2

صحت بخش غذائیں

لیموں
یہ حیاتین ج کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے حیاتین ج کو مرکبات سے علیٰحدہ کیے جانے سے قبل لیموں کو اسقربوط کی بیماری سے صحت یاب ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا (یہ بیماری فساد خون سے پیدا ہوتی ہے جس میں مسوڑھے سوج جاتے ہیں۔ جس پر سیاہ داغ پڑ جاتے ہیں اور ہاتھ پاؤں میں درد رہتا ہے۔ یہ مرض عام طور پر ملاحوں اور جہاز رانوں کو لاحق ہوتا ہے۔) لیموں اور اس کا رس طاقتور دافع عفونت (اینٹی سیپٹک) خصوصیات کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ وافر مقدار میں بایو فلیوونائڈز اور حیاتین ب مہیا کرتا ہے۔ ابھی تک لیموں کو بہت زیادہ تیزابیت کا حامل سمجھا جاتا رہا ہے اور گھٹیا کے مریضوں کو اس سے اجتناب برتنے کی ہدایت کی جاتی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں پائے جانے والے نامیاتی ترشے ہاضمے کے دوران پوٹاشیم کاربونیٹ میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور نظام ہضم کے اعضاء کی جھلیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
ترکیب: تازہ لیموں کے شربت کے دو گلاس آپ کو تروتازہ اور ٹھنڈا رکھیں گے۔
کرم کلہ (بند گوبھی)
یہ ترکاری سرطان کے خلاف جنگ کرنے میں آپ کا ساتھ دیتی ہے یہ حیاتین ج، کیلشیم اور فولاد کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اس کے اندر پایا جانے والا جز آئسو تھیو سائیٹس انسان کو پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے ۔ بند گوبھی گندھک اور فولاد سے بھر پور ہے جو آپ کے معدے اور آنتوں کی صفائی کا کام بڑی عمدگی سے انجام دیتے ہیں۔ یہ جھلیوں کی بھی صفائی کرتے ہیں اور جمع شدہ چکنائی کو دھوکر صاف کردیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بند گوبھی آنتوں کے سرطان کے خطرے کو کم کرتی ہے یہ ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو زیادہ فعال بناتی ہے اور بیکٹیریا اور وائرس کو مارڈالتی ہے۔ بند گوبھی کارس آنتوں کے زخموں کو مندمل کرتا ہے۔
ترکیب: تازہ بند گوبھی کے رس کا ایک گلاس یا باریک کتری ہوئی بند گوبھی استعمال کیجیے۔
دہی
دہی کھانے سے آپ کے نظام ہضم کی پوری طرح صفائی ہوجاتی ہے اس میں پایا جانے والا لیکٹک ایسڈ ہاضمے کو درست کرتا ہے۔ یہ ترشہ حیاتین ب، بایوٹین اور فولک ایسڈ کے مرکبات بھی بناتے ہیں۔ ہمارے جسم میں کیلشیم اور میگنیزیم کو جذب کرنے کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ آنتوں میں پہنچنے والے لیکٹک ایسڈز اسے بیکٹیریا سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ترکیب: روزانہ کھانے کے ساتھ دہی کا رائتا کھائیں یا چاول اور دال کے ساتھ ایک پیالی دہی بھی لے لیا کیجیے۔
تھوڑا سا لہسن روزانہ کھائیے
مغرب میں ’’ایک سیب روزانہ کھائیے، طبیب کے پاس نہ جائیے۔‘‘ کی کہاوت مقبول ہے۔ لیکن مشرق میں صدیوں سے یہ حیثیت لہسن کو حاصل ہے۔ بڑی بوڑھیوں کی نصیحت کے مطابق کھانے میں تھوڑا سا لہسن شامل کرلینے سے بیماری دور بھاگتی ہیں۔ جدید طبی تحقیق نے بھی دادی اماؤں کے اس قول کی بڑی حد تک توثیق کردی ہے۔لہسن کی طبی افادیت سب سے پہلے ۱۶۶۵ء میں اس وقت سامنے آئی جب لوئی پاسچر نے ثابت کیا کہ لہسن جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے۔ آج برٹش ہارٹ اسوسی ایشن لہسن کے قلب پر اثرات کے مطالعہ کیے لیے کئی ملین پاؤنڈ کی رقم خرچ کررہی ہے۔ لہسن پر ہونے والی اب تک کی طبی تحقیق کے نتائج یہ ہیں:
٭ لہسن معدے کے رس (گیسٹرک جوس) کو تحریک دے کر بہ یک وقت ایک ہاضم اور مشتہی (بھوک لگانے والا) ثابت ہوتا ہے۔
٭ لہسن خاص طور پر بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کا یقینی طور پر خاتمہ کرتا ہے۔
٭ اپنی دافع جراثیم خصوصیات کی وجہ سے لہسن حشرات گزیدگی (کیڑوں کے کاٹنے) میں مفید ثابت ہوتا ہے۔
٭ لہسن شامل ہونے سے کھانوں کے بعد خون میں شکر کی عام طور پر بڑھ جانے والی سطح قابو میں رہتی ہے۔خون میں شکر کی سطح میں ایسے اضافے کے بعد عموماً اچانک گراوٹ یا پستی محسوس ہوا کرتی ہے، جس سے بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس طرح لہسن ذیابیطس کے علاوہ بے قاعدہ بھوک اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
٭ لہسن کولیسٹرول کی سطح میں دس فیصد تک کمی کردیتا ہے۔
٭ لہسن خون کو پتلا رکھتے ہوئے تھکّے (کلاٹس) بننے کے عمل کو روکتا ہے۔
٭ لہسن دوران خون میں بہتری پیدا کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے بالائی فشار خون (سسٹالک بلڈپریشر) میں سترہ فیصد اور زیریں فشار خون (ڈایاسٹالک بلڈ پریشر) میں گیارہ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
٭ برٹش جرنل آف کلینیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق لہسن کے استعمال سے رو بہ صحت ہوتے ہوئے مریضوں کی صحت وکیفیت میں بیس فیصد تک بہتری ہوجاتی ہے۔
٭ لہسن خونی شریانوں میں رکاوٹ آجانے، حملہ قلب، بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) اور فالج کے خطرات میں نمایاں کمی پیدا کرتا ہے۔ ان امراض کے خطرے میں مبتلا رہنے والے افراد کو اگر باقاعدگی سے لہسن استعمال کرایا جائے تو ان کا دوسری احتیاطی تدابیر یا دواؤں پر انحصار کم ہوجاتا ہے۔ بعض دوا ساز ادارے لہسن کی گولیاں بھی تیار کرتے ہیں۔ کچھ امراض میں لہسن کی ایک خاص مقدار روزانہ درکار ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ان گولیوں کااستعمال مناسب ہوتا ہے۔ تاہم عام افراد کے لیے کھانوں میں تازہ اور قدرتی لہسن ہی موزوں ہے جو حفظ صحت کے ساتھ ساتھ کھانوں کے ذائقے کو بھی بڑھاتا ہے۔
بھاری جسم والوں کے لیے مشورے
من پسند کھانے کھاتے وقت احتیاط کریں، آپ چند تبدیلیاں کرکے اپنے کھانے کو لذیذ اور غذائیت بخش بنا سکتی ہیں۔ آپ اس کھانے کو پسند بھی کریں گی، ساتھ ہی یہ آپ کا وزن گھٹانے میں بھی سود مند ثابت ہوگا۔ کھانوں میں چکنائی کم سے کم استعمال کریں۔
٭ دودھ کی بالائی اتار کر استعمال کریں۔ بالائی والا دودھ استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں چکنائی جاتی ہے۔ بالائی کا استعمال ترک کرکے آپ کافی حد تک چکنائی سے پرہیز کرسکتی ہیں۔
٭ ۱۶۰ گرام دلیے کا پیالہ صبح ناشتہ میں کھائیں۔ یہ دلیا دودھ کی بالائی نکال کر بنایا جائے۔
٭ دہی میں مختلف قسم کے پھل شامل کرکے دوپہر یا شام کو کھائیں۔ آپ اسے ناشتے میں بھی کھاسکتی ہیں۔ یہ مکھن اور ڈبل روٹی کا بہترین متبادل ہے، مکھن کا پیسٹ لگا کر کھائیں۔
٭ ایک پیالی کافی صبح ناشتے میں اور شام کو پئیں۔ اس میں بالائی یا کریم وغیرہ مت ڈالیں۔
٭ عموماً خواتین ناشتہ کافی بھاری کرتی ہیں۔ مثلاً پراٹھا، دہی اور بالائی وغیرہ ناشتے میں استعمال کرتی ہیں، اس کی بجائے پھلوں کا جوس یا ڈبل روٹی اور جام استعمال کریں، ان اشیاء میں چکنائی نہیں ہوتی۔
٭ ایک عام چھوٹی پیسٹری میں ۱۸ گرام چکنائی ہوتی ہے، جب کہ اس کی نسبت اگر آپ رس یا بسکٹ استعمال کریں تو چکنائی سے بچ جائیں گی۔ چاکلیٹ کافی کی بجائے، اگر آپ جوس پئیں تو چکنائی سے پرہیز کرسکتی ہیں۔
٭ کھانے میں مکھن بہتر ہے آپ جام، مربہ وغیرہ استعمال کریں۔
٭ ایک سینڈوچ جو آلو یا مرغی ڈال کر بنایا گیا ہو، اس میں تقریباً ۳۰ گرام چکنائی ہوتی ہے جبکہ انڈا اور مختلف سبزیاں شامل کرکے آپ نہایت لذیذ سینڈوچ جو کہ کم چکنائی پر مشتمل ہوگا بناکر کھائیں۔ یہ سینڈوچ صبح، دوپہر یا رات کھانے کے اوقات میں کھائیں۔
٭ سلاد کو آج کل بہت بھاری تصور کیا جانے لگا ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر سرکہ استعمال کرسکتی ہیں اور سلاد مزیدار ہونے کے ساتھ چکنائی سے پاک ہوگی۔
٭ اگر آپ کو چائنیز کھانے پسند ہیں تو آپ کارن سوپ دوپہر یا رات میں پی سکتی ہیں کیونکہ اس میں چکنائی کم ہوتی ہے۔
٭ اگر آپ پیڑا بنائیں تو اس میں لہسن ڈال لیں، لہسن وزن کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
٭ مرغی روسٹ کرنے سے پہلے اس کی کھال اتاردیں۔ اس طرح آپ بارہ گرام کم چکنائی لیں گی۔
٭ تکے اور سیخ کباب بناتے وقت تیل کم استعمال کریں، انہیں ان ہی کی چکنائی میں پکائیں، اس طرح آپ کافی حد تک کم چکنائی لیں گی۔
٭ آپ دستر خوان پر ریڈی میڈ کھانا سجانے سے پہلے سوچیں کیونکہ ہر۳۷۰ گرام پیش کی جانے والی بریانی میں بیس گرام چکنائی جبکہ اس مقدار میں پیش کیے جانے والے قورمے میں ۴۴ گرام چکنائی پائی جاتی ہے۔
٭ سبزیوں کو تلنے کے لیے کم سے کم تیل استعمال کریں،مایونیز اور مکھن سے بھی پرہیز کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے