6

بچوں کو ذہین بنائیے!

بچہ جس قدر بھی بڑا اور باشعور ہوگا اسی قدر اس کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ اگر ذہین بچہ کی ذہانت اچھے کاموں کی طرف مبذول ہوجائے تو اچھائی میں وہ حد کمال کو پہنچے گا۔ لیکن اگر اس کی ذہانت برائی کی طرف مڑ گئی تو پھر وہ برائی میں کمال ہی کر دکھائے گا۔ ایسے میں بچے کو بری صحبت سے بچانے کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے بچے کو خود اپنا بھی اچھا نمونہ دکھائیں اور اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے اچھے بچوں کا انتخاب کریں۔ نیک لوگوں اور بہادری کی کہانیاں اور قصے سنائیں۔ جب یہ بچہ بڑا ہوجائے اور عبارت پڑھنے کے لائق ہوجائے تو اس کے لیے بہترین اخلاقی کتابیں پڑھنے کے لیے مہیا کرتے رہیں۔
بچوں کی مطلوبہ صفات
ہر ماں کو چاہیے کہ اس کا بچہ کتنا ہی لاڈلا ہو، اس میں عزت نفس، غیرت نفس، خود اعتمادی، ایثار و ہمدردی اور محنت کی عادت ڈالنے کی پوری کوشش کرے۔ بچے کو کبھی ڈرانا نہیں چاہیے۔ اس طرح بچہ ڈرپوک ہوجائے گا۔ بچوں کے سامنے کبھی جھوٹی بات نہ کہی جائے۔ بعض مائیں چیزکا لالچ دے کر بچہ کو بلاتی ہیں اور پھر کبھی بھی نہیں دیتیں یا کسی چیز کو پیٹھ پیچھے چھپا کر کہہ دیتی ہیں کہ کوّا لے گیا۔ بچہ بھی اسی طرح جھوٹے لالچ دلانے اور بہکانے لگتا ہے۔ وہ بھی اپنے پیچھے چیز چھپا کر کہتا ہے کوّا لے گیا۔
ایک اکلوتی بچی کو ہم نے دیکھا کہ اگرچہ اس کی ماں کی انتہائی خواہش اور کوشش تھی کہ لڑکی میں محنت، جفاکشی اور خود اعتمادی کی صفات پیدا ہوں لیکن چونکہ گھر بھر میں وہ ایک ہی ننھی بچی تھی لہٰذا اس کے تایا، چچا، تائی چچی اور ان کی جوان بچیاں اسے بے حد چاہتی تھیں۔ ایک کہتی ہائے ہائے کہیں بچی باورچی خانہ میں تو نہیں چلی گئی، گرم دیگچی کو ہاتھ لگائے گی تو ہاتھ جل جائے گا۔ دوسری کہتی اے ہے قینچی ہاتھ میں نہ لے لے۔ افوہ اس نے ماچس ہاتھ میں لے لی۔ اوہو سوئی اس کے ہاتھ سے لے لو، کہیں خدانخواستہ چبھانہ لے۔ باہر جاتیں تو کہتیں۔ وہ گھوڑا آرہا ہے اس کا ہاتھ پکڑلیں۔ وہ بلی جارہی ہے اس کے پنجہ نہ ماردے۔ پانی کی نالی میں پاؤں نہ ڈال دے۔ بچی آزادی سے چلنا چاہتی، جھنجھلاتی چیختی مگر وہ اس کا ہاتھ پکڑے رکھتیں۔ باغیچہ میں پہنچتی تو کہتیں۔ پھول ہاتھ میں نہ لے اس کے کانٹا چبھ جائے گا تو کیا ہوگا۔ خود مٹکے میں سے پانی نہ انڈیلے فراک بھیگ جائے گا۔ اپنے ہاتھ سے کھانا نہ کھائے، کپڑے سان لے گی۔ پھول سونگھے گی تو ناک میں جراثیم چلے جائیں گے۔ قدم قدم پر اس قدر روک ٹوک کہ الامان الحفیظ۔ بچے کی احتیاط لازمی ہے لیکن نہ اس قدر کہ اس کو محض ایک کھلونا ہی بنا کر رکھ دیا جائے اب تو اس بچی کے بچے بھی ماشاء اللہ جوان ہیں۔ مگر اس کا حال یہ ہے کہ کتے بلی کا تو کیا ذکر وہ تو چڑیا سے بھی ڈرتی ہے۔ سر پر پڑے کام تو کرنے لگ گئی ہے مگر دیا سلائی نہیں جلاسکتی۔ تیلی ڈبیا پر رگڑنے سے شرر کی آواز نکلتی ہے تو وہیں اس کے ہاتھ سے دیا سلائی چھٹ کر گرجاتی ہے۔ شوہر یا اس کی بچیاں آگ جلادیں تب وہ باقی کام نمٹا لیتی ہے۔ اگر آپ بچے سے کہیں کہ آؤ تمہیں چیزی دوں تو ضرور کچھ نہ کچھ دینا چاہیے، ورنہ آپ پر سے اس کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ ہمیشہ آپ کو جھوٹا ہی تصور کرے گا۔ اور خود جھوٹ بول کر آپ کو اور سب کو بہکانے کا عادی ہوجائے گا۔ حتی کہ بڑا ہو کر دنیا کو دھوکا دینے کی کوشش کرے گا۔ جو کچھ کہے گا صدقِ دل سے نہیں کہے گا۔ نہ ہی ایسے بچے کو اپنی زبان کا پاس ہوگا۔ وہ جو کچھ کہے گا اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھے گا۔ ایسے کردار قوم کو مہیا کرنے سے احتراز کیجیے۔
باپ کو بھی چاہیے کہ تربیت میں بیوی کا ہاتھ بٹائے۔ بعض لوگ ایسے بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی باہر سے آواز دے تو بچے سے کہتے ہیں کہہ دو ابا گھر میں نہیں ہیں یا کہتے ہیں کہ کہہ دو ابا سو رہے ہیں۔ اس طرح بچہ باپ کو جھوٹا، دھوکے باز سمجھنے لگتا ہے اور خود بھی ماں باپ کو دھوکا دینے لگتا ہے۔ مثلاً ماں نے بچے کو تیار کرکے اسکول بھیجا۔ بچہ باہر کھیلتا رہا، اسکول کی چھٹی کا وقت ہوا تو جناب گھر آگئے گویا اسکول ہی سے آئے ہیں۔ آکر رعب جماتے کہ ہم پڑھ کر آئے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ نہ تو بچہ کو بالکل آزاد چھور دیا جائے اور نہ اس پر حد سے زیادہ پابندیاں لگائی جائیں۔ اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
بچے کو سکھانا چاہیے کہ خدا نے ہمیں بہت محبت سے پیدا کیا ہے۔ وہی ہمیں رزق دیتا ہے۔ وہی ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اس نے ہمیں آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں دئے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم ان سب اعضاء سے اچھے کام کریں۔ ہاتھوں سے کسی کو تکلیف نہ دیں بلکہ دوسروں کی خدمت کریں۔ آنکھوں سے پاکیزہ چیزیں دیکھیں، کانوں سے اچھی باتیں سنیں، اس کا فرمان ہے کہ ہم سب اپنے ماں باپ اور استادوں کا حکم مانیں، بڑوں کی خدمت کریں، چھوٹوں سے پیار کریں۔ ہم خدا کی پسند کے کام کریں تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اس کے ناپسندیدہ کام کریں تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ اگر وہ ناراض ہوجائے گا تو ہمیں اچھی چیزیں کہاں سے ملیں گی۔ اس زندگی میں بھی ہمیں تکلیف ہوگی اور دوسری زندگی میں بھی نقصان ہوگا۔
بچہ کو باپ سے بھی ڈرائیں تو یہی کہیں کہ دیکھو بچے! ابا ناراض ہوجائیں گے تو چیزی کون لا کر دے گا۔ میرا کہنا نہیں مانوگے تو میں تمہیں ساتھ نہیں سلاؤں گی، کہانیاں نہیں سناؤں گی وغیرہ وغیرہ۔
ذہین بچے دنیا کی معلومات حاصل کرنے کے لیے بہت سوال کرتے ہیں۔ ماں جھنجھلااٹھتی ہے کہ یہ کیا ہر وقت مغز چاٹتا رہتا ہے۔ میں دوسرے کام کروں یا اس کے سوالات کے جواب ہی دیتی رہوں۔ حقیقت میں بچہ ماں کو زچ نہیں کرتا بلکہ وہ علم حاصل کرنے کے لیے ہر بات کی ہر چیز کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے سوال کرتا ہے۔ لہٰذا بچہ کے سوالات سے ماں کو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اس کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بعض بچے ایسے ایسے سوال کر گزرتے ہیں کہ واقعی ان کا جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے وقت میں ان سے کہیں کہ اس سوال کا جواب سوچ کر دوں گی۔ قرآن پاک میں تمہارے اس سوال کا جواب تلاش کروں گی۔ آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں سے اس سوال کا جواب تلاش کرو ںگی انھوں نے اس کا کیا جواب دیا ہے۔
بچوں کے سوالات کے جوابات دینے سے بچے کی علمیت بڑھتی ہے بلکہ ماں کے اپنے علم میں بھی ترقی ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ ہم جولیوں کی طرح رہنا چاہیے تاکہ وہ بے جھجھک اپنے دل کی بات کہہ سکیں۔ اس کے علاوہ ماؤں کو بھی چاہیے کہ وقتاً فوقتاً بچوں سے سوال کیا کریں۔ مثلاً بچوں سے یہ پوچھا جائے کہ جو پھول رات کھلے نہ تھے کلیاں ہی تھیں، کس نے انہیں کھلا کر پھول بنادیا۔ پھولوں میں رنگ کس نے بھرا ہے۔ خوشبو ان میں کہاں سے آگئی۔ اس درخت میں پھول ہی تھے اب ان میں پھل کس نے لگادئیے اور کس وقت لگا دئیے؟ کیا تم نے اس میں لگاتے ہوئے کسی کو دیکھا ہے۔
ایک بچہ نے اپنی دادی سے سوال کیا کہ ننھا بھیا پہلے تو نہیں تھا اب یہ کہاں سے آگیا؟ اس کی عقلمند دادی نے جواب دیا کہ جس طرح درختوں میں پھول اور پھل اللہ میاں چپکے سے لگادیتے ہیں اور کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس نے اور کس وقت لگادئے ہیں، اسی طری اللہ میاں چپکے سے بچہ بھی امی کی گود میں دے گیا ہے۔
ان پھلوں میں میٹھا میٹھا رس کس نے بھر دیا۔ کیلے کو دیکھو، خدا نے اس میٹھے حلوہ کو چھلکوں میں لپیٹ کر ہمیں دیا ہے۔ نہ اس پر مکھی مچھر بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی اس پر گردو غبار ہی پڑ سکتا ہے۔ کبھی تم نے دیکھا کہ حلوہ کون پکاتا ہے، کون ان میں بھرتا ہے۔ بادام کو دیکھو، لکڑی کی چھوٹی سی ڈبیا بنا کر اس میں کیسا مزیدار مغز بند کررکھا ہے۔ تمہیں آنکھیں کس نے دی ہیں۔ آنکھیں نہ ہوتیں تو کس طرح ان چیزوں کو دیکھتے۔ ہاتھ نہ ہوتے تو کس طرح چیزوں کو پکڑتے۔ پاؤں نہ ہوتے تو کیسے چلتے۔ سورج کو کس نے روشن کردیا۔ پیارا پیارا چاند کس نے آسمان پر روشن کردیا۔ ستارے دن کو کہاں چلے جاتے ہیں۔ رات کو انہیں کون جگمگادیتا ہے۔ تمہیں ننھی منھی بہن کس نے دی۔ چھوٹا سا بھائی کس نے بھیجا۔ رات اور دن کون کردیتا ہے۔ رات کس نے بنائی، دن کس نے بنایا اور ساتھ کے ساتھ ان سوالات کے جوابات بھی دیتی جائیں اور سمجھاتی جائیں۔ ان کے فوائد بھی آسان الفاظ میں بتاتی جائیں۔
ان کو سمجھائیں کہ جو کام ہمارے فائدے کے ہیں انہیں ثواب کہا جاتا ہے اور جو کام نقصان دینے والے ہیں انہیں گناہ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ میاں نے یہ کتاب آنحضرت ﷺ کے ہاتھ ہمیں بھیجی ہے۔ اس میں خدا نے وہ ساری باتیں لکھ دی ہیں جو ہمارے لیے فائدہ مند ہیں اور ان ساری باتوں کا ذکر بھی اس کتاب میں درج کردیا ہے جو ہمیں نقصان دینے والی ہیں۔
الغرض چار یا پانچ سال کے اندر ایسی سب باتوں سے بچہ کو نہ صرف یہ کہ آگاہ کردیں بلکہ ان باتوں میں اسے پختہ کردیں تاکہ جب وہ باہر کی دنیا میں قدم رکھے تو بری صحبتیں اسے آسانی سے بگاڑ نہ سکیں۔
بچوں کی جن حرکات کو ہم شرارتیں کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ درحقیقت وہ شرارتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہماری نقالی میں کام سیکھنے کے لیے چیزوں کو الٹ پلٹ کر تے ہیں۔ ایک بچی کو ہم نے دیکھا، جس کی ماں چیزوں کو ترتیب دینے کے لیے ادھر سے اٹھاتی اُدھر رکھتی تھی۔ وہ بچی بوٹ اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیتی۔ میزوں کے میز پوش گھسیٹ کر زمین پر ڈال دیتی۔ صوفوں کی گدیوں کو اٹھا کر بستروں میں ڈال دیتی۔ ماں نے کہا بچی میں تو صبح سے گھر کو درست کرتے کرتے تھک گئی ہوں اور تم میرے پیچھے پیچھے کام خراب کرتی پھر رہی ہو۔ وہ دو ڈھائی سال کی بچی کہنے لگی۔ امی ہم کام کھلاب تو نہیں کلتے ہم تو ایشے ہی جیشے آپ چیزوں کو ادھل شے اٹھاتی اُدھل لکھتی ہیں، ایشے ہی ہم بھی ادھل شے اٹھاتے ادھل رکھتے ہیں۔ (یعنی امی ہم کام خراب تو نہیں کرتے، ہم تو ایسے ہی جیسے آپ چیزوں کو ادھر سے ادھر رکھتی ہیں، اسی طرح ہم بھی ادھر سے اٹھاتے ادھر رکھتے ہیں۔) جو بچے جلد باتیں کرنے لگتے ہیں۔ وہ تو اپنا ارادہ اپنا عندیہ ظاہر کردیتے ہیں۔ جو بچہ اپنا ارادہ ظاہر نہیں کرسکتے، وہ جب ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو ماں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہیں تو ماں جھنجھلاکر انہیں پیٹ ڈالتی ہے۔ بچہ بیچارہ حیران رہ جاتا ہے کہ جو کچھ یہ کرتی ہیں، وہی ہم بھی کرتے ہیں تو ہمیں کیوں مارتی اور سزا دیتی ہیں۔
ایک خاتون کا بچہ روز اپنی ماں کو دیکھتا تھا کہ وہ ہنڈیا میں نمک، مرچ، مصالے وغیرہ ڈالتی ہے، اس نے بھی ایک دن اپنی ماں کی غیر موجودگی میں موقعہ پاکر مٹھی بھر نمک ہنڈیا میں ڈال دیا۔ پھر اور کچھ نہ پایا تو کچھ آٹا اور کچھ مٹی ہنڈیا میں ڈال دی۔ ماں نے جب ہنڈیا دیکھی تو وہ جل بھن کر رہ گئی۔ اب وہ بیچاری گھر کے لوگوں کو کھانے کو کیا دے۔ اس نے بچے کی خوب پٹائی کی۔ جب رات کو بچہ ماں کے ساتھ سونے کے لیے بستر پر لیٹا تو ماں نے پھر کہا کہ یہ تم نے کیا حرکت کی۔ توبہ کرو، آئندہ ایسا کبھی نہ کرنا۔
بچہ بولا:’’امی آپ تو ہنڈیا میں ہر روز ہی بہت سی چیزیں ڈالتی ہیں۔ آپ کو تو کوئی بھی نہیں مارتا۔ میں نے ہنڈیا میں کچھ چیزیں ڈال دیں تو آپ نے مجھے اتنا مارا۔‘‘ یہ کہہ کہ بچہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
ایک دس ماہ کا بچہ گھاس میں بیٹھا کھیل رہا تھا۔ وہاں ایک ننھا سا کیڑا آگیا۔ بچہ نے اس کیڑے کو پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کردئے۔ اس کی پھوپی نے پوچھا:’’آپ نے یہ کیا کیا؟ بیچارے کیڑے کو ناحق توڑ ڈالا۔‘‘
بچہ بولا: ’’ہم اچھ تو تولتے تو نہیں ہم تو دیتھ لیے تھے تہ اچھ تے اندل تیا ہے۔‘‘
یعنی ہم اس کو توڑ تو نہیں رہے ہم تو دیکھ رہے تھے کہ اس کے اندر کیا ہے؟
بچے اس دنیا میں نئے نئے آتے ہیں تو مختلف چیزوں کے نام کچھ سن سنا کر معلوم کرلیتے ہیں اور بعض چیزوں کا خود معائنہ کرکے دیکھنا چاہتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا؟ یہ چیز کس کام میں آتی ہے، اس کا مزہ کیسا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
درحقیقت انسان کی تہذیب و تمدن اور ترقی اسی طرح ہوئی ہے کہ اس نے بعض چیزوں کو چکھ کر یا سونگھ کر یا چھو کر اندازہ لگایا کہ وہ کیسی ہے۔
ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ پہلے انسان گوشت کچا ہی کھایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کسی کی جھونپڑی میں آگ لگ گئی۔ جھونپڑی میں سے جب چیزیں نکالنے لگے تو ایک بکری جو جھونپڑی میں بندھی ہوئی تھی، وہ بھی جل گئی تھی۔ آدمی جب اس کو نکالنے لگا تو اس کی انگلی اس بکری کی جلی ہوئی کھال میں سے اس کے گوشت میں گڑ گئی۔ اس نے جلدی سے انگلی اپنے منھ میں ڈال لی (کیونکہ انسان کا خاصہ ہے کہ جب اس کا ہاتھ وغیرہ جل جاتا ہے تو وہ سکون حاصل کرنے کے لیے جلدی سے منھ میں ڈال لیتا ہے) تو اسے بھنے ہوئے گوشت کا مزہ بہت اچھا لگا۔ اس وقت سے انسان گوشت کو آگ پر بھون کر کھانے لگا۔ اسی طرح آہستہ آہستہ دوسری اشیاء یعنی مصالحہ جات بھی گوشت وغیرہ میں ڈالنے کا اضافہ ہوتا گیا۔ اسی طرح گیہوں سے دانے بنائے، پھر آٹا پسا، پھر روٹی بنی، پھر طرح طرح کی مٹھائیاں اور رنگ برنگ کی چیزیں بننے لگیں۔ اسی طرح جڑی بوٹیوں سے دوائیں معلوم ہوئیں، ان کے عرق نکلے، جوہر برآمد ہوئے۔ پھر گولیاں اور کیپسول وغیرہ تیار ہوتے چلے گئے۔ زمین کے مختلف خطے معلوم ہوتے گئے حتی کہ انسان مریخ تک بھی پہنچ گئے۔ غرض یہ کہ بچہ تجربات کرے تو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیے البتہ اسے سمجھا دینا ضروری ہے اور روز مرہ کی چیزوں کے متعلق اسے وقتاً فوقتاً معلومات بھی بہم پہنچاتے رہنا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
بیگم عبدالمغنی

تبصرہ کیجیے