5

عیدالاضحی

عیدالاضحی اس عظیم شخصیت حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی یادگار ہے جنہیں اعلاء کلمۃ اللہ اور دعوت ِ توحید کے ’’جرم‘‘ میں دہکتے ہوئے شعلوں میں ڈالا گیا لیکن حضرت خلیلؑ کی محبتِ الٰہی اور عشق کا نتیجہ تھا کہ آگ گل گلزار بن گئی۔ حتی کہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی ابتلاء و آزمائش اور قربانیوں کی سوغات سے معمور تھی۔ نارِ نمرود کے بھڑکتے ہوئے شعلے… ہجرت… اولاد سے محرومی … عزیز بیٹے کی قربانی۔ یہ ہیں وہ عظم اسوہ ہائے براہیمی جو ہر سال عیدالاضحی کی مقدس تقریب پر بندگانِ توحید کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے آتشِ الٰہی اور ایثار و قربانی کے انہیں حیرت انگیز جذبات کی بناء پر کفر و شرک اور باطل یلغار کا مقابلہ کیا حتیٰ کہ تمام نمرودی قوتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ حق و صداقت اور توحید کی صدا اس ہمت و جرأت کے ساتھ بلند کی کہ باطل کے پرخچے اڑگئے اور تمام نمرودی تدابیر بھسم ہوکر رہ گئیں۔
عیدالاضحی دراصل ہر سال اس عظیم شخصیت کی عظیم الشان یاد کو تازہ کرنے کے لیے آتی ہے جو معصوم ذات، عشق الٰہی میں سرشار رہنے والا بندئہ خلیل الٰہی جس نے اولاد کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ سجدوں کے نذرانے پیش کیے تھے اور بھیگی ہوئی پلکوں کے سائے میں رب العالمینسے درخواست کی تھی کہ پروردگار مجھے صالح اولاد عطا کر … اور جب ۹۰ سال کی سن طویل میں چمن زارِ تمنا میں بہاریں مسکرائیں، اولاد کی دولت ملی تو خالق کائنات کی جانب سے بذریعہ وحی (خواب) اکلوتے عزیز بیٹے کی قربانی کی منشا ظاہر ہوئی… باپ اپنے آرزوؤں کے مرکز، امیدوں کے حاصل اور تمناؤں کے پیکر بیٹے سے مشورہ طلب کررہا ہے کہ ’’جان پدر‘‘ ہم رضائے الٰہی کی خاطر تمہیں راہ خدا میں قربان کرنا چاہتے ہیں، تمہاری کیا رائے ہے؟ گویا باپ کو معلوم تھا کہ فرزندِ عزیز کا عہد طفولیت ایثار پسند تھا کہ بڑے بڑوں کی ہمت اس کا پاسنگ نہ تھی۔ چنانچہ فرمانبردار بیٹے نے باپ کے اس خواب کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کہا کہ ابا جان! اگر آپ کے رب، میرے رب، سب کے رب کی یہی مرضی ہے تو بسم اللہ، اسماعیل کی زندگی اس کی رضاپر قربان ہے۔ش
آفریں، قربان جائیے اس انداز وفا پر ایک طرف باپ، اپنی تمنا اپنے جذبات اور اپنے ارمانوں کی قربانی پیش کررہا ہے تو دوسری طرف سعادت مند بیٹا اپنی حیات کو راہ خدا میں قربان کررہا ہے۔ کیسی تھی یہ قربانی! کیسا تھا یہ ایثار…!! اور کیسا تھا یہ فدائیت و استقامت کا لافانی شاہکار…!!! کہ صدیاں بیت گئیں، اس دوران نہ جانے کتنے ہی انقلاب آئے، نہ جانے کتنی تاریخیں بنیں اور مٹ گئیں، کتنی یادگاریں بنیں اور فنا ہوگئیں، کتنے واقعات ابھرے اور ڈوب گئے لیکن زمانے کا کوئی انقلاب، تاریخ کی کوئی تبدیلی ایثار و قربانی کے اس عظیم انقلاب کو، اس عظیم تاریخ اسلامی کو فراموش کرنے کی جرأت نے کرسکی۔ باپ اور بیٹے کی اس ادائے فدائیت کو دیکھ کر فضائے بسیط پر سناٹا چھا گیا تھا … فرشتے بھی اس جذبۂ اطاعت پر رشک کررہے تھے۔
پورا آسماں محو حیرت و استعجاب تھا۔ یہ ایثار و قربانی کی کتنی بڑی مثال تھی، فدائیت و اطاعت کا کیسا عظیم نمونہ تھا۔ طلب رضائے الٰہی کا کیسا بے پایاں جذبہ تھا …!!! خبیر و علیم ذات دیکھ رہی تھی کہ اس کے ایک بندے نے ایک اشارے پر، اپنی آرزؤں ، اپنی تمناؤں اور اپنے مستقبل پر کس طرح چھری پھیردی یعنی بیٹے کے حلق پر چھری پھیرنے کے لیے تیار ہوگیا تھا اور بیٹے نے بھی اطاعت خداوندی کے سامنے سر خم کردیا۔ وہ نہ صرف خون میں تڑپنے کے لیے تیار ہی تھا بلکہ اپنے باپ کو سمجھا رہا تھا کہ ’’آپ کا ہاتھ کانپنے نہ پائے اور اس کا خون راہ خدا میں بہنے سے نہ رکے۔‘‘
مورخ کا ہاتھ کپکپا رہا تھا کہ ندا آئی ’’اے ابراہیم ہم نے تری قربانی قبول کرلی اور اس بچے (اسماعیل) کے بدلے اس مینڈھے کو قربان کردو۔ ہمیں اسماعیل کی قربانی مطلوب نہ تھی بلکہ یہ دیکھنا مطلوب تھا کہ بیٹے کی محبت خدا کی محبت پر غالب تو نہیں آگئی۔‘‘
اسوئہ براہیمی نے ثابت کردکھایا تھا کہ خدا کی محبت اس لائق ہے کہ اس کے لیے اپنے مستقبل، اپنی تمناؤں اور ہر قیمتی شئے کو قربان کردیا جائے۔ اللہ کے احکامات اس بات کے مستحق ہیں کہ اس کی تعمیل میں اپنی عزیز ترین شے بھی قربان کردی جائے… رضائے الٰہی کا حصول اور حکم خدا کی تعمیل کا یہی وہ جذبہ تھا جس نے حضرت ابراہیمؑ کے اس عمل کو ایسا مقدس بنادیا کہ وہ دوسروں کے لیے بھی ’’اسوئہ حسنہ‘‘ قرار دیا گیا اور ہر صاحب نصاب کو، اللہ نے پابند کردیا کہ وہ اس روز جانور کا خون بہا کر اس واقعہ کو یاد کرے اور راہ خدا میں ایثار و قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔
حضرت ابراہیمؑ کے اس عمل کو تمام مسلمانوں کے لیے رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ بنادیا گیا تاکہ ملت براہیمی میں یہ شعور و احساس بیدار رہے کہ ملت براہیمی کی تعمیر، اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ایثار و قربانی پر قائم ہے۔ اسی اسپرٹ اور روح کو تازہ و بیدار رکھنے کے لیے جانوروں کی قربانی کا حکم دیا گیا، جس سے قربانی کا گوشت و خون مطلوب نہیں بلکہ تقویٰ اور ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا مقصود ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قربانی کرتے وقت اپنے دلوں کا جائزہ لیں کہ کہیں کوئی غلط جذبہ تو اس کا محرک نہیں بن گیا ہے۔ یہ محاسبہ ہماری دینی روح کا اولین تقاضا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی اس بے مثال یاد گار کا دوام و ثبات اس لیے بھی ہے کہ ان کے جذبات کی سچائی، قلب کا خلوص، دل کی صداقت، احساس کی للہیت اور فکرو نظر کا ایثار اس قربانی میں شامل تھا۔ حتیٰ کہ قربانی دینے والا، جہانِ وفا میں خون سے نقش و نگاربنایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ بارگاہِ ایزدی میں دست بدعا بھی تھا، اے اللہ ہماری نسل میں سے ایسی امت پیدا کر جو ہماری طرح مومن و مسلم ہو‘‘ ایک طرف دعائیں تھیں جو پر خلوص سینوں سے کلمات بن کر نکل رہی تھیں، دوسری طرف قوموں اور ملکوں کا فیصلہ ہورہا تھا۔ بطور انعام، امت مسلمہ،ابراہیمؑ کو عطا کی جارہی تھی۔ قدرت کا یہ انعام اسی لیے تھا کہ ایثار و قربانی کی یہ داستان رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہے۔
لہٰذا ہم مسلمانوں کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا عظیم مقصد محض جانوروں کی قربانی نہیں ہے بلکہ یہ قربانی حق کی راہ میں اپنی خواہشات و جذبات اپنی متاع عزیز حتی کہ اپنی زندگی قربان کردینے کی حسین تمہید اور آغاز ہے۔
ضروری ہے کہ ہم قربانی کے وقت بطور خاص قربانی کے مفہوم کو مدنظر رکھیں۔ آج کفرو باطل کے پرستار، دین حق کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بجھانے کی سعی مسلل ہے۔ اسلام اور اہل اسلام پر چہار جانب سے دشمنانِ اسلام کی یلغار ہے۔ اس نازک صورتحال میں یہ قربانی دراصل ملت براہیمی سے مطالبہ کررہی ہے کہ ہمیں سیدنا ابراہیمؑ کی طرح حق کی راہ میں اپنی خواہشات، اپنی متاع عزیز حتی کہ جان کی قربانی دینی چاہیے۔
ضروری ہے کہ عیدِ قربان کی مقدس تقریب پر ہم سب مسلمان عہد کریں کہ راہ ِ خدا میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، خدا کے دین پر کسی بھی صورت میں آنچ نہیں آنے دیں گے اور اعلائے کلمۃ اللہ و دین کی حفاظت کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے۔
آج عالم اسلام میں جذبۂ ایثار و قربانی وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔ اے کاش کہ ہم اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ عمل میں آئیں۔ ہمیں فرائض کا احساس کرنا ہوگا، ہر محاذ پر دشمنوں سے ٹکر لینی ہوگی۔ اللہ کی زمین پر، اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اٹھنا ہوگا۔ دنیا کو ظلم و کفر اور بے انصافی سے نجات دلانی ہوگی، انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کراکے اللہ کی غلامی میں لانا ہوگا۔ نتیجتاً ہمیں آزمائش کا مرحلہ طے کرنا ہوگا۔ صعوبتیں برداشت کرنی ہوں گی، خون کے نذرانے پیش کرنے ہوں گے۔ ہمیں اللہ کی رضا کے لیے خلوص و للہیت کے ساتھ اسلامی احکامات پر پوری طرح کاربند ہونا ہوگا۔ راہ حق میں آرہی آزمائشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہوگا اور اللہ کے لیے اسلام کے لیے خلوص و للہیت کے ساتھ ابراہیمؑ جیسا باپ اور اسماعیلؑ جیسا بیٹا اور ہاجرہ جیسی ماں بننا ہوگا۔
عیدالاضحی کی صورت میں ہمیں ہر سال یہی سبق یاد دلایا جاتا ہے۔ سنت قربانی کی ادائیگی ہر سال ہم سے یہی پوچھتی ہے کہ کیا ہم اس حیات بخش پیغام پر کان دھرنے کے لیے تیار ہیں…؟؟

شیئر کیجیے
Default image
مفتی ابوالبشر اصلاحی قاسمی

تبصرہ کیجیے