6

زندگی کا حاصل

میں اپنے چھوٹے سے گھر کے دریچے میں بیٹھی سوچ رہی ہوں، آخر میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ میں کیوں جئے جارہی ہوں، کیا میں سماج، سوسائٹی، اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہوں۔ نہیں نہیں میرے دل سے آواز آئی اور میں کھوجاتی ہوں بیتے دنوں کی یاد میں۔
ہمالیہ کی گود میں بسے ہوئے ایک چھوٹے سے قصبے میں میرا بچپن گزرا تھا۔ ہلدوانی میں میرے نانا کا گھر تھا اور ان کے گھر کے سامنے سے ہی نینی تال، رانی کھیت، الموڑہ وغیرہ جانے والے بسوں اور گاڑیوں میںجاتے تھے۔ گرمیوں کے دنوں میں تو پہاڑوں پر جانے والو ںکا تانتا بندھا رہتا ہے اور میرا دل بھی ہر جاتی ہوئی کار کے ساتھ فراٹے بھرتا، پرواز کرتا اور اس طرح خیالوں ہی خیالوں میں پرواز کرنے کی مجھے عادت سے پڑگئی تھی۔ میں کوئی چھ سال کی تھی جب اپنے نانا کے ساتھ نینی تال گئی۔ اس دن میں نے جھیل کے کنارے سارا دن گزارا۔ کبھی کشتی میں بیٹھتی، کبھی ہری ہری گھاس پر دوڑتی اور اُسی دن میری ملاقات اپنی خالہ کے گھر اس شریر لڑکے سے ہوئی جو ان کے یہاں شہر سے آیا ہوا خالہ جان کا دور کا رشتے دار تھا مگر وہ اسے اپنا بھائی سمجھتے تھے۔ دس، گیارہ سال کی عمر تھی اس کی، امتیاز نام تھا۔ میں اور امتیاز تھوڑی ہی دیر میں ایسے بے تکلف ہوگئے جیسے ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ آج مجھے یاد آرہا تھا کہ میں نے امتیاز کے ساتھ پہلی بار گیند بلاّ کھیلاتھا اور مجھے بہت اچھا لگا تھا اس کے ساتھ گھومنا پھرنا، آنکھ مچولی کھیلنا، شرارتیں کرنا۔ نینی تال کے دس پندرہ دن کے قیام نے میری چھوٹی سی زندگی میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ کسی انجانے جذبے کی تہہ میں ہر وقت امتیاز کے ساتھ ہی کھیلنا چاہتی تھی۔ مگر میری طرح امتیاز بھی میری خالہ کے گھر چند دن کے لیے آیا تھا۔ بارش شروع ہوگئی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اپنے شہر چلا گیا اور میں اپنے نانا کے ساتھ چلی گئی۔
اب وہی ہلدوانی تھا، وہی ماحول، وہی گھر تھا مگر مجھے یہ سب کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔ میرے نانامجھے روز پڑھاتے تھے مگر کچھ دنوں سے میرے ابا تقاضہ کررہے تھے کہ بچی کی پڑھنے کی عمر ہوگئی ہے اب مجھے اور میری ماں کو دلی بھیج دیا جائے۔ جہاں میرے والد ایک ہوٹل میں ملازمت کرتے تھے۔ اور ایک دن آہی گیا، جب میرے نانا ہم لوگوں سمیت ہلدوانی سے دلی کی بس میں سوار ہوگئے۔ اور اب اپنے اس چھوٹے سے نئے گھر میں نئی نئی زندگی شروع ہوئی۔ اسکول، کتابیں، نئے نئے ساتھی وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ میں تعلیم کے درجے طے کرتی رہی۔ آٹھویں جماعت تک میری زندگی میں کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا سوائے اس کے کہ مجھے اپنے چار چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹانا پڑتا تھا اور مشکل سے پڑھنے کے لیے وقت ملتا تھا۔
زندگی کا پندرھواں سال میرے لیے نئی الجھنیں لے کر آیا۔ میری ماں بیمار ہوگئی اور اتنی بیمار ہوگئی کہ پلنگ سے لگ گئی۔ گھر کا سارا بوجھ میرے کاندھے پر آپڑا۔ بیمار کی عیادت کے لیے دور و نزدیک سے آنے والے رشتے داروں کی وجہ سے کام اور بڑھ گیا۔ ایک صبح میری نینی تال والی خالہ بھی آدھمکیں اور ان کے ساتھ آیا ان کے رشتے کا دیور امتیاز۔ وہی امتیاز جس کے ساتھ آٹھ دس سال پہلے نینی تال میں ملی تھی اور میرے ننھے سے دل میں ایک نامعلوم کسک جگا کر شہر چلا گیا تھا۔ اب وہ اکیس بائیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی لیکن جانے کیوں میں نظر نہ ملاسکی اور چوری چوری اسے دیکھتے ہوئی باروچی خانے میں چلی گئی۔
امتیاز کی اچانک آمد سے میرے دل کے انجانے جذبات جاگ اٹھے لیکن گھر پر اس وقت پریشانی کے سائے منڈلا رہے تھے۔ اداسی کے بادل چھائے ہوئے تھے، ماں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی اور مجھے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا تھا۔ چھوٹے بہن بھائی اپنے چھوٹے بڑے کاموں کے لیے مجھ سے ہی کہتے اور میں صبح سے شام تک گھر کے کاموں، بہن بھائیوں کی خدمت اور مہمانوں کی ضیافت میں ایسی مصروف رہتی کہ اپنا کچھ ہوش ہی نہ ہوتا۔ کبھی کبھی امتیاز کو دیکھ کر ایک دبی دبی چنگاری سلگتی ہوئی محسوس ہوتی جسے میں نظر انداز کردیتی اور امتیاز مجھ سے باتیں کرنے کے بہانے تلاش کرتا مگر میرے پاس وقت ہی کہاں تھا۔
قدرت کو میرے صبر اور ہمت کا امتحان لینا تھا ایک رات وہ آئی کہ جب موت سے مسلسل جنگ کے بعد پچھلے پہر میری ماں نے دم توڑ دیا۔ سارا گھر آنسوؤں اور چیخوں کے طوفان میں ڈوب گیا۔ دن نکلا مجھے محسوس ہوا کہ آج سورج ہمیشہ کے لیے ڈوب گیاہے۔دیکھتے ہی دیکھتے میری دنیا اجڑ گئی اور میں بے کسی سے ہر شخص کو تکتی تھی۔ اب چھوٹے بہن بھائی اس غم کے طوفان میں مجھے اس طرح دیکھتے تھے جیسے میں ہی تنکے کا سہارا ہوں۔ میرے باپ پر بیوی کی جدائی نے عجیب اثر کیا تھا۔ وہ گم سم ہوگئے تھے۔ نہ روئے نہ ہنسے نہ کسی کو گلے سے لگایا بس خاموش تھے۔
میری خالہ نے اپنے بہنوئی سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ بھائی جان، باجی کے بعد اس جوان لڑکی کو گھر میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے، میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گی اور اسے میٹرک کرانے کے بعد اس کی شادی امتیاز سے کردوں گی تو یہ سن کر وہ بھونچکے سے رہ گئے۔ ان کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میں نے سب کچھ سن لیا تھا مگر میں اس وقت بولتی تو کیا لیکن میرے دل میں ایک عجیب ہل چل مچ گئی۔ محبت اور فرض کے درمیان کشمکش نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔
دوسرے دن موقع پاکر میں نے خالہ سے خود کہا کہ آپ جو کچھ سوچ رہی ہیں وہ ناممکن ہے۔ میں اپنے غمزدہ باپ اور معصوم بہن بھائیوں کو بے سہارا چھوڑ کر اس گھر سے کہیں نہیں جاسکتی، کبھی نہیں جاسکتی۔ آج سے میری زندگی صرف انہیں لوگوں کے لیے ہے۔ میں اپنی ماں کی مردہ آنکھوں میں حسرت کی لکیر کبھی نہیں بھول سکتی اور مجھے ان کی ناکام آرزو کو پورا کرنے کے لیے جینا ہے۔ یہ کہہ کر میں کوئی جواب سنے بغیر اپنے کمرے میں چلی آئی اور جی بھر کر روئی اور آج اس دریچے میں بیٹھی میں سوچ رہی تھی کہ کیا میری زندگی بے مقصد گزری۔ جواب دے رہے ہیں میرے ہنستے کھیلتے چھوٹے بھائی بہن اپنے مسرت بھرے قہقہوں سے۔

شیئر کیجیے
Default image
نور بانو

تبصرہ کیجیے