4

ذار سوچئے اس پر !!

تب اس کی عمر یہی کوئی دس بارہ سال رہی ہوگی۔ چہرے پر بلا کی ذہانت، تقدس میں ڈوبا ہوا بانکپن، آنکھوں میں عجیب سی چمک گویا لڑکی نہ ہو، شرارہ ہو۔ دیر تک وہاں نظام کفر کو اکھاڑ پھینکنے اور اسلام کے عالمی غلبے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی۔ ماں باپ نے اسی ماحول میں اس کی پرورش کی تھی۔ گھر میں اکثر دوسرے دن کے کھانے کے لیے بے یقینی رہتی مگر پھر بھی پورا گھر اس روحانی لطف سے سرشار رہتا کہ اللہ نے انہیں حلال رزق کا رسیا بنایا ہے۔ باہر سے آنے والوں کو ایسا لگتا جیسے وہ اچانک کسی روحانی جنت میں آبیٹھے ہوں۔
گزشتہ دنوں میں وہ ایک شادی کی تقریب میں اچانک دکھائی دے گئی۔ میری نگاہوں میں اس کا ماضی پھر سے تازہ ہوگیا۔ برسہا برس کی شب و روز جدوجہد نے بھی اسے تھکایا نہ تھا۔ ایسا لگتا تھا اب بھی اس کے اندر سے قوت کا وہی چشمہ ابلا آتا ہو۔ کہنے لگی جب میں کسی ایسی تقریب میں آتی ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہماری اس شرکت نے نہ جانے کتنی مجبور و محروم دوشیزاؤں کو زندہ درگور کردیا ہو۔ میں اگر بہ اصرار آتی بھی ہوں تو صرف اس لیے کہ ان غافلوں کو یہ احساس دلاسکوں کہ میں اس پورے تماشے سے خوش نہیں، مجھے یہاں آکر سخت تکلیف ہوئی ہے اور پھر میں فوراً اپنی راہ لیتی ہوں۔ نادیہ کاکہنا ہے کہ اس ملک میں جب بھی میں کوئی ایسی شام سجتی دیکھتی ہوں جہاں کسی کی شادی کے حوالے سے لاکھوں روپیوں کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام دکھتا ہے تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ اس رنگا رنگ تقریب کے نیچے نہ جانے کتنی دوشیزاؤں کے خوابوں نے دم توڑدیا ہو۔ پھر مجھے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ مجبور و مقہور امت کے یہ وسائل جو غلبہ اسلام کی تحریک میں لگنے چاہیے تھے، آج یوں ضائع ہوگئے۔ حیرت تو مجھے اس وقت ہوتی ہے جب یہ سب کچھ ان حضرات کی طرف سے ہوتا ہے جو دین کا شعور رکھتے ہیں اور جنھوں نے اپنی پوری زندگی غلبہ دین کے حوالے سے متعارف کرائی ہوتی ہے۔ کیا اسلامی اور کیا غیر اسلامی، رسوم و روایات کے متعفن دلدل میں سبھی گردن تک پھنسے ہیں۔ بلکہ دنیاوی زندگی کے جھوٹے مباہات کے اظہار میں اب یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ مسلمان کون ہے اور کافر کون؟ اس لیے کہ دونوں کے یہاں شادیوں میں فضول خرچی، رسم و رواج اور شان و شوکت کے اظہار کا انداز ایک ہی ہے۔ دین سے غافل اور انسانی شعور سے خالی لوگ اگر اس طرح کے اظہار میں حصہ لیں تو ان سے ہمدردی ہوتی ہے لیکن جو لوگ خود کو برملا مبلغ دین کہتے ہیں ان کے پاس اس بات کے لیے کیا جواز ہے کہ وہ اسلام کی مغلوبیت کے عہد میں اپنے وسائل کو اس طرح ضائع کریں؟ بڑے مجرم ہیں یہ لوگ جو غلط مثالیں قائم کرتے ہیں۔ اگر ہندوستان میں اسلامی تحریک ایک عوامی آواز نہیں بن سکی تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی مجرمین ہیں جنھوں نے عین اسلامی تحریکوں کے اندر اپنی مادی آسودگی کا کاروبار چلا رکھا ہے اور چوں کہ یہ دنیا دار لوگ خود کسی عزیمت کی راہ پر نہیں چل سکتے اس لیے پوری تحریک کو اپنے رستے پر ہانک لے جانے کے لیے تاویلات کا سہارا لیتے ہیں۔ میرے لیے نادیہ کی باتوں سے انکار مشکل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار خود مجھے کرم فرماؤں کے اصرار سے تنگ آکر ایک تقریب میں جانا پڑا تو میں وہاں چند ثانیے سے زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ رنگ و رونق، قمقمے اور الف لیلائی ماحول میں جہاں ہر طرف دنیا ہی دنیا کا شور تھا، قیمتی لباس کی نمائش تھی، فخر و مباہات کا مقابلہ تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری روح گھٹنے لگی ہو۔ میں نے اہلیہ سے کہا جلدی چلو، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اندرون میں میری گردن مروڑ رہا ہو، تب اس رات میں بہت رویا۔ کچھ تو اپنے جانے پر پشیمانی تھی اور کچھ اس بات کا صدمہ کہ آخر ان لوگوں کی سمجھ میں یہ موٹی سے بات کیوں نہیں آتی کہ مغلوب منتشر امت جس پر پوری دنیا میں ذلت و بے بسی کا عذاب طاری ہو اس کے لیے اس جھوٹے جشن پر لاکھوں روپے صرف کردینے کا کوئی جواز نہیں۔ یہی لوگ جو ایک شام سجانے پر لاکھوں روپے صرف کردینے پر آمادہ ہیں، انہیں امت کے اجتماعی مفاد کے لیے چند روپے صرف کرنا گوارا نہیں۔ امت کے اندر نہ جانے کتنی اسکیمیں صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے دم توڑدیتی ہیں۔ کیا اس امت کے باشعور مسلمان اس ہنگامی صورت حال میں اپنی فضول خرچیوں کو لگام نہیں دے سکتے؟ مگر کیسے دیں؟ ہمارے عہد کے اسلامیوں نے سماجی سطح پر جو معیارات قائم کیے، وہ وہی تھے جن کو مادے کی دنیا میں گردن تک دھنسے ہوئے لوگوں نے اختیار کررکھا تھا۔ عام مادہ پرستوں کی طرح ہمارے لیے بھی امریکہ اور کینیڈا کا حوالہ معتبر تھا۔ ہم نے بھی رشتوں کے تعین میں دین کو کوئی اہمیت نہ دی۔ بس یہی دیکھا کہ گھر بڑا ہو، مال و دولت کی بہتات ہو۔ رہی یہ بات کہ ہماری بچی یا بچہ کسی خدا ترس لڑکے یا لڑکی سے منسلک ہو تو یہ بات شاید ہمارے گوشہ خیال میں بھی نہ آئی کہ اگر ایسا ہوتا تو دنیاوی فخرو مباہات کے بجائے ہماری تقریبوں میں مسجد کی سی سادگی اور تقدس کا سماں دیکھنے کو ملتا۔
دنیا یقینا چند روزہ ہے۔ مادی زندگی کے تماشے جلد ہی رخصت ہوجانے والے ہیں۔ آخرت میں کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ امریکہ اور کینیڈا کے حوالے سے نہ ہوگا اور نہ ہی پُر شور، پُر شکوہ تقریبات وہاں کسی کا مقام متعین کرسکیں گی۔ ہاں یہ ضرور ہوگا کہ ان سماجی لعنتوں کو مستحکم کرنے میں آپ کا حصہ آپ کے لیے دردِ سر بن جائے گا۔ تب وسائل سے محروم امت کی بے شمار بچیاں آپ سے سوال کریں گی کہ آخر کس جرم میں ان کے لیے جاہ و حشم کی یہ شام نہیں سجائی گئی؟ آخر وہ کون سا گناہ تھا جس کے عوض انہیں ساری زندگی مناسب بر کی تلاش میں اس طرح زندگی گزارنی پڑی جیسے وہ خود اپنے کندھوں پر اپنی لاش اٹھائے پھرتی ہوں؟ تب وہ ان تمام جاہ پرستوں سے پوچھیں گی: ’’بای ذنب قتلت؟‘‘

شیئر کیجیے
Default image
نادیہ عرشی