2

پیشانی کا زخم

ابو کی گھی فیکٹری جب قومی تحویل میں لی گئی، اس وقت میرے تینوں بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد باہر جاچکے تھے۔ دونوں بہنوں کی اچھے طریقے سے شادیاں ہوچکی تھیں۔ گھر میں اب میں باقی بچی تھی جو ہر نماز کے بعد ربِّ زدنی علما کا ورد کرتی تھی میں ان دنوں ایم اے فائنل میں پڑھتی تھی۔ حکومت نے بیشتر فیکٹریاں اور تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لے لیے تھے اور ابو کی گھی ملز بھی زبردستی چھن گئی تھی۔ ابو کے دل کو بہت صدمہ پہنچا۔ وہ بیمار رہنے لگے۔ گھر کے حالات خراب ہوگئے۔ تینوں بھائی جو انجینئرنگ، ڈاکٹری اور بی کام آنرز کرچکے تھے، اس طرح لمبی اڑان بھر کر فرانس، انگلینڈ اور کویت جا بسے تھے جیسے روسی راج ہنس مہینوں کی مسافت کے بعد کسی معتدل علاقے کی جھیل کے کناروں پر اگے سرکنڈوں میں پناہ لیتے ہیں اور پھر طویل مدت کے لیے وہیں کے ہورہتے ہیں۔
امی مجھ سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں تھیں، لیکن جو لوگ بھی رشتے کے لیے آتے، وہ مجھے ناپسند کرکے چلے جاتے۔ بعد میں پتہ چلتاکہ ان کے معیار سے لڑکی گوری نہیں، جہیز کی بات پر امی صاف کہہ دیتیں کہ ہم کچھ نہیں دے سکتے جب کہ لالچی لوگ فریج، ٹی وی، وی سی آر اور موٹر کار کا مطالبہ کرتے۔ ایسی باتیں دیکھ کر اور سن کر مہینوں میرے دل کو ملال رہتا جیسے میں بے حد ناکارہ اور بے مایہ شے ہوں۔ پھر ایک دن امی سے میں نے کہہ دیا:
’’خالہ زینب سے کہہ دیں میرے لیے کوئی رشتہ تلاش نہ کریں۔ مجھے شادی وادی کا کوئی جنون نہیں۔‘‘
گھی ملز چھن جانے سے ابو کو سخت مالی نقصان پہنچا تھا۔ یہ کارخانہ ابو نے بہت مصائب اٹھا کر بنایا تھا، مگر اسے قومیا لیا گیا۔ وقت نے ابو کو بہت کمزور، شکستہ دل اور بوڑھا کردیا وہ بہت کم کسی سے بات کرتے۔ ان کے پاس معقول رقم ہوتی تو وہ کوئی اور کاروبار کرنے کی سوچتے، ابو اتنی جلدی ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ وہ بستر پر لیٹے سوچتے رہتے، ان کی خوراک بھی کم ہوگئی تھی۔ وہی مکان جو ابو کا تھا، اب گروی پڑا تھا اور ہم لوگ اس مکان میںکرائے دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔
میں چونکہ نفسیات کی اسٹوڈنٹ تھی، اس لیے گاہے گاہے ابو سے تبادلہ خیال کرتی۔ ’’ابو! دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے، آج یہاں کل کہیں اور۔‘‘
’’بیٹے جس نے میری محنت کی کمائی لوٹ لی،خدا اسے بھی اس دنیا میں ذلیل و خوار کرے گا اور جسے تم دھوپ کہتی ہو، کم از کم میری زندگی سے تو رخصت ہوگئی اب یہ کبھی اس گھر میں نہیں آئے گا۔‘
امی حکومت کی غلط پالیسیاں بنانے والوں کو کوسنے لگتیں:
’’اللہ غارت کرے حرام خوروں کو!‘‘ پھر وہ آنسو بہاتی کچن میں چلی جاتیں اور میں برآمدے میں اپنی کتابوں پر جھکی رہتی۔
’’ابو! بی اے کے بعد میں نوکری کرلوں گی۔ پھر ہم چین سے رہیں گے۔‘‘ مجھے ابو سے بہت پیار تھا، اس لیے میں ہمیشہ انھیں تسلی دینے کی کوشش کرتی تھی۔ ’’نہیں چندا! میں تو خود تم کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتا تھا۔ مگر…‘‘ وہ آہ سرد بھر کر رہ گئے۔
’’چھوڑئیے ابو اس قدر نہ سوچا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں کوئی نہ کوئی آزمائش یا مصلحت رکھی ہے۔‘‘
’’پتہ نہیں میرے مولا کو کیا منظور ہے۔‘‘ ایک روز ابو نے دور خلا میں گھورتے ہوئے کہا:
’’ہاں، وسیم بھائی کا کینڈا سے خط آیا ہے، انھوں نے بیس ڈالر بھیجے ہیں۔‘‘ میں نے ان کی توجہ ہٹانی چاہی۔
’’حرام خور، شرم نہیں آتی ماں باپ کو بیس ڈالر بھیجتے ہوئے۔‘‘ ابو غصے سے بولے۔
شاہد بھائی نے معذرت لکھ بھیجی تھی کہ اگلے مہینے رقم ارسال کرے گا۔ لیکن مجھے معلوم تھا اگلا مہینہ کبھی نہیں آئے گا، تاہم چھوٹا خالد بھائی حاتم کی قبر پر لات مارتے ہوئے ہر دوسرے چوتھے مہینے دو ہزار روپے کا قیمتی زر مبادلہ والدین کو بھیجتا تھا۔ بڑی آپا سلمیٰ شادی کے بعد سے پشاور میں رہتی تھیں۔ سال میںایک بار لاہور آتیں تو پندرہ بیس دن سے پہلے جانے کا نام نہ لیتیں۔ بچے الگ فرمائشی پروگرام بناتے رہتے۔ چھوٹی نائلہ باجی سعودی عرب میں بیاہی ہوئی تھی۔ اس کے تین بچے تھے اور وہ کئی کئی سال تک سعودی عرب سے نہیں آتی تھیں۔
ان سب کھاتے پیتے بہن بھائیوں کو پروا نہیں تھی کہ ان کے ماں باپ کتنی مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ امی زیادہ تر خاموش رہتیں، آمدنی کی کوئی صورت نہیں تھی۔ میری ٹیونشن سے بمشکل میری پڑھائی کا خرچ چل سکتا تھا۔ ابو جو کبھی بہت بڑی گھی مل کے مالک تھے، جہاں کہیں سو مزدور اور ورکر کام کرتے تھے، ایک روز سنجیدگی سے کہہ رہے تھے:
’’عالیہ تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں تو دے دو۔ میں منڈی سے کچھ پھل لاکر بیچوں گا۔‘‘
’’اس بڑھاپے میں تم چھابڑی لگاؤ گے؟ غیر ممالک میں رہنے والے بیٹے کیا سوچیں گے!‘‘ امی نے جواب دیا۔
’’جہنم میں جائیں سوچنے والے۔‘‘ ابو تلخی سے بولے ’’محنت میں کیا برائی ہے؟ خیرات پر ہم کب تک گزارا کریں گے! کیا تم نہیں چاہتیں کہ تمہارا شوہر اپنی محنت کی کمائی سے تمہاری ضرورتیں پوری کرے؟ اگر اس میں تمہیں شرم آتی ہے تو میں نوکری کرلیتا ہوں۔ میرا دوست امام دین کہہ رہا تھا کہ اس کے دفتر میں قاصد کی جگہ خالی ہے۔‘‘
’’جو جی چاہے کریں۔ میں آپ کو منع بھی تو نہیں کرسکتی؟‘‘ امی بڑے دکھ سے بولیں۔
’’ابو کو ملازمت تو نہ ملی مگر میرے لیے شادی کا پیغام آگیا۔ کسی کے آنے کا انتظار تھا نہ کسی سے کچھ ملنے کی توقع اس لیے دو کپڑوں میں میری رخصتی ہوگئی۔ اور میں بیاہ کر ایک ماڈرن بستی میں جابسی۔ میرے شوہر انجینئر فرہاد ایک روشن خیال انسان تھے اور انہیں اپنی محنت پر اعتماد تھا۔ چند برسوں میں ہم نے گھر کے لیے ضروری تمام اشیاء خرید لیں۔ میں اپنے گھر میں تو مطمئن تھی مگر امی ابو کی حالت کا سوچتی تو دکھ ہوتا۔
اپنے چھوٹے بچوں کی وجہ سے میں کئی کئی ماہ ابو کے ہاں جا نہیں سکتی تھی۔ فرہاد انجینئر کو ویسے ہی شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں جانے سے وحشت ہوتی۔ میں نے ابو اور امی کو اپنے ہاں لے جانے کی بھی بہیتری کوشش کی مگر ابو اس پر آمادہ نہ ہوئے وہ کسی کا احسان لینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اور مشکل حالات میں گزر بسر کرتے رہے۔
اس اثنا میں ابو کینسر کے مریض بن گئے تھے جو جان لیوا ثابت ہوا۔ امی نے سارے بہن بھائیوں کو اطلاع دی، مگر ان کے آتے آتے ابو انتقال کرگئے۔ وہ ہر قسم کے اندوہ و غم سے چھوٹ گئے۔ جانے کیوں مجھے اس سانحے سے بالکل بے خبر رکھا گیا۔ اگلے دن فون پر کسی نے مجھے بتایا تو میں روتی دھوتی گھر پہنچی۔ تب ابو کو دفن ہوئے بارہ چودہ گھنٹے ہوچکے تھے۔ دور دراز رہنے والے بہن بھائی جنھوں نے کبھی لوٹ کر ابو کی خبر نہ لی تھی۔ سب آچکے تھے اور گھر میں عجب رونق میلہ تھی۔ بچے شور شرابا کررہے تھے۔
’’میرے اللہ! ابو کے بغیر گھر کتنا ویران لگتا ہے۔‘‘ دکھی دل نے کہا۔ میرے آنسو کا ایک قطرہ گھر کی دہلیز پر گرا۔ ابواور امی کی پچاس برس پرانی رفاقت ٹوٹ گئی تھی امی کے دکھ سکھ کا ساتھی اپنے رب کریم کے پاس جاچکا تھا اور وہ کھلے سمندر کے اندر تنہا کشتی میں رہ گئی تھیں۔
’’امی آپ نے مجھے کیوں اطلاع نہیں دی؟‘‘ یہ کہہ کر میں سسکتے ہوئے امی کے گلے لگ گئی۔ تب امی پر سکتے کی سی کیفیت تھی مگر وہ اب رو رہی تھی۔ دوسرے کمرے میں بہن بھائی بڑی بے تکلفی سے تبادلۂ خیال کررہے تھے۔ لندن، امریکہ اور یورپ کی باتیں، بچوں کے مستقبل کی باتیں اور یورپی ممالک میں بہترین تعلیم دلانے کی باتیں، مگر ایک آواز انجینئر بھائی کی تھی وہ کہہ رہے تھے: ’’اس کمبخت کو کس نے بلا بھیجا؟ میں نے امی کو سختی سے منع کیا تھا کہ اسے اطلاع نہ دی جائے۔‘‘
’’ہاں یہ کون سی ہماری بہن ہے! ابو نے اسے پال دیا اور تعلیم دلائی، یہی کافی سمجھے۔‘‘ فرانس والے ڈاکٹر بھائی نے کہا۔
کویت والے خالد بھائی کی آواز آئی: ’’ہمارے جانے کے بعد بہتیرا اس نے عیش کرلیا، اب تو ہم اسے پھوٹی کوڑی نہیں دیں گے۔ یہ ہماری کیا لگتی ہے۔‘‘
’’ابو کے پاس ذرائع آمدنی کون سے تھے کہ یہ عیش کرتی!‘‘ آپا نائلہ نے کہا: ’’بلکہ ہم سب کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ تنہائی میں امی ابو کے ساتھ رہی۔‘‘ مگر ان کی بات سب نے قہقہوں میں نظر انداز کردی۔
امی کو چھوڑ کر میں دوسرے کمرے میں چلی آئی جیسے میں نے کچھ سنا ہی نہیں تھا وہا ان بہن بھائیوں میں عجیب سی بے چینی تھی جیسے وہ سب میرے جانے کا انتظار کررہے ہوں۔ مجھے لمحے بھر میں گمان ہوا۔ جیسے ہر ایک کے خوبصورت چہرے پر لمبی نوکیلی چونچ ہے۔ گدھ جیسی چونچ جو مردہ جسموں پر سے گوشت اور چمڑا نوچنے کھسوٹنے کے لیے ہے۔
میرا خیال تھا شام تک امی کے پاس ٹھہروں۔ کیونکہ محلے کی عورتیں اور مرد تعزیت کے لیے آرہے تھے۔ اکا دکا کوئی آجاتا اور ماحول میں سوگواری چھا جاتی۔ بچوںنے چھت پر الگ اودھم مچا رکھا تھا۔۔ ان کے والدین گھر کے کمروں میں گھوم پھر کر وہاں رکھی چیزوں کی کھوج لگا رہے تھے۔ آپا کی نظر دیوار پر لگے خوبصورت وال کلاک پر چلی گئی … ’’یہ وال کلاک میں لوں گی۔‘‘
’’یہ پینٹنگ میں لوں گا۔‘‘ ابو نے یہ پینٹینگ ایک نمائش سے خریدی تھی۔ جس پر آج انجینئر بھائی کی حریص نظریں جمی ہوئی تھیں۔
’’یہ کلر ٹی وی میرا ہوگا۔‘‘ کویت والا بی کام آنرز بھائی سب سے قیمتی چیز پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’یہ قالین میں لوں گی‘‘ نائلہ باجی بھلا کب پیچھے رہنے والی تھیں۔
مجھے گمان ہوا۔ جیسے وہ سارے کسی نیلام گھر میں آئے ہوں۔ اور یہ ان کے ماں باپ کا گھر نہیں۔ میں دروازے میں کھڑی دیکھ رہی تھی۔ آپا نے چھوٹی باجی سے سرگوشی کی: ’’کیسے دیکھ رہی ہے! بھلا اس کا اس گھر سے کیا تعلق!‘‘
’’میرے سینے سے چیخ نکلی: ’’تم کون ہوتی ہو اس گھر کے درودیوار سے میرا تعلق توڑنے والی؟‘‘ یہ اچھا ہوا میں نے چیخ اندر ہی دبالی۔
’’لے پالک کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے۔‘‘ بڑے ڈاکٹر بھائی نے کہا۔
’’وہ کبھی مالک نہیں بن سکتا۔‘‘ آپا نے وضاحت کی۔
میرے کانوں میں جیسے گرم گرم تیل ٹپکنے لگا۔ ’’کیا میں لے پالک ہوں؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میں نے تو اس گھر کو ہمیشہ اپنا ٹھکانہ سمجھا تھا۔ میں نے تو کبھی اس کی کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچایا۔ امی، ابو کے بارے میں کبھی کوئی بری بات نہیں سوچی، بازارسے کبھی کوئی ڈیکوریشن پیس خریدا تو اس کو میں نے کارنس پر سجایا کہ یہ گھر مجھے پیارا ہے پھر میں لے پالک کیسے ہوں؟‘‘
’’یہ لو تمہارے ڈیکوریشن پیس۔‘‘ یہ مٹی کی ہانڈی، یہ مٹی کے کھلونے، یہ مٹی کی ہرن، ہاں یہ پیتل کی مینا کاری والی ٹرے قیمتی لگتی ہے، یہ میں رکھ لیتا ہوں۔‘‘ خالد بھائی بڑی عیاری سے بولے۔
’’خبردار کسی نے میری ٹرے کو ہاتھ لگایا۔‘‘ میرے اندر کوئی شیرنی کلبلانے لگی۔
’’اچھا بابا نہیں لیتا۔ مگر وسیم بھائی ذرا بے بی شو پر واضح کردو کہ یہ ہماری بہن ہرگز نہیں۔‘‘
’’میں اس لوٹ مار میں شریک نہیں ہونا چاہتی، مگر اتنا بڑا جھوٹ تو نہ بولیں بھائی۔‘‘
کینڈا والے انجینئر بھائی نے وضاحت کی: ’’تم اس وقت ہمیں سڑک کے کنارے ملی تھیں جب پارٹیشن کے وقت ہم جالندھر سے ملٹری ٹرک میں پاکستان آرہے تھے۔ لاشوں کے ڈھیر سے ابو نے تمہیں اٹھایا تھا امی نے کہا تھا میں اس منحوس بچی کو لے کر کیا کروں گی۔ ابو نے ڈانٹا تم عورت ہو کہ ڈائن، ننھی سی بچی کو مرنے کے لیے کیسے چھوڑ دوں۔ تب امی کو مجبوراً تمہیں گود میں لینا پڑا۔ ٹرک کچھ دور چلا تھا کہ سکھ غنڈوں نے اسے گھیر لیا۔ ایک سکھ کرپان لے کر آگے بڑھا۔ اس نے ایک وار کیا جسے امی نے اپنے ہاتھ پر روکا۔ کرپان تمہارے سر کو زخمی کرگئی۔ امی کا ہاتھ خون سے گلنار ہوگیا۔ کبھی تم نے اپنے ماتھے کے زخم کانشان دیکھا ہے؟‘‘
میرا ہاتھ بے اختیار سر پر چلا گیا۔ ’’یہ زخم تو روز کنگھی کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔‘‘ اور اس زخم کے ساتھ زخمیوں کی ایک لمبی قطار میرے سامنے آکھڑی ہوئی۔ بچپن سے اب تک امی نے کبھی نیا کپڑا یا کوئی رنگین دوپٹہ نہیں دیا تھا۔ عید ،شب برات، سارے تہوار امی کا منہ دیکھتے گزر گئے۔ دل کی خواہش مانگنے پر مجبور کرتی تو وہ حقارت سے کہہ دیتیں: ’’تمہیں یہ دوپٹہ، یہ سوٹ، یہ کپڑا اچھا نہیں لگے گا۔ فیس داخلہ اور اسکول کی کتابوں کے لیے کہا تو انھوں نے ہمیشہ انکار کردیا۔ چنانچہ ادھر ادھر سہیلیوں سے مانگ کر کتابیں پڑھتی۔ پھر شادی کی نوبت آئی تو ایک پرانا سا سوٹ انھوں نے میرے حوالے کیا۔ جھوٹے نگینوں کا سیٹ ا س وعدہ پر پہنایا کہ شادی کہ اگلے دن واپس کردوں گی۔ اس لمحے میرا دل چاہتاتھا کہہ دوں ’’اماں! یہ جھوٹے ہار اور آویزے مجھے کیا حسین بنائیں گے! مجھے اس گھر نے تلخیوں اور ذلتوں کی سوغات دی ہے۔ اس کے باوجود میں نے اس گھر کو اپنا سمجھا، ہمیشہ اس کی بھلائی اور بہتری کے بارے میں سوچا۔ ابو سے مجھے بہت محبت تھی، مگر آپ نے مجھے کبھی محبت نہیں دی۔‘‘ اور اب میں سوچ رہی تھی اس گھر اور گلی سے میرا ایک اپنائیت کا رشتہ ہے۔ اس گھر سے جانے کے بعد مہینوں میں ادھر نہیں آئی، مگر مجھے یہ احساس تو تھا کہ یہ گھر میرا ہے۔ یہ بڑے بہن بھائی جن کی بے دام غلام بن کر میں نے خدمت کی اب اس کے صلے میں مجھ سے یہ رشتہ چھین لینا چاہتے ہیں۔ ساری چیزوں کی تقسیم ہوچکی، ہر ایک نے اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق چھینا جھپٹی کی۔ چھت کے لٹکے پنکھوں اور امی کے پسندیدہ گلدانوں میں لگے پھولوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ امی بے بسی سے تک رہی تھیں۔ اب کچن میں رکھے ابا کے پسندیدہ واٹر سیٹ، ڈنر سیٹ اور برتنوں کی باری تھی۔ وہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے بندر بانٹ کی نذر ہوگئے۔ شاید ابو کے بعد امی کو زندگی کی کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ میرا ارادہ تھا کچھ دیر اور ٹھہروں مگر پتہ چلا نیچے گلی میں میرے شوہر مجھے لینے آگئے ہیں۔ پانچ دس منٹ ٹھہر کر انھوں نے امی سے تعزیت کی اور پھر مجھے چلنے کا اشارہ کیا۔ اس دوران میں کسی بہن بھائی یا بچے نے کمرے میں جھانکا تک نہیں۔
’’اچھا امی! کل بچوں کواسکول بھیجنے کے بعد میں آؤں گی، خدا حافظ!‘‘ یہ کہہ کر ہم چلے آئے۔
صبح بچوں کو اسکول بھیج کر میں نے رکشہ لیا۔ رکشہ بھائی کی طرف رواں دواں تھا۔ رات کے شاید ہی کسی لمحے میری آنکھ لگی ہو۔ گزشتہ دن کے واقعات خوفناک ڈرامہ لگتے تھے۔ ایسی سفاکی اور سنگدلی کا مظاہرہ میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس گھر میں رہنے ،پلنے بڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے والے اپنی ہی گھر میں لوٹ کھسوٹ اور اودھم مچا رہے تھے۔ رکشے کا آہنگ مجھے نیند کا پیغام دے رہا تھا۔ جسے بار بار کے ہچکولے لوٹ کر لے جاتے۔ پون گھنٹہ میں شہر کی عجب واہیات سڑکوں سے گزر کر رکشہ گھر آیا۔
مجھے دیکھ کر امی کے غمزدہ چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئی۔ گھر میں سب ناشتہ کرنے کے بعد ایک تناؤ کی سی کیفیت کا شکار تھے۔ مجھے توقع تھی، اب تقسیم ہونے کو کچھ باقی نہیں بچا۔ چھوٹے خالد بھائی نے سرگوشی کی: ’’لو یہ محترمہ پھر آدھمکیں، ان کا خیال ہوگا کہ ہم نے کوئی چیز ان کے لیے بچا کر رکھی ہوگی۔ باقی بہن بھائیوں کے چہروں پر بھی عجب سی لاتعلقی اور خفگی تھی شاید وہ اپنی اپنی چیزوں کی گٹھڑیاں سمیٹ کر جلد رخصت ہونا چاہتے تھے۔
آپا بولی: ’’میں تو بارہ بجے چلی جاؤں گی۔‘‘
’’ہاں! میں بھی ایک بجے جاؤں گا۔‘‘ وسیم بھائی نے اعلان کیا۔
پتہ نہیں میری موجودگی انھیں کیوں اتنی کھل رہی تھی۔ میں نے لبوں پر مسکراہٹ بکھیری کہ مسکرانے پر کچھ خرچ نہیں آتا۔
’’مجھے امید ہے آپ سب نے اپنی اپنی پسندیدہ چیزیں حاصل کرلی ہیں۔ اب آپ خوش ہوںگے، مگر جس دل میں لالچ اور حسد کا گھر ہو، وہ کبھی مطمئن اور خوش نہیں رہ سکتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ امی جان نے مجھے جنم نہیں دیا، نہ انھوں نے اپنی ممتا کے سمندر سے میری طرف محبت کا موتی اچھالا ہے، لیکن آپ سب میرے ماتھے پر لگے زخم کو دیکھیں! سکھ غنڈے کی کرپان سے میری گردن بھی تو کٹ سکتی تھی، مگر ماں کی میں عمر بھر کے لیے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کرپان کا وار اپنے ہاتھ پر سہہ کر میری جان بچائی۔ اور قدرت نے محبت کا یہ نشان امی کے ہاتھ اور میرے ماتھے پر زندگی بھر کے لیے چسپاں کردیا۔ آپ لوگوں نے اپنا اپنا حصہ تو وصول کرلیا۔ لیکن یہ ناکارہ چیز (میرا اشارہ امی کی طرف تھا) اپنانے کو کوئی تیار نہیں۔
جب آپ لوگ اپنا اپنا سامان اٹھا لے جائیں تو خالی مکان کی چابیان میرے گھر گلبرگ دے جائیں۔‘‘ میں نے کھری کھری کہہ دیں اور پھر امی سے کہا:
’’چلئے ممی! میرے گھر کے دروازے آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ میرے بچے اپنی نانی کو دیکھ کر کتنا خوش ہوں گے؟‘‘
’’یہ نہیں ہوسکتا تم امی کو ہرگز نہیں لے جاسکتیں۔‘‘ بڑے بھائی جان ایک دم جیسے خواب سے جاگے۔
امی جو دیر سے گم صم رنجیدہ ہوکر بیٹھی تھیں، اٹھ کھڑی ہوئیں اور انھوں نے اپنی سگی اولاد سے مخاطب ہوکر کہا: ’’خبردار جو مجھے کسی نے روکنے کی کوشش کی میں تم سب کی اصلیت جان گئی ہوں۔، اب میں تم لوگوں کے ساتھ ایک دن بھی نہیں رہوں گی۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ گلبرگ جارہی ہوں۔‘‘ اور پھر ہم دونوں رکشہ کی تلاش میں باہر کھڑے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
شبانہ یونس

تبصرہ کیجیے