4

ایصال ثواب

مسلمانوں میں دیگر بگڑے ہوئے عقائد کی طرح طریقۂ ایصال ثواب بھی افراط و تفریط سے محفوظ نہ رہ سکا۔ یہاں بھی من چاہی بے اعتدالیوں پر شرعی لبادہ اڑھا دیا گیا ہے۔ مثلاً میت کے گھر جتنے لوگ جمع ہوتے ہیں، ان میں چنے تقسیم کیے جاتے ہیں، ان پر کلمۂ طیبہ کا ورد کیا جاتا ہے۔ ان چنوں کو قبرستان لے جایا جاتا ہے، جہاں کاروباری فقراء ان چنوں پر اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کے پیچھے یہ عقیدہ کارفرما ہوتا ہے کہ ان کلموں کی برکت سے میت عذاب قبر سے محفوظ رہ سکے۔

دوسرے دن رسم قرآن خوانی ہوتی ہے۔ شرکاء کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جتنے پارے ان کے ذمے ڈالے گئے ہیں، انہیں پڑھ کر پاروں کی تعداد رجسٹر کروادیں۔ علاوہ ازیں اس موقع پر تسبیحات کی وہ تعداد بھی نوٹ کروائی جاتی ہے جو ماضی میں ورد کرکے محفوظ کرلی گئی تھی تاکہ بوقتِ ضرورت متوفی کو بخشوانے کے کام آسکے۔

تیسرے دن فاتحہ خوانی ہوتی ہے۔ بہترین کھانے پکوائے جاتے ہیں۔ خصوصاً وہ کھانے جو میت کو مرغوب ہوں۔ تیجہ کھانے کے لیے تمام رشتہ دار جمع ہوتے ہیں، دیگیں پکتی ہیں، مٹھائیوں کے خوان آتے ہیں، ضیافت میں شادی کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ کھانا تیار ہونے کے بعد سب سے پہلے فاتحہ کے لیے تمام کھانا سجا کر دستر خوان پر لگادیا جاتا ہے۔ بعد ازاں مسجد کے مولوی صاحب یا فاتحہ خواں کھانے کے سامنے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ و سورہ بقرہ پڑھ کر نیز چاروں قل پڑھ کر کھانے کو ’’تبرک‘‘ بنا دیتے ہیں۔ پھر یہ کھانا نام نہاد فقیروں کو کھلایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے بھی یہی ذہنیت کام کررہی ہوتی ہے۔ اس کھانے کا ثواب مرحوم تک پہنچ گیا۔

کچھ عرصہ قبل ایک تحریر نظر سے گزری تھی کے ایک راہ گیر کا ایک مجمع سے گزر ہوا۔ وہاں ویڈیو کیسٹ پر کوئی فلم دکھائی جارہی تھی۔ راہ گیر کے پوچھنے پر اسے بتایا گیا کہ پرسوں ایک خاتون کاانتقال ہوگیا تھا۔ مرحومہ کو یہ پکچر بہت پسند تھی، لہٰذا ایصال ثواب کے لیے یہ فلم دکھائی جارہی ہے۔ نعوذ باللہ۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

موت کے بعد کفن دفن سے پہلے خواتین بڑے انہماک سے سورۂ الملک کی تلاوت مقررہ تعداد کے برابر پڑھنے کا اہتمام کرتی ہیں کہ سورہ الملک کی برکت سے مرنے والا عذاب قبر سے محفوظ و مامون ہوجائے گا۔ سب سے حیرتناک عقیدہ یہ ہے کہ جنازے میں شریک کوئی حافظ تدفین کے بعد پوری سورہ البقرہ باآواز بلند پڑھ جائے تو منکر نکیر تلاوت سننے میں محو ہوجاتے ہیں۔ حتیّٰ کہ مردے سے سوال و جواب کرنے کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اور بھی خرافات و بدعات ہوتی ہیں جن کو احاطۂ تحریر میں لانا ہی بے کار ہے۔ شاعر مشرق نے فرمایا ہے۔

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے

فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی

دور نبوی کے ایصالِ ثواب کا جائزہ لیجیے۔ حقیقت اس کے برعکس نظر آئے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ کٹ جاتا ہے،ماسوا تین طرح کے اعمال کے۔ کہ مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں ریکارڈ ہوتا رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، علم نافعہ اور اولادِ صالحہ۔ صدقۂ جاریہ وہ صدقہ و خیرات ہے جس سے مدتوں لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں، درخت لگوانا، کنواں کھدوانا، شفا خانہ، مسافر خانہ، مسجد و مدرسہ بنوانا یا کسی غریب و یتیم کو تعلیم دلانا وغیرہ سب اسی ذیل میں آتے ہیں۔

علم نافعہ وہ علم ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس کی جائے۔ تصنیف و تالیف کے ذریعہ اشاعتِ دین کی جائے یا بلغوا عنی ولو آیہ کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے گھر و معاشرہ کے بگاڑ کے خلاف اپنی قوتوں کو بروئے کار لایا جائے۔ جس کے نتیجے میں لوگ مدتوں فیض یاب ہوتے رہیں اور جس کی ثمر باری بعد از مرگ بھی مرحوم کے لیے نفع بخش ہو۔

اولادِ صالحہ جو والدین کی بہترین تربیت کا ثمرہ ہوتی ہے جب تک وہ باحیات رہتی ہے۔ مرحوم والدین اس کی نیکیوں میں حصہ دار بنتے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرتی رہتی ہے ہر نماز میں خصوصیت سے دعائے استغفار کرتی ہے۔ بلندیٔ درجات کے لیے دعائیں کرتی ہے۔ تو حدیث میں آتا ہے کہ مرحوم والدین کے درجات بڑھا دئے جاتے ہیں۔ وہ استفسار کرتے ہیں کہ بارِ الہا تو نے ہمارے مرتبے کیوں بلند کردئیے؟ تب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں خوش خبری دیتا ہے کہ تمہاری فلاں نیک اولاد نے تمہارے لیے دعائیں کی تھیں، اسی سبب سے تمہارے درجات بڑھا دئے گئے۔

ایک آدمی نے حضورؐ اکرم سے عرض کیا: ’’میری ماں کاانتقال ہوگیا ہے، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں ثواب ملے گا۔ آپؐ نے فرمایا : ہاں، وہ بولا: حضورؐ میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ اپنے کھجور کے باغ کو میں نے ماں کی طرف سے صدقہ کردیا۔‘‘

دوسری حدیث ہے کہ کسی نے آپؐ سے عرض کیا، میرا باپ وفات پاگیا ہے۔ اس نے ترکے میں مال بھی چھوڑا ہے، مگر وصیت کوئی نہیں کی، اگر اس کی طرف سے خیرات کی جائے تو اس کے گناہ معاف ہوسکتے ہیں؟ آپ نے عرض کیا : ہاں۔ متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں باپ کی جانب سے کیا جانے والا صدقہ، خیرات، حج بدل، قربانی کا ثواب اس تک پہنچتا ہے۔ زکوٰۃ و قرض کی ادائیگی بھی ہوجاتی ہے البتہ تلاوتِ قرآن و نوافل سے ایصالِ ثواب میں اختلاف ہے۔ حنفی مسلک میں جائز ہے۔ مگر شافعی اس کے قائل نہیں۔ البتہ مولانا مودودیؒ کا خیال ہے جو نوافل و تلاوت کے ذریعہ ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اس کی حیثیت ایسی ہے کہ آپ کا کوئی آدمی جیل میں بند ہے، اسے آپ پکوان پکا کر بھیجیں، دروغۂ زنداں اگر آپ کے قیدی کو آپ کا ارسال کردہ پکوان دینا نہیں چاہتا تو وہ اسے پھینک نہیں دے گا، بلکہ آپ کو واپس کردے گا۔ یا آپ کسی کو منی آرڈر بھیجیں، وہ رقم وصول کرنے والے تک نہ پہنچے تو رقم ضائع نہیں کی جاتی بلکہ ارسال کرنے والے کو پلٹا دی جاتی ہے۔ اسی بنا پر موصوف کا خیال ہے کہ اللہ علیم و خبیر زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اس ثواب کا مستحق کون ہے۔ بھیجنے والا یا پانے والا۔

لیکن آج کے دور میں قرآن خوانی کے نام پر ’’کرائے کا ثواب‘‘ حاصل کرنے کے لیے جو قرآن کی خریدوفروخت ہورہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر دور نبوی یا دور صحابہ میں نظر نہیں آتی بلکہ کرائے کے حافظ سے جو قرآن خوانی یا ختم قرآن کے ذریعہ روزگار چلاتے ہیں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان سے مواخذہ کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچ ڈالو۔ پھر یہ مروجہ قرآن خوانی آیات اللہ کی خریدوفروخت نہیں تو اور کیا ہے۔

ہم وہ خوش نصیب مسلمان ہیں۔ جنھیں چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی قرآن و سنت کی پوری رہنمائی حاصل ہے۔ کہ ’’میرے بعد تم قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔‘‘ اور پھر آپؐ نے یہ وعید بھی اپنے امتیوں کو دے دی کہ جس نے دین میں اپنی طرف سے کوئی نئی بات ایجاد کی، دین کی شکل بگاڑی، اسلام کو مسخ کرڈالا۔ وہ روز حشر آبِ کوثر سے سیراب نہ ہوسکے گا۔ اور وہ ہمیشہ تشنہ لب رہ جائے گا۔ دین میں ہر نئی چیز کو بدعت کہتے ہیں۔ بدعت گمراہی ہے اور گمراہی دوزح میں لے جائے گی۔

آج بھی اگر مسلمان قرآن و سنت سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں، سیرت صحابہ کی تقلید کریں، اور اپنے عمل کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھیں، تو بہت سے خود ساختہ عقیدوں، بدعتوں اور خرافات کا سدِّ باب ہوسکتا ہے۔ دین کی روشن شاہراہ پر چل کر دنیاو آخرت دونوں جگہ بامراد ہوا جاسکتا ہے۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے کہ جب ہم خاندان اور سماج کی تقلید کے بجائے تقلیدِ صحابہ کو مقدم رکھیں، جو ہمارے لیے نشانِ منزل ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
تسنیم نزہت اعظمی