5

ہم نفس (آخری قسط)

یہ دھوپ چھاؤں کا ہے سفر اس میں اپنا ملنا محال سا ہے

مگر مجھے تیرے لوٹنے کا گماں بہت دیر تک رہے گا

ماہ گل اپنی ماں اور بھائیوں تک پہنچ چکی تھی۔ وہ پشاور میں افغان خواتین کی انجمن میں شامل ہوکر ان کے پرچے کی ادارت سنبھال چکی تھی۔

کرنل یاکوف کو امریکہ میں سیاسی پناہ مل گئی تھی اور اب وہ امریکہ جارہے تھے۔ ان کی سیٹ کنفرم ہوچکی تھی۔ ماہ گل نے ایئر پورٹ جانے پر اصرار کیا اور اب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ویگن پر پشاور سے اسلام آباد جارہی تھی۔ پورے سفر کے دوران ماہ گل باوجود کوشش کے کوئی بات نہ کرسکی۔ خاموش آنسو اس کی سیاہ چادر میں جذب ہوتے رہے۔ کرنل کو احساس تھا۔ انھوں نے دو ایک بار مخاطب ہونے کی کوشش کی مگر اس کا حال دیکھ کر اور کوئی جواب نہ پاکر خود بھی خاموش ہوگئے۔ کرنل یاکوف شلوار قمیض اور واسکٹ میں واقعی افغان ہی لگ رہے تھے۔

اسلام آباد میں مقیم ایک افغان فیملی کے ہاں ان کے رات ٹھہرنے کا بندوبست تھا۔ رات کو کھانے کے بعد کرنل نے کہا۔

’’آؤ تھوڑی دیر باہر ٹہلیں۔ پھر صبح تو میں چلا ہی جاؤں گا۔‘‘

وہ دونو املتاس کے درختوں سے گھری سڑک پر ٹہل رہے تھے۔ املتاس کے زرد گچھے چاند کی زرد روشنی میں سونے کے جھمکوں کی طرح دمک رہے تھے۔ ماہ گل کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔

’’جب سے تم پشاور سے چلی ہو ایک لفظ نہیں بولیں۔‘‘

’’کیا بولوں؟ لفظ ہی گم ہوگئے ہیں۔‘‘

’’ناراض ہو۔‘‘

’’اپنے محسن سے احسان فراموش ہی ناراض ہوسکتے ہیں۔‘‘

’’میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔ اپنا ایک قرضہ چکایا ہے۔‘‘

’’چکایا ہوگا۔ مجھ پر تو احسان ہی کیا ہے جو میں زندگی کے آخری سانس تک نہیں بھلا سکتی۔‘‘

’’تم یہ تو جانتی ہو کہ میرا جانا ضروری ہے۔‘‘

’’جانتی ہوں۔‘‘

’’مجھ پر اور بھی کئی قرض ہیں ماہ گل۔ اپنے لوگوں کے، اپنے والدین کے، اپنے قبیلے والوں کے، اپنے وطن کے، اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ مجھے سچائی کی تلاش ہے۔ میں بہت دیر تک دوراہے پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ مجھے بہر حال ایک راستہ چننا ہے۔‘‘

’’آپ کو معلوم ہے کہ راہِ حق کون سی ہے۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے۔ لیکن ابھی یقین نہیں ہے۔ مجھے وقت چاہیے، میں خود تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔ خود کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتا ہوں تاکہ اطمینانِ قلب کے ساتھ راستہ چنوں تاکہ پھر کبھی پچھتانا نہ پڑے۔‘‘

’’میں صدق دل سے دعا کروں گی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حق کی روشنی دکھائے۔‘‘

’’ہاں مجھے تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘‘

’’کیا میں آپ کا انتظار کروں؟‘‘ ماہ گل کے لہجے میں لرزش تھی۔

کرنل کچھ دیر خاموش رہا۔

’’نہیں ماہ گل تم میرا انتظار مت کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے لوٹنے میں دیر ہوجائے یا میں کہیں گم ہوجاؤں، کھو جاؤںیا کسی اور سفر پر نکل جاؤںجہاں سے واپسی نہ ہوسکے۔‘‘

’’مگر میں…… آخری دم تک …… انتظار کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

’’میری خواہش ہے کہ تم اپنے وطن کی آزادی کے لیے کوشاں رہو۔ مجھے پوری امید ہے کہ تم لوگ جلد کامیاب ہوگے۔ پھر تم اپنے وطن لوٹنا، کسی مجاہد کو اپنی زندگی کا ساتھی چن لینا۔ تمہارے جیسی لڑکی کسی مجاہد کا ہی انعام ہوسکتی ہے۔ پھر اپنے وطن کی تعمیر نو کرنا، جدوجہد اتنی جلدی تھوڑی ختم ہوجائے گی۔ توڑ پھوڑ آسان ہوتی ہے تعمیر جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ سردیوں کی شاموں میں آتشدان کے پاس بیٹھ کر جب تم اپنے منے منے بچوں کو وطن کے جیالوں کی کہانیاں سنایا کرو گی تو چاہو تو میرا ذکر بھی کردینا کہ ایک ایسا شخص بھی تھا جو تمہاری وجہ سے شاید جادۂ حق پر گامزن ہوگیا تھا۔‘‘

’’اور آپ کیا کریں گے۔‘‘ ماہ گل کی آواز آنسوؤں کی نمی سے بھیگی ہوئی تھی۔

’’میں؟ اصل میں تمہارے مستقبل کی تصویر بالکل واضح ہے۔ مگر اپنے بارے میں سچ پوچھو تو میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ ایک خلا سا ہے۔ بہر حال اس خود آگہی کے سفر میں اگر میں کامیاب ہوگیا اور زندہ رہا تو شاید کسی دور افتادہ بستی میں کچھ بچوں کو یہ کہانی سناؤں۔۔۔‘‘

ماہ گل نے بات کاٹی ’’کس کے بچوں کو۔‘‘

’’بھئی کسی کے بھی، دوستوں کے، اپنے شاگردوں کے۔‘‘

’’یہ شاگرد کہاں سے آگئے؟‘‘ ماہ گل کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔

’’شاگرد، وہ اس طرح کہ میں سوچ رہا تھا کہ آئندہ کون سا پیشہ میرے لیے مناسب رہے گا تو یہی خیال آیا کہ بچوں کو پڑھاؤں گا۔ کیوں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘

’’بہر حال ان بچوں کو آپ کچھ بتانے والے تھے۔‘‘

’’ہاں میں ان بچوں کو یہ بتاؤں گا کہ ایک سبز آنکھوں والی شہزادی تھی، جس کو وہ ہندوکش کے پہاڑوں میں کچھ دیوزادوں نے قید کرلیا تھا۔ ایسی ہی ایک شہزادی بہت عرصہ پہلے بھی قید ہوئی تھی۔ سائیبریا کے برفانی صحرا میں۔ اور وہ وہیں سسک سسک کر دم توڑ گئی تھی۔ یہ ازل سے ہوتا آیا ہے کہ آدم خور ہمیشہ ایسی معصوم اور پاکباز شہزادیوں کا پیچھا آدم بو، آدم بو کا نعرہ لگاتے ہوئے کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان میں انسانیت کی خوشبو ہوتی ہے جو آدم خوروں کو اچھی نہیں لگتی۔‘‘

’’بس کہانی ختم ہوگئی؟ ان بچوں کو یہ نہیں بتائیں گے کہ پھر کوہ قاف کا ایک شہزادہ آیا اور اس نے اس شہزادی کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جاین جوکھوں میں ڈال دی اور بالآخر اسے آزاد کرالیا۔ مگر اس کے بعد آنسوؤں کے سمندر میں ایک جدائی کا جزیرہ تھا اس میں قید کرکے خود چلا گیا۔ کیونکہ وہ شہزادی کو اپنے لائق نہیں سمجھتا تھا۔ آخر کوہ قاف کا شہزادہ تھا اور وہ تھی بے چاری دشت مارگو کی خانہ بدوش جلا وطن لڑکی۔

’’ایسی باتیں نہیں کرتے ماہ گل۔ تم تو سمجھدار لڑکی ہو۔ بات یہ ہے کہ میں خود کو تمہارے لائق نہیں سمجھتا۔ ایک گناہگار اور بھٹکا ہوا راہی ہوں۔ میں تمہاری پرستش تو کرسکتا ہوں مگر خواہش نہیں۔ البتہ تمہاری صورت میرے دل کے ایوان میں ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔‘‘

’’تو گویا آپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس زندگی میں ہم کبھی نہیں مل سکیں گے۔ چلئے کوئی بات نہیں۔ یہ دنیا تو محض ایک عارضی ٹھکانہ ہے اور یہ زندگی بہت ہی ناپائیدار ہے یہاں کا ساتھ بھی چند روزہ ہوتاہے۔ اس کے بعد ہمیشہ کی زندگی ہے۔ ساتھ تو وہاں ہونا چاہیے۔ میں وہاں آپ کو اپنے رب سے مانگ لوں گی۔ پھر وہاں آپ مجھ سے اپنی جان نہ چھڑا سکیں گے۔‘‘

کرنل بے ساختہ ہنس پڑا۔ حالانکہ اس کی اپنی آنکھوں کے کونے بھیگے ہوئے تھے۔ کرنل نے شوخی سے پوچھا:

’’یہاں جو زندگی کا ساتھی ہوگا اسے وہاں چھوڑ دوگی؟‘‘

’’یہاں زندگی کا ساتھی وہ چاند ہوگا جس کی چاندنی میں ہم نے سفر کیا۔ وہ تارے ہوں گے جو ہمارے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ رات کی وہ ہوا ہوگی جو ہمارے کپڑوں میں سرسراتی تھی۔ ہماری سانسوں میں اترتی تھی۔ وہ راہ گزاریں ہوں گی جن پر ایک ساتھ ہم چلتے رہے۔ آپ کو نہیں پتہ ہم لوگ موحد ہیں ہم کسی معاملے میں شرک نہیں کرتے۔‘‘

’’انسان کو جذباتی نہیں، حقیقت پسند ہونا چاہیے۔‘‘

’’اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی میں خود مجاز ہوں۔کوئی اور اپنے فیصلے مجھ پر نہیں تھوپ سکتا۔ رہی آپ کی بات تو میں آپ سے تو کچھ نہیں مانگ رہی اور نہ آپ کی راہ میں حائل ہورہی ہوں۔ آپ اپنے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۔ میری دعائیں البتہ ہمیشہ آپ کا پیچھا کرتی رہیں گی۔‘‘

کرنل خاموش رہا۔

’’آپ کو معلوم ہے آپ کا اصل نام کیا ہے۔‘‘

’’کیا ہے؟‘‘

’’یعقوب، آپ کی والدہ نے مسلمانوں کے عظیم پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام کے نام پر آپ کا نام رکھا ہوگا۔ ان کے بیٹے کا نام یوسف علیہ السلام تھا۔

’’اچھا؟‘‘

’’غم دوراں نے اگر فرصت دی تو اپنے ننھے یوسف اور اس کی ماں کے ساتھ آزاد اسلامی جمہوریہ افغانستان ضرور آئیے گا اور ہمیں اپنی میزبانی کا شرف بخشئے گا۔ ہوسکتا ہے اس وقت تک میرے بالوں میں چاندی جھلملانے لگے اور میں سچ مچ اس کی دادی کی مانند لگنے لگوں۔‘‘

’’شاید میں پہلے ہی آجاؤں۔ آنے والوں وقتوں کے بارے میں کون جان سکتا ہے؟‘‘

’’اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس نے جو فیصلہ میرے لیے روز اول لکھا تھا وہی میرے لیے درست ہوگا۔ میں اس کے فیصلے کی منتظر رہوں گی اور میں اب آپ کو یہاں خدا حافظ کہتی ہوں۔ میں صبح نہ ایئرپورٹ جاسکوں گی نہ مل سکوں گی، آپ کو اللہ کی امان میں دیتی ہوں۔‘‘

ماہ گل کی دھڑکنیں کہہ رہی تھیں ’’الوداع اے میرے ہم نوا، اے میرے ہم نفس الوداع‘‘ ماہ گل گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔ کرنل یعقوب کی آنکھوں کی نیلاہٹوں میں آنسوؤں کے ستارے جھلملارہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی