے اور ابھی سے میڈیکل کی تیاری میں مصروف ہوچکی ہوں اور ایک کامیاب ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔ خدانخواستہ اگر میں میڈیکل نہ کرسکی تو انشاء اللہ صحافت میرا میدانِ عمل ہوگا۔

س: آپ کا گھرانہ تحریک اسلامی ہند کے ممتاز گھرانوں میں سے ایک ہے آپ تحریک اسلامی کو کس طرح تعاون کرنا چاہیں گی؟

ج: دعوتِ دین میری زندگی کا نصب العین ہے اگر میں ڈاکٹر بنی تو خدمتِ خلق کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا کام کروں گی اور اگر صحافی بنی تو اسلام پر اٹھائے جارہے بے جا سوالات کا منہ توڑ جواب دینے کی کوشش کروں گی۔

س: کوئی پیغام جو آپ قارئین حجاب کو (خصوصی طور پر دسویں بورڈ کا امتحان دینے والی طالبات) کو دینا چاہتی ہیں؟

ج: تعلیمی سال کے روزِ اول سے ہی اپنی تیاری شروع کردیں اور اگر آپ نے ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے تو ایک لائحہ عمل تیار کرلیں تاکہ آپ ملت اسلامیہ کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوسکیں۔ہمیشہ ماہر بننے کی کوشش کریں کیونکہ ملت اسلامیہ کا دارومدار ہمیں لوگوں پر ہے۔

٭ مریم فاطمہ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ایڈیٹر ’’افکار ملی‘‘ کی بیٹی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مہتاب عالم

تبصرہ کیجیے