2

میں پردہ کیوں کرتی ہوں؟

میں اس دن اسکول سے جلدی جلدی گھر آئی تو ایسا محسوس کررہی تھی کہ زندگی کا ایک اہم فیصلہ کرلیا ہو۔ میں اس وقت دسویں جماعت کی طالبہ تھی اور میرے پری پیریٹری امتحان کا آخری پرچہ تھا۔ شام کو جب میرے والد گھر پہنچے تو میں نے اپنا فیصلہ سنایا اور کہا ’’ابا جی میں برقعہ پہننا چاہتی ہوں۔‘‘ میرے والد پہلے تو مسکرائے اور میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ:’’یہ فیصلہ آج کی لڑکی اتنی آسانی سے نہیں کرسکتی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ جس طرح برقعہ آج ایک فیشن بن گیا ہے اسی طرح تم بھی اسے اپنانا چاہتی ہو، تھوڑا انتظار کرو۔‘‘
ابا کی یہ بات سن کر دکھ بھی ہوا لیکن دل کے کسی گوشے میں ابا کی بات کا اعتراف بھی کرلیا۔
دوسرے دن جب ابا گھر لوٹے تو انھوں نے مجھے بلایا اور ایک کتاب مجھے دی اور کہا: ’’یہ کتاب پڑھو، پھر یہ فیصلہ کرنا کہ تمہیں پردہ کرنا ہے یا نہیں کرنا۔‘‘ وہ کتاب مولانا محترم ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ’’پردہ‘‘ تھی، اور شاید یہی میری پہلی ضخیم تحریکی کتاب تھی جس کا مطالعہ میں نے بڑے شوق سے شروع سے آخر تک کیا۔ کتاب کے اختتام پر میں نے کافی سکون محسوس کیا اور ابا سے جاکر کہا کہ اب میں ضرور پردہ کروں گی کیونکہ میں پردہ کے اسلامی تصور کو سمجھ گئی ہوں۔ تب ابا نے کہا کہ: ’’الحمدللہ! مجھے پتہ تھا کہ اگر تم اس کتاب کا سمجھ کر مطالعہ کرو گی تو ضرور مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ پھر پردہ پہننے کے بعد سوائے ان کپڑوں کے جو لڑکوں کے مشابہ ہیں تم وہ سب پہن سکتی ہو جس کو پہننے کا تمہارا دل چاہے لیکن یہ سب اس لیے ہوگا تم اپنے آپ کو قید میں محسوس نہ کرو اور یہ سب تمہاری اپنی اور اللہ کی خوشی کے لیے ہوگا۔‘‘
پھر میں نے پردہ شروع کردیا۔ شروعات میں گرمی اور چہرے کے ڈھکے رہنے کی وجہ سے کچھ پریشانی ہوئی لیکن چند ہی دنوں میں میں اپنے آپ کو بہت ہی محفوظ سمجھنے لگی۔ میرے ساتھ پڑھنے والے لڑکے راستوں پر میرے پردے کرنے سے پہلے برے القاب سے پکارا کرتے تھے، لیکن پردہ کے بیچ میں ڈھال بننے کے بعد وہ لوگ بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور کہیں اگر مل جائیں تو نظریں نیچی کرکے چپ چاپ نکل جاتے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میرا یہ فیصلہ کتنا صحیح تھا اور میرے ابا کی نصیحت نے مجھے ہمیشہ اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا حوصلہ دیا۔ ابا کی دی ہوئی آزادی نے مجھے بھی پردے کو بوجھ نہیں لگنے دیا۔ بلکہ ابا نے مجھے ٹو وہیلر اور کار دونوں چلانا سکھایا۔ لیکن جب میں کالج پہنچی تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ پردہ کا غلط استعمال ہورہا ہے کیونکہ بہت ساری لڑکیوں پر والدین کی طرف سے ’’مسلط‘‘ کیا گیا پردہ ان کے لیے بوجھ سے کم نہیں تھا۔ میری ایسے والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو اللہ کے کسی بھی حکم کی پابندی کے لیے زبردستی آمادہ کرنے کی بجائے انہیں اس احکام کے مثبت پہلوؤں سے آگاہ کرائیں اور انہیں یہ بتائیں کہ اللہ کا ہر حکم اپنے ساتھ انسان کی بھلائی لے کر نازل ہوا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ زبیر،پورٹ بلیر

تبصرہ کیجیے