3

تذکیر

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَہَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: لَاتَدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا أَوَ لَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیٍٔ إِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوْ السَّلَامَ بَیْنَکُمْ۔
(رواہ مسلم: ۲/۳۵، کتاب الایمان)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان نہ لاؤ اور تم مؤمن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتلاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو۔ تم آپس میں سلام کو عام کرو۔‘‘
جنت اللہ کی طرف سے دیا جانے والا بیش بہا انعام اور تحفہ ہے جس کا حصول ایمان کے بغیر ناممکن ہے۔ جنت میں داخلہ کے لیے اصل بنیاد ایمان ہے اور ایمان کی تکمیل باہمی پیارومحبت سے ہوتی ہے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا باہمی پیارومحبت کو پروان چڑھاتا ہے۔
اس حدیث سے سلام کی اہمیت و افادیت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کی بہت ساری خرابیاں سلام کو عام کرنے سے دور ہوسکتی ہیں۔ نفرت و عداوت کا بنا ماحول پیار میں بدل سکتا ہے۔ وحشت زدہ انسانوں کو بھی انسانی بستیوں میں محبت و پریم کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اخوت و بھائی چارگی، الفت و ہمدردی کے پھول اسلامی معاشرے میں کھل سکتے ہیں۔ لیکن ضروری ہے کہ ہر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرے اس جذبہ کے ساتھ کہ اس سے محبت بڑھتی ہے، کدورتیں دور ہوتی ہیں، اختلافات مٹتے ہیں اور خوشگوار ماحول وجود میں آتا ہے۔ ہاں یہ مفید اسی صورت میں ہے جب اس کا رشتہ ایمان سے جڑا ہو۔ بغیر ایمان کے اس کے اچھے ثمرات کی امیدیں بے سود ہیں۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا چلن عام ہو اور اس بارے میں متعارف اور غیر متعارف کا فرق نہ کیا جائے۔ حدیث رسول کا مفہوم بھی یہی ہے کہ سلام ہر شخص سے ہو چاہے اس کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ کسی مجلس میں کسی کو خاص طور پر سلام کرنا اور کسی سے خصوصی طور پر مصافحہ کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقینا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی محض اسی آدمی کو سلام کرے جس کو وہ پہچانتا ہو۔ (مسند احمد: ۵/۳۲۶)
غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں ایسا ہی تو نہیں ہونے لگا کہ ہر طرف مسلمانوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے لیکن باہم تعارف نہ ہونے کی وجہ سے سلام نہیں کرتے بلکہ سلام کرنے میں ان لوگوں کو اہمیت دی جانے لگی ہے جو کسی بھی اعتبار سے بڑے ہوں اور جانے پہچانے ہوں۔
تمام مسلمانوں کو سلام کی اہمیت و افادیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر شخص کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے اور خوشگوار معاشرہ بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ کسی کو خاص کرکے سلام کرنا اسوئہ محمدی نہیں بلکہ علامت قیامت ہے۔ اسوئہ محمدی ﷺ تو یہ ہے کہ بڑے، چھوٹے، بوڑھے، جوان، مردو عورت میں سے جو بھی ملے ان کو سلام کیا جائے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوہ محمد ﷺ کو اپنا کر اللہ کے انعام کو حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

شیئر کیجیے
Default image
.......