3

معاشرے میں عورت کا صحیح مقام

تاریخ میں جو اقوام تباہ ہوکر عبرت کے نشان ہمارے لیے چھوڑ گئی ہیں، وہ جن خرابیوں کا شکار ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عورت کو اس کے صحیح مقام سے ہٹا کر غلط پوزیشن میں لاکر رکھا گیا۔
موجودہ تہذیب نے بھی عورت کے ساتھ شدید درجے کا ظالمانہ برتاؤ کیا ہے۔ اس تہذیب نے عورت کو ترقی، آزادی اور مساوات مرد و زن کی شراب پلاکر گھروں سے نکالا، حجاب پسندی سے آزاد کیا، متاع عصمت کی حفاظت سے فارغ کیااور عالم مدہوشی میں اسے اقتصادی گاڑیوں میں قلی بنا کر جوت دیا۔
مساوات مردوزن اور ترقی نسواں کے نعرے مرد کی کامیاب ساحری کے حربے ہیں جن کے طلسم میں گرفتار عورت تنخواہ کے بدلے میں ایکٹریس اور رقاصہ اور نائٹ کلبوں کی رونق ہی نہیں بنی بلکہ نرس، ائر ہوسٹس، پرسنل سکریٹری اور ٹائپسٹ کے قدرے شائستہ روپ میں اس نے اپنے آپ کو مردوں کی نگاہ ہوس کی تسکین کا سامان بنادیا، یعنی وہ محنت مزدوری بھی کرے اور مریضان جنسیت کے لیے وجہ تفریح بھی۔
عورت کو جب گھر کی پناہ گاہ سے باہر نکال لیا گیا تو حجاب بندی کے بعد لباس بھی کوتاہ ہوتے ہوتے برائے نام حد تک چلے گئے۔ نگاہوں سے حیاداری کا رنگ بھی چھٹ گیا اور وہ سیم و زر کے تاروں میں بندھی کٹھ پتلی بن کر تماشاگاہ معصیت کی رونق بن گئی۔
یہاں بھی عورت کے خلاف منکر خدا تہذیب کا ساحرانہ عمل شروع ہوچکا ہے اور تیزی سے کام کررہا ہے۔ عورتیں گھروں سے نکل کھڑی ہوئیں ہیں، ڈگریاں اور ڈگریوں کے بل پر نوکریاں حاصل کرنے کے چکر میں پڑگئی ہیں۔ کلبوں اور رقص گاہوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ مینا بازار لگنے لگے ہیں۔ مقابلہ ہائے حسن کا ذوق ابھر رہا ہے۔ زوجین کی وفاداری متزلزل ہورہی ہے۔ خاندانی نظام میں مردوں کی لیڈر شپ کا دور ختم ہورہا ہے۔ عورت اور مرد نئے نظام معاشرت میں رسہ کشی کرنے والے دو فریق بن چکے ہیں۔
ادھر عورت کی نسائیت کو فروغ کاروبار کا ذریعہ بنالیا گیا ہے۔ عورت کو فلم میں اور ٹیلی ویژن کے پردے میں لاکر، اس کے بارے میں فحش ناول تیار کرکے، اسے اشتہاروں کی زینت بناکر، اس کی ننگی تصویروں کے البم تیار کرکے اس کے جنسیت انگیز فوٹووں سے رسائل کے سرورقوں اور نائیوں اور پنواڑیوں کی دکانوں کو مزین کرکے کمائیاں کی جارہی ہیں یا کمائیوں میں اضافے کیے جارہے ہیں۔
مجھے کبھی کبھی اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ تعلیم یافتہ ماڈرن خواتین کی طرف سے نسائیت کے اس مکروہ استعمال کے خلاف کیوں غیرت مندانہ جذبہ احتجاج نمودار نہیں ہوتا؟ وہ اپنی تحقیر و تذلیل کے اس گندے سلسلے کو روکنے کے لیے متحرک کیوں نہیں ہوتیں؟ اس معاملے میں تعلیم و ترقی سے آراستہ نسائی ذہن کیوں اضطراب کا مظاہرہ نہیں کرتا؟ کیا وجہ ہے کہ ان کی کوئی بھی تنظیم ایسی نہیں دکھائی دیتی جو نسائیت کو ذریعہ کاروبار بنانے والے زر اندوزوں کو چیلنج کرسکے؟ مجھے یاد ہے کہ چند سال قبل دہلی میں خواتین نے توہین نسائیت کی متذکرہ شکلوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن مسلم اکثریت پر مشتمل پاکستانی معاشرے میں کبھی ایک لہر بھی ایسی نہیں اٹھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تہذیب نو کے عمل نے خواتین کے غیورانہ احساسات کو پوری طرح سن کردیا ہے۔
بہرحال ہم جس راہ پر ابھی ترقی پذیری کی جس منزل میں ہیں، اس کا بڑا حصہ مغربی معاشرے طے کرچکے ہیں اور وہ جس نتیجے تک پہنچتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک طرف ان کے معاشروں میں شہوت کا ایسا طوفان امڈ رہا ہے جو کہیں رکتا تھمتا نظر نہیں آتا اور دوسری طرف ’’گھر‘‘ کا ادارہ بہ حیثیت انسان سازی کے مرکز کے ختم ہوچکا ہے جہاں عورت ایک پرسکون فضا میں نئی نسلوں کو بنیادی عقائد، اقدار، روایات اور آداب سے آراستہ کرتی تھی۔ گھروں میں بچوں کو انسانیت کے بنیادی جذبات سے آراستہ کرنے اور ان کو محبت و غمگساری اور قربانی و ایثار اور صبرو عزیمت کی مشق کرانے کا پورا سلسلہ ٹھپ ہوچکا ہے۔ اس کا نتیجہ نئی نسلوں کا وہ خوفناک ذہنی انتشار ہے جس نے برطانوی، امریکی اور دوسرے مغربی معاشروں کی جڑیں ہلا دیں ہیں۔ نوجوان ایک انجانے ردعمل کے زیر اثر اونچی اونچی ڈگریوں اور دولت کے انباروں کو ٹھکرا کر جنگلیوں اور وحشیوں جیسی زندگیاں بسر کرنے پر اتر آئے ہیں۔ کوئی دینی عقیدہ، کوئی انسانی قدر اور کوئی سماجی مرتبہ اب ان کے لیے کشش نہیں رکھتا۔
گھر ہی کے ادارے کی تباہی کا نتیجہ وہ عالم گیر مصیبت ہے کہ دنیا بھر کے کارپرداز ذہنی توازن اور اخلاقی استحکام سے محروم ہوکر ایسے انتہا پسندانہ نظریات اور بہیمانہ جذبات کا شکار ہوگئے ہیں کہ انسان اور انسان کے درمیان محبت و احترام کا رشتہ بالکل ٹوٹ چکا ہے اور ہر طرف نفرت و تشدد کا دور دورہ ہے۔ ملک ملکوں کے خلاف، قومیں قوموں کے خلاف، نسلیں نسلوں کے خلاف، پارٹیاں پارٹیوں کے خلاف اور طبقے طبقوں کے خلاف دست و گریباں ہیں۔ اگر پچھلی ایک صدی کی جنگوں اور جارحیتوں، خونی اور فوجی انقلابوں، بڑے پیمانے کے بلووں اور تباہ کاریوں، کثرت سے ہونے والی ذلیل قسم کی مجرمانہ حرکات اور روز افزوں نفسیاتی بیماریوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے کرئہ ارض ایک پاگل خانہ بن گیا ہے۔ بحران انسانیت کی یہ حالت جن اسباب کانتیجہ ہے ان میں سے ایک نئے دور کے انسانوں کا مادریت کی ذہنی و اخلاقی آبیاری سے محروم رہ جاتا ہے۔
ہم اسلامی انقلاب لاکر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ عورت کو ہوس کا کھلونا نہ بننے دیا جائے اور اسے گھر کے مقدس ادارے میں فطرت کی تفویض کردہ اس ڈائرکٹرشپ پر فائز کیا جائے جس کا مقصد تعمیر انسانیت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورت تمام نوکریوں اور تنخواہوں اور دلچسپیوں کے مقابلے میں اپنے لیے اس مشن کو پسند کرے کہ وہ انسانیت کو بحران سے نکالنے اور تباہی سے بچانے کے لیے کارکن تیار کرے۔ معاشرے کو برائی کے خلاف لڑنے والے سپاہی مہیا کرے اور اس اونچے اور مقدس مشن کے لیے وہ خاندان کے ماحول کو سنوارنے اور گھر کے ادارے کو مستحکم بنانے کی ذمہ داری اٹھائے۔ اس خدمت کے جواب میں اسے معاشرے میں وہی اعزاز اور احترام حاصل ہو جو ہمیشہ نسائیت اور مادریت کا حق رہا ہے۔
اسلامی انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والے معاشرے میں عورتوں کے لیے سماجی کام کا صرف ایک دائرہ ایسا رہے گا جس میں گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ انہیں کچھ خدمات انجام دینی ہوں گی۔ یعنی خود خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ذاتی خدمات اور اس مقصد کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروںکا جائزہ۔
ایک اصولی حقیقت یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام عورت کو شرف انسانیت سے متصف اور حقوق انسانی سے بہرہ ور کرتا ہے۔ تمدنی بہبود کے لیے اگر مردوں اور عورتوں کے دوائر کار مختلف ہیں، اور انتظامی ضرورت سے اگر خاندان کی قیادت مردوں کے ہاتھ میں دی گئی ہے تو اس کے معنیٰ یہ ہرگز نہیں کہ عورت کسی کی لونڈی اور داسی بن کر رہ جائے۔ اسلام نے اسے ملکیت، عزت نفس، اظہار خیال اور سیاسی اور معاشرتی حقوق کے لحاظ سے مردوں کے ساتھ مساوات دی ہے۔ بہ حیثیت ماں کے اولاد کے لیے اس کا روحانی و اخلاقی مرتبہ باپ سے بھی بلند تر ہے۔ برصغیر کی ہندو تہذیب کے اثرات نے اس کی پوزیشن پر جو برے اثرات ڈالے ہیں اسلامی انقلاب کے ذریعہ ان کاازالہ کرنا ہوگا۔
یہ ہے عورت کا وہ فطری مقام جو الٰہی تعلیم کی رو سے اسے حاصل ہونا چاہیے اور جسے ہم اسلامی انقلاب کے ذریعہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔
اس منزل تک پہنچنے سے پہلے خواتین کو مغربی تہذیب کے حملے سے بچانے اور ان کو اسلامی تہذیب میں اپنا فعال حصہ ادا کرنے کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری تنظیمی حیثیت سے خود حلقہ خواتین کے سر ہے۔ اور حلقہ خواتین اپنے دائرے میں اس ذمہ داری کو امکانی حد تک پورا کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کام کی رفتار اور مقدار کو بڑھانے میں دو رکاوٹیں ہیں: ایک خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں، دوسری پردہ داری کی مشکلات ان دو مشکلات کی رعایت دینے کے بعد حلقہ خواتین کا کام خاصا وقیع ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نعیم صدیقی

تبصرہ کیجیے