4

روشن خیالی اور پردہ

پچھلے کچھ عرصہ سے روشن خیالی کی بحث چل رہی ہے کہ کیا اسلام میں روشن خیالی کی گنجائش موجود ہے یا یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ اگر قرآن، حدیث، اسلامی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام اور روشن خیالی کوئی الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ اسلام ہی وہ روشن خیال اور ہمہ گیر مذہب ہے جس نے انسان کو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر انسانیت کو روشن اقدار سے روشناس کروایا۔ اگر کوئی اسلامی قوانین سے تصادم اور حدود و قیود سے آزادی کو روشن خیالی تصور کرتا ہے تو اس کو اس کی خال خیالی تو کہا جاسکتا ہے لیکن روشن خیالی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ بے پردگی، عریانیت اور بے قید آزادی نہ صرف قرآنی احکامات کی کھلے عام نفی ہے بلکہ جنسی انحرافات کا ابتدائی زینہ ہے۔ جس کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہیں۔ سورہ نور کی تیسویں آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے رسول! ایماندار عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظروں کو نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے بناؤ سنگار کے مقامات کو نامحرموں پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ لیکن جو خود بخود ظاہر ہوجاتا ہے (جیسے چادر، برقعہ وغیرہ) اس کا گناہ نہیں۔ اور اپنی اوڑھنیوں کو (گھونگھٹ مار کر) اپنے گریبانوں سینوں پر ڈالے رہیں۔‘‘ (النور:۳۰)
مسلمان ہونے کے ناطے اللہ، اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت ہم پر واجب ہے۔ با پردہ رہنا اور اپنے آپ کو نامحرم کی نظروں سے پوشیدہ رکھنا ہی اللہ کی اطاعت ہے۔ ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن میں اور میمونہؓ (دونو ںازواج رسولؐ ہیں) رسولؐ کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ایک نابینا صحابی ابن مکتومؓ تشریف لائے۔ آنحضرتؐ نے ہم سے فرمایا: ’’تم دونوں پردہ کرلو۔‘‘ ہم نے عرض کیا کہ وہ نابینا ہیں تو آنحضرتؐ نے جواب دیا کہ کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟‘‘
ازواجِ رسولؐ کو مومنوں کی ماؤں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اگر پردے کے معاملے میں انہیں کوئی رعایت حاصل نہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے۔
علمِ اخلاق کے مفکرین کے نزدیک انسان کی گناہ کی طرف رغبت کی بڑی وجہ اس کے اندر پائی جانے والی تین قوتوں کے بے اعتدالی ہے۔ انہیں قوۃ شہویہ، قوۃ غضبیہ اور قوۃ وہمیہ کہا جاتا ہے۔ انسان کے اندر ان قوتوں کی بے اعتدالی اسے گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔ قوۃ شہویہ کا اعتدال میں رہنا بقائے نسل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے ایک حدسے تجاوز کی بڑی وجہ بے پردگی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام نے قوۃ شہویہ کی ایک شاخ ’’پردے کے قانون‘‘ میں تمام قوانین وضع کیے ہیں۔ جو آدمی کو شہوت پرستی اور ہیجان میں مبتلا کرنے سے روکتے ہیں۔ اور اس کے اسباب کی ممانعت اور روک تھام کو قطعی قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے اسلام سے تعلق رکھنے والی ہر اس چیز کی مخالفت اور اسے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے اسلامی تشخص، تعلیمات اور اقدار کو فروغ مل رہا ہو۔ مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ، طلاق، داڑھی اور برقعہ کے خلاف ہرزہ سرائی، اسلام دشمن طاقتوں سے برسرِ پیکار مسلمانوں کی نسل کشی سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ سب کچھ مغرب کی ایماپر ہورہا ہے۔ ہم نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کو پس پشت ڈال کر امریکہ کی اطاعت کا کلمہ پڑھ لیا ہے۔ ہمیں امریکہ اور اہل مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی مذہبی قدروں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اہل مغرب کو سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ اسلام سے ہے اس لیے وہ اسلام کی شکل بگاڑنے کے لیے اس طرح کے گھناؤنے اور اوچھے حربے استعمال کررہا ہے۔ دراصل اسلامی تعلیمات کے منافی احکامات کا پرچار ہی یہود و نصاریٰ کی ترجیحات ہیں۔ جب کہ ہماری بقاء، ترقی و کامرانی کا راز اسلام پرستی میں مضمر ہے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر عمرانیات ’’فرانسٹس فانون‘‘ جس نے الجزائر کے انقلابی معاشرے کا گہرا تجزیہ کیا ہے ایک مسلمان مفکر کو ایک خط میں کہتا ہے :
’’اگرچہ میں مسلمان نہیں ہوں اور اسلام کے بارے میں میرے احساسات اور جذبات تمہاری طرح نہیں ہیں لیکن شاید میں تم سے زیادہ اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور اس حقیقت سے تم سے زیادہ آگاہ ہوں کہ اسلامی ممالک کے پاس ظالم و جابر اور استعماری قوتوں کے خلاف اسلام (کی تعلیمات پر عمل) سے بڑھ کر اور کوئی زبردست حربہ نہیں۔‘‘
غیر مسلموں پر تو یہ بات آشکار ہے کہ مسلمانوں کے پاس ان کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار اسلام ہے لیکن ہم نہ جانے کیوں اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کو عادت بناتے جارہے ہیں۔ پردہ اسلامی تعلیمات کا اہم جز ہے، بے پردگی کو تنگ خیالی تو کہا جاسکتا ہے لیکن اس کو روشن خیالی سے موسوم نہیں کیا جاسکتا ۔ بے پردگی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مضمرات کا اندازہ ان ممالک سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جہاں یہ عام ہے۔ یورپ میں جنسی تشدد اور بے راہ روی کی بڑی وجہ بے پردگی اور مادر پدر آزادی ہے۔ ایک سروے کے مطابق وہاں ہر سال لاکھوں بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کے باپ کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ لڑکے اور لڑکیاں نو عمری سے ہی جنسی افعال کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ ان سارے گناہانِ کبائر کی وجہ صرف اور صرف بے پردگی ہے۔ وقت لاکھوں ایسے افراد کا پتہ دے رہی ہے جو اسلام کی صداقت و حقانیت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش ہوئے۔ ہمیں مغربی کلچر میں اپنے آپ کو رنگنے کی بجائے خود کو اللہ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس سے اچھا رنگ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ لوگ جو برائی کے حامی ہیں اپنی غلط روش کو نہیں چھوڑ سکتے تو ہمیں اپنے سچے عقائد کو دنیاوی مفادات پر قربان نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آج ہم امریکہ کی بجائے خدا کو دل و جان سے سپر پاور تسلیم کرلیں اور اس پر توکل کرتے ہوئے اس بات پر ایمان لے آئیں تو چشمِ زدن میں ہمارے سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

شیئر کیجیے
Default image
سید امتیاز حسین کاظمی

تبصرہ کیجیے