3

جنت کی بشارت

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَرَأَۃُ إِذَا صَلَّتْ خَمْسَہَا وَصَامَتْ شَہْراً وَاَحْصَنَتْ فَرَجَہَا وَاَطَاعَتْ بَعْلَہَا فَلِتَدْخُلْ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ تْ۔
’’حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت جب پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی ناموس و عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی معروف میں اطاعت و رفاقت اختیار کرے تو (اسے بشارت ہے) وہ جنت میں جس دروازے سے بھی چاہے داخل ہوجائے۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث میں عورت کو چند باتوں کے عوض جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
(۱) اول یہ کہ وہ نماز کی پابند ہو۔ اس سے نماز کی فرضیت کا پتہ چلتا ہے۔ نماز ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ۔
’’جو بھی نماز کا خوگر ہوگا وہ تمام بری اور بے حیائی کی باتوں سے بچا رہے گا۔ ‘‘
یہی نماز کے قبول ہونے کا معیار یا پیمانہ ہے۔ نماز کی اہمیت کو بتاتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ۔
’’ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔‘‘
(۲) دوسری یہ کہ وہ ماہِ رمضان کے روزے اہتمام اور پابندی سے رکھتی ہو۔ روزے میں ہر اس چیز کا پاس و لحاظ رکھے جس سے اللہ اور اس کے رسولؐ نے منع فرمایا ہے۔ اور اگر کوئی مرد یا عورت روزے کو واقعی گناہوں کے مقابلہ میں ڈھال بنالے تو پھر ان کے جنت کے حق دار ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔
(۳) تیسرے یہ کہ اپنی ناموس و عصمت کی سخت حفاظت کرے۔عصمت اور ناموس کی حفاظت ہی کسی خاتون کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ انسانی کمزوری اور ماحول میں پھیلی برائیوں کے سبب یہ انسان کا سب سے کمزور پہلو ہے جسے شیطان استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں وہ عورت واقعی اللہ کی نظر میں قابل قدر ہے جو اپنی عصمت و عزت کی حفاظت کرے۔
(۴) چوتھے یہ کہ معروف میں اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور ہر اس چیز کو بالکل ترک کردے جو شوہر کو ناپسند ہو۔ اس سے جو سکون کی زندگی میسر آتی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا تھا:
الدنیا کلہا متاع وخیر متاع الدنیا المراۃٔ الصالحۃ۔
’’ دنیا ایک متاع ہے اور اس متاع کی سب سے بہتر ین چیزنیک عورت ہے۔‘‘
آئیے آج ہی سے ہم اپنے کو بدل لیں اور ہمارے اندر جو خامیاں ہیں ان کو دور کرکے ہم جنت کی حقدار بن جائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عطیہ خانم صالحاتی

تبصرہ کیجیے