BOOST

اندھیرا

میں کتنی بے بس تھی اور کتنی مجبور — میری دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک پلاسٹر کے سخت شکنجے میں قید تھیں اور میں سخت جسمانی تکلیف محسوس کررہی تھی۔ میرے لیے ذرا بھی حرکت کرنا دشوار تھا۔ میں اس حالت کو کیسے پہنچی؟ کب میری ٹانگوں کو پلاسٹر کے شکنجے میںقید کیا گیا اور کب سے میں یہاں پڑی تھی، مجھے کچھ نہیں معلوم … میں اپنے ذہن پر زور دینے کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی — شاید میں بیہوش رہی تھی اور بیہوشی کے دوران ہی مجھے اس نامعلوم جگہ پر لاکر میری ٹانگوں کو پلاسٹر کے شکنجے میں قید کردیا گیا۔ یہ رات کا وقت تھا، رات کے کتنے بجے تھا اور کون سا پہر تھا، یہ جاننے کا میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
میں نے اپنے آس پاس کا جائزہ لیا۔ زخمی، بدحال عورتیں ہر طرف نظر آرہی تھیں۔ ان میں کچھ کراہ رہی تھیں اور کچھ بیہوش پڑی تھیں۔ دواؤں کی بو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اس طرح مجھے احساس ہوا کہ میں کسی اسپتال کے کمرے میں تھی۔
لیکن — لیکن میں اسپتال پہنچی کیسے؟
’’اوہ! یاد آیا — نیتا جی … جنم دن … مفت کھانا … ساڑی — نیتاجی کی رہائش پر، ان کے جنم دن کے موقع پر، کھانا اور ساڑی غریب عورتوں کو مفت بانٹے جارہے تھے —
مجھے سب کچھ یاد آرہا تھا۔ میرے ساتھ میری ماں بھی تو تھی۔ مگر میں ماں …! مجھے بے حد پیار کرنے والی ماں … کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی مجھے جدا نہ کرنے والی ماں … کہاں رہ گئی … میں خیالوں کے بھنور میں الجھتی جارہی تھی … طرح طرح کے خیالات میرے دل و دماغ کو الجھا رہے تھے… میں کتنی مجبورتھی اور بے بس … میں ماں کو تلاش بھی تونہ کرسکتی تھی … کہاں رہ گئی میری ماں … میں جیسے جیسے سوچ کے دریا میں غوطہ زن ہورہی تھی … میری الجھنیں بڑھتی جارہی تھیں اور … اور پھر میں خیالوں کے سمندر میں غرق ہوگئی۔
ہم دونوں ایک چھوٹی سے جھگّی میں رہتے تھے۔ دونوں روزانہ صبح کے وقت پاس کی کالونی میں کام کے لیے جایا کرتے۔ کھانے کے لیے باسی یا جھوٹن کے طور پر روز نصیب ہوجاتا تھا۔ ماں میری شادی کے لیے ایک ایک پیسہ جوڑ رہی تھی۔
پچھلے دو دنوں سے ایک شور تھا۔ نیتا جی کے جنم دن کے موقع پر غریب عورتوں کو کھانا اور ساڑی ملے گی۔ میری ماں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
نیتاجی کے ’جنم دن‘ والے روز، صبح بغیر کچھ کھائے دونوں کام پر چلے گئے۔ ماں نے مجھے تاکید کی تھی کہ ’’دوپہر تک جھگّی پر واپس آجاؤں۔ کام سے فارغ ہوکر میں تقریباً ڈیڑھ بجے جھگی پر پہنچ گئی۔ وہاں ماں میرا انتظار کررہی تھی۔ ہم دونوں وہاں سے خوشی خوشی کھانے اور ساڑی ملنے کی امید پر چل پڑے۔
ہم دونوں نیتا جی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو دوپہر کے تین بج چکے تھے۔ وہاں ہزاروں کی بھیڑ لگی تھی۔ جگہ جگہ کپڑوں پر کچھ لکھا تھا جو ہم جیسے جاہلوں کے لیے پڑھنا ممکن نہ تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں نیتا جی کے پارٹی کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ ہزاروں کی بھیڑ میں کھانا بانٹنے والے چند ہی لوگ تھے اور دوسری طرف ایک بڑا پنڈال تھا جس میں بھاشن ہورہے تھے جو ہماری سمجھ سے باہر تھے مگر اتنا ضرور سمجھ میں آیا کہ نیتا جی کی تعریف میں باتیں کہی جارہی تھیں۔
ہزاروں بھوکوں کی بھیڑ کو آٹھ دس آدمی ہی کھانا بانٹنے پر تعینات تھے۔ یہ سارے بھوکے پیٹ بھر کھانا اور کپڑے کے لیے یہاں آئے تھے۔ مشکل سے دو ڈھائی سو لوگوں کو ہی کھانا ملا ہوگا کہ کھانا ختم ہوگیا۔ اس طرح بھوکے لوگ بے چین ہو اٹھے۔ صبر کے تمام باندھ ٹوٹ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دھکا مکی، پھر چھینا جھپٹی اور آخر میں لوٹ مار شروع ہوگئی۔ یہ دیکھ کر قریب کھڑے پولیس کے جوان، جو وہاں انتظامیہ کی ڈیوٹی پر تھے، بے قابو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے لاٹھیاں چلانے لگے۔ بھیڑ میں بھگدڑ مچ گئی۔ کتنے لوگ گرے، عورتوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس بھگدڑ میں رندتے چلے گئے۔ ہر طرف چیخ و پکار کا عالم تھا اور ساری فضا چلانے، رونے اور کراہنے کی آوازوں میں بدل گئی — اورپھر — مجھے کچھ یاد نہیں۔
اب مجھے ماں یاد آرہی تھی۔ وہ ماں، جس نے میری زندگی کے پندرہ سالوں میں کبھی مجھے اپنے سے جدا نہیں کیا۔ آخر وہ کہاں رہ گئی؟ زندگی کے اس تکلیف دہ لمحے میں … میری ماں مجھ سے کیوں دور تھی … مجھے ماں کی شفقت بھرے ہاتھ کے لمس کی ضرورت تھی … جو درد کے احساس کو کم کرسکتا تھا۔ مگر … ماں یہاں نہیں تھی … میری مجبوری یہ تھی کہ میں نا تو ہل سکتی تھی اور نا کروٹ لے سکتی تھی اور نا آس پاس ایسا کوئی تھا جس سے میں اپنی ماں کے بارے میں دریافت کرسکتی۔ اس بے بسی میں میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر اپنی زندگی کے تمام واقعات اور اپنی ماں سے سنی ہوئی باتیں میرے ذہن میں آنے لگیں۔
پچھلے چھ سالوں میں میری ماں نے سماج اور اس کی رسم و رواج کے آگے مکمل طور پر ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ وہ اکثر کہتی تھی:
’’بیٹی ہم دلت ہیں اور بھگوان نے پیدائش کے وقت ہی ہماری قسمت میں یہ سب مصیبتیں لکھ دی تھیں۔ شاید یہ ہمارے پچھلے جنم کے پاپوں کا پھل ہے۔‘‘
مگر ماں ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ ماں کے دل میں اپنی ساری تکلیفوں اور بے عزتیوں کے باوجود اپنے گاؤں کی خوشگوار یادیں بسی ہوئی تھیں۔
میر ماں مغربی بنگال کے مدنا پور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب دلت کے گھر پیدا ہوئی تھی۔ میری ماں کے والدین محنت مزدوری کرکے بمشکل اپنا اور اپنے سات بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔
پندرہ سال کی عمر میں میری ماں کی شادی ہوئی۔ میرا باپ محنتی اور سمجھدار تھا۔ دلت ہونے کے باوجود غربت اور بے روزگاری سے لڑتا رہا۔ وہ سماج میں انسانی برابری کا سپنا دیکھا کرتا تھا اور یہ سپنے اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر دیکھے تھے جو لال جھنڈا پارٹی کے لیے کام کرتے تھے۔ جنہیں وہ کامریڈ کہتا تھا۔
میرا باپ بھی پارٹی کے کام میں مصروف رہنے لگا، شروع میں ان لوگوں کو کافی کامیابی ملی۔ پارٹی کا چمتکار یہ تھا کہ ذات پات کا بھید بھاؤ نہیں ہوتا تھا۔ پاس کے گاؤں کا ایک برہمن لڑکا جو میرے باپ اور گاؤں والوں کے ساتھ پارٹی کا کام کرتا تھا، ہمارے گھر آکر چائے پیتا اور کھانا کھاتا تھا۔
جب میرا باپ پارٹی کے کام میں بہت زیادہ مصروف ہوگیا تو اس نے محنت مزدوری کرنا چھوڑ دی۔ پھر وہ آس پاس کے گاؤں والوں کو بھی پارٹی سے جوڑنے کا کام کرنے لگا۔ اس کام سے اسے آرام سے روٹی میسر ہوجاتی تھی۔
یہ سب میری چھ سال کی عمر تک چلتا رہا۔
لیکن — پھر سب کچھ اچانک بدل گیا۔ ریاستی الیکشن کے دوران اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ جھگڑا ہوا اور میرا باپ مارا گیا — آہ! کتنا منحوس دن تھا وہ۔ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں — خون سے لت پت چادر میں لپٹی ہوئی میرے باپ کی لاش جب میرے گھر لائی گئی تو ہم پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مستقبل تاریک اور زندگی عذاب نظر آنے لگی اور پھر ہوا بھی ایسا ہی۔
میرے باپ کی آمدنی کوئی ایسی نہ تھی کہ وہ اس سے کوئی جائیداد بنانے یا بینک میں جمع کر نے کی سوچتا۔ وہ تو بس دو وقت کی روٹی کا طالب تھا اور وہ اسے مل جاتی تھی۔ باقی پارٹی اور اس کا کام۔
بالآخر میری جواں سال ماں نے کچھ کام کی سوچی کہ روزی روٹی چل سکے۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ دو آدمی میری ماں سے ملنے آئے اور وہ کام کی باتیں کرنے لگے۔ میں نے اس سے پہلے انہیں اپنے باپ سے بھی ملتے ہوئے دیکھا تھا یہ دونوں گاؤں کے ’کاکو‘ تھے۔
انھوں نے میرے باپ سے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل ہمدردی جتائی اور سیٹھ پورن سنگھ کی فیکٹری میں اچھی آمدنی کا کام دلانے کی بات کہتے ہوئے وعدہ کرلیا کہ وہ ضرور اپنی ساتھی کی بیوہ کی مدد کریں گے۔ اور اگلے ایک ہفتہ کے اندر اندر میری ماں کا فیکٹری سے بلاوا آگیا۔ کوئی ہفتہ دس دن میری ماں وقت پر جاتی۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے جاتی اور میں ادھر ادھر کھیلتی رہتی تھی۔ میری ماں کا کام صرف یہ تھا کہ وہ سیٹھ کے دفتر میں آنے جانے والوں کو پانی پلاتی اور رجسٹر ادھر سے ادھر لاتی لے جاتی تھی۔ میری ماں خوش تھی کہ زندگی عزت سے گزر جائے گی اور پیٹ بھر کھانا مل جایا کرے گا۔ مگر اس کا یہ سوچنا صحیح نہیں تھا اس لیے کے برے اور سختی کے دن آگے باقی تھے۔
ایک روز معمول کے مطابق میری ماں صبح کو مجھے لے کر فیکٹری گئی۔ میں نے دیکھا کہ سیٹھ عجیب نشیلی آنکھوں کے ساتھ میری ماں کو گھور رہا تھا۔ میں سہم گئی اور پھر دفتر کے باہر میدان میں لکڑی کے ٹکڑوں سے کھیلنے لگی۔ کچھ ہی دیر کے بعد دفتر کے کمرے سے چیخ پکار کی آواز سنائی دی۔ میں ایک بار پھر سہم گئی اور تیزی سے دفتری کمرہ کی طرف بھاگی۔ یکایک میری ماں ہانپتی ہوئی کمرے سے باہر آئی۔ اس کے کپڑے بے ترتیب اور جا بجا پھٹے ہوئے تھے۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اس نے اپنے کپڑے سنبھالتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ اورکھینچتے ہوئے فیکڑی سے باہر آگئی اور اپنی جھگی میں جاکر وہ کافی دیر تک بلکتی اور سسکتی رہی۔
شام کے وقت گاؤں کے دونوں ’کاکو‘ جھگی پر غصے کی حالت میں آئے اور ماں پر بہت برسے۔ وہ ماں سے گالی بھری زبان میں کہہ رہے تھے :
’’کتیا! تو اگر مالک کی بات مان لیتی تو تیرا کیا چلا جاتا۔ تیری زندگی بن جاتی —‘‘ کچھ دیر وہ خاموش رہے پھر اسی انداز میں بولے: ’’ اس طرح ہمیں بھی فائدہ رہتا —‘‘ پھر ماں کی طرف غور سے دیکھتے رہے پھر بولے: ’’ہم تجھے اس سے اچھے دس مالک دلادیتے۔ اس شرافت کے ساتھ تیری زندگی کیسے بیتے گی۔‘‘
ماں اس گفتگو کے دوران روتی رہی اور ان سے التجا کرتی رہی کہ وہ اسے اکیلا چھوڑ دیں وہ ان سے کوئی مدد نہیں چاہتی اور نہ ان سے کوئی واسطہ ہی رکھنا چاہتی ہے۔
دونوں ’کاکو‘ کے جانے کے بعد ماں بہت پریشان اور فکر مند رہی۔ شاید اس رات اسے نیند بھی نہیں آئی ہوگی۔ مگر صبح ہوتے ہی ماں نے سامان سمیٹا اور جھگی چھوڑ دی اور مجھے لے کر کام کی تلاش میں نکل پڑی۔ دوپہر تک ہم دونوں کام کی تلاش میں بھٹکتے رہے مگر کام نہیں ملا۔ اب شام ہونے والی تھی۔ ماں فکر مند تھی کہ مجھے لے کر کہاں جائے۔ بھوک اور پیاس سے میرا برا حال تھا۔ اچانک ماں نے شام کے وقت کچھ مزدور عورتوں کو آتے دیکھا جو ہماری زبان میں باتیں کررہی تھیں۔ ماں نے ان کے پاس جاکر باتیں کیں۔ باتوں کے دوران پتہ چلا کہ وہ قریب ہی ایک خوشحال کالونی سے کام کرکے واپس آرہی تھیں۔ ان عورتوں کو ہماری بپتا سن کر ہم پر ترس آگیا اور کام دلانے کا یقین دلا کر اپنے ساتھ گھر لے گئیں اور ان میں سے کسی ایک کے گھر کھانا اور رات بھی گزری۔
صبح ہوتے ہی ماں کام کی تلاش میں جانے لگی تو اس کے سامنے میرا مسئلہ آیا۔ کیونکہ وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ ان عورتوں نے ماں کو سمجھایا کہ …
’’اکیلے کام کرکے دو لوگوں کا پیٹ کیسے پالو گی۔ اسے بھی ساتھ لے چلو۔ یہ کام کرے گی پیسے کم بھی ملیں، کم سے کم پیٹ بھر کھانا تو ملے گا۔‘‘
یہ میری زندگی کا پہلا دن تھا۔ جب میں بھی ماں کے ساتھ کام کی تلاش میں نکلی۔ ہم جہاں جہاں گئے ہماری ذات ضرور پوچھی گئی۔ کافی کوششوں کے بعد اسی دن ہمیں دو تین گھروں میں صفائی اور جھاڑو پوچھے کا کام مل گیا۔ مگر وہ کام نہیں ملا جس میں مزدوری زیادہ مل سکتی تھی۔ اس بے بسی کے عالم میں جو بھی تھا اسے اپنی قسمت سمجھ کر منظور کرنا ہماری مجبوری تھی۔ اب ہمارے لیے پہلے سے بہتر دن شروع ہوگئے تھے کیونکہ تنخواہ میں حصہ بٹانے کے لیے دونوں ’کاکو‘ موجود نہیں تھے۔
باپو کے مرنے کے بعد یہ پہلی دفعہ ہوا کہ ہم دونوں پیٹ بھر کر کھانا کھا پائے تھے۔ اگرچہ عام طور پر یہ کھانا جھوٹن یا باسی ہوتا تھا مگر یہ ہمارے تنوں کو بہت راس آیا۔ جلد ہی ہم نے ایک الگ جھگی کرائے پر لے لی۔
میں اور ماں ایک ہی کالونی میں کام کرتے تھے مگر ہمیں الگ الگ گھروں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ ماں مجھ سے کچھ خاص لگے بندھے گھروں میں ہی کام کراتی تھی۔ اس دوران میں نے اسے کئی دفعہ پریشان اور غصے میں پایا۔ اس نے اس حال میں کتنے ہی گھروں کا کام چھوڑا اور نئے گھروں میں کام تلاش کیا۔ میں ماں کی پریشانی اور کام چھوڑنے کی وجہ اس سے جب بھی پوچھتی تو وہ ٹال جاتی۔
اس طرح چار سال کا عرصہ گزر گیا، اب میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی۔ ماں کی پریشانیاں میرے تعلق سے اور بھی بڑھ گئی تھیں اور میں اس کی پریشانی، جھنجھلاہٹ اور غصے کی وجہ بھی سمجھنے لگی تھی۔ دن گزرتے گئے، لمحے آتے جاتے رہے اور … مگر — ماں مجھے ہمیشہ زندگی کی اونچ نیچ کا احساس دلاتی رہی۔ اِسی لیے وہ مجھے صرف انہی گھروں میں کام کرنے دیتی، جہاں وہ میرے تعلق سے پورا بھروسہ کرسکتی تھی۔
اب ماں ہر دن میری شادی کی بات کرتی۔ وہ چاہتی تھی کہ میرے لیے ایک سپنوں کا شہزادہ تلاش کرے، کسی کی بری نظر مجھ پر پڑنے سے پہلے وہ میری شادی کرکے اس شہزادے کو سونپ دینا چاہتی تھی۔
میرے لیے سپنوں کا شہزادہ تلاش کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت پیسہ تھا اور پیسہ جمع کرنا، ماں کا جنون بنتا گیا۔ وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ محنت کرنے لگی۔
پچھلے دس سالوں میں صرف مجبوری میں ہی ہمارے گھر میں کھانا بنتا تھا۔ ماں کو دن میں جو بھی جھوٹن ملتا، لے آتی اور مجھے بھی ایسا کرنے کو کہتی تاکہ رات کے کھانے کے پیسے بچا سکیں۔ اس طرح ان دو سالوں میں ہم دونوں کی کمائی سے چار ہزار روپے بچ گئے۔ جسے ماں نے ایک بہت ہی ہمدرد اور بھروسے کی مالکن کے پاس امانت کے طور پر رکھا تھا۔
دو تین لڑکوں سے میری شادی کی بات بھی چل رہی تھی۔ مگر ان میں جو ماں کو پسند تھا اس کی مانگ ہماری اوقات سے زیادہ تھی — ماں اکثر میری شادی کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتی۔ وہ لڑکے والوں کی مانگ پوری کرنے کی کوشش میں جنون کے ساتھ جٹ گئی … اور — جب انہیں مفت کھانے اور کپڑے باٹے جانے کے بارے میں پتہ چلا تو اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینے کے لیے وہ تیار نہ تھی۔
ساری باتیں باتیں سوچتے سوچتے میری بے چینی پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی۔ میں ہر پاس سے گزرنے والے سے اپنی ماں کی بابت دریافت کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ لگاتار درد کی ٹیس، بدن کے تقریباً ہر حصے میں تھی۔ اینٹھن کے باوجود میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ ہر آدمی جو میرے قریب سے گزرتا میرا سوال سن کر مڑ کر دیکھتا اور میرے پھٹے ہوئے کپڑوں کے نیچے جسم کے مختلف ادھ ننگے حصوں پر بھی ایک بھوکی نظر ڈالتا۔ میں نے بارہا گزرتے لوگوں سے اپنی ماں کے بارے میں سوال دہرایا، مگر جواب میں خاموشی اور بھوکی ٹٹولتی ہوئی نظریں ہی ملیں۔
کافی دیر تک یہی سلسلہ جاری رہا۔
پتہ نہیں، میں کتنی دیر تک اس عذاب میں گرفتار رہی۔ کافی دیر کے بعد ایک نوجوان ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کرتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس نے معائنہ شروع ہی کیا تھا کہ میں نے اس سے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی پوچھنے کی کوشش کی میںیہاں کیوں ، کب اور کیسے لائی گئی؟
اس نے بہت نرمی سے کہا — ’’تم پچھلے پندرہ گھنٹے سے یہاں پڑی ہوئی ہو اور ہم تمہاری ماں کو جلد ہی تلاش کرلیں گے۔‘‘
اس ڈاکٹر نے اشارے سے نرسوں کو بلا کر یہ ہدایت کی کہ — مجھے ڈاکٹر کے چیک اپ روم میں لے جایا جائے تاکہ میرا معائنہ ٹھیک سے کیا جاسکے۔
دو آدمی سفید وردی میں آئے اور ایک اسٹریچر پر ڈال کر ڈاکٹر کے کمرے کی طرف لے گئے۔ اس سارے عمل میں مجھے بہت تکلیف اٹھانی پڑی مگر میں یہ سوچ کر خاموش رہی کہ میرے علاج کے لیے شاید یہ تکلیف اٹھانا ضروری ہے۔ وہ دونوں مجھے ڈاکٹر کے کمرے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر آیا اور اس نے میرے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بہت نرمی سے پوچھا — ’’تمہاری ماں کا نام کیا ہے؟ فکر مت کرو، ہم اسے جلد ہی ڈھونڈ نکالیں گے۔‘‘
ڈاکٹر کی باتیں میرے لیے بے حد ہمت افزا اور امید پیدا کرنے والی تھیں کہ میں اس کی باتوں میں کھو گئی اور مجھے یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ باتیں کرتے کرتے معائنہ کے بہانے ڈاکٹر میرے کپڑے کاٹ ڈالے ہیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر جاچکا تھا۔ شاید میں معائنہ روم کے بجائے کہیں اور تھی۔ چاروں طرف تیز دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور میرے جسم پر ایک سفید چادر پڑی ہوئی تھی۔ وقت کا مجھے ذرا بھی اندازہ نہ تھا۔ لیکن گزرے واقعات مجھے بوسیدہ ساڑی کی طرح چیتھڑے چیتھڑے کرچکے تھے۔ میں اندر ہی اندر تکلیف سے لرز رہی تھی اور وہ کالی رات جیسے میری زندگی کے لیے اماوس کی رات بن کر آئی تھی۔ اس رات نے، نہیں اس حادثے نے، نہیں اس ڈاکٹر نے مجھے اور میری روح کے چیتھڑے کردئے تھے۔ نہ جانے میں کتنی دیر تک اسی طرح کھوئی کھوئی سی پڑی تھی کہ اچانک دو مردانہ آوازیں میرے کانوں سے ٹکرائیں۔ یہ ان دونوں سفید وردی والوں کی آوازیں تھیں۔
’’ڈاکٹر صاحب تو اپنا کام کرکے چلے گئے۔‘‘
’’تو —‘‘
’’ اس کی ماں تو کل کے حادثے میں مرچکی ہے —‘‘
’’اب باقی عمر یہ ہمارے کام آئے گی—‘‘
’’ہاں ، تو—‘‘
’’ویسے بھی یہ ہماری ذات کی ہے—‘‘
’’ وہ تو ہے—‘‘
’’ اس پر ہمارا حق بنتا ہے —‘‘
ان کی آوازیں میرے کانوں سے ٹکراتی رہیں اور میں اندھیروں میں کھو گئی، شاید ہمیشہ کے لیے —

شیئر کیجیے
Default image
محمد اقبال جمیل

تبصرہ کیجیے