4

اندھیر

ٹرین میں داخل ہوتے ہی میں نے بیٹھنے کے لیے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن یہاں تو ایک آدمی کی سیٹ پر چار چار لوگ بیٹھے تھے۔ ایسے میں سیٹ پر بیٹھنے کی خواہش محض ایک خواہش تھی جس کا پورا ہونا ممکن نہ تھا۔ چند ہی لمحوں کے بعد کھڑکی کے پاس ایک بیگ نظر آیا اور اس کی جگہ پر بیٹھ رہنے کو عافیت جانا۔ میں فوراً کھڑکی کے پاس پہنچ گیا اور آس پاس بیٹھے لوگوں سے پوچھا کہ یہ بیگ کس کا ہے؟ سب نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میں بیگ کو ہاتھ میں پکڑ کر اسی جگہ بیٹھ گیا۔ تبھی قریب میں بیٹھا ایک شخص بول پڑا: ’’دیکھ لو صاحب کہیں اس میں بم نہ ہو۔‘‘ بم! ہاں کیا بھروسہ آج کل تو لوگ ہوائی جہازوں میں بم رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور بسوں اور ٹرینوں میں تو سیکڑوں لوگوں کی جانیں بم کی نظر ہوچکی ہیں۔ ہاں وہی بم اور میں نے اپنے جسم میں جھرجھری سی محسوس کی۔ ایک خوف سا رگ و پے میں سما گیا اور لرزتے ہاتھوں سے اسے کھولنے لگا۔ آس پاس کے لوگ کچھ سنجیدہ تھے اور کچھ مسکرا رہے تھے۔ اس بیگ میں پھٹی پرانی کتابیں رکھی تھیں۔ ایک صاحب نے کہا ’’کتاب نکال کر دیکھ لو ہوسکتا ہے کوئی نام لکھا ہو؟‘‘ لیکن وہاں کچھ نہ ملا۔اسی وقت بغیر جلد کی کاپی میرے پیر کے پاس گری میں نے اٹھا لیا اور کھول کر دیکھا اس میں لکھا تھا:’’نام راکیش، درجہ :دو، اسکول سرکاری نیپروا۔‘‘

’’اوہ لگتا ہے یہ کسی بچے کا چھوٹ گیا ہے۔‘‘ میری زبان سے بے ساختہ نکل گیا۔ ’’نیپروا کس طرف پڑتا ہے؟‘‘ میں نے پاس میں بیٹھے ایک آدمی سے پوچھا۔ یہ تو یہاں سے پورب کی طرف ہے۔ تبھی گاڑی اسٹیشن پر رکی اور کافی سواریاں اتر گئیں۔ مگر کوئی اس بیگ کو لینے نہیں آیا۔ گاڑی اپنی رفتار سے چلنے لگی۔ اچانک میری نظر ایک بچے پر پڑی جو کھڑکی سے باہر کی طرف جھانک رہا تھا۔ ’’بیٹا تم کس کے ساتھ ہو؟‘‘ قریب میں کھڑے آدمی نے اس سے پوچھا۔ لیکن وہ جواب دینے کے بجائے خوف، حیرت اور مایوسی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کے چہرے کو ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔ ’’کیا تمہیں یہاں اترنا ہے؟‘‘ اس بار اس نے نفی میں صرف سر ہلا دیا: ’’ہوسکتا ہے یہ بیگ اسی بچہ کا ہو‘‘ ایک آدمی کہنے لگا۔

میں نے اس بچے کو بڑے پیار سے اپنے قریب بلا کر پوچھا: ’’بیٹا! کیا یہ بیگ تمہارا ہے؟ اس نے اب کی بار بھی اثبات میں صرف سر ہلادیا۔‘‘

’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

’’راکیش‘‘ اس نے پہلی بار زبان کھولی۔

’’کس کے ساتھ آئے ہو؟‘‘ اس نے گردن جھکالی۔

’’کہاں رہتے ہو؟‘‘ نیپروا۔

’’کہاں جانا ہے؟‘‘

’’نان پارا، نانی کے گھر۔‘‘

’’لیکن یہ ٹرین تو دوسری طرف جاتی ہے۔‘‘ قریب میں بیٹھے ایک آدمی نے کہا۔ اس بچے کو میں نے اپنے قریب بٹھا لیا۔ اور سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا۔ اور بیس سال پہلے کی زندگی کو یاد کرنے لگا۔ دو دہائیوں سے بھی زیادہ مدت گزر گئی، شادی کے بندھن میں بندھے۔ کئی سال انتظار کیا۔ اور پھر دس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک، حکیموں، ویدوں اور ڈاکٹروں کے چکر کاٹے۔ کماتا رہا اور لٹاتا رہا۔ مگر بچوں کی کلکاریاں شاید اللہ نے میرے لیے نہیں بنائی تھیں۔ بالآخر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گیا۔ اب تو نسرین بھی پچاس کو پہنچ گئی ہے اور اسی غم نے اسے ستر سالہ بڑھیا بنادیا ہے۔ وہ بچوں کو دیکھتی ہے تو سرد آہ بھر کر خاموش ہوجاتی ہے۔ اس نے اپنا دل بہلانے کے لیے بکری پال لی ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے اس سے اتنے مانوس ہیں کہ نماز میں جب وہ سجدہ میں جاتی ہے تو اس کے سر پر اور اس کی پیٹھ پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ بالکل معصوم بچوں کی طرح۔ اور وہ سجدہ سے بڑے احتیاط سے اٹھ پاتی ہے کہ اس کے ان بچوں کو چوٹ نہ لگ جائے۔ اس نے کئی بار اصرار کیا کہ کسی کے بچہ کو پال لیتے ہیں۔ کم از کم گھر کی ویرانگی تو ختم ہوگی اور دل بہلنے کاانتظام ہوجائے گا۔ ادھر وہ ہے کہ برابر ٹال جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی یاد سے بہتر دل کو بہلانے کا سامان اور کوئی نہیں۔ ناچار وہ خاموش ہوجاتی ہے۔

اگلے اسٹیشن پر جب گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رکی تو میں فکر سے باہر آیا۔ ’’بھائی صاحب! یہ نیپروا کہاں پڑتا ہے؟‘‘ میں نے قریب والے آدمی سے پوچھا۔

’’ہاں میں اسی طرف کا رہنے والا ہوں۔ یہ بہرائچ کی طرف پڑتا ہے۔‘‘

مجھے لگا جیسے میری پریشانی دور ہوگئی ہو اور میں نے بڑی لجاجت کے ساتھ ان سے اس بچہ کو اس کے گھر پہنچانے کی درخواست کرڈالی۔

’’لیکن میں تو دلّی جارہا ہوں۔‘‘ کہہ کر انھوں نے صاف انکار کردیا۔

’’اسے جی آر پی والوں کو سونپ دو وہ خود پہنچادیں گے۔‘‘ انھوں نے مشورہ دیا۔

مجھے اگلے اسٹیشن پر اترنا تھا۔ اس لیے میری پریشانی بڑھ رہی تھی۔ ’’بیٹا! میں تمہیں جی آر پی والوں کے پاس چھوڑ دوں؟‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ شاید اس لیے کہ وہ جی آر پی کیا ہے نہیں جانتا تھا۔ چنانچہ گاڑی سے اترنے پر راکیش نے جیسے ہی جی آر پی کے سپاہیوں کو دیکھا وہ میرا ہاتھ چھڑا کر یہ کہتا ہوا بھاگا: ’’میں پولیس کے پاس نہیں جاؤں گا۔‘‘ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑا اور کافی دور جانے کے بعد اس کو پکڑ پایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ’’بابوجی! میں پولیس کے پاس نہیں جاؤں گا۔‘‘

’’اچھا تم میرے ساتھ چلو‘‘ یہ سنتے ہی مسرت کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑگئی۔ جس کا اثر میں نے بھی اپنی رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس کیا۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کیوں نہ میں اسے اپنے گھر لے چلوں۔ نسرین کی تمنا بھی پوری ہوجائے گی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے میں غم کے جذبات سے دہل گیا۔ اگر میرا بچہ گم ہوجائے تو کیا حالت ہوگی میری؟ اور پھر میرے تصور میں اس کے ماں باپ گھومنے لگے جو اس کے لیے پریشان ہوں گے۔ میں نے محسوس کیا جیسے اس کے ماں باپ رات کے اندھیرے میں اسے تلاش کررہے ہوں اور ہر ملنے والے سے اس کا حلیہ بتاکر کہہ رہے ہوں کہ کیا کسی نے ان کے جگر گوشے کو دیکھا ہے۔ اگلے ہی لمحہ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اسے اس کے گھر چھوڑ کر آنا ہے۔

کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد میں اس کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔

’’بابوجی! یہ رہا ہمارا گھر۔‘‘ اس نے ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا اور تیزی سے اس کے اندر چلا گیا اور پھر اشارے سے مجھے بھی اندر بلانے لگا۔ ’’ماں! میں آگیا ’’راکیش‘‘ اور وہ زمین پر بیٹھی عورت سے لپٹ گیا۔

راکیش! میرے بچے تو کہاں چلا گیا تھا؟ تو کس کے ساتھ آیا ہے؟ اس عورت کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

بیٹھے بابوجی! ماں کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک دس بارہ سال کی لڑکی نے اپنے سر سے لکڑی کا گٹھر اتارتے ہوئے میری طرف موڑھا بڑھایا۔ ’’راکیش تو کیوں چلا گیا تھا بیٹا؟ اتنی محنت کرکے روپا تیری پھیس بھرتی ہے، تیرے لیے محنت کرتی ہے اور تیرے لیے کھانا لاتی ہے۔ بیٹا تجھے کتنا چاہتی ہے تیری بہن۔‘‘ اس کی تاریک آنکھوں میں محبت کا سمندر اور آنسوؤں کے قطرے صاف دیکھے جاسکتے تھے۔

’’تم کو راکیش کہاں ملا تھا؟ بابوجی!‘‘ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کتنا پیسہ لائی آج؟‘‘ میرے جواب دینے سے پہلے ہی ایک آدمی اس کی طرف بڑھا۔ اور روپا ادھر مخاطب ہوگئی۔

’’لا دے‘‘ اس نے اپنی منحوس اور کرخت آواز میں کہا۔

’’میں نہیں دوں گی۔ تم سب سراب میں برباد کردو گے باپو۔‘‘

’’دے گی کیسے نہیں‘‘ اس نے جھپٹ کر گلا پکڑ لیا اور گھسیٹنے لگا وہ تکلیف سے تقریباً چیخ پڑی۔

’’دے دے بیٹی دے دے کیا کریں ہمارے بھاگ ہی ایسے ہیں۔‘‘ اندر سے اندھی ماں نے کہا اور روپا نے مٹھی میں دبے پیسے اس آدمی کے سپرد کردئے۔

’’بابوجی! آپ کو راکیش نانپارہ میں ملا ہوگا نا؟ کل سویرے اس کو باپو نے مار دی تھی‘‘ اس نے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کیے۔

’’نہیں مجھے یہ ریل گاڑی میں ملا تھا۔‘‘ پھر میں نے سارا قصہ سنا دیا۔

’’بابوجی! تمہارے بھی تو بچے ہوں گے سندر سے وہ تو بہت اچھے ہوں گے؟‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔ اور میں پھر غم کی کھائی میں گرتے گرتے بچا۔

’’نہیں! ہمارے بچے نہیں ہیں۔‘‘

’’کیا تمہارے بچے نہیں ہیں۔‘‘ اس نے چونکتے ہوئے کہا۔

’’اچھا اب میں چلتا ہوں۔‘‘ اور میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’بابوجی! کیا کریں تین وقت سے ہم لوگوں نے ہی نہیں کھایا ہے نہیں تو میں …‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو صاف نظر آرہے تھے۔

’’ نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’بابوجی! راکیش کو آپ اپنے ہی ساتھ کیوں نہ لے جائیں آپ کے پاس رہ کر یہ بھی آپ کی طرح پڑھا لکھا صاحب بن جائے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی۔

’’روپا! کیوں بابوجی کو پریشان کررہی ہے؟‘‘

لیکن یہ خیال میرے ذہن میں بہت دیر سے گردش کررہا تھا۔’’ بہن جی! اگر آپ برا نہ مانیں تو راکیش کو میں لے جاؤں اور جب آپ کہیں گی میں اسے لے آؤں گا۔‘‘ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں صاحب لے جاؤ۔ نہیں تو یہ آدمی نہ جانے کب اسے مار ڈالے۔‘‘ ان دونوں نے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

اور میں خوشی و مسرت کے عجیب و غریب جذبات کے ساتھ اسے لے کر وہاں سے چل دیا۔

شیئر کیجیے
Default image
نشاں خاتون سیتھلی

تبصرہ کیجیے