4

تین بڑی حقیقتیں

عن ابی ہریرہؓ ان رسول اللہ ﷺ قالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰہُ عَبْداً بِعَفْوٍ اِلَّاعِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہٗ اللّٰہُ۔ (مسلم)

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صدقہ کسی کے مال کو کم نہیں کرتا اور عفو و درگزر سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت دیتا ہے اور جو بندہ اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سربلندی سے نوازتا ہے۔‘‘

اسلام نے مسلمانوں پر زکوٰۃ کا جو نظام عائد کیا ہے وہ اپنی افادیت اور معنویت کے کے لحاظ سے بہت عظیم ہے لیکن اسلام اپنے ماننے والوں میں جو اسپرٹ پیدا کرنا چاہتا ہے اس کی رو سے صرف زکوٰۃ کی ادائیگی ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر نیکی کمانے کا اہم ذریعہ اور سجھایا گیا ہے اور وہ صدقہ ہے۔ یہ وہ انفاق ہے جو خوش دلی سے رضائے الٰہی کے لیے دیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کے سلسلہ میں تنگ دل اور دولت پرست لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس سے مال میں کمی آتی ہے۔ اس حدیث میں اسی غلط خیال کی اصلاح کی گئی ہے۔

حدیث کے دوسرے ٹکڑے میں ایک بڑی سماجی اور معاشرتی خوبی کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ عام طور سے یہی دیکھا جاتا ہے کہ دو بندگانِ خدا جب باہم جھگڑا کرلیتے ہیں تو انتقامی کارروائی کو دراز کرتے اور جذبہ عفو و درگذر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ ایسے موقعہ پر عفو و درگزر سے کام لیں تو دونوں فریق بڑی مشکلات سے بھی بچ جائیں اور باہمی تعلقات بھی درست رہیں۔ جو ایک مستحکم اور صحت مند سماج کے لیے بھی ضروری ہے دنیاوی و اخروی لحاظ سے مزید عزت و سربلندی کا ذریعہ ہے۔

اس حدیث کا آخری حصہ یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی بندہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر تواضع و خاکساری اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند کردیتا ہے۔

اگر بندہ اس عظیم حقیقت کا ادراک کرلے تو نخوت اور تکبر کو چھوڑ کر انکساری کو پسند کرنے لگے گا ۔ مگر یہ چیزبلند سوچ اور نہایت وسیع القلب لوگوں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسلام عمری

تبصرہ کیجیے