6

شعور حیات کی ضرورت

عین اس وقت جب پوری امت مسلمہ عید کی خوشیاں منا رہی تھی، لوگ نئے نئے لباس پہنے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، بچے، بوڑھے اور جوان ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دے رہے تھے، عراق کا شہر فلوجہ تاراج ہورہا تھا۔ امریکی استعماری طاقتیں بموں اور گولیوں سے اہل عراق کو خون میں غسل دے رہی تھیں۔ اور — عید کے روز کے اخبار نے ہمیں عید کی مبارک باد کے بجائے خون میں نہائے انسانوں کی تصویریں، بمباری سے منہدم گھروں کے فوٹو اور زخمی بچوں اور عورتوں کے مناظر پیش کئے۔ اسی طرح کی صورت حال فلسطین میں دیکھنے کو ملی۔ اور نہ جانے کہاں کہاں امت مسلمہ کے ساتھ ابھی بھی قتل و خون کا یہ کھیل جاری ہے۔ یہ امت مسلمہ کی مغلوبیت، بے وزنی اور مظلومیت کی مثالیں جنھیں اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ قارئین اس بات کو محسوس کرسکیں کہ ’’اَنْتُمُ الاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ‘‘ کا وعدہ رکھنے والی امت آج کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اور کس مقہوری و مظلومی میں زندگی گزارنے پر مجبور کردی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی زندگی اور امتوں کے عروج و زوال میں اس طرح کے موڑ اچانک اور آناً فاناً نہیں آجاتے بلکہ اس کا سبب ان کے اعمال، ان کی کوتاہیاں، ان کا غیر ذمہ دارانہ طرز فکروعمل اور ان کی ذاتی مفاد پر مبنی سوچ ہوتی ہے جو ان کی زندگی کے رشتہ کو ان مراکز سے کاٹ دیتی ہے جو زندگی کو حرکت و عمل، انقلابیت اور زندگی کو مقصد حیات سے آشنا کرتے ہیں۔ اور جب کوئی قوم یا ملت ’حیات‘ کے اس سرچشمے سے اپنے آپ کو کاٹ لیتی ہے تو اس کے لیے زندگی کہاں سے آئے؟ وہ تو مر جاتی ہے یا مار دی جاتی ہے یا پھر جیتے جی ہی موت سے دوچار ہوبیٹھتی ہے۔ امت مسلمہ آج اسی کیفیت سے دوچار ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں وہ خنجر کی نوک پر ہے اور جہاں ایسی صورتحال نہیں ہے وہاں پر بھی وہ موت کی نیند میں پڑی سو رہی ہے۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ اسی وقت بیدار ہوگی جب قاتل اس کے جسم میں خنجر کی نوک چبھائے گا۔

قوموں کی تاریخ عروج زوال اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہمیں بتاتی ہے کہ ’’وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَّ اَہْلُہَا مُصْلِحُوْنَ۔‘‘ (تمہارا رب ایسا نہیں کرتا کہ وہ کسی آبادی کو ناحق ہلاک کرڈالے اور وہ زمین میں فریضہ اصلاح انجام دے رہے ہوں۔)

قرآن کریم کی یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اصول کو واضح کرتی ہے کہ ہلاکت و تباہی اسی صورت میں آتی ہے جب لوگ فریضہ اصلاح کو بھول جاتے اور اپنی زندگی کی شاہراہ پر چلتے چلتے رنگ رلیوں میں مست ہوجاتے ہیں۔ اور یہ رنگ رلیاں پھر اس قوم سے اس کی قوت فکر چھین لیتی ہیں جس کے نتیجہ میں اس کی قوت عمل اور زندگی کا وزن ختم ہوجاتا ہے اور پھر اس کی مظلومی اور اس کے زوال پر مہر لگ جاتی ہے۔ شاعر مشرق نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہا:

قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے

پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے

اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اور خاص طور پر امت مسلمہ کو ایک فارمولہ بتایا ہے اور یہ فارمولہ وہ ہے کہ اگر اس پر امت مسلمہ چلے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العزت اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ وہ اللہ رب العزت جس کے قبضہ میں پوری کائنات ہے اور جس نے بدر و احد کے میدانوں میں گنتی کے چند افراد کو ہزاروں کے لشکر کے مقابلہ میں فتح سے ہمکنار کیا۔ وہ فرماتا ہے:

یٰا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰہَ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ۔

’’اے پیغمبر جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچاؤ اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے بچائے گا اور یقین رکھو کہ وہ کافروں کو تمہارے مقابلہ میں کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔‘‘

آج امت مسلمہ جس مقام پر کھڑی ہے، وہ مقام ہے جہاں امت کے ہر فرد کو، ہر مرد و عورت کو اور ہر بوڑھے اور ہر جوان کو اپنا جائزہ لینا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ انفرادی حیثیت سے وہ کہاں کھڑا ہے اور امت کی اصلاح اور امت مسلمہ کو آزمائش کے ان کٹھن حالات سے نکالنے میں وہ کوئی رول ادا کررہا ہے یا نہیں۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی سنت اٹل اور سب کے لیے یکساں ہے، وہاں کسی بھی قسم کی تفریق ممکن نہیں۔ جو دنیا کے دیگر حصوں میں اس امت کے افراد کے ساتھ ہورہا ہے وہ کہیں بھی ہوسکتا ہے بلکہ ہوکر رہے گا اگر زندگی کی روش تبدیل نہ ہوئی۔

امت مسلمہ کے زندہ دل افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حقیقت کو پہچانیں کہ ہر رات کی صبح ہوتی ہے اور ہر غروب کے بعد ایک روشن سورج طلوع ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر آج رات کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں تو کوئی بات نہیں ہم اس روشن سورج کو کھینچ لانے کی جدوجہد کریں جو پوری دنیا کو روشن کردے اور تاریکیاں اپنی بساط لپیٹنے پر مجبور ہوجائیں۔ اگر افراد قوم اس شعور کے ساتھ بیدار ہوجائیں تو پوری امت میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اور حالات کا رخ بدل جائے گا۔ ورنہ پوری امت زوال و انحطاط کی ایک نئی کھائی میں چلی جائے گی اور آنے والا مورخ اس ملت کے ناکارہ، بے عمل اور بے حوصلہ افراد کی بے عملی اور بزدلی پر نوحہ لکھے گا۔ کیونکہ

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ کسی، اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

ہمیں کیا کرنا ہے یہ واضح ہے اور کیا نہیں کرنا ہے وہ بھی معلوم ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ’’شعور حیات‘‘ سے آشنا کریں، نئے عزم ، نئے حوصلوں اور نئے منصوبوں کے ساتھ اس راستے پر چلنا شروع کردیں جس راستہ پر چلنے والوں کی حفاظت کی ذمہ داری قادر مطلق نے خود اپنے ذمہ لے لی ہے — اور — اگر ایسا نہیں ہوا تو اس زوال پذیر اور شکست خوردہ امت کے حیثیت سے تاریخ ہمیں بھی یاد رکھے گی۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے