5

فراخ دل بیوہ

’’تنگ نہ کرو مسرت، مجھے نہیں جانا وہاں، نہ معلوم کیا بات ہے مجھے ان کوٹھیوں بنگلوں سے بڑی وحشت ہوتی ہے۔‘‘

’’تم گھبراتی کیوں ہو، میں نے پہلے ہی تمہارے لیے مالی امام دین کے جھونپڑے میں ایک پھٹی ہوئی دری بچھوا رکھی ہے۔ وہاں بیٹھ جانا۔ بنگلے میں نہ داخل ہونا۔ اب بچپن کی سہیلی کی شادی ہے۔ نظر انداز بھی کیسے کردیں۔‘‘

صباحت مسکرا پڑی۔

’’اچھا تم جاؤ میں بعد میں آجاؤں گی۔‘‘

’’بعد میں کب؟ کیا وداع کے وقت آکر دلہن کے آنسو پوچھوگی۔‘‘

’’جی نہیں! اس کی مقدس مانگ میں سیندور بھروں گی۔ اب جا بھی یہاں سے مجھے ان شادی بیاہ کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘

’’کوئی نئی بات نہیں شادی سے پہلے ہر لڑکی اسی طرح کہا کرتی ہے اور بعد میں بیک وقت تین تین بچوں کو سنبھالتے ہوئے نہیں گھبراتی۔‘‘

جب تو عملی طور پر اس کی تصدیق کردے گی تو میں بھی اس مسئلے پر غور کرلوں گی۔‘‘

صباحت نے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر مسرت کسی طرح نہ مانی اور اسے کھینچ گھسیٹ کر شادی والے گھر لے ہی گئی۔

ڈاکٹر ظہیر الحسن کے عالیشان بنگلے کے ایک آراستہ کمرے میں فرزانہ دلہن بنی بیٹھی شرمانے لجانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کی سہیلیوں کے جم غفیر نے اسے گھیر رکھا تھا۔ جن میں سے ایک جماعت اس کے سانولے رنگ پر کریم اور پوڈر کی تہیں چڑھاتی جارہی تھی۔ جب اس کے گالوں پر غازے اور ہونٹوں پر لپ اسٹک کی گہری سرخی چمک اٹھی تو انھوں نے اطمینان سے افشان کی ڈبیا خالی کرنا شروع کردی۔ دروازہ کھلا اور فرزانہ کی والدہ اپنی ایک دو مخصوص سہیلیوں کے ساتھ داخل ہوئیں اور دلہن کے پاس کھڑی ہوکر بغور اس کا معائنہ کرنے لگیں۔ ان کے چوڑے چکلے چہرے پر ایک مسرت بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ کامدار ساڑی کے وزنی آنچل کو اپنے بھاری بھرکم جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے انھوں نے چٹ چٹ دلہن کی بلائیں لیں اور پھر اپنی ساتھی عورتوں کی طرف رخ کرکے دلہن کے چہرے پر پھیلے ہوئے ’’بھولپن‘‘ اور ’’معصومیت‘‘ اور ’’کنوارپن‘‘ کے تقدس پر تبصرہ کرتی ہوئی باہر چلی گئیں۔

صباحت نے آنکھیں مل مل کر دیکھا۔ اسے ڈھونڈے سے بھی فرزانہ کے چہرے پر کوئی معصومیت اور بھولپن نظر نہ آیا۔ اس نے بچپن سے فرزانہ کے ساتھ پڑھا تھا۔ جس بے باک طرز عمل کی وہ حامی رہی تھی اور اب بھی تھی اس سے اور کچھ ختم ہوتا یا نہ ہوتا معصومیت اور بھولپن کے باقی رہ جانے کا خدشہ تو یقینا موجود نہیں تھا۔ خدا معلوم بیگم ظہیر الحسن کو ’’بھولپن‘‘ اور’’ معصومیت‘‘ کہاں سے نظر آرہی تھی۔

اس کے کانوں میں بیگم ظہیر الحسن کے جملے گونجتے رہے اور ان کی بازگشت بڑھتی گئی۔ سوچتے سوچتے جیسے وہ کھو سی گئی۔ ان ہنگاموں سے دور بہت دور ان نئی قسم کی کوٹھیوں سے پرے ایک پرانے محلے میں جہاں پیچ در پیچ گلیوں کے دونوں کناروں پر پرانے قسم کے مکان بنے ہوئے تھے اور جہاں اس نے اور اس کی دور کے رشتے سے چچا زاد بہن نازی نے اور نازی کے خالہ زاد بھائی ریاض نے پرورش پائی تھی۔ ریاض ان دونوں سے کوئی پانچ چھ سال بڑا تھا۔ ریاض ان کے ساتھ کھیلا بھی کرتا تھا اور چھٹی جماعت کا طالب ہونے کے باعث ان پکی پہلی میں پڑھنے والیوں پر اپنے علم کی دھونس بھی جمایا کرتا تھا۔ نازی اسی زمانے سے ریاض کی شخصیت سے بڑی متاثر تھی۔ ایک دن جب وہ اسکول سے ’’بابا بلیک شیپ‘‘ کی نظم سن کر آئیں جو انہیں کسی صورت زبانی یاد نہیں ہورہی تھی اور آکر انھوں نے ریاض کے سامنے اس کے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولے اور ریاض نے فرفر ساری نظم دہرادی اور اس کے ساتھ ہی انگریزی کی کئی اور نظمیں بھی اسی تیزی سے پڑھ ڈالیں گویا کوئی گھاس کتر رہا ہو تو صباحت پر تو اس کی قابلیت کو جو اثر پڑا وہ پڑا ہی نازی تو بالکل ہی مرعوب ہوکر رہ گئی تھی۔ پھر ریاض ان سے کیسے کیسے مشکل کام کروایا کرتا تھا۔ اپنا کمرہ صاف کروانا۔ اپنے جوتے پالش کروانا، کبھی کبھی چھوٹے موٹے رومال بھی دھلوالیتا تھا اور ان ساری خدمتوں کے عوض وہ انہیں کہانیاں سناتا یا آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے کھیل کے ایسے ایسے گر بتاتا جو دوسری لڑکیوں کو معلوم نہیں ہوتے تھے۔

دن ہفتوں کا ہفتے مہینوں کا اور مہینے سالوں کا روپ دھارتے گئے تھے۔ اب وہ خود چھٹی جماعت میں تھیں۔ ریاض جتنا علم اب انہیں بھی حاصل ہوچکا تھا مگر ریاض اب اور بھی زیادہ عالم فاضل بن گیا تھا۔ وہ کالج میں پہلے سال میں پڑھ رہا تھا یعنی ’’کالج اسٹوڈینٹ‘‘ تھا۔ اب اس کے رعب کا کیا عالم تھا۔ اللہ اللہ، جب وہ بلیزر پہن کر ہاتھ میں ریکٹ لے کر کھیلنے جاتا تو اس کی شان پر نگاہ نہ ٹکتی تھی۔ نازی پر اب اس کا اور بھی زیادہ رعب پڑگیا تھا۔ ریاض خود بھی معمولی حیثیت کے والدین کا بیٹا تھا، مگر نازی اس دوران میں یتیم ہوچکی تھی۔ اس کی ماں کو اس کے علاوہ اس کے تین چھوٹے بھائیوں کا پیٹ بھی پالنا ہوتا تھا۔ خاوند کی وفات کے بعد کسی نہ کسی طرح انھوں نے بی ایس سی کرکے ایک معمولی اسکول میں ٹیچری کرلی تھی۔ جو قلیل تنخواہ وہاں سے ملتی اس سے سلیقے سے بچوں کا گزارا کرتیں اور باپ نے بچوں کے لیے جو اثاثہ دو چھوٹے چھوٹے مکانوں کی شکل میں چھوڑا تھا، ان میں سے ایک میں وہ خود رہتی تھیں، اور دوسرا کرائے پر دے رکھا تھا۔ اس کا جو کرایہ آتا وہ نازی کی شادی کے خیال سے سنبھالتی جاتیں۔ کچھ تھوڑا سا اپنا زیور بھی تھا وہ بھی سینت سینت کر رکھا تھا۔ بڑی دقتیں بھی آئیں مگر …… گزارا کرتی رہیں اور زیور بیچنے کی نوبت نہ آئی۔

ریاض بھانجا ہونے کے علاوہ اس لیے بھی انہیں بہت پیارا تھا کہ دونوں بہنیں آپس میں نازی اور ریاض کے رشتے کے لیے عہدوپیمان کرچکی تھیں۔ ریاض کی ماں میں وہ سگھڑپن اور سلیقہ مفقود تھا جو نازی کی ماں رشیدہ کا طرئہ امتیاز تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خاوند والی عورت کو جب بیٹے کی فیسیں دینی ہوتیں تو کئی دفعہ وہ بیوہ بہن کے آگے ہاتھ پھیلاتی اور پھر چاہے کچھ ہو رشیدہ جان پر صدمے سہ کر بھی ریاض کی فیسوں کے لیے روپیہ فراہم کرتی تھی۔ کیونکہ ریاض کے مستقبل میں اسے اپنی بچی کا مستقبل نظر آتا تھا۔ اس کے دل میں چونکہ یہ بات نقش ہوچکی تھی کہ ریاض نازی ہی کے لیے ہے اس لیے وہ سمجھتی تھی کہ ریاض جتنا زیادہ قابل ہوگا نازی کا مستقبل اتنا ہی روشن اور تابناک ہوگا۔ پھر یہ بھی حقیقت تھی کہ ریاض ایک غیر معمولی طور پر ذہین اور قابل نوجوان تھا۔ غریب والدین اور بیوہ خالہ اگر اس پر اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی صرف کررہے تھے تو وہ انہیں اس کے بہترین نتائج بھی دکھا رہا تھا۔

کچھ سال اور گزر گئے، نازی نے دسویں جماعت امتیازی نمبر لے کر پاس کی اور مزید پڑھنے کے لیے ضد بھی کی مگر اب ریاض ایم اے کے آخری سال میں تھا۔ اس کی فیسوں اور داخلے کا مسئلہ تھا۔ نازی کے چھوٹے بھائی بھی اب بڑی جماعتوں میں پہنچ چکے تھے۔ ان کے خرچ بھی اب بڑھ گئے تھے۔ ریاض کی ماں نے تو حسب دستور رو رو کر اپنی مفلسی کا اعلان کردیا مگر غریب خالہ اس نازک مقام پر آکر بھانجے کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ بہت کچھ غوروفکر کیا گیا اور آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ریاض کی تعلیم کا جاری رہنا اور مکمل ہونا نازی کے مزید تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ نازی کو گھر بٹھا لیا گیا اور خالہ بھانجے کی فیس پوری کرنے میں لگی رہی۔

ریاض نے بڑی کامیابی سے ایم اے پاس کرلیا۔ اب وہ کہیں چھوٹی موٹی ملازمت بڑی آسانی سے حاصل کرسکتا تھا مگر اس نے آہستہ آہستہ خالہ کے دماغ میں یہ نقش کر دیا تھا کہ اگر اسے مزید تعلیم کے لیے باہر بھیج دیا جائے تو وہ وہاں سے’’سونا‘‘ ہوکر آئے گا۔ رشیدہ بھی اس خیالی سونے کی چمک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ خصوصاً جب وہ دل سے اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ اس سونے کی ساری چمک اس کی اپنی بچی کے رخ ہی کو روشن بنانے پر صرف ہوجائے گی۔ چھوٹے بچوں کے مستقبل کو بھی اس بنا پر نظر انداز کردیا گیا کہ جب ریاض ’’بڑا آدمی‘‘ بن جائے گا تو انہیں بھی کسی ٹھکانے لگادے گا۔

جو مکان کرائے پر دیا ہوا تھا، بیچ دیا گیا، روپیہ اور زیور بھی جو جمع تھا سب نکال لیا گیا اور پانچ لاکھ کا اثاثہ بناکر ریاض کے حوالہ کردیا گیا۔ ریاض باہر چلا گیا اور واقعی وہ سونا بن کر آیا۔ آتے ہی اسے بڑی معقول ملازمت مل گئی۔ وہ ماں باپ کا اکلوتا لڑکا تھا۔ ایک سال کے اندر ہی اس نے گھر کی حالت کچھ سے کچھ کردی۔ اس پرانے محلے والے مکان کو کرائے پر چڑھا دیا گیا اور ایک نئی بنگلوں اور کوٹھیوں والی بستی میں ایک بنگلہ کرائے پر لے کر اسے موجودہ طریقے سے آراستہ کیا گیا۔ زندگیا بڑی ٹھاٹ دار شکل اختیار کرگئی۔

ایک آدھ سال تو غریب خالہ نے انتظار کیا یہ لوگ خود ہی بات چلائیں تو بچی کے فرض سے سبکدوش ہوں، مگر جب وہاں کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگی تو اس نے خود بہن سے بات کی کہ اب بچی کی عمر بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے اب اس فرض سے سبکدوش ہوجانا چاہیے۔ سلطانہ نے ہوں ہاں کرکے بات ٹال دی۔ کچھ دیر انتظار کرکے پھر رشیدہ نے خود بھانجے ہی سے تذکرہ کیا۔ اس نے جواب میں ایسے خاموشی اختیار کی کہ گویا کچھ کہا ہی نہیں گیا اور اس کے بعد خالہ کے ہاں آنا جانا بے انتہا کم کردیا۔ چھ سات مہینے مزید صبر کرکے رشیدہ اب بہنوئی کے پاس پہنچی اور بات کی وضاحت چاہی تو انھوں نے بڑی شائستگی سے سمجھایا کہ لڑکا رتبے اور ذہنی اور تعلیمی لحاظ سے اتنا بلند پایہ ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ نازی کے ساتھ نباہ نہ کرسکے گا۔ انھوں نے بڑی ’’دلسوزی‘‘ سے اعلان کیا ………… کہ ریاض کو اس کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ غیرت مند بیوہ خاموش اٹھ کر گھر چلی آئی۔ نہ اس نے کوئی شکایت کی نہ اپنی گزشتہ قربانیوں کی طرف ہلکا سا بھی اشارہ کیا۔ نہ اس نے کنایتہ بھی یہ توجہ دلائی کہ اسے ’’اعلیٰ مرتبہ‘‘ بنانے میں کس کی خون پسینے کی کمائی خرچ ہوئی ہے۔

رشیدہ کو صاف جواب دینے کے تھوڑے ہی ہفتے بعد ریاض کی منگنی کا اعلان کردیا گیا۔ اس کی منگتیر اور کچھ تھی یا نہیں تھی مگر ایگزیکٹو انجینئر کی بیٹی ہونے کے باعث اس کے گھر میں جائز ناجائز آمدنی کی ریل پیل ضرور تھی۔ ماں باپ کا روپیہ صرف ہوتا رہا تھا اور اس نے جیسے کیسے تھرڈ ڈویژن میں ایم اے پاس کر ہی لیا تھا۔ شکل و صورت کی خرابیوں کو تو موجودہ میک اپ بہت حد تک ڈھانپ ہی لیتا ہے اور عادات و اطوار کی خرابیوں کو کون دیکھتا ہے۔ ریاض یہ رشتہ حاصل کرکے پھولا نہیں سماتا تھا۔

شادی والے گھر میں شور اٹھا کہ دولہا آرہا ہے۔ صباحت نے چونک کر دیکھا ریاض گلے میں ڈھیروں پھولوں کے ہار ڈالے ہونٹوں پر بڑی بشاش مسکراہٹ لیے فرزانہ کے بھائیوں کے ساتھ چلا آرہا تھا۔ گھر والے اس کی آؤ بھگت میں مصروف ہوگئے۔ صباحت نے چپکے سے اپنا برقعہ اٹھایا اور پچھلے دروازے سے باہر نکل گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ مجید