4

سونامی کی تباہی

وہ ۲۵؍دسمبر یعنی کرسمس کی رات تھی جب ساحل سمندر کے کنارے سیاح اور وہ دولت مند افراد جو اپنی دولت کے ذریعہ چند روزہ زندگی کی لذتیں خریدتے ہیں، معروف ہوٹلوں اور رسورٹس میں دادِ عیش دے کر سوئے ہی تھے بلکہ کچھ لوگ سو بھی نہ پائے تھے۔ ان کی نظریں اور تمام تر قوت فکر صرف اس بات پر مرکوز تھیں کہ وہ کیسے اپنی لذتوں اور عشرتوں میں اضافہ کریں، انہیں اس بات کا خیال بھی نہ تھا کہ جس زندگی کو رنگین بنانے میں وہ لگے ہیں کسی بھی لمحہ ختم ہوسکتی ہے۔ اور ان ہی کا کیا آج تو پوری دنیا اس احساس سے خالی ہوگئی ہے کہ انسان کا زندگی سے رشتہ کسی بھی لمحے ٹوٹ کر ختم ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف وہ غریب عوام الناس اور مچھیرے تھے جنھیں علی الصبح ہی اٹھ کر اپنی روزی روٹی حاصل کرنے کے لیے سمندر میں اتر جانا ہوتا تھا، انہیں اپنے بڑے بڑے جال سمندر میں پھینک کر کم از کم اتنی مچھلیاں ضرور پکڑنی ہوتی تھیں جن کی قیمت پر وہ اپنے اہل و عیال کا اور خود اپنا پیٹ بھر سکیں۔ انہیں اس بات کا خیال نہ تھا کہ وہ سمندر جو صدیوں سے ان کی اور ان کے آباء و اجداد بلکہ بے شمار نسلوں کی روزی روٹی کا ذریعہ رہا ہے ان کے اور ان کے جیسے بے شمار لوگوں کے لیے موت کا سامان بن جائے گا۔ وہ تو اس سمندر کی لہروں سے اس قدر مانوس ہوگئے تھے ان کے نشیب و فراز کی آواز اور انداز تک کو پہنچانتے تھے، مگر وہ کبھی اس کے اندر چھپے موت کے پیغام کو نہ سمجھ سکے تھے۔
بالآخر ۲۶؍دسمبر کی صبح صرف چند لمحوں کے لیے سمندر میں ایک مقام پر زلزلہ آیا۔ اور اس زلزلہ نے زمین کے ایک بڑے حصہ کو تہ و بالا کردیا۔ سمندر کی خوفناک لہریں پچاس میٹر اونچائی تک بلند ہوئیں اور پھر دور تک ساحل سمندر سے باہر کے سفر پر دندناتی ہوئی نکل پڑیں۔ انسانوں کو نگلتی، آبادیوں کو تہ و بالا کرتی، گھروں اور عمارتوں کو توڑتی گراتی اور درختوں کو اکھاڑ پھینکتی اندر تک آبادی میں گھس آئیں اور لوگ بیدار بھی نہ ہو پائے تھے ان کے قہر نے انہیں آلیا۔ طوفان، زلزلہ، سونامی- اور پھر چیخ و پکار۔ تباہی، موت۔ خاندان ختم ہوگئے، آبادیاں بہہ گئیں بڑی بڑی شاندار عمارتیں ملبہ کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ رسورٹس اور ہوٹل جہاں ابھی ابھی لوگ دادِعیش دے کر آرام کرنے لگے تھے ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اور وہ لوگ جو زندگی کی لذتوں میں مست اور کسی دوسرے انجام سے یکسر غافل تھے لقمہ اجل بن گئے اور اس بات کی مہلت نہ پاسکے کہ ایک لمحہ کے لیے اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، سرمشار ہوکر معافی ہی مانگ سکتے اور اپنے خالق سے یہ درخواست کرسکتے کہ اب کی بار بخش دے آئندہ کے لیے ہم توبہ کرتے ہیں — اور — اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لاشوں کے ڈھیر جمع ہونے لگے اور مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں گنی جانے لگی۔ جی ہاں لاکھوں میں انسانی زندگیاں ختم ہوگئیں۔ زندگی جو نہایت قیمتی شئے ہے اور جس کے لیے پوری کائنات مل کر مسلسل جدوجہد میں مصروف ہے، سورج کی چمک، چاند کی روشنی، بادلوں کا پانی، زمین کی زرخیزی اور ہریالی اس سے اگنے والے غلے، پھل اور نباتات یہ اور بے شمار چیزیں مل کر ہی تو زندگی کی تخلیق کرتی ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ ان سب کے بنانے والے نے انہیں اسی بات کا حکم دیا ہے۔
انسانی جانوں کا اس قدر ضیاع اور آبادیوں کی اس بڑے پیمانے پر تباہی تاریخ انسانی میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ کے معلوم دور میں بھی افراد اور اقوام اس طرح کے تباہ کن انجام سے دوچار ہوتے رہے ہیں اور تاریخ کے نامعلوم دور میں بھی۔ ماضی قریب میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور ماضی بعید میں بھی۔ قدیم تہذیب کا نمایاں شہر پومپی آئی بھی رات کو اسی طرح دادِ عیش دے رہا تھا اور جب صبح ہوئی توسورج نے صرف دھواں دیکھا۔ پورا شہر آتش فشاں کے ابلتے لاوے میں دفن ہوگیا۔ بابل کا ممتاز شہر جس کی تہذیب کے آثار آج بھی ملتے ہیں تباہ و برباد ہوگیا۔ اور ماضی قریب میں ٹھیک ایک سال پہلے ۲۵؍دسمبر ۲۰۰۳ء کا زلزلہ۔ چند سالوں قبل گجرات کا بھیانک زلزلہ اور لاتور و عثمان آباد (مہاراشٹر) کے زلزے وہ واقعات ہیں جن کی یادیں ہر ہندوستانی کے ذہن میں تازہ ہیں اور جن لوگوں نے ان کے بھیانک مناظر دیکھے ہیں وہ آج بھی ان کے تصور سے دہل جاتے ہیں۔
قرآن کریم ہمارے سامنے درجنوں ایسی اقوام کی تاریخ بیان کرتا ہے جو تباہی و بربادی کے بھیانک انجام سے دوچار ہوئیں اور اس کا سبب صرف اور صرف ان کی بداعمالیاں اور ذہن وفکر کا فساد تھا۔ جب وہ حد سے گزرا تو اللہ کی پکڑ کا شکار ہوگیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ :
أَفَأمِنَ اَہْلُ الْقُرَیَ اَنْ یَأْتِیَہُمْ بَأْسُنَا بَیَاتاً وَّ ہُمْ نَائِمُوْنَ اَوْأَمِنَ اَہْلُ الْقُرَیٰ اَنْ یَأتِیَہُمْ بَأْسُنَا ضُحیً وَ ہُمْ یَلْعَبُوْنَ۔
’’کیا آبادیوں والے خود کو اس بات سے محفوظ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہماری پکڑ انہیں آدبوچے گی رات کے وقت، اس حال میں کہ وہ سوئے ہوئے ہوں گے۔ یا انھوں نے خود کو مامون سمجھ رکھا ہے اس بات سے کہ ہمارا غضب انہیں آلے اس حال میں کہ وہ شام کے وقت کھیل کود میں مصروف ہوں۔‘‘
اور پھر فرمایا:
أَفَاَمِنُوْا مَکْرَ اللّٰہِ فَلَا یَأْمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ۔
’’کیا وہ اللہ کی چال سے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، بلاشبہ اس سے خود کو وہی لوگ محفوظ سمجھتے ہیں جو خسارہ اور نقصان میں رہنے والے ہیں۔‘‘
قوم عاد و ثمود کے تذکرے جو قرآن نے کئے ہیں ہمارے سامنے ہیں۔ قوم سبا کے بارے میں قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور خوش حال قوم تھی۔ اس نے دریاؤں کے پانی کو روک کر بڑے بڑے ڈیم تیار کررکھے تھے اور پھر ان دریاؤں کے پانی کو نہروں میں نکال زمین کو سرسبز و شاداب کردیا تھا جس سے وہ سونا اگلنے لگی تھی۔ انھوں نے یہ تصور کرلیا کہ ہمارے یہ ڈیم اور ہماری یہ شاداب زمینیں جو سونا اگلتی ہیں اس کی بنیاد پر ہمیں اس بات کا حق ہے کہ ہم جس طرح چاہیں دادِ عیش دیں — پھر — پھر اللہ کا غضب ان پرنازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ بتاتا ہے:
فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعِرَمِ وَبَدَّلْنَاہُمْ بَجَنَّتَیْہِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَاثِلٍ وَشَیٍٔ مِنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ ذٰلِکَ جَزَیْنَاہُمْ بِمَا کَفَرُوْا وَنُجَازِیْ اِلَّا الْکَفُوْرَ۔
’’پھر انھوں نے (شکر کے بجائے) اعراض اور نافرمانی کی روش اختیار کی۔ بس ہم نے ان پر عرم کا سیلاب بھیج دیا اور ان کی باغ نما زمینوں کو ایسی زمینوں میں بدل ڈالا جن میں صرف کڑوے کسیلے پھل اور کچھ بیریاں اگتی تھیں اور یہ اس چیز کا بدلہ تھا جو انھوں نے نافرمانی و ناشکری کی اور ناشکروں کو ہم اس کے علاوہ کسی اور طرح کا بدلہ نہیں دیتے۔‘‘
آج دنیا جس فتنہ و فساد کا شکار ہے وہ ان اقوام سے مختلف نہیں جن کی تباہی و بربادی کی داستان تاریخ میں بھی محفوظ ہے اور قرآن بھی ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ آج بھی انسان اعراض، نافرمانی اور بغاوت و سرکشی کی وہی روش اپنائے ہوئے ہے جو تباہ شدہ قوموں کی روش رہی ہے۔ برائیوں کا طوفان دنیا کے تمام معاشروں اور سماجوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے اور انسانوں نے عملاً خدائی کا نہ صرف انکار کردیا ہے بلکہ جگہ جگہ اپنی روش اور ہٹ دھرمی سے خدائی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو باطل خداؤں کا انکار کرتے ہیں۔ معروف کے فروغ اور منکر کے ازالہ کے منصب پر فائز اور اس کے دعوے دار ہیں مگر ان کی زندگیوں میں اور دوسروں کی روش میں عملاً کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی اور اگر ہے بھی تو ان کے اندر وہ تڑپ اور جذبہ ٔ انقلابی نہیں جو برائیوں کے اس طوفان کو روکنے کے لیے مطلوب ہے اورنتیجہ یہ ہے کہ وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوئے جو نافرمانوں اور باغیوں کا انجام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آگاہ کرتا ہے:
وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً۔
’’لوگو! اس فتنہ سے بچو جو صرف انہی لوگوں کو اپنی گرفت میں نہیں لے گا جو ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘
سونامی اور اس کی تباہی پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا مگر کم ہی لوگ اس حقیقت کے ادراک پر قادر ہوسکے کہ یہ انسانوں کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک وارننگ ہے انسانوں کے لیے ان کے خالق کی طرف سے کہ وہ اپنی زندگی اور اس کی روش پر نظر کریں اور دیکھیں کہ وہ بغاوت اور طغیان میں کہاں تک چلے گئے ہیں۔
انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں قدم قدم پر حادثات اور نامانوس واقعات پیش آتے رہتے ہیں مگر ان واقعات و حوادث سے کم ہی لوگ سبق حاصل کرتے ہیں، حالانکہ کامیاب افراد وہی ہوسکتے ہیں جو ان واقعات و حوادث سے سبق حاصل کرکے اپنی زندگیوں کی نئی سرے سے تعمیر و تشکیل کا عہد کریں اور سوچیں کہ یہ زندگی جس کے استعمال پر وہ قادر ہیں اور وہ عیش اور عشرت زندگی جس کے خریدنے کی قدرت رکھتے ہیں کسی بھی لمحہ ختم ہوسکتی ہے اور کیسے، کہاں اور کب ختم ہوگی انہیں نہیں معلوم۔ اگر انسان ان حوادث و واقعات سے یہ سبق حاصل کرے تو انسانی زندگی اور اس کے سوچ و فکر کا دھارا بدل سکتا ہے ورنہ پھر مزید تباہی کے انتظار میں اسے رہنا چاہیے۔
ایک ٹھوکر کی حقیقت کچھ نہیں یوں تو مگر
کھول دے آنکھیں تو ساری عمر کا حاصل کہیں
یہ وقت ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی اور اپنے طرز فکروعمل کا جائزہ لے اور پھر نئی راہوں پر چلانے کی جدوجہد کرے۔ یہ واقعات ان لوگوں کے لیے بھی نشانِ عبرت ہیں جو اپنی زندگی کو اگرچہ مختلف راستے پر چلارہے ہیں مگر ان کے اندر معروف کے فروغ اور منکر کے ازالہ کے لیے جذبۂ انقلابی نہیں، ان کے اندر ایمان کا شعلہ جوالہ نہیں اور زندگی انقلابی جذبات سے خالی ہے۔
فاعتبروا یا اولی الالباب۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے