4

اسوئہ ابراہیمی

یہ شمارہ قارئین کے ہاتھوں میں پہنچنے تک ہم سب عیدالاضحی مناچکے ہوں گے اور ابراہیمی اسوہ کی یادگار حج اور قربانی کا فریضہ بھی انجام دے چکے ہوں گے۔ قارئین ہماری جانب سے حج اور عیدالاضحی کی مبارک باد قبول فرمائیں۔
حج اور قربانی ابراہیم خلیلؑ اور ایک بندۂ مخلص و حنیف کی وہ یادگاریں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سندِ قبولیت دے کر رہتی دنیا تک کے لیے قائم اور دائم کردیا۔ امت مسلمہ کے کروڑوں افراد، جب تک یہ زمین و آسمان قائم ہیں، اللہ کے اس مخلص اور حنیف بندے کی قربانیوں اور ان کے ذریعہ قائم کردہ عظم اسوہ کی یاد گاریں ہر سال تازہ کرتے رہیں گے۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام کی زندگی کا سب سے عظیم اور نمایاں پہلو یہ کہ انھوں نے زندگی کے ہر مرحلہ میں اور ہر آزمائش کے وقت یہ ثابت کیا کہ انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی کے علاوہ اور کچھ مطلوب نہیں۔ بیٹے کی قربانی، بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ میدان میں تنہا چھوڑنا اور اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیر وہ چیزیں ہیں جنھوں نے عملاً اس بات کو ثابت کردیا کہ:
إِنَّ صَلوٰتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
’’بے شک میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘
اور اس کے بعد رب العالمین نے انہیں جو عظمت عطاء فرمائی وہ خلیل اللہ اور ’’حنیفاً مسلماً‘‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ ہم تصور کریں، نمرود کی آگ کا اور اس کے مقابلہ میں حضرت ابراہیمؑ کے جذبۂ ایمانی کا جس نے ذرہ برابر بھی ہلنا گوارہ نہ کیا اور آگ میں کود پڑے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو اللہ کے نیک بندوں کی حنیفیت اور ان کے صد فیصد اخلاص کا ثبوت ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا دوسرا پہلو ایک انقلابی داعی کا ہے جس نے جان پر کھیل کر بھی لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل اور مصیبت کو ہنستے کھیلتے برداشت کیا مگر اپنے پیغام اور کوششوں سے دستبرداری منظور نہ کی یہاں تک کہ وقت کے ظالم حکمراں نمرود تک سے اللہ کے بھروسے ٹکر لی اور سرخ رو ہوئے۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ جدوجہد اور یہ قربانیاں اللہ کے نزدیک اس قدر قابل قدر ٹھہریں کہ اس نے حج اور قربانی کی صورت میں انہیں رہتی دنیا تک کے لیے قائم کردیا۔ اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کی نسلیں ان عظیم شخصیات کی یادگار مناکر ہر سال اپنے جذبہ ایمانی، خلوص اور حنیفیت کی تجدید کرتی رہیں اور ان کے اندر وقت کے نمرودوں اور ظالموں سے ٹکر لینے اور دین حنیفیت کی دعوت کا انقلابی جذبہ پیدا ہوتا رہے۔
جی ہاں عصر حاضرمیں بھی اسوہ ابراہیمی کی اہمیت اور اس سے جذبہ انقلابی حاصل کرنے کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی صدیوں قبل تھی۔ امت مسلمہ کے سامنے آج بھی سیکڑوں نمرود اور ہزاروں ظالم و جابر حکمراں ہیں۔ مگر امت مسلمہ ہے کہ وہ اس کے بیشتر افراد اپنے جانوروں کے گلے پر چھری چلا کر یہ تصور کرتے ہیں کہ انھوں نے ابراہیمی یادگار کو تازہ کردیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہے تصویریں
اسوئہ ابراہیمی کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن و فکر کی تطہیر کریں اور ہوس کے جذبات کو کھرچ کھرچ کر اپنے دل و دماغ سے نکالیں اور اپنے اندر اخلاص کا وہ جذبہ پیدا کریں جس نے انہیں حنیف اور خلیل کے عظیم خطابات کا حقدار بنایا اور اپنے اندر وہ جرأت ایمانی اور جذبہ توحید خالص پیدا کریں جو ہمارے ایمان کو شعلۂ جوالہ بنا دے اور باطل کے خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کردے۔ کیونکہ آج بھی:
’’آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے‘‘
اللہ کرے کہ ہمارے اندر وہ جذبۂ ایمانی پیدا ہو جو ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل ذبیح اللہ کے دلوں میں تھا اور ہماری ماؤں اور بہنوں کے اندر رب کی رضا پر راضی ہونے کی وہی کیفیت ہوجائے جو حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے اندر تھی۔ آمین
…………
قارئین! لیجیے حجاب اسلامی اب ایک نئے انداز میں آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ ہم نے گذشتہ دنوں کی یہ شکایت دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ حجاب بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔ قارئین کی یہ شکایت بجا تھی اور فی الحال ہم صفحات میں اضافہ نہ کرسکتے تھے اس لیے ہم نے اس کے فونٹ سائز کو ۱۴ سے گھٹا کر ۱۳ کردیا ہے۔ اس طرح ہم اپنے قارئین کو ۳۳ فیصد سے بھی زیادہ مواد اضافی پیش کررہے ہیں۔ اس نئی پیج سیٹنگ سے حجاب کے صفحہ میں ایک نئی خوبصورتی بھی پیدا ہوگئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ قارئین حجاب اس تبدیلی کو پسند فرمائیں گے۔ اور اپنی قیمتی رائے اور مفید مشوروں سے بھی آگاہ کریں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے