3

احساس کا کرب

جب وہ کمپارٹمنٹ میں داخل ہوا تو کچھ پریشان سا معلوم ہورہا تھا۔ برتھ پر بیٹھنے کے ساتھ ہی اس نے اپنی طرف کی کھڑکی گرا دی۔ حالانکہ گرمی کی وجہ سے اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ جب تک گاڑی اسٹیشن پر رکی رہی اس کے اضطراب میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ آخر کار گارڈ نے جھنڈی دکھائی۔ انجن نے سیٹی دی اور گاڑی نے آہستہ آہستہ رینگنا شروع کردیا۔ جب گاڑی اسٹیشن کی حدود سے باہر نکل گئی تو اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ جیب سے پیکٹ نکال کر سگریٹ سلگاتے ہوئے اس نے سرسری نظر سے کمپارٹمنٹ کا جائزہ لیا۔ اس کے سامنے والی سیٹ پر ایک موٹی سی توند والا بیوپاری بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے برابر ایک نوجوان قمیص پتلون میں ملبوس کوئی رسالہ دیکھ رہا تھا۔ دوسری سیٹ پر ایک دیہاتی اپنی عورت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے اوپر والی سیٹ پر ایک بوڑھا آدمی خراٹے بھر رہا تھا۔ ایک سیٹ پر ایک موٹی تازی عورت اپنے دبلے پتلے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی۔ یہ جوڑا خاندانی منصوبہ بندی سے منکر معلوم ہوتا تھا کیونکہ ان کے ہمراہ تقریباً ہر سائز کے آٹھ بچے تھے جنہوں نے کمپارٹمنٹ سر پر اٹھا رکھا تھا۔
اس نے اپنی کھڑکی کھول کر سگریٹ کا آخری کش لیتے ہوئے اسے باہر پھینک دیا۔ اور سر کو اس طرح جھٹکا جیسے اپنے خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہو۔ لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا اور گذرے ہوئے واقعات کی یاد ایک بار پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگی۔ ہر منظر اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا۔ اس کو وہ وقت یاد آیا جب اس کی رشید سے لڑائی ہوگئی تھی۔ پہلے تو معمولی تکرار ہوتی رہی اور پھر بات گالی گلوج سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک گئی۔ لڑائی کے دوران اس نے ایک گھونسہ اس زور سے رسید کیا کہ رشید اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور سیدھا زمین پر گرا۔ اتفاق سے سڑک پر پڑا ہوا نوکیلا پتھر اس کے سر میں گھس گیا۔ اور دوسرے ہی لمحہ رشید زمین پر بے حس و حرکت پڑا تھا۔ خون کا فوارہ اس کے سر سے بلند ہورہا تھا۔ اور تب اس کو احساس ہوا کہ اس نے کیا کر دیا ہے، نادانستگی میں اس سے قتل سرزد ہوگیا۔ فوراً ہی اس نے پوری قوت سے بھاگنا شروع کردیا۔ ’’دوڑو‘‘ – ’’پکڑو‘‘ کی صداؤں کے ساتھ کئی لوگ اس کے تعاقب میں بھاگے لیکن خوف و ہراس اور مدافعت کے احساس نے اس کی ٹانگوں کو چار گنا زیادہ طاقت بخش دی تھی۔ آخر کار وہ انہیں دھوکا دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اب وہ ایک مفرو قاتل تھا۔
ٹرین کے رکنے کے جھٹکے کے ساتھ ہی وہ چونک پڑا۔ اور اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ دوسرا اسٹیشن آگیا تھا اس نے کھڑکی کے باہر سر نکالا اور جو کچھ بھی اس نے دیکھا اس کی وجہ سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں خوف کے مارے اسے اپنی رگوں میں خون جمتا ہوا محسوس ہوا۔ ایک باوردی انسپکٹر دو کانسٹبلوں کے ساتھ ان کے ڈبہ کی طرف بڑھ رہا تھا!!!
’’میرے خدا کیا پولیس اتنی جلدی پہنچ گئی؟؟؟ اب کیا ہوگا۔ کیا میں گرفتار ہوجاؤں گا؟‘‘ پھانسی کا پھندا اسے اپنے سامنے نظر آنے لگا۔
انسپکٹر اور کانسٹبل بھاری بھاری قدموں کے ساتھ اندر گھس آئے۔ انسپکٹر نے اپنی عقابی نظروں سے ڈبے کا جائزہ لیا۔ ایک لمحہ کے لیے دونوں کی نظریں ملیں اور وہ پسینہ میں نہا گیا۔
’’ہمیں شبہ ہے کہ اس ٹرین میں ناجائز چرس لے جائی جارہی ہے۔‘‘ انسپکٹر نے اپنی بھاری رعب دار آواز میں اعلان کیا۔ ’’لہٰذا ہر ڈبے کی تلاشی لی جارہی ہے۔‘‘
تلاشی شروع ہوگئی۔ کانسٹبل دوسروں کی تلاشی لیتا ہوا اس کے پاس آیا۔
’’تمہارا سامان؟‘‘ اس نے اپنی سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر جمادیں، وہ بوکھلا گیا۔
’’جی… جی جناب وہ…… وہ بات دراصل یہ ہے…… یعنی میرا مطلب ہے… جی ہاں وہ میرا سامان۔ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے بس اگلے اسٹیشن جانا ہے۔‘‘ اس نے بات بنائی۔ کانسٹبل نے ایک بار اسے غور سے دیکھا اور چند لمحے توقف کرنے کے بعد آخر کار دوسرے مسافر کے پاس چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد تلاشی ختم ہوگئی اور ٹرین بدستور اپنی راہ پر گامزن ہوگئی۔ اس نے اطمینان کی ایک لمبی سانس لی۔ حیرت انگیز طور پر وہ پولیس کے ہاتھوں سے بچ گیا تھا۔
ٹرین کے باہر رات اچھی طرح قبضہ جما چکی تھی۔ اس کے سامنے بیٹھا ہوا بیوپاری خراٹے بھر رہا تھا۔ دوسرے مسافروں میں سے کچھ سوچکے تھے اور کچھ اونگھ رہے تھے۔ اس نے بھی سوجانے کی کوشش کی لیکن اس کی نیند اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ جرم کے احساس اور گرفتاری کے خوف نے اسے پل بھر چین نہ لینے دیا ٹرین کے پہیوں کی پٹریوں پر چلنے کی کھٹ کھٹ اسے ہر دم یہی کہتی ہوئی محسوس ہوتی تھی کہ تم قاتل ہو! تم نے خون کیا ہے!! تم خونی ہو!!! تم قاتل ہو!!! قاتل! قاتل!! قاتل!!! اور اس نے ان آوازوں کی تاب نہ لاکر کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
گاڑی کی رفتار اب آہستہ ہورہی تھی۔ اس نے کھڑکی سے گردن نکال کر دیکھا۔ دور اسے اسٹیشن کی بتیاں قریب ہوتی نظر آئیں۔ یہ کوئی چھوٹا سا اسٹیشن تھا کیونکہ پورے اسٹیشن پر صرف دو چار قلی نظر آرہے تھے۔ خوانچہ والوں کا شور نہ ہونے کی وجہ سے ماحول سنسان ہوگیا تھا۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر آہستگی سے دروازہ کھول کر چپ چاپ باہر نکل آیا۔ اسٹیشن کے باہر اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور پھر اسٹینڈ پر کھڑے ہوئے رکشہ والے کی طرف بڑھا۔
’’کہاں جانا ہے بابوجی؟‘‘ رکشہ والے نے پگڑی سر پر جماتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا یہاں آس پاس کوئی ایسا ہوٹل ہے جس میں رہائش کا بندوبست ہوسکے؟‘‘
’’پاس تو نہیں بابوجی ہاں کوئی ڈیڑھ کلو میٹر دور ایک ہوٹل ہے۔‘‘
’’بس تو پھر وہیں لے چلو۔‘‘ اس نے رکشہ میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
اور پھر رکشہ والا رات کی خاموش تاریکی میں روانہ ہوگیا۔ سڑک خراب تھی اور قدم قدم پر گڈھوں کی وجہ سے وہ سیٹ پر سے اچھلا پڑ رہا تھا۔ کافی دیر کی مسافت کے بعد رکشہ ایک دو منزلہ عمارت کے آگے رک گیا۔ اس نے اتر کر رکشہ والے کو پیسے دئے اور اس ہوٹل میں داخل ہوگیا۔ ہوٹل کا مالک جو پستہ قد اور گٹھیلے جسم والا آدمی تھا کاؤنٹر پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی مستعد ہوگیا۔
’’فرمائیے جناب؟‘‘ اس نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے پوچھا۔
’’دیکھو مجھے رات بھر رہنے کے لیے کمرہ چاہیے۔ کوئی مناسب سا ہو۔‘‘
’’ہاں ساب کمرہ پھَس کلاس ملے گا۔ ایک پلنگ بچھونے کے ساتھ، دو کرسیاں اور ایک میز، آئیے دکھا دوں۔‘‘
اور وہ مالک کی رہنمائی میں کمرے تک پہنچ گیا۔
’’ساب ! وہ کھانا چاہیے گا آپ کو؟‘‘ ہوٹل کا مالک اس سے پوچھ رہا تھا۔ اور اب اس کو خیال آیا کہ پچھلے چھ گھنٹوں سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ لیکن پھر بھی اسے قطعاً بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی۔
’’رہنے دو اب صبح کو دیکھا جائے گا۔‘‘ اس نے کہا۔
مالک کے جانے کے بعد اس نے دروازہ بند کرلیا اور پلنگ پر دراز ہوگیا۔ تکان سے اس کا بدن چور چور ہوگیا تھا اور جوڑ جوڑ تکلیف دے رہا تھا۔ لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ایک احساس اسے رہ رہ کر بیچین کر رہا تھا۔
’’میں قاتل ہوں‘‘ اس نے خود سے کہا ’’میں نے ایک بے گناہ انسان کا خون کیا ہے۔ میں کتنا برا ہوں۔ میں کتنا ذلیل ہوں، میں نے کتنا گھناؤنا جرم کیا ہے۔ یہ میں نے کیا کردیا۔ اُف میں کیا کروں؟‘‘
یہ خیالات اس کے لیے سوہان روح بنے ہوئے تھے۔ کوئی چیز اندر ہی اندر اس کے دل کو پیس رہی تھی۔ اسے نشتر چبھورہی تھی اور اس کے دل و دماغ پر ایک ناقابل برداشت کرب طاری تھا، اس کی روح سخت اذیت میں مبتلا تھی۔ یہ بے پناہ درد اسے پل بھر بھی چین نہ لینے دیتا تھا۔ جرم کے احساس نے اس کے دل میں ناسور پیدا کردیا تھا۔ اس کے نیند، اس کی بھوک، اس کی پیاس اس کا چین اس کا آرام ہر چیز رخصت ہوچکی تھی۔
’’میں پاگل ہوجاؤں گا۔‘‘ وہ بڑ بڑایا۔ ’’نہیں نہیں میں قاتل نہیں ہوں۔ میرے خدا میں کیا کرو، میں مرجاؤں گا۔‘‘
اور عالم دیوانگی میں اس نے اپنے سر کے بال نوچ لیے۔ ساری رات اس نے اسی طرح سوچتے سوچتے آنکھوں میں کاٹ دی، اس کے نفس اور ضمیر کے درمیان ایک زبردست کشمکش ہورہی تھی۔ جلد ہی دونوں کے درمیان ایک آخری فیصلہ ہونے والا تھا۔
سورج نے دور مشرق میں بادلوں کی اوٹ سے جھانکا اور روشنی کی پہلی کرن جب کھڑکی کے راستے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے اسے پرسکون پایا۔ ضمیر نفس پر غالب ہوگیا تھا اور اس نے ایک قطعی فیصلہ کرلیا تھا۔
’’میں اپنے آپ کو بخوشی قانون کے حوالے کردوں گا۔ میں اپنی سزا خندہ پیشانی سے قبول کرلوں گا۔‘‘ اس نے پُر عزم لہجہ میں خود سے کہا۔
چند ہی گھنٹوں بعد وہ دوبارہ ٹرین میں سفر کررہا تھا لیکن اب اس کی حالت پہلے سے بہت مختلف تھی، اس کا سکون اسے واپس مل گیا تھا اور چہرہ پر گھبراہٹ کی جگہ اطمینان نے لے لی تھی۔ سارے راستے وہ مزے سے سوتا ہوا آیا۔ جب وہ اسٹیشن سے اتر کر گھر پہنچا تو پولیس اس کی منتظر تھی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ دنیا کی سب سے بڑی خوش خبری بھی اس کے لیے موجود تھی۔ رشید درحقیقت اس چوٹ کے صدمہ سے بے ہوش ہوگیا تھا۔ اور اگرچہ اس کا کافی خون ضائع ہوچکا تھا لیکن وہ مرا نہیں تھا۔
اس پر مقدمہ چلا اور عدالت نے اسے چھ سال قید با مشقت کی سزا سنا دی۔ فیصلہ سنتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کررہی تھی، اس نے سوچا کتنا اچھا ہوا جو میں واپس آگیا۔ ورنہ میں یہی سمجھتا کہ میں نے قتل کردیا ہے۔ اور یہ احساس مجھے کہیں بھی چین نہ لینے دیتا۔ اب میں اپنے چھ سال آرام سے گزار لوں گا۔ یہ عرصہ ان لمحات سے کہیں کم تکلیف دہ ہوگا جو میں نے ٹرین اور ہوٹل میں پچھلے گھنٹوں میں گزاراہے۔‘‘ اور عزم اور ولولے کی ایک لہر اس کے چہرہ پر دوڑ گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز احمد

تبصرہ کیجیے