2

آزادیٔ نسواں پر ایک نظم

۱۹۳۷ء؁ میں پٹنہ یونیورسٹی سے میٹرک پاس کرنے کے بعد کالج کی تعلیم (۱۹۳۷ء-۱۹۴۳ء) اور پھر سرکاری ملازمت (۱۹۴۴ء-۱۹۸۰ء) کے دوران ملک کے مشہور ادبی رسالوں اور اب سے ساٹھ، ستر، اسی سال پہلے شائع تنقیدی کتابوں سے اقتباسات اور مشہور نظمیں نوٹ کرنا میری عادت تھی۔ ایسی میری پچیس کاپیاں ہیں جن کی مجموعی ضخامت ۵۸۴۲ صفحات ہے۔

ان ہی کاپیوں میں ۱۹۶۱ء؁ کی نوٹ کی ہوئی امین حزیں سیالکوٹی کی آزادیٔ نسواں پر ایک نظم ہے جو دہلی سے شائع ہونے والا مشہور زمانہ رسالہ ’’ساقی‘‘ کے شمارہ بابت نومبر ۱۹۴۵ء؁ میں شائع ہوئی تھی۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد انگریزی تعلیم کے زیر اثر آزادی نسواں نے تو تحریک کی شکل اختیار کرلی مگر اس نظم کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ قبل آزادی بھی آزادیٔ نسواں معاشرہ میں بہت ہی اونچے طبقوں میں سرایت کرچکی تھی مگر بہت دھیمے سروں میں چونکہ یہ غلامی کا دور تھا اور فرنگیوں کی حکمتِ عملی بقول اقبال یہ ہمیشہ رہی ہے کہ ؎

میخانۂ یورپ کے انداز نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول، دیتے شراب آخر

ہندوستان آزاد ہوا۔ آزادیٔ نسواں کا سرور انگریز پہلے لاچکے تھے۔ جاتے وقت بوتل تھماگئے۔

آئیے اب سے قریب چھپن سال قبل کی اس نظم کی یاد تازہ کریں گرچہ جہاں تک آزادیٔ نسواں کا سوال ہے پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے۔

تری غیرت کو آخر ہوگیا کیا؟

بظاہر تھی تو مشکل یہ پہیلی

جو یوں تشہیر حسنِ زن کی سوجھی

مگر تو نے کہی اور میں نے بوجھی

سرافنگدہ نقابی عورتوں کی

سرِ رہ خمکدے لٹتے نہیں کیا؟

نہیں کیا دعوتِ نظارئہ عام؟

دئے جاتے نہیں کیا جام پر جام؟

کہیں برقِ تبسم گر رہی ہے

جواں کیا، پیر کیا، سارے کے سارے

کہیں کھجتی ہیں ابرو کی کمانیں

ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں جانیں

بھڑکنا چاہیے شعلہ ہوس کا

اٹھے جذبات کا طوفاں نہ کیونکر

ہوا زلفِ پریشاں دے رہی ہے

گریبانوں میں ہلچل موج کی ہے

کبھی سوچا بھی تو نے نصف بہتر؟

بظاہر درسِ آزادی، بباطن

چلی ہے مرد نے کیوں یہ نئی چال

تری فطرت ہوئی جاتی ہے پامال

یہ بربادی ہے آزادی نہیں ہے

جوانی کی کرشموں پر نہ اترا

غم جاں سوز ہے، شادی نہیں ہے

یہ نخچیری ہے صیادی نہیں ہے

کہیں ’’زینہ ترقی کا‘‘ ترا نام

ترے پیچھے پڑے سب ہاتھ دھوکر

کہیں مشہور ہے تو ’’زندہ ڈالی‘‘

بنی تو جب سے ہر بیگن کی تھالی

ہوس رانی کا یہ ’’شوقِ تنوع‘‘

جبھی تو گھاٹ کی ہے اور نہ گھر کی

ڈبو دیتا ہے آخر زن کی لٹیا

نئی تہذیب کے ’’دھوبی کی کتیا‘‘

زباں کٹتی ہے اس کے تذکرہ پر

امیںؔ! کس نے کبھی دیکھی سنی تھی

جو درگت مرد نے ان کی بنائی

یہ بھیڑوں، بھیڑوں کی آشنائی

شیئر کیجیے
Default image
محمد بدیع الزماں، پٹنہ

تبصرہ کیجیے