3

بچے کا دودھ چھڑانا

بچہ کا دودھ چھڑانا ایک بڑا بھاری مرحلہ ہے۔ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ماں اپنے سینہ پر کڑوی چیزیں لگاکر اسے ڈھک دیتی ہے۔ اسے یقین دلانا چاہتی ہے کہ اب یہ دودھ جو تمہاری بہترین اور عمدہ غذا تھی، کڑوی ہو چکی ہے۔ بچہ کو بے حد صدمہ پہنچتا ہے۔ پھر اس کو اپنے سے علیحدہ کرلیا جاتا ہے، اس سے بچہ کو دوہرا دکھ پہنچتا ہے کہ دودھ تو چھٹا تھا، شفیق ماں کی محبت سے بھی محروم ہوگیا۔ ہم لکیر کے فقیر ہی چلے آرہے ہیں اور کوئی آسان طریقہ تلاش نہیں کرتے۔

آئیے ہم آپ کو بہت آسان طریقہ بتاتے ہیں۔ ایسا کیجیے کہ دودھ چھڑانے سے کچھ عرصہ پیشتر ہی دودھ کی خوراک کی مقدار گھٹانی شروع کردیں، کوئی ہلکی خوشبودار اور بچہ کی پسندیدہ چیز اس خوراک کے وقت پر کھلادیں۔ کچھ دنوں بعد اپنے دودھ کی ایک اور خوراک کم کردیں۔ اور اس کی خانہ پری کسی اور اچھی سی چیز سے کردیں اسی طرح آہستہ آہستہ دودھ کی خوراک گھٹاتے گھٹاتے دودھ کی خوراکیں ختم کردیں اگر پہلے دودھ چھ خوراک بچہ پیتا تھا، پھر پانچ، پھر چار، آخر سب خوراکوں کی جگہ دوسری چیزیں لے لیں گی تومختلف چیزوں کا مزہ پڑتا جائے گا اور دودھ چھٹتا چلا جائے گا اور بچہ کو دودھ چھٹنے کا احساس بھی نہ ہوگا۔

بوتل بھی اسی طرح چھڑائی جاسکتی ہے۔ جب تک بچہ بوتل نہیں چھوڑے گا، وہ ذمہ دار نہیں بن سکتا۔ ایک بچہ کی ماں نے بوتل چھڑانے کے لیے یہ تدبیر کی کہ وہ گھر کی پیالیوں سے بالکل مختلف پیالی خرید کر لائی۔ اس پیالی کے اندر بڑا خوبصورت پھول تھا، وہ بچہ سے کہتی کہ یہ پیالی تمہارے لیے اللہ میاں نے بھیجی ہے۔ دیکھو تم پیالی میں سے سارا دودھ پی لو گے تو نیچے سے پھول نکل آئے گا۔ ایک دو خوراکیں بوتل کی اس نے اس طرح دیں اور ایک اور اس سے مختلف پیالی لے آئی۔ ایک دو خوراکیں دوسری پیالی سے پھر عمدہ سے عمدہ خوبصورت اور مزیدار چیزیں تیار کرکے کھلانی شروع کردیں۔ مثلاً ایروروٹ یا ساگوانہ تیار کرکے اس میں کیوڑہ یا کوئی ایسنس ڈالتی اور خوبصورت طشتری میں جماکر اوپر چاندی کا ورق لگادیتی، کشمش یا باریک کترا ہوا پستہ سے پھول بنادیتی، یا چاکلیٹ اور رنگین آئس کریم سے پھول بنادیتی۔ یا کسی چیز پر مربہ کتر کر خوبصورتی سے سجا دیتی۔ بس اس طرح بچہ کو صدمہ پہنچائے بغیر بوتل چھڑا دی گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
بیگم عبدالغنی