6

وفادار

جب رائے چرن اپنے آقا کے گھر میں پہلی مرتبہ ملازم ہوکر آیا تو اس کی عمر بارہ سال تھی۔ ذات پات کے اعتبار سے وہ اپنے آقا کا ہم رتبہ تھا۔ اس کا کام آقا کے بچے کو کھلانا تھا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد بچہ رائے چرن کے ہاتھوں سے نکلا اور اسکول چلا گیا۔ اسکول سے نکل کر کالج۔ وہاں سے نکلا تو سیدھا عدالتی ملازمت کا رخ کیا۔ ہر مرحلے اور ہر منزل پر اس کا واحد خدمت گار رائے چرن تھا۔ حتی کہ اس کی شادی ہوگئی۔
لیکن جب بیوی گھر میں آگئی تو رائے چرن کو معلوم ہوا کہ اب میرے دو آقا ہیں۔ اسے پرانے آقا کے ساتھ ساتھ نئے آقا کی بھی خدمت کرنی پڑی۔ اس دوہری خدمت کا معاوضہ اسے یہ ملا کہ نو ماہ بعد ایک اور آقا آگیا۔ انوکل نے اپنا بیٹا رائے چرن کے سپرد کردیا اور اس نے شبانہ روز خدمت کرکے بچے کا دل جیت لیا۔ وہ اسے اپنے ہاتھوں میں اچھالتا، بچوں کی سی مضحکہ خیز اور توتلی زبان میں باتیں کرتا، اپنا چہرہ بچے کے چہرے پر رکھتا، اس کا پیٹ گدگداتا، اسے بھی ہنساتا اور خود بھی ہنسنے لگتا۔
تھوڑے ہی دنوں کے بعد بچہ گڈلیوں چلنے لگا اور بندر کی طرح ہاتھ پیروں کے بل گھسٹ کر دروازے کے باہر نکل جاتا۔ جب رائے چرن اسے پکڑنے کے لیے دوڑتا تو وہ شرارت آمیز ہنسی، ہنستے ہوئے کسی کونے کھدرے میں چھپنے کی کوشش کرتا۔ رائے چرن کو اس کی ہشیاری اور مہارت پر بڑی حیرانی ہوتی۔ وہ عجب انداز سے اپنی مالکن کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا : ’’ایک نہ ایک دن آپ کا بیٹا جج بن جائے گا۔‘‘
وقت کے ساتھ ساتھ نئی نئی حیرت انگیز باتیں وجود میں آرہی تھیں۔ جب ننھے نے بچوں کی سی ڈگمگاتی ہوئی چال میں چلنا شروع کردیا تو یہ ذرا سا واقعہ رائے چرن کے لیے انسانی تاریخ کا پورا دور تھا۔ جب اس نے اپنے آپ کو بابا، ماں کو ماما اور رائے چرن کو چنن کہنا شروع کیا تو چرن کی خوشی کی حد نہ رہی۔ اس نے گھر سے باہر نکل کر یہ خبر ساری دنیا کو سنا ڈالی۔
کچھ عرصے کہ بعد رائے چرن کو اپنی خوش مزاجی اور خدمت گاری کو اور بھی کئی طریقوں سے ظاہر کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر وہ گھوڑا بن جاتا اور بچہ سوار۔ گھوڑے کے منہ میں لگامیں ہوتیں، اور جب سوار لگامیں کھینچتا تو وہ ٹانگیں اچھال اچھال کر دولتیاں مارنے لگتا۔ اسے ننھے منے پہلوان سے کشتیاں بھی لڑنی پڑتی تھیں۔ داؤ پیچ دکھا کر وہ خود ہی چاروں شانے چت گرجاتا اور اس کا حریف پہلوان فتح مندی سے زبردست نعرہ لگاتا۔
پھر یوں ہوا کہ انوکل کا تبادلہ پرما ندی کے کنارے ایک پرگنے میں کردیا گیا۔ راستے میں وہ دو تین دن کے لیے کلکتہ میں ٹھہرا۔ وہاں سے اس نے اپنے بچے کے لیے ایک تین پہیوں کی گاڑی، پیلے رنگ کی ریشمی واسکٹ، زردوزی کی ٹوپی اور سونے کا ایک بازو بند خریدلیا۔ رائے چرن جب بھی اسے سیر کرانے کے لیے باہر لے جاتا تو یہ ساری چیزیں فخریہ انداز میں یوں پہناتا جیسے کوئی تیج تہوار کا موقع ہو۔
پھر برسات کا موسم آیا۔ دن رات مسلسل موسلا دھار بارش ہوتی رہی۔ بھوکے دریا نے زبردست اژدھے کی طرح احاطوں، باڑوں، کھیتوں، کھڑی فصلوں اور دیہات کو ہڑپ کرلیا۔ سیلاب کا پانی کناروں سے اچھل کر لمبی لمبی گھاس اور جھاڑیوں کو پھلانگتا ہوا اور درختوں پر چڑھتا ہوا نظر آتا تھا۔ چڑھے دریا کی چنگھاڑ دور دور سے سنائی دیتی تھی۔ جھاگ کے دل بادل پل کی پل میں نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے۔
ایک دن بعد دوپہربارش رک گئی اور مطلع صاف ہوگیا۔ آسمان پر یہاں وہاں بادل کی ٹکڑیاں نظر آرہی تھیں اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ رائے چرن کا چھوٹا سا مطلق العنان حاکم ایسی ٹھنڈی اور خوشگوار سہ پہر کو گھر کی چار دیواری میں بھلا کیسے مقید رہ سکتا تھا۔ فضلیت مآب اپنی تینوں پہیوں کی گاڑی پر مغرورانہ سوار ہوئے۔ رائے چرن گاڑی کو پیچھے سے دھکیلتا ہوا ندی کے کنارے سے چاول کے کھیتوں کے پاس لے آیا۔ اس وقت کھیتوں میں کوئی آدمی نہ تھا اور ندی میں کشتی کے ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ندی کے دوسرے کنارے پر جہاں پانی کی چادر ختم ہورہی تھی، وہاں کچھ بادل سمتِ مغرب میں جارہے تھے۔ سورج کے غروب ہونے کی رسم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چپکے چپکے ادا ہورہی تھی۔ اس گہری خاموشی کے سناٹے میں بچے نے انگلی اٹھائی اور زور سے چلایا ’’چنن وہ دیکھو پھول۔‘‘
قریب ہی ایک بہت بڑا کدمبا کا درخت پھولوں سے لدا پھندا کھڑا تھا۔ میرے آقا، میرے لختِ جگر کی لالچی نظریں پھولوں پر جمی ہوئی تھیں۔ رائے چرن نے ان نظروں کا مفہوم بھانپ لیا۔ کوئی دو گھنٹے پہلے ان پھولوں کی ایک چھڑی بچے کو دی گئی تھی۔ اور وہ کمروں اور برآمدوں میں ناچا ناچا پھرا تھا۔ آج سارا دن رائے چرن کو اپنے منہ میں لگام ڈالنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اسے گھوڑے سے ترقی دے کر سائیس بنادیا گیا تھا۔
لیکن اس وقت گھٹنوں گھٹنوں پانی میں سے گزر کر پھول توڑ کر لانے کی ہمت تھی نہ خواہش۔ سو رائے چرن نے مخالف سمت میں انگلی اٹھا کر کہا: ’’وہ دیکھو بے بی وہ دیکھو چیل اڑ رہی ہے۔‘‘ اور عجیب و غریب آوازیں منہ سے نکالتا ہوا وہ گاڑی کو پھرتی سے درخت سے دور لے جانے لگا۔
لیکن ایک بچے کو جس کے مقدر میں جج بننا ہو، اتنی آسانی سے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ اس وقت نظروں کو کھینچنے کے لیے کوئی چیز بھی نہ تھی۔ ایک تصوراتی چیل کا بہانہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا۔
جونہی ننھے آقا نے اپنی بات منوانے کا پکا ارادہ کرلیا، رائے چرن کا ماتھا ٹھنکا۔ چاروناچار اس نے کہا اچھا بے بی تم یہیں گاڑی میں بیٹھے رہنا۔ میں ابھی پھول لے کر آتا ہوں۔ بس اتنا خیال رکھنا گاڑی سے نہ اترنا پانی کے پاس نہ جانا۔ یہ کہہ کر اس نے گھٹنوں تک دھوتی چڑھائی اور کیچڑ میں لت پت ہوتا ہوا اس درخت کی طرف بڑھنے لگا۔
رائے چرن کے جاتے ہی اس کا ننھا منا آقا اپنی گاڑی سے اترا، ممنوعہ پانی کی طرف تیزی سے دوڑا۔ بچے نے دیکھا کہ دریا بہہ رہا ہے، بلبلے بن رہے ہیں، غڑپ غڑپ کی آوازیں آرہی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے نافرمانبردار لہریں کسی بہت بڑے رائے چرن کے خوف سے بھاگی جارہی ہوں، اور ان کا شور ہزاروں بچوں کا مجموعی شور ہے۔ لہروں کی شرارت کو محسوس کرکے انسان کے بچے کا دل تجسس سے بھر گیا۔ اضطراب کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ کچھ نہ کچھ کرنے کا ولولہ پیدا ہوا، اس نے چوری چوری ادھر ادھر دیکھا، قریبی جھاڑی سے ایک قمچی توڑی اور دریا میں ڈال کر یوں کھڑا ہوگیا جیسے مچھلیاں پکڑ رہا ہے۔ دریا کی شوخ پریوں کی پراسرار آوازیں اسے اپنے پرستان میں بلانے کی دعوت دے رہی تھیں۔
رائے چرن مٹھی بھر پھول توڑ کر واپس آیا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹوں کی لڑیاں بکھری ہوئی تھیں۔ جب وہ گاڑی کے پاس پہنچا تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا، وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ اس نے پھر گاڑی کی طرف دیکھا، وہاں کوئی بھی نہ تھا۔
اس اولین خوفناک لمحہ میں اس کا سارا خون منجمد ہوگیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے پوری کائنات گہری اور تاریک دھند کی طرح گھومنے لگی۔ اس کے ٹوٹے ہوئے دل کی گہرائیوں سے ایک دل توڑ دینے والی چیخ ابھری’’آقا، میرے آقا‘‘۔
لیکن چنن کی چیخ کا کوئی جواب نہ ملا۔ کوئی بچہ شرارت سے نہیں ہنسا، کوئی بے بی اس کی واپسی پر خوشی سے نہیں کھلکھلایا۔ صرف دریا تھا جو حسبِ معمول شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا۔ جیسے وہ کچھ بھی نہیں جانتا، جیسے وہ دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز تھا، جیسے ایک بچے کی موت کے معمولی سے حادثے پر غور کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی وقت نہ تھا۔
جب شام ہوگئی تو رائے چرن کی مالکن کو بڑی تشویش ہوئی۔ اس نے چاروں طرف آدمی دوڑادئیے، وہ ہاتھوں میں لالٹین لیے بالآخر پرما ندی کے کنارے پر پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ رائے چرن ایک طوفانی ہوا کی طرح کھیتوں میں ادھر ادھر دوڑتا پھر رہا ہے اور دیوانہ وار مایوسی سے چیخ رہا ہے۔ آقا، آقا، میرے آقا۔
وہ رائے چرن کو گھر لائے۔ رائے چرن جاتے ہی اپنی مالکن کے قدموں میں گر پڑا۔ لوگوں نے اسے اٹھایا۔ اس سے پے در پے سوالات کیے گئے۔ بار بار پوچھا گیا کے بچے کو کہاں چھوڑآیا۔ اس نے ہر بات یہی جواب دیا کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔
اگرچہ ہر شخص کی رائے تھی کہ بچے کو پدما ندی نے ہڑپ کرلیا ہے۔ اس کے باوجود ہر ذہن میں شک کا ایک کانٹا بھی اٹکا ہوا تھا۔ اسی سہ پہر گاؤں کے باہر جیپوں کا ایک گروہ دیکھا گیا تھا اور بعض لوگوں کا شبہ ان پرجاتا تھا۔ بچے کی ماں شدت غم میں یہاں تک سوچنے لگی کہ خود رائے چرن نے بچے کو چرایا ہے۔ اس نے اسے ایک طرف بلایا اور ملتجیانہ انداز میں کہا ’’رائے چرن میرا بچہ واپس دے دو، بھگوان کے واسطے میرا بچہ مجھے دے دو، جتنا روپیہ چاہو لے لو مگر میرا بچہ دے دو۔‘‘
انوکل نے اپنی بیوی کے غلط اور ناجائز شبہے کو دور کرنے کی کوشش کی اس نے کہا ’’آخر اسے ایسا بھیانک جرم کرنے کی کیا پڑی تھی؟‘‘
ماں نے کہا : ’’بچے کے گلے میں سونے کے زیورات تھے۔‘‘
اس دلیل کے ہوتے ہوئے اسے عقل دینا ناممکن ہوگیا۔
رائے چرن واپس اپنے گاؤں چلا گیا۔ اس وقت تک اس کے اپنی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور نہ آئندہ پیدا ہونے کی کوئی امید تھی۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ سال ختم ہونے سے پہلے پہلے اس کی بیوی ایک لڑکا جنم دے کر مر گئی۔
اس نئے بچے کو دیکھ کر رائے چرن کا دل آزردہ ہوگیا۔ اس کے ذہن کی گہرائیوں میں یہ پریشان کن خیال جم گیا تھا کہ اس نے ننھے آقا کی جگہ غصب کرلی ہے۔ اسے یہ خیال بھی آتا تھا کہ آقا کے بچے کی وفات کے بعد اپنے بچے کے ساتھ ہنسا بولنا بہت بڑا گناہ اور ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ اگر بچے کی پرورش اس کی بیوہ خالہ کے ہاتھوں نہ ہوئی ہوتی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔
لیکن رفتہ رفتہ رائے چرن کے ذہن میں ایک تبدیلی رونما ہونی شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئی نئی حیرت انگیز باتیں وجود میں آرہی تھیں۔ یہ نیا بچہ بھی گڈلیوں چلنے لگا۔ یہ بھی بندر کی طرح ہاتھ پیروں کے بل پر گھسٹ کر دروازے کے باہر نکل جاتا جب رائے چرن اسے پکڑنے کے لے دوڑتا تو شرارت آمیز ہنسی ہنستا ہوا کسی کونے کھدرے میں چھپنے کی کوشش کرتا۔ رائے چرن کو اس کی ہشیاری اور مہارت پر بڑی حیرانی ہوئی۔ اس کی آواز، اس کے آنسو، اس کے قہقہے، اس کی حرکات و سکنات بالکل ننھے آقا کی سی تھیں۔ بعض اوقات جب رائے چرن اپنے بچے کی چیخیں سنتا تو اچانک اس کا دل مٹھی میں آجاتا اور اس کی پسلیاں ٹوٹنے لگتیں۔ جیسے اس کا ننھا آقا موت کی نامعلوم دنیا کے کسی گوشے میں چنن چنن کرتا پھررہا ہے۔
تھوڑے دنوں کے بعد بچہ باتیں کرنے لگا۔ اس کا نام پھوپھی نے ’’پھیلنا‘‘ رکھ دیا تھا۔ وہ بچوں کی سی توتلی زبان میں بابابابا اور ماماماما کرتا ہوا رینگتا رہتا تھا۔ جب رائے چرن نے یہ مانوس توتلی آوازیں سنیں تو راز کا پردہ ہٹ گیا۔ اور ذہن کے آسمان کا مطلع صاف ہوگیا۔
رائے چرن نے اپنے حق میں جو دلیلیں سوچیں وہ یہ تھیں:
(۱) نیا بچہ ننھے آقا کی وفات کے تھوڑے دنوں بعد پیدا ہوا تھا۔
(۲) اس کی بیوی ادھیڑ عمری سے آگے نکل چکی تھی اور اس کے بطن سے بچہ پیدا ہونا ناممکن معلوم ہوتا تھا۔
(۳) نیا بچہ گڈلیوں چلتا تھا اور بابا، ماما کہتا تھا۔ اس میں کوئی ایسی علامت نہیں تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ آئندہ جج نہیں بنے گا۔
پھر رائے چرن کو اچانک اپنی مالک کا بھیانک الزام یاد آیا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’ماں کا دل ٹھیک کہتا تھا۔ اس نے یہ ٹھیک سمجھا کہ میں نے اس کا بچہ چرالیا ہے۔‘‘ پس رائے چرن نے یہی نتیجہ اخد کیا۔ اسے اپنے پچھلے روئے پر پچھتاوا ہونے لگا۔ اب وہ دل و جان سے نئے بچے کی پرورش کرنے لگا۔ اس نے اپنی زندگی اس پر وقف کردی۔ وہ اپنے آقا کا، اپنے لخت جگر کا خدمت گزار بن گیا۔ اس نے اس کی پرورش اس انداز میں شروع کی جیسے وہ کسی امیر کبیر باپ کا بیٹا ہے۔ اس نے تین پہیوں کی گاڑی، پیلے رنگ کی ریشمی واسکٹ اور زردوزی کی ٹوپی خریدی۔ اپنی مرحوم بیوی کے زیورات ڈھلوا کر سونے کے کڑے اور بازو بند بنوائے۔ وہ ننھے کو پڑوسیوں کے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلنے دیتا تھا۔ دن رات اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ جب بچہ ذرا بڑا ہوگیا تو وہ ایسی مغرور شان سے رہتا تھا اور ایسے نفیس کپڑے پہنتا تھا کہ گاؤں کے بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اسے حضور اور جناب کہہ کر پکارتے تھے۔ بڑے بوڑھے رائے چرن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ بچے کے پیچھے پاگل ہوگیا ہے۔
ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آگیا جب بچے کو اسکول میں داخل کرانا تھا۔ رائے چرن نے اپنی زمین بیچ دی اور کلکتے پہنچا۔ وہاں اس نے بڑی مشکل سے ایک گھر میں نوکری حاصل کی اور پھیلنا کو اسکول میں داخل کرادیا۔ اسے بہترین تعلیم، بہترین لباس، اور بہترین خوراک دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ وہ خود بچے کچھے مٹھی بھر چاولوں پر گزر اوقات کرتا تھا اور تنہائی میں اپنے آپ سے کہا کرتاتھا ’’آہ میرے ننھے آقا، تم نے مجھ سے ایسی محبت کی کہ دوبارہ میرے گھر میں آگئے ہو۔ میں اب کبھی غفلت نہیں کروں گا، تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا۔‘‘
ہوتے ہوتے بارہ سال گزر گئے۔ لڑکا خوب اچھی طرح لکھنے پڑھنے لگا۔ وہ ذہین تھا، صحت مند تھا اور خوبصورت تھا۔ وہ اپنی شخصیت کے ظاہری دکھاوے اور بناؤ سنگار پر بڑی توجہ دیتا تھا۔ خاص طور پر مانگ نکالنے میں بڑی احتیاط کرتا تھا۔ فضول خرچی اس کی عادت بن چکی تھی۔ اعلیٰ درجے کے کپڑے پہننا اس کا شوق تھا اور روپیہ آزادی سے خرچ کرنا مشغلہ۔ ایک مرتبہ بھی یہ خیال نہیں آیا کہ رائے چرن اس کا باپ ہے، کیونکہ پدرانہ شفقت کے باوجود اس کا طور طریقہ نوکروں سا تھا۔ ایک اور غلطی یہ تھی کہ خود رائے چرن نے ہر شخص سے یہ راز چھپایا رکھا تھا کہ وہ اس کا باپ ہے۔
ہوسٹل میں رہنے والے طلباء رائے چرن کے دہقانی اطوار سے بہت محظوظ ہوتے تھے اور اپنے باپ کی غیر موجودگی میں خود پھیلنا بھی ان کے مذاق میں شریک ہوجاتا تھا، لیکن تمام طالب علم دل کی گہرائیوں میں اس بھولے بھالے اور خود پھیلنا بھی اس سے محبت کرتا تھا۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں وہ بڑی احتیاط اور وضع داری کے ساتھ محبت کرتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ رائے چرن کچھ اور بھی بوڑھا ہوگیا۔ بڑھاپے میں کام اچھا نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے اس کے آقا کو آئے دن شکایتیں رہنے لگیں پھر رائے چرن بچے کی خاطر قربانیاں دے رہا تھا۔ اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھتا تھا۔ اس لیے جسمانی طور پر بھی کمزور ہوگیا اور اس کے روز مرہ کے کاموں میں ہرج پڑنے لگا۔ اس کا ذہن اور حافظہ جامد ہوکر رہ گیا۔ وہ معمولی معمولی باتیں بھی فراموش کرجاتا لیکن آقا کو نوکر کے پورے کام کی ضرورت تھی اور اسے طرح طرح کے بہانوں کی حاجت نہ تھی۔ رائے چرن اپنی زمین بیچ کر جو روپیہ لایا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور لڑکا مسلسل کپڑوں کا تقاضا کررہا تھا اور ہر دوسرے تیسرے دن مزید روپیہ طلب کرتا تھا۔
رائے چرن نے اب اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے نوکری چھوڑ دی۔ پھیلنا کو کچھ روپئے دئے اور کہا ’’میں ایک ضروری کام سے گاؤں جارہا ہوں۔ جلد ہی واپس آجاؤں گا۔‘‘
پھر وہ اسی دن براسیٹھ چلا گیا، جہاں انوکل مجسٹریٹ تھا۔ انوکل کی بیوی ابھی تک غم سے نڈھال اور دل شکستہ تھی۔ اس کے بعد اس کے اور کوئی بچہ پیدا نہ ہوا تھا۔
اسی دن انوکل عدالت کے تھکادینے والے کام سے فارغ ہوکر گھر پر آرام کررہا تھا۔ اس کی بیوی ایک وید سے بھاری قیمت پر ایک بوٹی خرید رہی تھی جس کے بارے میں وید دعویٰ کررہا تھا کہ یہ بوٹی کھانے سے بچہ ضرور پیدا ہوگا۔ اطلاع آئی کہ باہر کوئی ملنے والا آیا ہے۔ انوکل خود ہی باہر چلا گیا۔ دیکھا کہ رائے چرن ہے۔ اپنے پرانے ملازم کو دیکھتے ہی انوکل کا دل پسیج گیا۔ اس نے رائے چرن سے بے شمار باتیں پوچھیں اور پھر اسے دوبارہ نوکری دینے کی خواہش ظاہر کی۔
رائے چرن آہستہ سے مسکرایا، پھر بولا میں مالکن کو پرنام کرنا چاہتا ہوں۔
انوکل رائے چرن کو اپنے ہمراہ گھر میں لایا۔ مالکن نے اس کا ویسا پرجوش سواگت نہیں کیا، جیسا آقا نے کیا تھا۔ رائے چرن نے بھی برا نہیں مانا۔ اس نے بڑے ادب سے دونوں ہاتھ باندھ کر کہا ’’آپ کے بچے کو پدما ندی نے نہیں چرایا تھا، میں نے چرایا تھا۔‘‘
انوکل چیخ پڑا: ’’اے بھگوان! یہ کیا سن رہا ہوں، میرا بچہ کہاں ہے؟‘‘
رائے چرن نے جواب دیا: ’’میرے پاس ہے، میں پرسوں ساتھ لاؤں گا۔‘‘
اتوار کا دن تھا، مجسٹریٹ کی چھٹی تھی۔ میاں بیوی کی نگاہیں صبح سے اس سڑک پر لگی ہوئی تھیں، جہاں رائے چرن نمودار ہونے والا تھا۔ دس بجے کے قریب وہ پھیلنا کا ہاتھ تھامے رونما ہوا۔
انوکل کی بیوی بے اختیار بچے سے چمٹ گئی۔ جوش میں دیوانی ہوگئی۔ کبھی ہنسنے لگتی، کبھی رونے لگتی، کبھی اسے چھو کر دیکھتی، کبھی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتی، کبھی اس کی پیشانی چومتی، کبھی تشنہ نظروں سے اس کا چہرہ گھورنے لگتی۔ لڑکا بہت ہی خوبصورت نظر آرہا تھا اور اس نے کسی بہت بڑے باپ کے بیٹے کی طرح اعلیٰ درجے کے نفیس کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پدارانہ شفقت کے جوش میں انوکل کا دل بھی بھر آیا اور خوشی کے مارے اس کے رخسار دمکنے لگے۔
مجسٹریٹ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟
رائے چرن نے کہا: اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ بھگوان گواہ ہے کہ بچہ میں نے چرایا تھا۔
جب انوکل نے یہ دیکھا کہ اس کی بیوی بچے سے مجنونانہ وار چمٹی ہوئی ہے تو وہ سمجھا کہ یہ اصل ماں ہے اور اسے احساس ہوا کے ثبوت مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ رائے چرن کی بات مان لی جائے۔ پھر یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے کہ رائے چرن جیسے بوڑھے آدمی کو ایسا لڑکا آخر کہاں سے ملا ہوگا اور ایسے فرمانبردار نوکر کو مجھے دھوکا دینے کی آخر کیا ضرورت ہے۔
اس نے بڑی درشتی سے کہا ’’لیکن دیکھو رائے چرن تم یہاں نہیں رہو گے۔‘‘
رائے چرن نے اپنے ہاتھ ادب سے باندھتے ہوئے، کانپتی ہوئی آواز میں کہا: تو آقا میں کہاں جاؤں؟ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔ مجھ ایسے بوڑھے آدمی کو کون نوکر رکھے گا؟‘‘
مالکن نے کہا ’’اسے یہیں پڑا رہنے دو۔ میرا بچہ اس کے ساتھ خوش رہے گا۔ میں اسے معاف کرتی ہوں۔‘‘
لیکن انوکل کا، مجسٹریٹ کا ضمیر اسے ٹھہرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے حکماً کہا، نہیں اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ اس نے ناقابل معافی جرم کیا ہے۔
رائے چرن اپنے آقا کے قدموں میں گر پڑا اور اس کے پاؤں چھوتے ہوئے چیخا: ’’میرے آقا مجھے یہیں رہنے دو۔ آپ کا بچہ میں نے نہیں چرایا تھا۔ یہ جرم بھگوان نے کیا تھا۔‘‘
جب رائے چرن نے جرم بھگوان کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کی تو انوکل کا ضمیر کچھ اور بھی سخت ہوگیا۔ اس نے کہا ’’نہیں میں تمہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ میں تم پر اب اعتماد نہیں کرسکتا۔ تم نے دھوکا دیا ہے، چوری کی ہے، جھوٹ بولا ہے۔‘‘
رائے چرن کھڑا ہوگیا اور آہستہ سے بولا: ’’یہ سب کچھ میں نے نہیں کیا تھا سرکار۔‘‘
’’تو پھر کس نے کیا تھا؟‘‘ انوکل نے پوچھا۔
رائے چرن نے جواب دیا ’’میری قسمت نے‘‘
لیکن کوئی تعلیم یافتہ آدمی قسمت کے بہانے کو تسلیم نہیں کرسکتا، چنانچہ انوکل نے بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
جب پھیلنا نے یہ دیکھا کہ وہ دولت مند مجسٹریٹ کا بیٹا ہے اور رائے چرن کا بیٹا نہیں ہے تو وہ یہ سوچ کر رنجیدہ خاطر اور مشتعل ہوا کہ اسے اتنے عرصے تک دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ لیکن رائے چرن کو تکلیف میں دیکھ کر اس نے اپنے باپ سے کہا: ’’ابا اسے معاف کردو، اگر آپ اسے ہمارے ساتھ رہنے کی اجازت نہ دیں تو اس کا تھوڑا بہت ماہوار وظیفہ مقرر کردیں۔‘‘
یہ الفاظ سننے کے بعد رائے چرن نے اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ اپنے لخط جگر کے چہرے پر آخری نگاہ ڈالی۔ اپنے پرانے آقا اور مالکن کو آداب بجالایا۔ پھر وہ واپس چلا گیا اور قطرہ بن کر لوگوں کے دریا میں جذب ہوگیا۔
ایک ماہ بعد انوکل نے اس کے گاؤں کچھ روپیہ بھیجا۔ لیکن منی آرڈر واپس آگیا۔ وہاں رائے چرن نام کا کوئی آدمی نہ تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
رابندرناتھ ٹیگور ترجمہ :رضیہ شہاب

تبصرہ کیجیے