BOOST

ہر ضربے را مدافعت لازم است

’’مجھے کچھ مہینوں سے اکبر الہ آبادی مرحوم کی یاد آرہی ہے، انھوں نے…‘‘
’’آبجکشن یور آنر…‘‘ میں نے بات کاٹ کر بیگم سے کہا، ’’… کیامیں ابھی زندہ نہیں ہوں؟ اور اگر زندہ نہ بھی ہوتا تو اپنے مرحوم شوہر کے بجائے کسی مرحوم نامحرم کی یاد …‘‘
’’میرا مطلب تھا، اکبر الہ آبادی مرحوم کے اشعار کی یاد آرہی ہے۔ فرمایا تھا کہ عورتوں کے چہرے سے پردہ اتر کر مردوں کی عقل پر پڑگیا ہے۔ میں اِدھر کچھ مہینوں سے دیکھ رہی ہوں کہ ایک دینی رسالے میں پردہ پر چل رہی علمی بحث میں آپ بھی شریک ہیں…‘‘
’’علمی بحث میں نہیں تو کیا فیکٹری لگانے اور کارخانہ چلانے کی بحث میں شریک ہوں گا؟ معاشیات میں کورا اور اصول صنعت و تجارت میں زیرو ہوں تھوڑی کوشش گزشتہ سال کی تھی کہ اسلامی معاشیات میں سودی معیشت کو خلط ملط کرکے مسلمانوں کو بڑا بڑا صنعت کار اور تاجر بننے کی ترغیب دوں لیکن کوشش فلاپ ہوگئی۔ چند جدّت پسندوں اور زرپرستوں پر تو اثر ہوا لیکن عام مسلمانوں کے حلق سے نیچے نہیں اترے میرے دلائل۔‘‘
’’میں پردہ کی بات کررہی تھی۔ آپ بحث میں اس طرح شریک ہیں کہ عورتوں کے چہرے کھلوانے کی دلیلوں کے انبار لگا رہے ہیں۔ دور ازکار تاویلیں کر کرکے۔‘‘
’’تو بیگم، آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں، آپ کے چہرے پر تو پورا نقاب ہے۔ میں نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ صرف دوسری خواتین کے چہرے بے حجاب کرانے کے دلائل دے رہا ہوں۔‘‘
’’یہی تو اصل پریشانی ہے۔ میری شناسا عورتیں آپ کے نام پر میری کھنچائی کرتی ہیں۔ پہلے سے ہی مجھے کیا کم شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی جب یہ عورتیں مجھ سے پوچھتی تھیں کہ بہن! تم تو نصف بوڑھی ہو کر پورا پردہ کرتی ہو لیکن پوری جوان بیٹی کو اسکرٹ، کھلے بالوں، کھلے چہرے میں اسکول بھیجتی ہو، اب آپ کے مضامین مزید شرمندگی کا سبب بن رہے ہیں۔‘‘
’’رخسانہ، ہماری آپ والی پرانی نسل سے نہیں، نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نسل کے ساتھ کیرئیر اور تابناک مستقبل کا سوال جُڑا ہوا ہے بیگم۔ معلوم نہیں کیوں اتنی سیدھی سی بات بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اب ہمارے اور آپ جیسے آثار قدیمہ پر نئی تہذیب و تمدن کی عمارت کھڑی ہو نہیں سکتی۔ اکیسویں صدی کے تقاضے اور چیلنجز کچھ اور ہیں۔ آدھی آبادی کو تعمیر و ترقی کے اصل دھارے سے کاٹ کر ملت کی دُرگت بنانے کو افورڈ نہیں کیا جاسکتا۔ اب پبلک اسکول میں قمیص شلوار، آنچل دوپٹہ، چادر حجاب کے ساتھ تعلیم تو حاصل نہیں کی جاسکتی۔‘‘
’’آپ تو پردے کے سخت قائل تھے۔ لیکن پہلے تو کیرئر کے نام پر جوان بیٹی کو بے پردہ کیا اور اب مضامین لکھ لکھ کر بے پردگی کے حق میں مسلم سماج کا ذہن آلودہ کررہے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ پردہ آپ کی عقل پر پڑگیا ہے جو رخسانہ کے جسم پرپڑا ہوا ہونا چاہیے تھا۔ سماج کی عام عورتوں کے چہرے سے پردہ اتروا کر آپ اسے اپنی عقل پر ڈالتے جانے کے حریص ہورہے ہیں۔ زمانہ اتنا خراب ہے، کردار بگڑنے اور بگاڑنے کے سو سو جتن کیے جارہے ہیں۔ عصمتیں اور عزتیں شہر میں غیر محفوظ ہیں۔ شرم و حیاء اور عفت و عصمت کی قیمت پر تعمیر و ترقی؟ میں پہلے سے پریشان تھی، اب آپ کے مضامین پڑھ پڑھ کر اور زیادہ پریشان ہوں کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں، کیوں کررہے ہیں…؟‘‘
’’یہ ایک راز ہے بیگم۔ لیکن اسے آپ کو بتا نہیں سکتا۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ ڈاکٹر اور وکیل سے اپنے معاملے کی کوئی بات چھپاؤ مت اور، بیوی اور پولیس والے سے اپنے سارے راز کبھی بتاؤ مت، ورنہ کبھی نہ کبھی مصیبت میں پھنس کر رہو گے۔‘‘
’’آپ مجھے وہ راز بتادیں، میں قسم کھاتی ہوں کہ نہ اسے افشاء کروں گی، نہ آپ کو کسی مصیبت میں پھنساؤں گی۔‘‘
’’ایسی بات ہے بیگم، تو سنئے۔ پردہ کا میں اب بھی ویسا ہی قائل ہوں جیسا مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’پردہ‘‘ پڑھ کر اور سورئہ نور، سورئہ احزاب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ سے شادی کرنے کے زمانہ میں قائل ہوا تھا۔ لیکن …‘‘ میں پھر سے سوچنے لگا کہ راز افشاء کروں یا نہ کروں۔
’’لیکن کیا؟ وہ راز کی بات کیا ہے؟ بتائیے نہ!‘‘
’’وہ راز ہے ’’نفس کی مدافعت‘‘۔ بیٹی رخسانہ کو بے پردہ اسکول بھیجنے کے بعد جب ضمیر نے کچوکے لگانے شروع کیے اور احباب نے بھی مجھ پر انگلیاں اٹھانی شروع کیں تو ضمیر و احساس کی اس ضرب کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ نفس کی رہنمائی میں قرآن، حدیث اور فقہ سے تاویلیں کرکے، اگر پوری بے پردگی کی دلیل نہیں ملتی تو کم از کم چہرے کی بے پردگی کے ہی دلائل وضع کروں اور رسالوں میں انھیں شائع کراؤں۔ ہر ضربے را مدافعت لازم است! ورنہ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ چہرہ کھولنے کے واقعات جس مدنی معاشرے میں جائز قرار دئے گئے تھے، آج ہمارے شہروں کا بے حیاء، بے شرم اور جنسی انارکی والا اباحیت پسند معاشرہ، اس مدنی معاشرہ جیسا نہیں ہے۔ پھر بھی، اپنی ذاتی کمزوری کو جواز دینے کے لیے، چہرہ کی بے حجابی کے جواز کی دلیلیں دے رہا ہوں۔ خالص شخص مدافعتی معاملہ ہے لیکن اندر کا چور چھپانے کے لیے، بے حجابی کو وسیع تر ملّی و قومی جواز فراہم کررہا ہوں۔‘‘
’’اوہ…! تو یہ ہے آپ کے حجاب مخالف مقالوں کی شانِ نزول، لاحول ولاقوۃ! یہ تو منافقت ہے!‘‘
’’منافقت نہیں، ضرورت! صحیح لفظ استعمال کیجیے بیگم۔‘‘
’’تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسالہ میں جو لوگ چہرہ کی بے حجابی کے حق میں ’’اسلامی‘‘ دلائل سے بھرے ہوئے مقالے لکھ رہے ہیں، وہ سب اسی ’’ضرورت‘‘ کے تحت ہے؟
’’اب دوسروں کے بارے میں، میں کیا کہہ سکتا ہوں بیگم! اپنی بات بتادی۔ لیکن اسے راز ہی رکھئے گا۔ جب سے میرے تحقیقی مقالے چھپنے لگے ہیں، میں دھیرے دھیرے اسلامی دانشوروں کی صف میں شمار کیا جانے لگا ہوں۔ آپ اپنی شناسا عورتوں کی طرف سے کھنچائی ہونے پر جب شرمندگی محسوس کرنے لگیں تو چینل بدل کر، اپنے شوہر کے دانشور ہونے کی جانب اپنی توجہ موڑ دیں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
کوکبؔ عرشی

تبصرہ کیجیے