6

کیسے کریں بالوں کی حفاظت

بالوں کی بیماریاں آج کل عام ہیں، مردوں اور عورتوں دونوں میں بال گرنے کی شکایت بہت زیادہ ہے۔ عورتیں جن کے حسن اور دلکشی میں بالوں کا بڑا رول ہے اگر بال گرنے سے دوچار ہیں تو پریشانی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور بعض وقت اس کی فکر انسان کے لیے نفسیاتی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ اگرچہ صحت کی حفاظت اور اس کو بہتر بنانا ایک عام ضرورت ہے مگر بالوں کا معاملہ کچھ خاص ہی ہے۔ اس لیے دیکھئے کہیں آپ کو بال گرنے کی شکایت تو نہیں۔ اور اگر ہے تو اس طرف توجہ دیں اور یاد رکھیں کہ:
٭ رائج الوقت شمپو میں جو کیمیاوی اثرات ہوتے ہیں ان سے بالوں کا قدرتی رنگ ضائع ہوجاتا ہے۔
٭ سورج کی تپش میں رہنا یا دھول مٹی کے ماحول میں رہنے سے بھی بالوں کو نقصان ہوتا ہے۔
٭ بلیچ یا عارصی رنگ دینے، پرم کرنے، سیدھے کرانے یا اس طرح کے دوسرے ٹریٹمنٹ بار بار کرانے سے بال کمزور ہوجاتے ہیں۔
٭ زندگی میں تناؤ، کھانے کی غلط عادتیں، نشیلی دوائیں یا وزن گھٹانے کی کوششیں بھی بالوں کے لیے مضر ہیں۔
اس لیے ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ بال دھونے کے لیے شمپو یا کیمیکل میں بنی چیزوں کے بجائے قدرتی چیزوں مثلاً: ملتانی مٹی، سرسوں کی کھلی یا ریٹھا آملہ وغیرہ کا استعمال کریں۔ اور دھوتے وقت ہلکا گرم پانی استعمال کریں اور ویکس، سیلی کان اسپرے اور شائنر مسٹس کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اس سے بال بے وزن اور چپ چپے ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ
٭ ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ ناریل کا قدرتی تیل لگاکر مالش کریں، نہانے سے دو گھنٹہ قبل یہ عمل ہو اور پھر بال دھولیے جائیں۔ اس سے بالوں اور ان کی جڑوں کو مطلوب غذا فراہم ہوگی۔
٭ گھر سے نکلتے وقت اسکارف ضرور لگائیں اس سے سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں اور گردو غبار سے محفوظ رہیں گی۔
٭ ۶ سے ۸ ہفتوں کے بعد بالوں کے آخری سرے کو کٹوانے کا اہتمام کریں تاکہ وہ پھٹنے سے محفوظ رہیں۔
٭ پانی خوب پئیں اور تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں۔
کنگھا کرنے میں احتیاط کریں
بال دھونے کے بعد کنگھے یا برش کو بھی صاف کرنا چاہیے اور گیلے بال سکھا کر ہی کرنا چاہیے۔ بالوں کو تولیے سے رگڑنے یا جھٹک کر سکھانے سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔ شروع میں بالوں کو سلجھانے کے لیے موٹے دانتوں کا کنگھا استعمال کریں اور ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف کریں۔ اس سے بالوں کی جڑوں میں خون کا دوران مناسب ہوتا اور جڑوں کو غذا ملتی ہے۔
سر کی خشکی
سر کی خشکی جسے عام زبان میں روسی کہتے ہیں بالوں کے گرنے کا خاص سبب ہے۔ اس سے بالوں کی جڑوں میں سفید پرت دار مادہ پپڑی کی صورت میں نظر آتا ہے اس کا خاص سبب سر میں سست رفتار دوران خون ہے۔ روسی دو طرح کی ہوتی ہے ایک خشک اور دوسری چکنی یا تیلی۔ چکنی روسی میں کھجلی بھی محسوس ہوتی ہے اور یہ جلد کی سطح پر جمی رہتی ہے اس سے جلد کے بھی متاثر ہوجانے کا امکان رہتا ہے۔
علاج: اس کے لیے سب سے پہلے صاف ستھرا تولیہ اور صاف کنگھا استعمال کریں۔ اور پھر درج ذیل چیزیں استعمال کریں:
٭ دو بڑے چمچے سر کے کو چھ چمچہ گرم پانی میں ملائیں اور سر پر اس طرح لگائیں کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر سر کو کسی اسکارف سے باندھ لیں اور رات بھر لگا رہنے دیں صبح کو اچھی طرح دھو لیں۔ ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ ایسا کرنے سے دو ماہ میں خشکی سے نجات مل جائے گی۔
٭ سر پر ہلکے گرم تیل کی مالش کریں اور ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد لیموں کا رس سرکہ میں ملا کر بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور پھر ایک گھنٹہ کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد اچھی طرح بالوں کو دھو ڈالیں۔
بالوں کے مفید نسخے
٭ اگر وقت سے پہلے بال سفید ہوتے نظر آئیں تو ڈائی ہرگز نہ کرائیں بلکہ آنولہ اور مہندی کا استعمال کریں۔ اس کے لیے آنولہ اور مہندی دونوں کو لوہے کے کڑاہی میں رات کو بھگو دیں اور صبح لگالیں اور چار سے چھ گھنٹے لگا رہنے دیں۔ اور اگر صرف بالوں کو کنڈیشن کرنا ہو تو ڈیڑھ دو گھنٹہ میں دھودیں۔ سفید بالوں کی شکایت کی صورت میں بالوں کے سوکھنے سے پہلے سرسوں یا زیتون کا ہلکا گرم تیل لگائیں اور پھر ایک گھنٹہ بعد دھو ڈالیں۔
٭ میتھی کی ہری پتیوں کا لیپ نہانے سے پہلے لگاتار لگائیں اور آدھے ایک گھنٹہ بعد دھو دیں۔ اس سے بال لمبے، گھنے اور چمکدار ہوجائیں گے۔ میتھی دانے کا لیپ لگانے سے سر میں خشکی نہیں ہوتی اور اگر ہوگئی ہو تو دور ہوجاتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر متالی بترا

تبصرہ کیجیے