BOOST

تاثیر

وہ میرے سماج کا معزز اور بڑا آدمی نہیں ہے۔ ایک پڑھا لکھا غریب مزدور ہے، اونچی اونچی بلڈنگوں والے شہر کے صاف سھترے ماحول سے دور شہر کے گندے نالے کے کنارے بسی ہوئی غریبوں کی بستی میںرہتا ہے۔ جہاں، جب سے دیش آزاد ہوا تب سے اکثر سماج سیوک اور نیتا لوگ چناؤ کے دنوں میں ہی اپنی اونچی ناک، پر خوشبودار رومال رکھ کر آیا کرتے ہیں اور پھر ان کی زندگیوں میں جھانک کر دیکھنے کا انہیں وقت نہیں ملتا کہ وہ کس حال میں جی رہے ہیں۔

عرصے سے اس بستی کے لوگ اپنی اپنی زندگیوں کا بوجھ ڈھوتے ہوئے اپنی جائز خواہشوں کے لیے بھی ترستے ہوئے جی رہے ہیں۔ اور جی جی کر مر رہے ہیں، مرنے کے بعد بھی کوئی انہیں بھولے سے یاد نہیں کرتا۔ اسے بھی کوئی یاد نہیں کرے گا، لیکن میں اسے یاد رکھوں گا۔

آج سے وہ میرے لیے بڑا آدمی بن گیا۔ میرے سماج کا، میری قوم کا بڑا آدمی، پھٹے، پرانے پیوند لگے لباس میں ملبوس، مٹی کے چھوٹے سے جھونپڑے میں رہنے والا، روز کنواں کھود کو پانی پینے والا وہ آدمی۔ میں اسے یاد رکھوں گا۔ اس طرح نہیں جس طرح لوگ نیتاؤں، مہاتماؤں، دانشوروں اور مقدس ہستیوں کو یاد رکھتے ہیں، بلکہ میں اسے سچے خلوص کے ساتھ یاد رکھوں گا۔

اس کا پورا نام کیا ہے، یہ تومیں نہیں جانتا۔ نام میں رکھا ہی کیا ہے۔ انسان کا نام تو صرف ایک زندہ جسم کا لیبل ہوتا ہے، ایک ظاہری شناخت، ایک عارضی پہچان نام سے آدمی یاد نہیں رہتا۔ آدمی کے عقائد، خیالات و اعمال اس کی دائمی شناخت ہوتی ہے۔

میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں کہ اس کا نام، فضل ہے، جس طرح سماج کا مالدار طبقہ اپنی زندگیوں کو سنوارنے، سجانے کے لیے غریبوں کی زندگیوں کو بگاڑ دیتا ہے وہی حشر ان کے ناموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لوگ اسے فضل نہیں ’’فجلو‘‘ پکارا کرتے ہیں، جس کا فجلو کو کبھی افسوس نہیں ہوا تھا۔ افسوس کرنے کے لیے اس کے پاس وقت بھی کہاں تھا۔ وہ اپنی ایک عدد بیوی اور دو بچوں کے پیٹ کی آگ سرد کرنے کے لیے حمالی کرتا ہے۔ سورج طلوع ہونے سے سورج غروب ہونے تک بوجھ ڈھوتا رہتا ہے۔

آج فجلو نے حمالی کر کے دو سو روپے کمائے تھے۔ دن بھر ایک گودام سے بورے اٹھا اٹھا کر لایا تھا اور ایک دکان میں بھر دیا تھا جس کے عوض دکان دار نے اسے دو سو کا نوٹ دیا تھا۔ دو سو روپے کا نیا نوٹ جس کے سفید حصے پر گاندھی جی کا چشمہ بنا تھا، جس کے ایک دائرے میں سوچھ اور دوسرے میں بھارت لکھا تھا۔ نیچے درج تھا ’’ایک قدم سوچھتا کی اور‘‘ اس نے تحریر پڑھی۔ فٹ پاتھ پر اپنے قدموں کے پاس گندگی کا ڈھیر دیکھ کر اور زیر لب مسکرا کر نوٹ جیب میں رکھ لیا۔

دو سو روپے جیب میں آتے ہی فجلو کو ڈوبتا ہوا دن خوش گوار لگنے لگا تھا۔ غروب ہوتا ہوا سورج جو اسے ہمیشہ شام کے نیزے پر ٹنگا خون اگلتا ہوا دکھائی دیتا تھا، آج وہ سورج اسے سنہرا لگنے لگا تھا۔ افق پر اب اسے لہو کی لالی نظر نہیںآرہی تھی بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے سورج سے سونا پگھل رہا ہو۔ ایک مفلس آدمی کی دنیا میں صرف دو سو روپے سے کیا خوش گوار تغیر آجاتا ہے۔ اس کے باہر اور اندر کی دنیا میں کتنی پرکیف بہار آجاتی ہے۔ دو سو روپے جیب میں آتے ہی فجلو کی رگوں میں لہو کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔ اس کا تھکا ہوا نڈھال بدن چست ہوگیا تھا۔ وہ بے تابی سے گھر کی طرف چل پڑا… اس کے ذہن میں جائز آرزوؤں او رگھر کی اہم ضرورتوں کے جگنو ٹمٹمانے لگے۔

ان جگنوؤں کی روشنی میں فجلو نے دو سو روپے کے نوٹ کو دیکھا تو وہ نوٹ ایسا لگنے لگا جیسے پہاڑ کے سامنے رائی کا دانہ۔ پھر یک لخت اس کی جائز آرزوئیں اور گھر کی اہم ضرورتیں بچھوؤں کی طرح اسے ڈنک مارنے لگیں… ’’ہائے مہنگائی!‘‘ فجلو نے اپنے پچکے ہوئے سینے میں سرد سانس بھری، جس سے اس کے بدن کی ساری چستی پھرتی یک لخت غائب ہوگئی۔ اب اسے اپنے اندر ایسا لگ رہا تھا جیسے جونکوں نے اس کے بدن کا سارا لہو چوس لیا اور بچھوؤں نے اس کے وجود کو ڈنک مار مار کر چھلنی کر دیا۔ اب وہ خود کو ایسا انسان سمجھ رہا تھا جو صرف پیٹ بھرنے کے لیے روح سے رشتہ جوڑے ہوئے ہے۔

جب وہ زندہ لاش کی طرح اپنے گھر میں داخل ہوا تو بیوی اس کی حالت دیکھ کر بے قرار ہوگئی اس سے پوچھا ’’کیوں جی! کیا ہوگیا تمہیں۔‘‘

’’کہا… کچھ نہیں، آج میں بہت تھک گیا ہوں، دن بھر گودام سے دکان میں بورے بھرے، دو سو روپے ملے، صرف دو سو روپے!‘‘

’’دو سو روپے!‘‘ اس کی بیوی کے چہرے پر خوشی کی کرن چمکی، فجلو اپنی بیوی کے چہرے کو دیکھ کر سرد لہجے میں بولا، سامان بھی تو بہت لانا ہے، دو سو روپے میں!

’’ہوں!‘‘ بیوی نے لمبی ٹھنڈی سانس بھری اور اس کی سرد سانس کے ساتھ ہی خوشی کی کرن اس کے چہرے سے غائب ہوگئی جیسے برسات کی اندھیری رات میں بادلوں سے گھرے آسمان پر کبھی کبھی بجلی کا کوندا لپک کر آسمان کو لمحہ بھر کے لیے منور کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

بیوی کہہ رہی تھی ’’گھر میں اناج نہیں ہے۔‘‘

’’ہوں!‘‘

’’دال نہیں ہے۔‘‘

’’ہوں!‘‘

’’تیل، نمک، ہلدی بھی نہیں ہے۔‘‘

’’ہوں!‘‘ فجلو بظاہر اپنی بیوی کے سامنے’’ہوں، ہوں‘‘ کیے جا رہا تھا لیکن در حقیقت وہ سرد آہیں بھر کر اپنے تن کے ایندھن کو بجھانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ ایسی ہی تو ہوتی ہے مفلس کی زندگی، خود ہی جلو، خود ہی بجھو!

جب فجلو کی بیوی نے اسے تھیلی تھمائی تب اس نے چونک کر دریافت کیا ’’لانا کیا کیا ہے؟‘‘

’’کس سوچ میں تھے تم!‘‘ بیوی کا لہجہ استہزائیہ تھا ’’اناج، تیل، گڑ، چائے، نمک، ہلدی، سب ہی کچھ لانا ہے اور پیسے بچ گئے تو بسکٹ کا ایک سستا پوڑا بھی لیتے آنا، بچے بسکٹ کے لیے ضد کر رہے تھے۔‘‘

’’ہوں!‘‘ فجلو نے اثبات میں سرہلا دیا اور تھیلی اور تیل کی میلی کچیلی بوتل لے کر گھر سے نکل پڑا۔

وہ رام لال کی کرانہ دکان پر گیا۔ دکان میں کافی رش تھا۔ کاؤنٹر پر رام لال گاہکوں کے بل بنانے میں مصروف تھا، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد فجلو کا نمبر بھی آگیا۔ اس نے سامان لکھوایا اور رام لال کو دو سو روپے کا نوٹ دیا۔

دکان کے ملازم نے فجلو کو سامان دیا، رام لال نے بل اور باقی پیسے واپس کیے۔ ایک لمحے کے لیے فجلو ٹھٹکا، جھجکا اور انتہائی وارفتگی سے بل اور پیسے اپنی جیب میں رکھ لیے اور تھیلی لے کر دکان کے پائیدان سے اتر گیا۔

فجلو کی رگ وپے میں ایک عجیب خوشی کا احساس دوڑ رہا تھا۔ اور اس احساس کے ساتھ ہی بے نام اضطراب کی لہریں بھی تھیں۔ اضطراب آمیزے نام مسرت سے اس کے دل میں بڑے بڑے بھنور پیدا ہو رہے تھے، جس میں وہ اندر ہی اندر ڈوب ڈوب کر ابھر رہا تھا۔ اس کے ذہن میں کانٹے دار خیالات بھی اگ رہے تھے جو اس کے ڈوبتے ابھرتے وجود کو چھلنی کر رہے تھے۔

کوئی اسے اندر ہی اندر گدگدا رہا تھا، کوئی اسے کچوکے بھی لگا رہا تھا۔ وہ کون تھا جو اسے گدگدا رہا تھا، پھسلا رہا تھا؟ اور وہ بھی کون تھا جو اس کے وجود میں چھپا بیٹھا اسے کچوکے لگا رہا تھا۔ اس کی روح کو جھنجھوڑ رہا تھا؟

ایک جنگ اس کے اندر جاری تھی۔ بے نام اضطراب آمیز مسرت کی جنگ اور فجلو کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا…

جب وہ بوجھل قدموں سے شہر کے صاف ستھرے ماحول سے دور گندے نالے کے کنارے بسی ہوئی اپنی بستی میں پہنچا تب اس کے اندر کی جنگ ختم ہوچکی تھی۔ وہ حتمی فیصلے پر پہنچ گیا تھا۔

فیصلہ کرنے کے بعد اس کا دل قطعا یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ تھیلی لے کر اپنے گھر کی دہلیز میں قدم رکھے، حالاں کہ اس کا گھر قریب تھا، چند قدموں کی دوری پر گھر میں تھیلی رکھنے کے بعد اسے اپنے فیصلے پر عمل کرنے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔ تاہم اس کے اندر کے انسان نے گھر کی طرف اٹھتے ہوئے اس کے قدموں کو بریک لگا دیے تھے۔

بالآخر فجلو سامان سے بھری وزنی تھیلی لیے واپس رام لال کی دکان پر پہنچنے کے لیے تیز تیز قدم بڑھانے لگا۔ سوالات اس کے ذہن میں سر اٹھا رہے تھے۔ ’’کیا سوچے گا رام لال؟ کیا اثر ہوگا اب اس پر، وہ زہر جو اس کی پارٹی، اس کی سنگھٹنا، اس کے دَل کے لوگون نے اس کے دماغ میں بھرا ہے، کیا میرے عمل سے نکل جائے گا؟ اس کے خیالات بدلیں گے؟

سوچتے ہوئے فجلو رام لال کی دکان پر پہنچا، انتہائی عجلت میں دکان کے پائیدان پر چڑھا۔ دکان پر رش نہیں تھا۔ رام لال کاؤنٹر پر بیٹھا نوٹ گن رہا تھا۔

فجلو نے سامان سے بھری وزنی تھیلی نیچے رکھی۔ تھیلی سے تیل کی میلی کچیلی بوتل نکالی اور پھر سیدھا کھڑا ہوا۔

رام لال نوٹ گننے میں مگن تھا!

’’سیٹھ جی!‘‘ فجلو نے بل اور پیسے رام لال کی طرف بڑھا کر کہا ’’سامان ایک سو اٹھانوے روپے کا ہوا تھا، میں نے آپ کو دو سو روپے کا نوٹ دیاتھا۔ آپ نے پانچ سو کا نوٹ سمجھ کر غلطی سے مجھے تین سو روپے زیادہ دے دیے۔‘‘

رام لال چونک کر فجلو کی طرف دیکھنے لگا۔

فجلو کو آج تک کسی نے ایسی نگاہوں سے نہیںدیکھا تھا، جس طرح رام لال اسے دیکھ رہا تھا۔ رام لال کی نگاہوں میں دنیا جہاں کا پریم تھا۔ عظمت تھی، عقیدت تھی۔ ’’فجلو! بھگوان کی سوگندھ، دنیا تیرے جیسے انسانوں کی وجہ سے ہی قائم ہے!‘‘ رام لال نہایت جذباتی انداز میں بولا تھا۔ اس کے لہجے میں انسانی زندگی کی پرخلوص مٹھاس تھی۔ جانے کہاں سے آگئی تھی، زہر افشانی کرنے والے رام لال کی زبان میں مٹھاس!

’’نہیں سیٹھ جی!‘‘ فجلو کے لہجے میں عجز و انکساری تھی۔

وہ ایک عظیم خوشی کے احساس میں ڈوبا ہوا سامان کی تھیلی اور تیل کی بوتل لے کر دکان کے پائیدان سے اتر گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

تبصرہ کیجیے