3

دودھ گنگا

اس دن ہم ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے جہاں کا نام خوب صورت، لیکن اہمیت کم تھی۔ ایک چھوٹی سی ہموار جگہ میں بنگلہ تھا۔ اس کے سامنے اترائی میں کھلا سا میدان، سامنے پہاڑیاں اور چیڑ کا جنگل، اس کے دامن میں بہتا ہوا ایک برفیلا پہاڑی نالا جس کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔

تنہائی کے خیال سے وہ جگہ پریتما کو بہت پسند آئی، کیوں کہ وہاں بہت کم سیاح آتے تھے اور جو لوگ صبح کے وقت آتے تھے شام کو لوٹ جاتے۔ لیکن ہم نے تو وہیں ایک رات گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پریتما دودھ گنگا نام کی ایک ندی کے درشن کرنا چاہتی تھی۔ دودھ اور گنگا۔ ان دو منسلک الفاظ نے اسے بہت متاثر کیا تھا۔ گنگا وردان دیتی ہے۔ سب دکھ دور کرتی ہے اور جو گنگا دودھ کی خبر دے اس سے تو ضرور کسی ابھاگن کی گود بھی ہری ہوجاتی ہوگی۔ پریتما بھلے ہی منہ سے کچھ کہے یا نہ کہے، پر میں نے تو ایسا ہی محسوس کیا۔ وہ وہاں جانے کے لیے اتنا زور دے رہی تھی، اس کے پیچھے ایک جذبہ، ایک مقصد اور عقیدت ضرور کار فرما تھی۔

اس طرف لوگ پیدل ہی جاتے تھے۔ سویرے چل دیتے اور دوپہر تک لوٹ آتے۔ لنچ ڈاک بنگلے میں کرتے۔ پارٹی سویرے ہی اس طرف روانہ ہوچکی تھی۔ پریتما کو ٹولی کے ساتھ اس طرف جانا پسند نہیں تھا۔ وہ بولی: ’’ہم اکیلے ہی چلیں گے، مجھے قہقہہ لگانے والے لوگ جنگل کے بھیڑیوں جیسے لگتے ہیں۔‘‘

تقریبا سات بجے ہوں گے جب سورج چیڑ کے پیڑوں سے لدے پہاڑ کی اوٹ سے جھانکنے لگا تھا۔ دھند سمٹنے لگی تھی۔ کچھ دیر تک ہم ڈاک بنگلے کے سامنے لان میں گھومتے رہے۔ پھر نیچے میدان میں اتر آئے اور اس پگڈنڈی کی طرف ہولیے جو دودھ گنگا کی طرف جاتی تھی۔ جگہ نئی تھی اور راستہ انجانا۔ ایک اکیلے پن کا احساس ہمارے دل کو چھوگیا۔ یوں لگا جیسے ہم سامنے نظر آنے والے جنگل میں جاکر کہیں کھوجائیں گے۔

بھٹکنے کی زیادہ چنتا مجھے تھی۔ میں پریتما سے بولا: ’’کیا ہم منزل تک پہنچ جائیں گے؟‘‘

’’راستہ تو وہی جاتا ہے نا…؟‘‘

’’راستے تو کئی ہیں، ایک راستے میں کئی راستے آکر مل جاتے ہیں۔‘‘

’’اچھا چلو… آگے چل کر کسی سے پوچھ لیں گے۔‘‘

ابھی آدھا کلو میٹر ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ راہ میں ایک چھوٹا سا نالا پڑا۔ اسے پھلانگ کر پار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے اندر ہی سے ہوکر جانا ممکن تھا۔ جوتے اتار، ہاتھ میں تھامے، ہم نالے میں اتر گئے۔ پانی میں پیر رکھتے ہی ایک سرد لہر جسم میں دوڑ گئی۔ اف اس قدر ٹھنڈا پانی… یوں لگا پاؤں سن ہوجائیں گے۔

نالے کے بعد گھاس نما بوٹیوں سے اٹا پڑا ایک ہرا بھرا میدان تھا۔ وہیں کچھ بھیڑوں اور بکریوں کے درمیان ہمیں دو بچے دکھائی دیے۔ گول مٹول، گورے سرخ چہرے اور بلوری آنکھوں والے بچے۔

پریتما انہیں دیکھتے ہی خوشی سے چہک اٹھی۔ ’’یوں لگتا ہے جیسے آسمان سے فرشتے بچوں کا روپ دھار کر دھرتی پر اتر آئے ہیں۔‘‘ وہ بڑے پیار سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔

’’بڑا لڑکا بولا؛ ’’گائیڈ چاہیے میم صاحب؟‘‘

’’گائیڈ…!‘‘ پریتما کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’تم گائیڈ ہو؟‘‘

بچہ پہلے تو جھینپ سا گیا۔ پھر حوصلہ کر کے بولا؛ ’’ہاں‘‘

’’کہاں لے جاؤگے؟‘‘

’’دودھ گنگا۔‘‘

’’دودھ گنگا… پریتما نے میری طر ف اشتیاق بھری نظروں سے دیکھا، کہنے لگی ہوشیار بچہ ہے اور پھر اس بچے سے بولی؛ ’’چلو۔‘‘

لڑکے نے لڑکی سے کشمیری میں کچھ کہا۔ جواب میں لڑکی نے ’’ہاں‘‘ کے روپ میں سر ہلایا۔

’’چلیے، لڑکا آگے آگے ہوگیا۔

’’ٹھہرو…‘‘ پریتما بولی۔ ’’ہمارے ساتھ ساتھ چلو۔‘‘

لڑکے نے محسوس کیا جیسے اس نے آگے تیز قدم بڑھا کر کوئی گساخی کی ہے۔ وہ رک گیا۔

میں بولا: ’’عموما گائیڈ آگے بڑھ کر ہی راستہ دکھاتے ہیں۔‘‘

پریتما نے کہا؛ ’’وہ بچہ ہے۔ ساتھ چلے گا تو بڑا پیارا لگے گا۔‘‘

’’چلو…‘‘ وہ ہمارے ساتھ ہولیا۔

دھوپ کے باوجود جنگل کی طرف سے دل کو فرحت بخشنے والے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے تھے۔ چاروں طرف ایک پراسرار خاموشی تھی۔ ایسا سفر مجھے بڑا اچھا لگتا ہے، لیکن تنہائی میں شاید ڈر لگے۔

پریتما نے بچے سے پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’انور…!‘‘ وہ پریتما کی طرف معصوم نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔

’’اور وہ لڑکی کون تھی؟‘‘

’’ہماری بہن۔‘‘

’’تمہارا گاؤں کہاں ہے؟‘‘

اس نے اپنے گاؤں کا نام بتا دیا۔ پھر اشارہ کیا اس پہاڑی کے پیچھے ہے۔

ایسا لگتا تھا، اس پہاڑی کے پیچھے کوئی میدانی علاقہ ہو گا اور وہیں کسی چشمے کے کنارے انور کا گاؤں ہوگا۔

’’انور تم کتنے بھائی بہن ہو؟‘‘

اس نے کچھ معنی خیز نظروں سے پریتما کی طرف دیکھا۔

’’بولو…‘‘

’’ہم ایک بہن، ایک بھائی ہیں۔‘‘

پریتما میری طرف دیکھتی ہوئی انگریزی میں بولی؛ ’’لڑکا چالاک ہے۔ گھر کی کوئی بات بتانے میں ہچکچاتا ہے۔‘‘

ہموار میدان پار ہوگیا تھا۔ اب ہم اوبڑ کھابڑ راستے سے ہوکر آگے بڑھنے لگے۔ انور جو ہمارا گائیڈ تھا، اس کے قدم تیز اٹھنے لگے تھے۔

ٹھہرو…! آہستہ آہستہ چلو۔‘‘ پریتما نے پھر اسے ٹوکا۔

ہم سنبھل سنبھل کر آگے بڑھنے لگے۔ ایک طرف چیڑ کے درختوں کا جنگل سا تھا، دوسری طرف ڈھلان۔ ایسے راستوں سے ہمیں پہلے بھی کئی مرتبہ چلنا پڑا تھا۔ پھر بھی ہمیں ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نئی راہ پر چلنے کی مشق کر رہے ہیں۔ پھر پھسل پھسل جاتے تھے۔ منزل پر پہنچنے کی خواہش تیز ہوتی جا رہی تھی۔

مجھے ایک کہانی یاد آرہی ہے پریتما۔‘‘

’’کیسی کہانی؟‘‘

’’ان معصوم بے سہارا بچوں کی کہانی، جنہیں ان کا ظالم چچا کسی گھنے جنگل میں چھوڑ آیا تھا۔ وہ غریب بچے روتے بھٹکتے اس جنگل میں ایک درخت تلے سوگئے تھے اور رات کو ٹھنڈ سے مر گئے تھے اور چڑیوں نے ان کی لاش کو پھول پتوں سے ڈھانک دیا تھا۔

’’کیا وہ چیڑ کا جنگل تھا؟‘‘

’’نہیں بید کا…‘‘

’’پریتما نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا؛ ’’مجھے ایسی کہانی مت سنایا کرو۔‘‘

سامنے ڈھلان تھی۔ بغل سے ایک نالا شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا۔ وہاں انور کا پاؤں پھسلا۔

’’انور…‘‘ پریتما کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ ’’کیسے چل رہے ہو، دیکھ کر نہیں چلا جاتا؟‘‘

میں مسکرا کر بولا؛ ’’انور تو گائیڈ ہے، اسے تو آگے آگے چلنا ہی ہوگا۔‘‘

’’لو میری انگلی تھام کر چلو۔‘‘ پریتما نے اسے پاس بلایا۔ انور، پریتما کے پاس آکر اس کی انگلی پکڑ کر چلنے لگا۔ اب پریتما اس کی گائیڈ بن گئی تھی۔

چہار سو ہریالی، کہیں دھوپ کہیں چھایا۔ کہیں اچھلتے کودتے نالے کا شور تو کہیں پرندوں کی چہچہاہٹ۔ کئی دنوں سے یہی دیکھ اور سن رہے تھے۔ دل و دماغ پر قدرت کی نیرنگیاں کچھ اس قدر مسلط ہوچکی تھیں کہ اب ان کی طرف دھیان کم جاتا تھا۔ مزہ صرف چلنے پھرنے اور سفر میں تھا۔ پریتما بھی صرف چلنا چاہتی تھی۔ اس قدر چلنا چاہتی تھی کہ تھک کر بالکل ٹوٹ جائے۔ اسے تلاش تھی ایسی جگہ کی جہاں وہ ٹوٹ کر کھوجائے۔ ایک ایسی منزل کی جہاں پہنچ کر وہ افسردگی کے نشے میں ڈوبی رہے اور اس کی آنکھیں کچھ تلاش کرتی رہیں۔

دودھ گنگا تک کا سفر مختصر ہی تھا۔ یہ سفر کوئی خاص رنگین تھا نہ پر اسرار۔ بیس بائیس فٹ نیچے گہرائی میں ایک ندی بہہ رہی تھی۔ اچھلتی کودتی، مچلتی اور شور مچاتی ہوئی۔ اس میں ایک جھاگ سی پیدا ہو رہی تھی اور پانی کا رنگ دودھیا نظر آرہا تھا۔ پر وہ دودھ نہیں تھا اور نہ بہنے والی ندی گنگا تھی۔ہم ایک اونچی سی جگہ، چیڑ کے ایک درخت تلے بیٹھ گئے۔ سامنے ندی تھی۔ اس کے اس پار جنگل تھا۔ ہمارے پیچھے بھی چیڑ کے پیڑ تھے۔ سامنے کچھ لوگ لکڑی کے بڑے بڑے لٹھے پانی میں اتار رہے تھے۔

ہمارے پیچھے جو جنگل تھا، اس طرف سے کچھ لوگوں کے بولنے کی آوازیں آتی سنائی دیں۔ ان آوازوں میں ہمیں کچھ چونکا سا دیا۔

آوازیں رفتہ رفتہ قریب آتی گئیں۔ کچھ دیر بعد ہم نے دیکھا میسور والوں کا گروپ ایک طرف سے چلا آرہا تھا جنھوں نے دوران سفر بس میں اوٹ کمنڈ جیسی سیر گاہ کے بڑے گن گائے اور کہا تھا کشمیر آکر ہم بہت مایوس ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے ہمیں انگریزی میں کہا: ’’خوب تو آپ لوگ بھی یہاں پہنچ گئے۔‘‘

پریتما نے کہا؛ ’’ہاں آپ لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے ہم بھی یہاں تک پہنچ گئے۔‘‘

’’یہاں کچھ بھی نہیں، بیکار کی جگہ ہے۔‘‘

’’لیکن مجھے تو یہ جگہ بڑی اچھی لگ رہی ہے۔‘‘

’’ممکن ہے ہماری آنکھیں اس خوب صورتی کو نہ بھانپ سکی ہوں جنہیں آپ کی آنکھوں نے قبول کیا ہے۔‘‘

’’یہاں کی خاموشی اور اکیلا پن ہی یہاں کی خوب صورتی ہے۔‘‘

نوجوان بھی ہمارے قریب ہی بیٹھ گئے۔ ایک چھوٹی سی محفل لگ گئی۔ پیاری پیاری باتیں ہونے لگیں۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کیسے بیت گئے، کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ پھر واپس آنے کے لیے ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔

اس دفعہ ہماری تعداد کچھ زیادہ تھی۔ باتوں باتوں میں سفر آدھ گھنٹے میں طے ہوگیا۔

نالے کے پاس انور کی بہن، وہ معصوم لڑکی اخروٹ کے ایک درخت تلے انتظار میں بیٹھی، ہماری طرف نظریں گاڑے دیکھ رہی تھی۔ جونہی ہم قریب پہنچے، وہ دوڑ کر انور کے پاس آئی۔ کشمیری میں اس نے اس سے کچھ کہا۔ انور سامنے درخت کی طرف لپکا۔ وہاں پتھر کے قریب ایک میمنا پڑا تھا۔ وہ اداس سا چہرہ بنائے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ بچی بھی اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔

’’کیا ہوا انور؟‘‘ پریتما، انور کے پاس جاکر بولی۔

اس نے دیکھا انور اور اس کی بہن کرتے کے دامن سے اپنی آنکھیں پونچھنے لگے تھے۔

میمنا مرا کیسے! ایک میمنے کی مر جانے کا اتنا دکھ! ننھے بچوں کی آنکھوں میں آنسو۔

پریتما اداس نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں بھی چھلک آئیں۔ اگر ہم لوگ وہاں نہ ہوتے تو شاید وہ بھی اپنی ساری کے آنچل سے اپنی آنکھیں پونچھنے لگتی۔ اس نے بیگ میں سے بیس روپے کا نوٹ نکال کر انور کو دیتے ہوئے کہا؛

’’لو انور… اسے رکھو۔‘‘

انور نے شاید پہلے کبھی لال رنگ کا ایسا نوٹ نہ دیکھا ہو۔ وہ آنکھیں پونچھتا ہوا اس نوٹ کو کچھ حیرت کی نظروں سے دیکھنے لگا۔

’’لو…‘‘

انور نے اپنے نازک ہاتھوں سے وہ نوٹ تھام لیا۔

میں پریتما کی طرف دیکھتا رہا۔ جہاں کسی بچے کو روپے دو روپے دے کر بہلایا اور خوش کیا جاسکتا ہے، وہاں وہ بیس روپے کا نوٹ دے رہی تھی۔ میں خاموش آگے بڑھ گیا۔

ڈاک بنگلے میں پہنچا تو پتہ چلا، کھانا تیار ہے اور خدمت گاروں کو ہمارا انتطار ہے۔ خانساماں نے پوچھا ’’صاحب! میم صاحب نہیں آیا؟‘‘

’’آرہی ہے…‘‘ میں نے کہا۔

پریتما دس پندرہ منٹ کے بعد آئی۔ تب بھی اس کی آنکھوں میں اداسی تھی اور آنکھوں میں چھلک رہے آنسو۔

’’کیوں… اس قدر اداس کیوں ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

وہ کوئی جواب دیے بغیر کمرے میں چلی گئی اور اندر بچھے ہوئے ایک نواڑی پلنگ پر لیٹ گئی۔

میں پہلے بھی اسے ایسے حالات سے گزرتے دیکھ چکا ہوں۔ میں بھی کچھ اداس ہوگیا۔ کچھ دیر بعد میں کمرے میں گیا اور اسے ڈائننگ روم میں چل کر کھانا کھانے کو کہا۔

وہ بولی؛ ’’مجھے بھوک نہیں۔‘‘

’’بہانہ کر رہی ہو۔ چلو، اٹھو۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی۔ دوسرے سیاح کھانا کھا رہے تھے۔ ہمارا کھانا بھی لگ گیا۔ پریتما کو مٹر پنیر کی سبزی بہت پسند تھی۔ دیکھ کر خوش ہوگئی۔

کھانا کھانے کے بعد ہم کچھ آرام کرنے کی غرض سے کمرے میں آگئے۔ پلنگ پر لیٹتے ہوئے میں نے کہا؛ ’’پرائے بچوں سے اتنا موہ اچھا نہیں۔ کچھ دیر بعد ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ پھر جانے کبھی اس طرف آئیں یا نہ آئیں اور اگر آئیں بھی تو کیا پتہ ان بچوں سے ملاقات ہو یا نہ ہو۔ ملاقات ہو بھی جائے تو کیا پتہ وہ ہمیں پہچانیں یا نہ پہچانیں۔ اتنا موہ اپنے دل میں کیوں پال رہی ہو؟‘‘

’’بس!‘‘ پریتما نے اپنے کانوں میں انگلی ٹھونس لی۔ ’’اتنی وضاحت کی کیا ضرورت ہے۔ میں سمجھ گئی۔‘‘

میں غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ اس سے بیزاری ٹپک رہی تھی۔ میں نے کہا؛ ’’اچھا… اب دو گھڑی آرام کرلو۔‘‘

اس نے غصے سے کروٹ بدل لی۔

شام کے وقت ہمیں وہاں سے سری نگر لوٹنا تھا۔ تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹہ آرام کرنے کے بعد ہم نے کوچ کی تیاری شروع کردی۔ پریتما بار بار ڈاک بنگلے کی فٹنگ تک جاتی اور جھک جھک کر نیچے میدان کی طرف دیکھتی اور پھر مایوس سی لوٹ آتی۔

آخر میں نے اس سے پوچھ لیا؛ ’’کسے دیکھ رہی ہو؟‘‘

’’انور کو!‘‘ وہ بولی۔ ’’ابھی تک نہیں آیا۔‘‘

’’وہ کیوں آنے لگا؟‘‘

’’میں نے اسے آنے کے لیے کہا تھا۔‘‘ پریتما گویا ہوئی۔

’’بچہ تمہاری طرح جذباتی نہیں۔ اسے روزانہ کئی سیاحوں اور مسافروں سے واسطہ پڑتا ہوگا۔ اس میں اگر لگاؤ کا مادہ اتنا ہی ہو تو وہ گھر گاؤں چھوڑ کر کسی کے ساتھ ہولے۔‘‘

پریتما اور زیادہ مایوس ہوکر کمرے میں آکر بیٹھ گئی۔ شاید اسے اپنی سمجھ پر افسوس ہو رہا تھا۔

چار بجے کے قریب ہم بس میں بیٹھ کر وہاں سے روزاوانہ ہوئے۔ ساری قدرت کی نیرنگیوں اور خوب صورتی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پریتما کچھ ایسی اداس نظر آرہی تھی جیسے اپنا پیار ا ساگھر چھوڑ کر پردیس جا رہی ہو۔ میں اسے کیسے سمجھاتا کہ یہ جذباتی دل کبھی کچھ تو کبھی کچھ سوچتا رہتا ہے، لیکن جو حقیقت ہے وہ اپنی جگہ۔ رہا یہ جنگل، تو یہ اپنی جگہ مسکراتا رہے گا۔ جھرنے اور چشمے یونہی گاتے رہیں گے۔ ندی نالے یوں ہی اچھلتے کودتے ہوئے شور مچاتے رہیں گے اور برف سے لدے پہاڑ خاموش کھڑے اپنے آنچل میں بسنے والوں کو یوں ہی شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہیں گے۔ ہمارے آنے سے یہاں کچھ بدلا تھا نہ جانے سے کچھ بدلے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
گربچن سنگھ

تبصرہ کیجیے