6

میں پردہ کیوں کرتی ہوں؟

میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں۔ لہٰذا لڑکوں سے سامنا ہوتا رہتا ہے۔ پردہ کے بغیر لڑکوں کے جھرمٹ سے نکلنا میرے لیے سب سے مشکل کام تھا۔ جب سڑک پر چلتی تو بہت سے لوگوں کی نظروں کا شکار بنتی تھی۔ دوپٹہ کو اچھی طرح سے لپیٹ لینے پر بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جب سے میں پردہ کی پابند ہوئی ہوں، اس وقت سے میرے اندر ایک طرح کی خود اعتمادی اور ہمت پیدا ہوگئی ہے۔ اب میں لڑکوں کے درمیان سے بلا جھجک نکل جاتی ہوں۔ اور لوگوں کی گندی نظروں سے محفوظ رہتی ہوں۔ تمام لوگوں اور عزیزوں نے میرے اس فیصلہ کو بہت سراہا۔ اور حوصلہ افزائی کی۔ پردہ سے نہ صرف ہم لوگوں کی نظروں سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ دھول، آلودگی، دھواں اور سورج کی مضر تپش سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ یہ فرمان الٰہی ہے اور اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہم لوگ فلاح پاسکتے ہیں۔

ناہید سلطانہ، آکولہ

آج سے بیس سال پہلے کی بات ہے میں نے جب ساتویں جماعت کامیاب کرلی تو میرے والد نے میری تعلیم رکوادی لوگوں نے دریافت کیا تو بولے ’’آج کل کا ماحول خراب ہے لڑکیوں کو اردو پڑھنا آجائے، خط و کتابت آجائے بس اتنا ہی کافی ہے۔‘‘

مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا میں نے ضد کی کہ آگے پڑھنا ہے اور میری تمام سہیلیاں بھی تو آگے تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ پھر ہمارے والد صاحب نے یہ شرط رکھی کہ اگر برقع پہن کر جاؤ گی تو تعلیم آگے بڑھ سکتی ہے میں نے فوراً یہ شرط منظور کرلی۔

مگر جب پہلی بار برقع پہنا تو میری سہیلیوں نے میرا مذاق اڑایا اور مجھے بھی کچھ عجیب سا لگا۔ کیونکہ صرف میں ہی اکیلی پردہ کررہی تھی اور چہرے پر نقاب ڈالنے سے اندھیرا اندھیرا لگتا تھا۔ مگر ہفتہ بھر میں ہی مجھے نقاب اپنا محافظ لگنے لگا۔ راستے کے جو آوارہ لڑکے کوئی بے ہودہ فقرہ کستے تو میری سہیلیاں ہنس دیتیں اور اس سے ان کی ہمت اور بڑھ جاتی تھی مگر میں نقاب کے اندر ہوتی اس لیے محفوظ رہتی۔

بعض اوقات ان کے بے ہودہ مذاق کی وجہ سے وہ ان سے الجھ بھی جاتیں تھیں اور میں چپ چاپ وہاں سے نکل جاتی۔ اور وہ بے پردگی کی سزا بھگت کر آتیں۔ اور روز آنے جانے میں ان لوگوں کے لیے ٹینشن ہوتی تھی۔ وقت الگ خراب ہوتا تھا اور میں محفوظ اور باعزت طریقہ سے آتی جاتی تھی۔

جب پردے کی اہمیت سمجھ میں آئی تو اب اس کو چھوڑنے کا خیال بھی نہیں آتا اور پردے سے انسیت ہوگئی ہے۔ اب مطالعہ کے بعد تو اللہ کی مرضی کا حصول اور رسول کے طریقہ کی پیروی کا جذبہ الگ سے پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ یہی فلاح کا راستہ ہے۔

فرہین شاہد

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے