3

جاہل عورت کی شرافت

ہمارے پڑوس میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ اس کی بہو تھی تو غریب گھر کی اور اَن پڑھ، مگر تھی بے حد ملنسار، خوش اخلاق اور شرمیلی سی۔ بڑھیا جو چاہتی اسے غصہ میں آکر کہہ لیتی مگر وہ اُف تک نہ کرتی۔ انہی دنوں اس کے دوسرے لڑکے کی منگنی ایک ایسی جگہ ہوگئی جو اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے اور لڑکی بھی انٹر پاس تھی۔ بس پھر کیا تھا۔ بڑھیا کی زبان پر ہر وقت نئی بہو کا قصہ رہتا۔ وہ اتنا جہیز لائے گی، اتنا سامان لائے گی، تعلیم یافتہ اور اب ٹو ڈیٹ لڑکی ہے، بس پھر تو میرے گھر رونق آجائے گی، ان پڑھ عورتوں کو بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں ہوتا، نہ بچوں کی تربیت ہی ڈھنگ کی کرسکتی ہیں، میں نے بہت غلطی کی جو اپنے لڑکی کے لیے ایک اجڈ اور جاہل عورت بیاہ لائی وغیرہ وغیرہ۔ خیر اسی طرح پہلی بہو سے اسے نفرت ہوگئی اور ساتھ ہی اس کا لڑکا بھی کچھ اداس اور پریشان سا رہنے لگا۔ دونوں ماں بیٹا اب اس کوشش میں رہنے لگے کہ کسی طرح اس جاہل عورت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ بہو کو بھی سب کچھ معلوم ہوگیا۔ مگر وہ خاموش رہی اور ساس اور خاوند کی خدمت بڑی عاجزی سے کرتی اور ہر ایک سختی کو بڑے صبر و تحمل سے برداشت کرتی تھی۔ اس کی خاموشی اور اداسی نے ساس کو نرم کرنے کے بجائے اور سخت کردیا۔

جب نئی بہو آگئی تو بڑھیا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ جہیز کی ایک ایک چیز سب کو دکھاتی، اور کہتی ’’دیکھا یہ کتنا سارا لائی ہے۔ مگر دوسری کو تو ایک چاندی کا چھلا (انگوٹھی) بھی نہ ملا۔‘‘

تقریباً ایک ماہ بعد بیٹے نے ماں کو کہا ’’اماں جان! نئی دلہن تنہائی پسند ہیں شوروغل کو پسند نہیں کرتیں۔ اس لیے بہترہے کہ آپ ننھی (چھوٹی بہن) سمیت بڑے بھائی کے گھر چلی جائیں۔ اگر آپ نہ گئیں تو پھر دلہن اپنے میکے چلی جائے گی۔ میں مجبور ہوں۔‘‘ یہ سن کر وہ حیران رہ گئی۔ ایک بات پر نئی بہو کو ٹوک دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ دلہن کی بہن وہیں موجود تھی۔ اس نے خوب جلی کٹی سنائیں۔ پہلی بہو بھی خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتی رہی۔ بڑھیا کا شرم اور افسوس سے برا حال ہورہا تھا۔

دوسرے دن ہی اپنی چھوٹی لڑکی سمیت بڑی بہو کے گھر چلی گئی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید بہو کچھ تو کہے گی کہ ’’دیکھا کتنا فخر تھا نئی بہو پر‘‘ مگر اس نے کچھ بھی نہ کہا بلکہ بڑی عزت سے اسے اپنے پاس رکھا۔ اب تو ساس اور خاوند کی آنکھیں بھی کھلیں۔

اس واقعہ کی خبر پورے محلہ میں پھیل گئی اور ہر شخص چھوٹے لڑکے اور اس کی بیوی پر تھو تھو کر رہا تھا جبکہ بڑی بہو کی سبھی تعریف کررہے تھے۔

صرف تعلیم ہی انسان کو نہیں بدل سکتی۔ بری فطرت، گندے اخلاق اور غلط تربیت یافتہ لوگ صرف کتابیں پڑھ کر نہیں بدل سکتے۔ نیک سیرت، اچھے ماحول میں پرورش پانے والے جاہل لوگ ہمیشہ عمدہ اخلاق اور صاف دل والے ہوتے ہیں۔ مگر اس طرح کے افراد کی اور اخلاق و کردار کی اہمیت کو کم ہی لوگ سمجھتے ہیں اور اگر سمجھتے بھی ہیں تو برتنے کا حوصلہ نہیں کرپاتے۔

شیئر کیجیے
Default image
روح افزا نعمانی

تبصرہ کیجیے