5

قرآن اور ہماری عملی زندگی

سورئہ النور میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرمان نازل کرتا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ أَزْکٰی لَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ۔
’’اے نبیؐ مومن مردوں سے کہیے کہ اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں، خدا اس سے باخبر ہے۔‘‘
پھر خواتین سے فرمایا:
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَیَضْرِبْنَ بِخُمْرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ۔
’’اور اے نبیؐ مومن عورتوں سے فرمادیجیے کہ اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگار نہ دکھائیں سوائے اس کے جو خود بخود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنے اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں۔‘‘
ان آیات کریمہ میں اللہ رب العزت نے مومن مردوں اور عورتوں کو الگ الگ مخاطب کرکے تاکید کی ہے کہ اپنی نظروں کو غیر محرم کی جانب اٹھنے سے بچائیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نگاہوں کی پاکیزگی کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ قرآن کی بیشتر آیات کی طرح مومن مرد و عورت کو ایک ہی آیت کے ذریعہ مشترکہ حکم نہیں دیا بلکہ اس فرمان کی اہمیت دوچند کرنے کے لیے دو جدا گانہ آیات کے ذریعہ پاک بینی اور ستر پوشی کو واضح کیا ہے۔ پھر ان آیات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جبکہ سورئہ النور کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ اعلانیہ فرماتا ہے:
سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا وَاَنْزَلْنَا فِیْہَا آیَاتٍ بَیِّنٰتٍ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔
’’یہ ایک سورہ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں تاکہ تم سبق لو۔‘‘
اللہ تعالیٰ احکام و فرامین جاری کرنے سے پہلے متنبہ کرتا ہے کہ یہ صاف اور قطعی احکام ہیں جسے ہم نے اہلِ ایمان پر فرض کردیا ہے اور ہر مسلمان جانتا ہے کہ فرض کے معاملے میں چوں و چرا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ دو اور دو چار کی طرح روشن اور عیاں ہوتے ہیں۔ اس سورہ میں احکام و قوانین کا جو نزول ہوا، وہ بھی فرض کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان آیات میں کوئی ابہام یا شبہ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا ایسی بین آیات میں اپنی من مانی کرنا، ان کے معنیٰ و مطالب میں توڑ پھوڑ کرنا، ان کو اپنی ذہنی ساخت کے سانچے میں ڈھال لینا اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کو دعوت دینا ہے۔
نگاہیں نیچی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان مردوعورت ہر اس چیز سے نگاہوں کو محفوظ رکھیں جن پر نظر ڈالنا خدا نے جائز نہ رکھا ہو۔ اگر اتفاقاً نظر پڑجائے تو ہٹانے کم حکم ہے کیونکہ سہوِ نظر تو معاف ہے مگر قصدِ نظر معاف نہیں۔ کیونکہ نظروں کی بے باکی آوارگی کا دروازہ کھولتی ہے جس سے فتنوں کے در کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر آپؐ نے نگاہوں کی بے باکی و دیدہ بازی کو آنکھوں کے زنا سے تشبیہ دی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن سب سے پہلے نظروں کا ہی محاسبہ کرتا ہے۔ اس بنا پر کہ یہ ہزار فساد کی راہوں کو ہموار کرنے کا بڑا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نگاہیں نیچی رکھنے کے حکم میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے لیے نرمی ملحوظ رکھی گئی ہے۔ مردوں سے چہرے چھپانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ عورتیں نقاب کی اوٹ سے مردوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ مگر شریعت انھیں بھی مردوں کو گھورنے کی اجازت نہیں دیتی۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک بار آپؐ کے پاس حضرت ام سلمیؓ و میمونہؓ بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک نابینا صحابی ابن مکتومؓ آگئے۔ آپؐ نے کہا کیا تم بھی نابینا ہو، کیا تم انہیں نہیں دیکھتیں۔‘‘
حدیث میں آتا ہے کہ جو اپنی نگاہوں کو کھلا چھوڑ دیتا ہے اور بدنظری سے نامحرموں پر نظر ڈالتا ہے، قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ ایسی لرزہ خیز سزا کا تصور کیا جائے اور دورِ جدید کے نوجوان کی نظری آزادی و بے باکی کو نگاہ میں رکھا جائے تو دو چار فی صد جوان ہی خدا کے اس عذاب سے محفوظ ہوںگے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآنی آیات کے خلاف لوگ نظروں کی کجی اور آزادی کو قابلِ گرفت تصور ہی نہیں کرتے۔ افسوس صد افسوس مسلمان دن بھر میں متعدد بار اہدناالصراط المستقیم کا ورد کرتے ہیں۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی واضح ہدایت کی من مانی تعبیر کرتے ہیں۔ خدائی آیات کو اپنی خواہش کے تابع کرلینا قرآن کی بدترین معنوی تحریف ہے۔ آخر یہ قرآنی آیات کا عملی انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
ٹاکیز، ٹی وی اور وی سی آر نے شرم و حیا کے تار وپود بکھیر کر رکھ دئے ہیں۔ اسکرین پر نظر آنے والی فتنہ سامان خواتین نے اس طوفانِ بلا خیز کے ہر بند کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ کہ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد نظروں کی پاکیزگی کی ضمانت دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ شراب کو خوش رنگ شربت سمجھنے پر اصرار کیا جائے۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن اور بے راہ روی انسان کو تباہی کے دہانے تک لے آتی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ہدایت بھی فرداً فرداً دونوں اصناف کو دی گئی ہے۔ شرم و حیا انسانی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔ قرآن نے مومن مردو عورت کی جن اعلیٰ خوبیوں کے ذریعہ اللہ کی بخشش اور اجرِ عظیم کا وعدہ کررکھا ہے ان صفات میں والحافظین فروجہم والحافضات کی صفت بھی بتائی گئی ہے۔ سورئہ المؤمنوں میں والذین ہم لفروجہم حافظون کے حامل اہل ایمان کو جنت الفردوس کا وارث بتایا گیا ہے۔ حدیث شریف میں حیا کو ایمان کا جز بتایا گیا ہے۔ ستر کی حفاظت سے مراد بدکاری سے بچنا ہی نہیں ہے بلکہ بدکاری پر مکمل قدغن لگانے کے لیے پہلے قدم کی روک تھام کے لیے آنکھوں کو ’’حیا‘‘ (غضِ بصر) کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح خیالات کی پاکیزگی بھی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ نیز خیالات کی آوارگی کو دنیا کی کوئی طاقت گرفت میں نہیں لاسکتی۔ سوائے حی و قیوم کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود ہی صراحت فرمارہا ہے:
ویعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور۔
’’اور وہ نگاہوں کی چوری سے بھی واقف ہے اور وہ راز بھی جانتا ہے جو دلوں میں مخفی ہیں۔‘‘
آپؐ کا ارشاد ہے: ’’جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں، دوسروں کی رجھاتی ہیں اور خود بھی دوسروں پر ریجھتی ہیں، ناز سے لچکتی اور گردن کو بل دے کر چلتی ہیں، وہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ جنت کی خوشبو پاسکیں گے۔‘‘ جبکہ بخاری شریف میں ہے کہ جنت کی خوشبو تو ان سے ۴۰ میل کی مسافت سے گزر جائے گی۔ مگر جدید فیشن کو کیا کہا جائے جس نے بڑے بڑے گلے، ادھ کھلی آستینوں اور باریک لباس اور ننگے پن کو سندِ قبولیت دے کر فیشن بنادیا ہے۔ تو پھر دقیانوسیت اور قدامت پرستی کا طعنہ کیسے برداشت کیا جائے۔ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے۔ تو پھر مسلم خواتین ۱۴ سو سال پیچھے پلٹ کر کیوں دیکھیں؟
مغربی تقلید کے زیرِ اثر دوپٹے اوڑھنے کا مفہوم ستر پوشی نہیں بلکہ زینت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلامی تہذیب کا ایک اہم اصول مٹ رہا ہے۔ خدائی آیت کی عملی تحریف ہورہی ہے۔ جاہلیت کی رسم زندہ ہورہی ہے۔ اچھے بڑے اور شریف گھرانے میں دوپٹہ صرف گلے میں اپنی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔ حتیّٰ کہ محفلوں میں بھی یہ گلے کا ہار بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو یہ بات دلوں سے بھی مٹ چکی ہے کہ مروجہ دوپٹہ اوڑھنے کا انداز خدائی فرمان کا مذاق اور مغربی تہذیب کی دین ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جس حکم کی طرف، مبہم انداز کے بجائے واضح طور پر لفظی تصویر کشی کی گئی ہے اس فرمان کو ہم نے دقیانوسی سمجھ کر اس کی حرمت کو ذہن و دل سے بھی نکال پھینکا۔ آج مسلم خواتین نے خدائی فرمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ یہودیوں کی یہی صفت قرآن نے بھی تو بتائی ہے کہ : ’’کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں۔‘‘ آخر احکم الحاکمین کے سامنے کل کون سی دلیل پیش کرکے خدائی عذاب سے بچ سکیں گی جس کے سامنے یقینی طور پر حساب دینا ہی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
تسنیم نزہت اعظمی

تبصرہ کیجیے