2

ایک وسیع القلب اور قناعت پسند صحابیہ حضرت امِّ دحداحؓ

حضرت ام دحداحؓ مشہور صحابی حضرت ابو الدّحداح ثابتؓ بن دحداح انصاری (شہیدِ احد) کی اہلیہ تھیں۔ دونوں میاں بیوی جوشِ ایمان اور اخلاصِ عمل کے اعتبار سے اپنی نظیر آپ تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب سورۃ الحدید کی یہ آیت نازل ہوئی مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے) تو حضرت ابو الدحداحؓ رسولِ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’ہاں اے ابوالدحداح!‘‘ حضرت ابو الدحداحؓ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ ذرا اپنا ہاتھ مبارک مجھے دکھائیے۔‘‘

حضورؐ نے اپنا دستِ مبارک ان کی طرف بڑھا دیا۔ انھوں نے حضورﷺ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر کہا:

’’یا رسول اللہ میں اپنا باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہوں۔‘‘

یہ باغ جو حضرت ابوالدحداحؓ نے راہِ حق میں صدقہ کردیا، اس میں کھجور کے چھ سو درخت تھے، اسی میں ان کا گھر تھا اور وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ حضورؐ سے یہ بات کرکے وہ سیدھے گھر پہنچے اور اہلیہ (ام دحداحؓ) کو پکار کر کہا: ’’دحداح کی ماں باہر آجاؤ۔ میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔‘‘

حضرت امِّ دحداحؓ بولیں: ’’ابو الدحداح تم نے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اپنا سامان اور بچے لے کر باغ سے باہر آگئیں۔

ایک اور روایت میں جو حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے اس واقعہ کو کسی قدر مختلف صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ’’یا رسول اللہ میں اپنے مکان کی دیوار اٹھانا چاہتا ہوں، بیچ میں فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے، اگر آپ اس سے کہہ دیں کہ وہ یہ درخت مجھے دے دے تو میں اپنی دیوار کی ٹیک اس سے لگا کر دیوار کو بآسانی مکمل کرسکوں گا۔‘‘

آپؐ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تم اپنا وہ درخت اس کو دے دو، اس کے عوض اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں کھجور کا درخت عطا فرمائے گا۔ اس آدمی نے اپنا درخت دینے میں عذر کیا۔ حضرت ابوالدحداحؓ کو معلوم ہوا تو وہ اس شخص کے پاس پہنچے اور اس سے کہا کہ تم اپنا کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے عوض میرا کھجور کا باغ لے لو۔ اس نے یہ بات منظور کرلی۔ اس کے بعد ابوالدحداحؓ حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ میں نے اس آدمی سے وہ کھجور کا درخت اپنے باغ کے بدلے میں خرید لیا ہے، یہ میں آپؐ کی نذر کرتا ہوں آپ اس ضرورت مند کو دے دیجیے۔ یہ سن کر حضورؐ بہت خوش ہوئے اور کئی بار فرمایا: ’’ابودحداحؓ کے لیے جنت میں کھجور کے کتنے بڑے اور بھاری خوشے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابوحداحؓ اپنی اہلیہ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا : ’’ اے ام دحداح اس باغ سے نکل چل، میں نے اس باغ کو جنت کے کھجور کے عوض بیچ ڈالا ہے۔‘‘ بیوی نے کہا : ’’یہ تو بڑا نفع مند سودا ہوا۔‘‘

حضرت امِّ دحداحؓ کے مزید حالات معلوم نہیں ہیں۔ صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابوالدحداحؓ نے صلح حدیبیہ کے بعد وفات پائی، تو اپنے پیچھے کوئی اولاد نہ چھوڑی۔ غالباً امِّ دحداح بھی ان کی زندگی میں وفات پاچکی تھیں کیونکہ حضورؐ نے حضرت ابوالدحداحؓ کا ترکہ ان کے بھانجے حضرت ابولبابہ انصاریؓ کو دیا۔

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی

تبصرہ کیجیے