گرَین ماں

 یا اللہ تونے مجھے کتنے بھاگ لگائے ہیں۔ کتنا سوہنا گھر ہے یہ۔ کتنا سجا ہوا ہے۔ ایسا ایسا سامان لگا ہے، کیسے کیسے باغیچے ہیں۔ صوفے کرسیاں ہیں، کیسی کیسی سجاوٹیں لگی ہوئی ہیں۔ دیواریں روغن سے لشکارے لے رہی ہیں۔

ہاتھ لگانے سے میلا ہوتا ہے یہ گھر۔ نہ میں تو ہاتھ نہیں لگاتی میں تو کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتی۔ میں کیوں چیزوں کو میلا کروں خواہ مخواہ۔ بس چیزوں کو دیکھتی ہوں سامان کو دیکھتی ہوں۔ اللہ کی شان ہے!

کل ٹمی کہہ رہا تھا؛ ’’گرینی، اس ٹیپ رکاٹ کو ہاتھ نہ لگانا۔ نہ نہ جو ہاتھ لگاؤ تو یہ خراب ہو جاتا ہے۔ سمجھی گرین ما؟‘‘ وہ مجھے سمجھاتا رہتا ہے۔ ’’گرینی یہ نہیں کرنا، وہ نہیں کرنا، یوں کرو تو یوں ہو جاتا ہے۔ ووں کرو تو ووں ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ سارا دن ٹیپ رکاٹ سے کھیلتا رہتا ہے۔ اسے پتا ہے نا، اسے سب چیزوں کا پتا ہے۔ یہ بٹن دباؤ تو ٹیپ رکاٹ بولتا ہے، یہ دباؤ تو چپ ہو جاتا ہے اور مجھے تو کچھ بھی پتا نہیں میں کیوں لگاؤں ہاتھ؟

پھر اسمی کہا کرتی ہے؛ ’’گرین ما، تیرے ہاتھ کیسے ہیں، جیسے ہڈیوں پر ڈھیلا غلاف چڑھا ہوا۔‘‘ ماں اب تو ہڈیاں رہ گئی ہیں۔ ہڈیاں اور میلی میلی جھریاں۔ اتنے میلے ہیں میرے ہاتھ کہ میں انہیں چھپائے پھرتی ہوں، پتا نہیں اتنے میلے کیوں لگتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے پانچ دفعہ دھوتی ہوں پاک کرتی ہوں پاک تو ہو جاتے ہیں پر رہتے میلے ہی ہیں۔

اسمی کہتی ہے۔ ’’گرینی، کسی کھانے والی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا کرتے، ہاں! گلاس نیچے سے اٹھاتے ہیں اوپر سے نہیں، چینی چمچے سے ڈالتے ہیں، انگلیوں سے نہیں، سمجھی گرینی؟‘‘

اس روز جب میں کچن میں پیڑھی پر بیٹھی روٹی کھا رہی تھی تو اسمی کتنی ناراض ہوئی تھی۔ ’’ہیے! گرینی۔ روٹی پر سالن؟ ایسا نہیں کیا کرتے۔ روٹی پر سالن نہیں ڈالا کرتے۔ سالن پلیٹ میں ڈالو۔ روٹی، دوسری پلیٹ میں رکھو۔ ڈائننگ میز پر بیٹھو پھر کھاؤ ہاں۔‘‘

اب میں کیا کروں؟ روٹی پر سالن ڈالنے کی پرانی عادت جو ہوئی اور پھر میز پر بیٹھ کر کھانے کی مجھے عادت نہیں نا۔ مجھے اوپرا اوپرا لگتا ہے۔ نہ میں نہیں میز پر بیٹھتی۔ جبھی تو چوری چوری روٹی کھاتی ہوں، کچن میں بیٹھ کر کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ پر کبھی کبھی پکڑی جاتی ہوں نا۔ پھر بچے مجھ سے لڑتے ہیں۔ ’’گرینی تو چور ہے کیا؟ پھر چھپ چھپ کر کیوں کھاتی ہے روٹیَ؟‘‘ لو، میں کیا چور ہوں۔ یہ میرے بیٹے کا گھر ہے۔ میرا پیٹ جایا، میرا اپنا صفی میرے، جگر کا ٹکڑا۔

پھر وہ بڑی لڑکی ہے سیما، یوں توری کی طرح نکلی ہے کہ حد نہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جوان ہوگئی ہے۔ بونا سا قد اور ایسی چھب کہ دیکھتے ہی رہ جاؤ۔ یوں پتلی پتنگ اونچی لمبی جیسے تر ہوتر۔ ٹپ ٹپ چلتی ہے جیسے میم ہو میم۔ بس منہ پر ماس نہیں آیا۔ پتا نہیں آج کل منہ پر ماس کیوں نہیں آتا، ہمارے زمانے میں نوجوان لڑکی بیٹھتی تھی تو پیڑھی لبالب بھر جایا کرتی تھی۔ منہ کی طرف دیکھتے تو گال ابھرے ابھرے ہوتے اور پھر لال جیسے سیب ہوں۔ آج کل تو گال پچکے ہوتے ہیں اور اللہ ماری زردی یہ زردی، جیسے منہ پر سرسوں کا کھیت اگاہو۔ سیما بیٹھتی ہے تو کرسی بھی نہیں بھرتی۔ خالی رہ جاتی ہے۔ اونہوں… بیٹھے نہیں سیما کو تو چلتے دیکھو، یا جب ڈانس کر رہی ہو میرا تو جی خوش ہو جاتا ہے دیکھ کر۔ اتنی جان ہے اس میں کوئی حد نہیں، جیسے بجلی بھری ہوئی ہو۔ اللہ عمر دراز کرے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ بیٹھ کر اس سے باتاں کروں پر وہ بیٹھے بھی۔ جو بیٹھ بھی جائے تو ٹانگ چلتی رہتی ہے۔ ٹانگ نہیں تو پاؤں ہی چلتا ہے۔ یوں جیسے انڈا پھینٹے ہوئے چمچہ چلتا ہے۔

چلو، اگر سیما بیٹھ بھی جائے تو میں بات کیسے کروں؟ کوئی بات بھی کروں تو پتاہے کیا کہتی ہے؟ کہتی ہے: ’’گرین ما، آپ سمجھتی نہیں۔‘‘ چاہے موسم کی بات کروں ، گاڑی کی بات کروں یا مکھن کی، یہی کہتی ہے؛‘‘ گرین ما آپ نہیں سمجھتیں۔‘‘ پھر بے چارے مجھے سمجھاتی رہتی ہے۔ مجھے نہیں آتی سمجھ۔ آج کل کوئی بات بھی سیدھی نہیں ہوتی۔ ہر بات میں بل۔ ہر بات کنڈلی مارے بیٹھی ہے، میری سمجھ میں کیسے آئے بھلا!

ایک وہ زمانہ تھا جب میں سب کچھ سمجھتی تھی۔ گاؤں میں کوئی بات بھی ہوتی، عورتیں کہتیں؛ ’’ہیے! اب کیا کریں؟ پتا نہیں یہ بات کیسے کی جاتی ہے؟ مناسب کیا ہے؟پھر کوئی ناکوئی بول اٹھتی؛ ’’چلو ماسی مہراں سے پوچھ لیں۔‘‘ پھر وہ سب میرے گھر آجاتیں۔ کہتیں ’’ماسی! یہ بتا کہ یہ بات کیسے کی جاتی ہے؟ مثلاً منگنی کے لیے سوال بن کر جانا ہو تو ساتھ کس کس کو لے جائیں یا جب پنچایت لگے تو گڑ کا شربت پلائیں یا دودھ؟‘‘

ان دنوں گاؤں والیاں سمجھتی تھیں کہ میں سب کچھ سمجھتی ہوں۔ اب صفی کے گھر میں ہر کوئی کہتا ہے ’’گرین ما، تو نہیں سمجھتی۔‘‘ ٹمی بھی یہی کہتا ہے ایمی بھی یہی کہتی ہے، سیما بھی بہو بھی۔ خود صفی کہتا ہے؛ ’’ماں نہیں سمجھے گی اس بات کو۔‘‘

ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔ ساری چیزیں ہی بدل گئی ہیں۔ باتیں بدل گئی ہیں۔ سبھی کچھ بدل گیا ہے۔ پرانی باتیں تو رہی ہی نہیں۔ اماں بھلا کیسے سمجھے۔

کل سیما کہہ رہی تھی۔ ’’گرین ما ڈور بیل بجا کرے تو آپ نہ جایا کریں دروازے پر وزیٹر گھبرا جاتے ہیں، دیکھ کر۔ اس میں ہماری بدنامی ہے، گرین ما۔ آپ سمجھتی کیوں نہیں؟ یہ تو نوکر کا کام ہے وہ خود جائے گا۔‘‘

وہ تو مجھے پتا ہے کہ یہ نوکر کا کام ہے پر کسی وقت صوبہ ہانڈی بھون رہا ہوتا ے بے چارہ دروازے پر کیسے جائے۔ پھر میں اسے کہتی ہوں؛ ’’صوبے پترً تو کام کر میں دیکھ لیتی ہوں کہ کون ہے۔‘‘ چلی تو جاتی ہوں میں دیکھنے پر سیما کہتی سچ ہے مہمان مجھے دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔

پھر سیما یہ بھی تو کہتی ہے۔ کہتی ہے؛ ’’گرین ما! نوکروں کے ساتھ اس طرح نہیں بولا کرتے۔ صوبہ تو نوکر ہے، پتر نہیں۔ گرین ما آپ کیوں نہیں سمجھتیں؟ اس طرح نوکر بگڑ جاتے ہیں۔‘‘ شاید سچ کہتی ہو سیما۔ پر بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ لو بھلا، کسی کو پتر کہنے سے وہ بگڑ جاتا ہے کیا؟

گاؤں میں تو میں سب کو پتر کہا کرتی تھی۔ کوئی بھی نہ بگڑا تھا۔ الٹا سارے ہی جی جی کرتے پھرتے تھے۔ پر وہ گاؤں تھا نا، یہ شہر ہوا۔ گاؤں کی بات اور ہوتی ہے، شہر کی اور ہوتی ہے۔ مجھے کیا پتا شہر کی بات کیا ہوتی ہے۔ ضرور سیما سچ کہتی ہوگی۔ اسے کیا پڑی کہ جھوٹ بولے۔ سیما ہی نہیں، بہو خود کہتی ہے؛ ’’اماں جی آپ نوکروں کے ساتھ مل کر نہ بیٹھا کریں۔‘‘

میں گھل مل کر تو نہیں بیٹھتی ویسے کبھی ویہڑے میں اکیلی پڑے پڑے گھبرا جاتی ہوں تو باورچی خانے جاتی ہوں۔ باورچی خانے جاؤں تو وہاں صوبہ ہوتا ہے۔ پھر بات تو کر نی ہی پڑتی ہے، کوئی نہ کوئی۔ اب یہ تو نہیں ہو تا نا کہ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ رہو۔

صوبہ بے چارہ بڑا ہی اچھا ہے، میری بڑی عزت کرتا ہے۔ پہلے پہل مجھے بڑی بیگم صاحبہ کہا کرتا تھا۔ لو، میں بیگم ہوں کیا؟ خواہ مخواہ۔ بیگم تو ہوتی ہے جو بیگم ہوتی ہے میں بھلا کدھر سے بیگم ہوئی۔ بہو تو ہوئی نا بیگم۔ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا بولنا سببیگم کا سا ہے۔ جب وہ آواز دیتی ہے؛’’صاؤبا‘‘ تو آواز ہی سے پتا چلتا ہے کہ بیگم بول رہی ہے؛ کہتی ہے ’’صاؤبا‘‘ لنچ پر شامی بنالو، ساتھ دال اور کریلے گوشت اور ڈنر پر چکن ہو، چاول ہوں، کوئی سا میٹھا اور دیکھو کریلے پہلے ابال لینا، کسیلے نہ ہوں۔ ’’بہت اچھا بیگم صاحبہ!‘‘ وہ بولتا ہے پھر بیگم رکتی نہیں۔ یہ جاوہ جا۔ صوبے سے زیادہ بات نہیں کرتی۔ کام بتایا اور گئی، جیسے بیگم کو کرنا چاہیے۔

اے روز تو دیکھتی ہوں بیگمیں۔ بنی سجی ہوئی آتی ہیں، منہ گول کر کے بولتی ہیں۔ بولتی اردو ہیں، پریوں لگتا ہے جیسے انگریجی بول رہی ہوں۔

تو میں نے کہا؛ ’’صوبے مجھے بیگم نہ کہا کرو۔ میں کدھر سے بیگم ہوں بھلا؟‘‘

’’تو پھر کیا کہوں، بڑی بیگم صاحبہ‘‘ اس نے پوچھا۔

میں نے کہا؛ ’’تو مجھے بی بی کہہ لیا کر۔‘‘

اب وہ مجھے بڑی بی بی کہتا ہے۔ بڑا اچھا ہے، بے چارہ میری ساری باتیں سنتا ہے۔ کبھی یہ نہیں کہتا کہ آپ نہیں سمجھتیں، بڑی بی بی۔ وہ سمجھتا ہے، میں سب سمجھتی ہوں۔ اس کے ساتھ باتیں کرتی ہوں تو مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں پھر سے گاؤں آگئی ہوں۔

اس نے کبھی نہیںکہا کہ بڑی بی بی سالن روٹی پر نہ ڈالیں۔ کبھی نہیں کہا کہ بی بی روٹی پلیٹ میں رکھ لیں یا پیڑھی پر نہ بیٹھیں، میز پر بیٹھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں کہا کہ بڑی بی بی آپ کچن میں نہ بیٹھا کریں۔

حالاں کہ بیگم نے کئی بار صوبے سے کہا ہے؛ ’’صاؤبا بڑی بیگم صاحبہ کو اپنے پاس مت بٹھایا کر۔ بری بات ہے۔‘‘ پر اس نے مجھے کبھی نہیں جتایا۔ وہ تو میں نے آپ بیگم کو کہتے ہوئے سن لیا تھا اس لیے مجھے پتا ہے۔

میں تو کبھی بارچی خانے نہ جاؤں۔ میں بھلا صوبے کو بیگم کی نظرں میں کیوں برا بناؤں۔ پر کیا کروں،کسی وقت جی چاہتا ہے کہ کسی سے بات کروں، کسی کے پاس بیٹھوں، پر کس کے پاس بیٹھوں؟ سارے ہی اپنے اپنے کمرے میں بند رہتے ہیں۔ پتا نہیں یہ آج کل کے لوگ کمروں میں بند کیوں رہتے ہیں؟ مل کر ایک جگہ بیٹھتے ہی نہیں۔

میں تو سارا دن پچھلے برامدے میں منجی پر پڑی رہتی ہوں۔ پڑے پڑے تھک جاتی ہوں تو صوبے کے پاس جا بیٹھتی ہوں۔ کیا کروں؟‘‘

سارے گھر میں تین بیڈ روم ہیں ناں، ایک میں صفی اور بیگم سوتے ہیں۔ دوسرے میں ٹمی اور اسمی اور تیسرے میں اکیلی سیما۔

جب میں نئی نئی آئی تھی تو صفی نے کہا تھا؛ ’’اماں کا پلنگ سیما کے کمرے میں لگا دو۔‘‘ دو دن تو میں سیما کے ساتھ سوتی رہی، پھر تیسرے دن بڑی دیر تک صفی، بیگم اور سیما ایک کمرے میں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ پھر صفی آیا، کہنے لگا؛ ’’بھئی اماں تو اس کمرے میں گھٹی گھٹی سی رہتی ہے۔ اس کی عادت توکھلی جگہ میں رہنے کی ہے۔ بھئی، اس کی چارپائی تو رسپشن میں لگا دو، کیوں اماں؟‘‘

لو، میں بھلا کیا کہتی۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا صفی۔ مجھے تو کھلی جگہ میں رہنا پسند ہے۔

تو انھوں نے میری منجی رسپشن میں لگا دی۔ اے وہی جو دلان سا ہے، کمروں سے باہر۔

دوسرے ہی دن بیگم نے کہا؛ ’’صاؤبا، جب بڑی بیگم صبح اٹھ کر نماز پڑھیں نا، تو تم ان کی منجی اٹھا دیا کرو اور جب رات کو یہ عشا کی نماز پڑھ لیا کریں تو بچھا دیا کرو۔‘‘

ہاں بھئی ٹھیک تو ہے، سارا دن منجی رسپشن میں بچھی رہے تو اچھی نہیں لگتی نا۔ اور میرا کیا ہے، میں سارا دن پچھلے برامدے میں ہتھ بچھی لے کر پڑی رہتی ہوں۔ کھلی جگہ ہے بڑی سوہنی ہوا آتی رہتی ہے اور جو اکیلی پڑی گھبرائی تو صوبے کے پاس جا بیٹھی۔ ٹمی، اسمی کے پاس جا بیٹھی، دن گزر رہی جاتا ہے۔

شکر ہے اللہ کا بڑا سوہنا وقت گزرتا ہے۔ اے، اتنا بھرا بھرا گھر ہے۔ اللہ رکھے پوتے ہیں، پوتیاں ہیں، بہو ہے بیٹا ہے اور پھر گھر اتنا سوہنا ہے، اتنا صاف ستھرا کہ ہاتھ لگاؤ تو میلا ہوجائے۔ مجھے اور کیا چاہیے۔ اللہ نے اتنے بھاگ لگائے ہیں مجھے۔ اللہ رکھے میرا پتر صاب بنا ہوا ہے، صاب۔ سبھی صاب کہہ کر بلاتے ہیں۔ اللہ نے اتنا مرتبہ دے رکھا ہے۔ اللہ اس سے بڑا مرتبہ دے۔

اور پھر وہ میرا اتنا خیال رکھتا ہے کہ ہر دوسرے تیسرے دن خود آتا ہے۔ میرے پاس، کہتا ہے؛ ’’اماں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتادے۔ تجھے کوئی تکلیف تو نہیں، اماں؟‘‘ اتنا خیال رکھتا ہے میرا پتر۔ کتنی خوش نصیب ہوں۔ اس سے زیادہ خوش نصیبی کیاہوگی بھلا۔ اللہ نے اتنے بھاگ لگائے ہیں۔ مجھے پھر میں کیوں نہ خوش ہوں۔

میں کوئی ناشکری ہوں کہ … نہیں نہیں میں بہت خوش ہوں۔ بہت خوش۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ممتاز مفتی