4

حجاب کے نام

رسالہ کو کسی ایک نظریے کا حامل نہ بنائیں
ماہ نامہ حجاب اسلامی کا تازہ شمارہ ملا۔ آپ نے صوری اور معنوی اعتبار سے اس کو مکمل اسلامی پرچہ بنانے کی جو سعی کی ہے وہ قابل قدر ہے۔ سر ورق بھی دلکش و دلنشین، اور جاذب نظر ہے۔ پرچہ کو ظاہری اختلافات سے دور رکھیں اور کسی ایک نظریہ کا حامی نہ بنائیں بلکہ قرآن وسنت کا علمبردار بنائیں۔ آج کے دور میں تعلیم نسواں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور دورِ جدید کے لحاظ سے یہ ضروری بھی ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو دینی اور دنیوی دونوں قسم کی تعلیم سے آراستہ کریں۔ اس بار کافی اچھے مضامین پڑھنے کو ملے۔ آپ نے تقریباً ہر شعبہ کو اس میں جگہ دی ہے۔ آپ کے کیریئر کالم کو روزنامہ سیاست حیدرآباد نے من وعن بغیر کسی حوالہ کے شائع کردیا۔ (۲۸؍یا ۲۹؍دسمبر ۲۰۰۴ء کے اخبار میں) خدا کرے آپ کے یہ قدم رکیں نہیں۔ آگے ہی بڑھتے رہیں اور تعلیم نسواں میں اپنا ایک مقام بنائیں۔
ڈاکٹر م ۔ق۔سلیم، حیدرآباد
]حجاب آپ کو پسند ہے یہ اللہ کا فضل ہے۔ خواتین میں خاص طور پر تعلیم کا فروغ ہماری اہم کوشش ہے۔ ہم پرچہ کو کسی خاص مکتبۂ فکر کا نمائندہ بنانے کے بجائے دین کا نمائندہ بنانا چاہتے ہیں۔ آپ کی نیک تمناؤں کے لیے ہم دل سے مشکور ہیں۔ ایڈیٹر[
خواتین کے لیے عمدہ اور قابل تحسینِ رسالہ
میں نے حجاب کو پہلی مرتبہ اکتوبر ۲۰۰۴ء سے پڑھنا شروع کیا ہے۔ حجاب کو میرے والد محترم جناب ڈاکٹر محمد دوأد صاحب نے جاری کروایا تھا جن کی میں بے حد ممنون و مشکور ہوں۔ جس وقت میں جامعۃ الصالحات میں زیر تعلیم تھی اور یہ رامپور سے شائع ہوتا تھا اسی وقت سے میں اس رسالہ سے واقف تھی اور اب یہ خود میرے نام آنے لگا ہے۔ مجھے بے صبری سے حجاب کا انتظار رہتا ہے۔ اور پھر اس کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شخص نہیں کہ یہ رسالہ اس جدیدیت پسندی کے دور میں خواتین اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے عمدہ اور قابل تحسین ہے۔ رسالہ کامعیار دن بدن ترقی پر ہے۔ خدا تعالیٰ اسے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دے۔ اور آپ کی تمام تر کوششوں و کاوشوں کو شرفِ قبول بخشے۔( آمین)
عطیہ خانم صالحاتی، بلندشہر
دینی سوالات کا کالم
ماہ جنوری ۲۰۰۵ء؁ کا تازہ شمارہ ملا۔ بہن تسنیم نزہت اعظمی صاحبہ کا مضمون ’’ایصال ثواب‘‘ بہت پسند آیا۔ محمد اکرم اعظمی کی لکھی ہوئی مچھلی کی کہانی واقعی قابل تعریف ہے۔ اس کہانی نے جنت دوزخ کی تصویر سامنے لاکر رکھ دی۔ یوں تو حجاب جب سے جاری ہوا تب ہی سی میں اس کی قاری ہوں۔ ہر ماہ شدت کے ساتھ انتظار کرتی ہوں۔ ماہ جون ۲۰۰۴ء کے حجاب میں سلمہ نسرین کا افسانہ ’’تم ہو تو حسین ہے دنیا‘‘ پڑھتے ہی دل باغ باغ ہوگیا تھا۔ حجاب کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اس رسالہ میں ایک ایسا کالم شروع کیا جائے جس سے ہماری دینی معلومات میں اور اضافہ ہوگا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ حجاب اسلامی کو ترقی وکامرانی کی بلندیوں پر پہنچائے۔ (آمین)
تبسم بہار، بہرائچ
؟؟؟
ہم حجاب اسلامی کے ذریعہ جاننا چاہتے ہیں کہ………
بہن ساجدہ زبیر، پورٹ بلیئر (انڈمان) کا تفصیلی خط حجاب جلد:۲، شمارہ ۱۱، نومبر ۲۰۰۴ء میں پڑھا ہے۔ ۲۶؍دسمبر ۲۰۰۴ء کو سونامی زلزلہ کا قہرکے زد میں انڈمان بھی ہے۔ وہاں کی عمومی صورتِ حال کیا ہے؟ داعیانِ اسلام کا جائزہ ان کے قلم سے ہم قارئین کو ملے تو بہتر ہے۔ ویسے تو یہ سب کچھ لوگوں کے لیے یاد دہانی ہے ایک بڑے اور سخت دن کے آنے کی۔ تاکہ لوگوں کو قرآنی آیات کا یقین ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرے اور راحت رسانی کے کاموں میں سہولت مہیا کرے۔ میں قارئین حجاب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حجاب کے دائرہ کو بڑھانے میں خاص دلچسپی لیں۔ حجاب کو پڑھنے اور جاننے والوں کو تحفتاً دیجیے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے میں بچوں کے ایک پرچہ کا لائف ممبر ہوں اور پھر حجاب کی لائف ممبری اپنی بچی کے نام جاری کرائی تاکہ قارئین کا دائرہ بڑھے۔ دینی کتب، کتابچہ، رسائل کا پڑھنا اور بانٹنا میری خاص دلچسپی ہے کیونکہ یہ ضروری ہے۔
مستحق الزماں خاں، بہار
نیا سال منائیے
فروری کا شمارہ ملا۔ تمام مضامین و کہانیاں اچھی اور ذہن کو متاثر کرنے والی تھیں۔ جیسے کھانا اسلامی آداب کے ساتھ، معاشرے میں عورت کا صحیح مقام، سونامی کی تباہی، سکون کا راز، وفادار، اپنی گفتگو کو دلکش بنائیے، روشن خیالی، اور پردہ وغیرہ بہت اچھے لگے۔ اس معیار کو ہمیشہ برقرار رکھیں۔ نصیر احمد ظفر کا مضمون ’ملت پہ ہے نیند طاری‘ اچھا تھا مگر ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی جو انھوں نے مضمون میں کہی، ’’ہم ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نیو ایئر نہ منائیں ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دوسروں کا یہ دن نیو ایئر منانے کا مطلب ہے کہ ہمارا اپنا کوئی کیلنڈر نہیں ہے۔‘‘ جہاں دوسری قومیں تقریبات کے نام پر بے ہودگی اور جہالت کا ثبوت دے رہی ہیں توہمیں تو بالکل بھی اس چیز کے قریب نہیں جانا چاہیے کیونکہ ہمارے صرف دو تہوار ہیں جن کاتعلق انسان کے ساتھ ساتھ ان کے رب کے ساتھ بھی ہے جن کی خوشنودی کا خیال ہمیں ہر حال میں رکھنا ہے۔ نیو ایئر اپنا ہو یا پرایا کسی کو منانے کی اجازت ہمارے یہاں نہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کے ہندوستان اور پاکستان میں عیدمیلاد نبی کے نام پر بھی خرافات ہوتی ہیں۔
اعجاز فاروق، مالیر کوٹلہ
جنوری کا شمارہ مجموعی طور پر اچھا لگا
امید کہ آپ اپنے مشن میں تمام حوصلوں اور امیدوں کے ساتھ سرگرداں ہوں گے ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور کوشش بھی خریدار بنانے کی۔
جنوری ۲۰۰۵ء کا حجاب اسلامی اپنے ٹائٹل کے شعر سمیت بہت پسند آیا۔ ہر ماہ کا حجاب آپ لوگوں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے ہر کالم سے آپ کی ’’حجاب اسلامی‘‘ پر کی گئی محنتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ جزاک اللہ۔ جنوری کا شمارہ مجموعی طور پر اچھا رہا۔ افسانوں میں ’’غموں کے سائے ‘‘ بہت پسند آیا۔ گوشۂ نو بہار میں تمام ہی کوششیں اچھی رہیں۔ لطائف بھی پُر لطف رہے۔ دعا ہے کہ حجاب اسلامی ترقی کی تمام منزلیں طے کرکے سب سے اونچے مقام پر فائز ہو۔
لبنی سعید، دیو گھاٹ
میری دعا ہے
رسالہ حجاب اسلامی ملا ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ جیسے ہی رسالہ حجاب ملا اداریہ سے لے کر آخر تک رسالہ مکمل پڑھا ایسا رسالہ شائع کرنے پر آپ کو بہت بہت مبارک باد۔ رسالہ پڑھ کر طبیعت باغ باغ ہوگئی۔ سوالات کا کالم بھی شروع کریں میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ حجاب خوب پھلے پھولے اور اردو داں طبقہ میں مقبول عام ہو۔ جیسے ہی رسالہ پڑھ کر ختم کیا تو اسی دن ۳ مہینے کے لیے منی آرڈر کیا۔ امید کرتا ہوں جیسے ہی منی آرڈر ملے گا رسالہ جنوری ۲۰۰۵ء روانہ کردیں گے۔
محمد عباس لون، کپواڑہ
ٹائٹل کے لیے مشورہ
فروری کا شمارہ ملا۔ ٹائٹل کا فی خوبصورت تھا۔ علامہ اقبال کے شعر نے مزید خوبصورتی بڑھادی۔ ویسے آپ ٹائٹل پر مکہ معظمہ کی تصویر یا کسی اور مسجد کی تصویر کے بجائے قدرتی نظاروں کی تصویر دیں جیسے غروب آفتاب یا طلوع آفتاب کا منظر یا پہاڑ، جنگلات وغیرہ جس سے ہمیں خداکے وجود اور اس کی قدرت کا اندازہ ہو۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ مکہ معظمہ کی یا اور کسی مسجد کی تصویر دے کر ہم رسالے کو اسلامی دکھانے کی کوشش کریں۔ رسالے میں چھپنے والے مضامین اچھے اور اسلامی ذہن بنانے والے ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ تاریخ کے جھروکوں سے واقعات کو پیش کریں کیونکہ امت مسلمہ اپنے اسلاف کی تاریخ کو بھولتی جارہی ہے۔ مضمون سنامی کی تباہی کافی اچھا رہا بہرحال ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ یہ کوئی خدا کا اپنی مخلوق سے انتقام نہیں۔ بلکہ ایک تنبیہ ہے کہ انسان اپنے مقصد سے بھٹک کر کدھر گم ہوتا جارہا ہے۔
ایم نصر، مالیر کوٹلہ
]آپ کے قیمتی مشوروں کے لیے شکریہ۔ انشاء اللہ آئندہ انہیں سامنے رکھا جائے گا۔ ایڈیٹر[
رسالہ بہتر ہورہا ہے
تقریباً ۴ یا ۵ ماہ سے حجاب میرے یہاں آرہا ہے۔ یہ جریدہ ہم نے اپنی بہو اور بہن کے لیے جاری کرایا ہے۔ لیکن میں بھی پڑھتا ہوں۔ ماشاء اللہ حجاب ہر ماہ بہتر سے بہتر ہوتا جارہا ہے۔ میں کوشش کررہا ہوں کہ حجاب کے نئے خریدار تیار کروں۔
غلام یزدانی، لکھمنیا
]حجاب کے لیے نئے خریدار بنانے کی کوشش ہمارے لیے حوصلہ افزاء ہے، ہم اس پر آپ کے لیے جزائے خیر کی اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ ایڈیٹر[
انعامی مقابلہ شروع کریں
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ کو جلد از جلد گھر گھر پہنچادے۔ میں حجاب اسلامی کا دس ماہ سے مطالعہ کررہا ہوں۔ اس رسالہ کا ’’فرنٹ پیج‘‘ دیکھ کر میرا دل مضامین پڑھنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ فی الحال فروری ۲۰۰۵ء کا رسالہ زیر نظر ہے اور آپ سے روبرو ملاقات کرنے کے بعد آپ کا چہرہ بھی نگاہوں کے سامنے ہے۔ آپ سے ملاقات کرکے کافی خوشی ہوئی۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ ’’حجابِ اسلامی‘‘ میں انعامی مقابلہ کا کالم شروع کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ اور سوالات گذشتہ شمارہ کی روشنی میں تیار کیے جائیں۔ کیونکہ سوالات دیکھ کر ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے جوابات بھی تلاش کیے جائیں۔ اس بہانے مطالعہ کے شوق میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انعامی مقابلہ کے سوالات اس طرح ہوں جس طرح رفیق منزل میں کئی ماہ سے جاری ہیں۔
نجیب الرحمن خاں، آکولہ
]آپ نے ہمیں یاد رکھا، یہ ہماری خوش نصیبی ہے ۔ آپ کے مشورے پر ہم غور کررہے ہیں۔ یہ واقعی مفید ہوسکتا ہے۔ انتظار کیجیے انشاء اللہ عمل درآمد ہوگا۔ ایڈیٹر[

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ