4

اپنے ہاتھ کا طمانچہ

’’جھوٹ سے مجھے شدید نفرت ہے وہ چنگھاڑا۔خبردار جو کبھی تمہاری زبان پر جھوٹ آیا‘‘ اور اس کے ساتھ ہی شہاب کا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور اپنے چھ سالہ بچے عامر کے نرم گالوں پر نشان چھوڑ گیا۔ اور اب وہ مڑ کر سامنے میز پر پھیلے ہوئے اخبار کو خالی نظروں سے تکے جارہا تھا۔
عامر اس کا بچہ سسکتا ہوا، سہما ہوا اپنے گال پر انگلیوں کے ابھرے نشان کو سہلا رہا تھا۔ آج اس کے ابو نے پہلی بار ایسا تھپڑ مارا تھا۔ وہ کچھ حیران سا کچھ ہراساں سا تھا۔ اس کے آنسو ابلتے رہے۔ شہاب کی خالی نظریں اخبار کا طواف تو کررہی تھیں لیکن وہ خالی الذہن نہ تھا۔ اس کی برانگیختگی اور اعصابی تناؤ کا اظہار ابھی تک اس کی شکل سے ہورہا تھا۔ موجودہ دور کے تقاضے ہی بدل گئے ہیں اس نے سوچا۔ ہماری تہذیب و تمدن کا سرمایہ ہی لٹ گیا ہے۔
یہ اس کی عادت تھی کہ جب وہ کسی کے جذبات کو بے قابو ہوتے دیکھتا یا کوئی حیوانی جبلت کا اظہار کربیٹھتا تو اس کے سلسلے میں بڑے بڑے نظریاتی مقالے لکھتا یا طرح طرح کی فلسفیانہ موشگافیوں سے الجھتا رہتا۔ کسی معصوم بچہ پہ ہاتھ اٹھانا بھی تو ایک وحشیانہ طرزِ عمل ہے۔ اپنے اعصابی توانائی اور صبروتحمل کی شکست کا اعتراف ہے۔ بچے تو نو سکھ ہوتے ہیں۔ وہ طرزِ زندگی اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کے عمل سے گزررہے ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت میں اگر والدین اپنی نفسانی اور اعصابی مجبوریوں کو طشت از بام کرتے رہیں تو وہ آئینہ حیات میں ان ہی کی شبیہ کی کرچیاں بن کر ان کے دلوں میں چبھ جاتی ہیں اور پھر یہ دلِ آزردہ چشمِ خوں بن کر رستا رہتا ہے۔
جھوٹ! جھوٹ!! جھوٹ!!! شہاب نے دکھ اور نفرت کی چنگاری سے بھری جھلساتی سانس کو اپنے اندر کھینچا تو اس کی جلن سر سے پاؤں تک سرایت کرگئی۔ اس کا بدن سنسنا اٹھا۔ ساری دنیا جھوٹ کا بازار بن گئی ہے۔ ہر خبر ہر حکایت ہر رسم جھوٹ کا پلندہ بن کے رہ گئی ہے۔ رشتہ داری اور دوستی بھی جھوٹ یا مکر وفریب اور مصلحت آمیزی کے پردے میں پنپ رہی ہے۔ یا اللہ اس نے سر پکڑ کر سوچا۔ ہم تیری سچائیوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ تو جو ازل سے سچائیوں کا مظہر ہے۔ پھر کیا ہوا؟ ہم کیوں اپنی راہ بھول بیٹھے، ہم اپنے آپ سے بیگانے کیوں بن گئے، ہماری ذات تو تیرا عکس تھی، پھر اس آئینہ میں کون اتر آیا۔ یہ تیرگی سی کیوں چھائی ہے ہماری بصارتوں پر؟ ہمیں شعور کے آئینے میں جھانکنے سے گریز کیوں ہے۔ یہ تاریکی کی کیسی دبیز چادر ہمارے اطراف ہے کہ ہمیں اب آئینہ بھی نظر نہیں آتا۔ یا پھر کائنات میں بکھری ہوئی روشنیوں کی یہ سلگتی کرنیں ہیں جن سے ہماری آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔ ان کرنوں کی گرمی سے ہم موم کی طرح کیوں پگھلتے جارہے ہیں۔ پھر یہاں کون ہمیں مختلف سانچوں میں ڈھال رہا ہے۔ ہماری ذات کی اکائی کو کتنے رنگ دے کر سرمحفل اپنے اپنے کیک پر سجایاجارہا ہے جہاں چند لمحے کو ہمیں پھر سلگا کر ہماری روشنی کو پھونک مار کے بجھا دیا جاتا ہے۔ اور پھر تالیاں، شور، قہقہے، مبارکباد، ہنگامے اور شکم سیری۔ اس جشن میں کیوں کسی کو دھویں کی وہ منحنی اور مرتعش لکیر دکھائی نہیں دیتی جو ہمارے بجھا دئے جانے پر ہماری آہ بن کر ہوا میں تحلیل ہوتی رہتی ہے۔ وائے قسمت کہ ہماری ذات کا حصہ وہی چند لمحے کی روشنی ہے جس کا کام ہی ہمارے وجود کو مٹا دینا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے؟ شہاب کی نظریں پھر اخبار کا طواف کرنے لگیں۔ اور اب اس کا ذہن بھی اس کی نظروں کا ساتھ دے رہا تھا۔ ہر خبر پر وہ خفیہ تبصرہ کررہا تھا۔
بوسنیااور فلسطین میں قتل و غارت گری: اے خدا وہ لوگ جو تیرے محبوبؐ کے امتی ہیں ان پر یہ عذاب کیوں؟ یہ رات اتنی طویل کیوں ہے؟ ہم کب تک اس شب خون کا شکار ہوتے رہیں گے؟
بابری مسجد منہدم کردی گئی: ہمارے تشخص کو مٹانے اور ہماری تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش بدستور جاری ہے۔ عراق پر بمباری، فلسطینیوں کی آباد کاری کا مسئلہ اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی: اسلام کی اکائی سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ جس دن عربوں کی یہ بات سمجھ میں آئی یہ مسئلہ حل ہوجائے گا کہ … ’’محمد عربیؐ سے ہے عالمِ عربی۔‘‘
صومالیہ میں قحط، بنگلہ دیش میں سیلاب، افغانستان کی تباہی اور انتشار، بیشتر افریقی ممالک میں بھوک سے بلکتے ہوئے معصوم بچے،حیران و ششدر آنکھیں اور دوسری طرف داد عیش دیتی ہوئی حریر و پرنیاں میں لپٹی ہوئی حرم سراؤں اور نائٹ کلبوں میں احساس سے عاری چلتی پھرتی لاشیں، ان کے کھوکھلے اخباری بیانات اور ضمیر فروشی کی تصویریں۔
پاکستان میں عصبیت کا دیو، عداوتیں، کدورتیں، نفرتیں، مادہ پرستی کی ترویج، ایک دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت۔
امریکہ کا الیکشن اور توسیع پسندی، روس کے شیرازے کا بکھرنا، جرمنی کا یکجا ہونا، انگلستان کی طوطا چشمی، یورپی اقوام کی سر بلندی کی کوشش، چین، کوریا اور ایشیائی قوتوں کا ابھرنا اور عالم اسلام کی مظلومیت و بے بسی۔ یا اللہ! اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ ہر طرف ایک آگ سی لگی ہے۔ کیا دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی ہے؟ کیا گائے نے سینگ بدلا ہے؟
کیا یہ سب کچھ اس لیے نہیں ہورہا ہے کہ ہم جھوٹ کے سننے اور کہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ زہر ہماری رگوں میں رچ بس سا گیا ہے؟ موجودہ دور ذرائع ابلاغ کا ہے۔ جو جتنا جھوٹ بول رہا ہے اور جتنی روانی سے بول رہا ہے اتنا ہی سچا مانا جارہاہے۔ ہماری تاریخ کا المیہ بھی یہی ہے۔ بیشتر مذاہب عالم اور عقیدہ کی بنیاد بھی جھوٹ بن گئی ہے۔ کہیں عزیز و عیسیٰؑ خدا کے بیٹے بنادئے گئے ہیں تو کہیں رام و کرشن بھگوان، اور کہیں فلسفۂ الوہیت مزید خداؤں کو جنم دیتا ہے۔ اختراعات تباہی کو جنم دے رہی ہیں اور پھر ہنگامۂ محشر اور فتنہ و فساد کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ جاری ہے۔ کتنے بڑے بڑے پتھر، کتنی تہذیب کی عمارتوں میں دب کر رہ گئے اور کتنے سنگ ریزوں نے محلات کی دیواروں، دریچوں اور ایوانوں کو سجا یا ہے یہ کوئی نہیں دیکھتا۔
اپنی ذات کی شناخت کو کھوچکے ہیں ہم۔ ہم جو ہیں اس سے ہٹ کر کچھ اور بن کے دکھانے کی کوشش میں جھوٹ کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ہر اس شخص کو جو ہم سے وابستہ ہے ہراساں کررہے ہیں۔
شہاب کو اپنے استاد عبدالرزاق صاحب کی کہی یہ بات یاد آئی: ’’ہر دور کا انسان بالعموم اور آج کا انسان بالخصوص ایک آئیڈیل کی تلاش میں ہے مگر بے ذوقی یا بدذوقی کا یہ عالم ہے کہ اسے مقصودِ کائنات، مطلوبِ کائنات اور محبوبِ کائنات کی معرفت کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
شہاب پر جیسے خیالات نے یلغار کررکھی تھی اور سوالات نے سر اٹھانا شروع کردیا تھا۔
’’آخر یہ بیشتر صحیفے، الہامی کتابیں افسانہ کیوں بنتی جارہی ہیں؟ ہم اپنے خیالات اور تصورات میں جھوٹ کی آمیزش کیوں کرتے ہیں۔ کیا حقائق کی دنیا اتنی تلخ ہے کہ سچ میں بھی جھوٹ کی رنگینی سے زندگی میں ایک دلچسپی پیدا کرتے ہیں؟
ہم یہ کیوں نہیں کہہ سکتے کہ ہم دوسروں کی خوشیوں سے جلتے ہیں، ہم اپنے دفترکے بوس کو اس کے بوس ہونے کا احساس کیوں دلاتے ہیں جبکہ ہم پیٹھ پیچھے اسے گالیاں دیتے ہیں۔ ہم لوگوں کو کیوں نہیں کہہ سکتے کہ میرے دستارو جبہ پر نہ جاؤ یہ تقدس کا لباس تو میرے گھناؤنے پن کو چھپانے کے لیے ہے۔ نام نہاد علماء، جاگیرداروں اور رشوت خوروں سے یہ کیوں نہیں کہہ سکتے کہ تمہارے بھاری بھرکم معدہ میں قول و فعل کے تضاد نے تعفن پیدا کردیا ہے جس کی بساند لوبان، صندل اور عودوعنبر سے بھی دور نہیں ہوسکتی۔
خیالات کا ایک ریلہ تھا جو شہاب کے دماغ میں بہہ رہا تھا۔ مہینوں اور برسوں کے مشاہدات آج سوالیہ نشان بن کر اس کے سامنے کھڑے تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ ہم کسی قوم کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ ہمارا ارادہ تم پر غاصبانہ قبضہ کا ہے کیونکہ ہماری اپنی خوشحالی اس کے بغیر ممکن نہیں اور زیادہ کی ہوس نے ہمیں تمہاری تباہی پر مجبور کردیا ہے۔ برتری کا حق تو صرف ہمیں حاصل ہے، دوسرے ہتھیار ہرگز نہ بنائیں۔ اور یہ کہ انسان کی تہذیب میں اب عدل نہیں پلتا بلکہ جنگل کا قانون چلتا ہے۔ ہمارے سیاستداں عوام کو یہ کیوں نہیں کہہ سکتے کہ تمہارے مسائل سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں وہ سب لوٹ لینے دو جو تمہاری زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہم غیر شریف اور بے ضمیر لوگ ہیں۔ ہم تمہاری کسمپرسی کی لاشوں کو سرخ، سیاہ و سفید، نیلے اور کبھی سبز جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کردیں گے اور اس پر گھی کے چراغ بھی جلائیں گے۔
ہم یہ کیوں نہیں مان لیتے کہ سال کے اخیر میں ہمیں زکوٰۃ دینا کتنا گراں گزرتا ہے اور ہم ہر اس فقہ کو اس وقت مان لیتے ہیں جس سے بچاؤ کی صورت ہو، ہم سود کو حلال کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ اپنی بخالت کو چھپانے کے لیے سخاوت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ سیلاب زدگان اور آفت رسیدہ لوگوں کی مدد ہم اپنے پرانے اور بوسیدہ کپڑوں سے ہی کرتے ہیں، یا جی سے اتری ہوئی چیزوں کو دے کر ہمیں روحانی پاکیزگی اور تفاخر کا احساس ہوتا ہے۔ ہم آفت زدہ لوگوں کی مدد بھی رقص و سرود کی محفلیں آراستہ کرکے کیوں کرتے ہیں۔ ہمارے اندر کا حیوان ان کی مصیبتوں کو اپنے نفسانی تقاضوں کے پورے کرنے کا جواز کیوں بناتا ہے۔ ان تقریبات پر جو اخراجات ہوتے ہیں وہ بھی مصیبت زدگان کے لیے کیوں مختص نہیں ہوتے۔ ہمارے اندر کے سوئے ہوئے عفریت ایسے موقع پر بھی کیوں جاگ اٹھتے ہیں۔ سرد لاشوں پر شکستہ روحوں کا جشن طرب کیا معنی؟ خود نمائی کا یہ کون سا موقع ہے اور یہ کون سا طریقہ ہے؟
پڑوس کے فلیٹ میں کسی نے ریڈیو اپنی پوری آواز میں چلادیا تھا۔ کوئی پرانا فلمی گانا ہورہا تھا۔
جھوٹی ہے یہ ساری نگری جھوٹا ہے سنسار ……
ہو ہو جھوٹی ہے یہ ساری نگری جھوٹا ہے سنسار……
وہ چونک اٹھا، آج دن کون سا ہے۔ اتوار …… چلو آج تو چھٹی ہے۔ اس نے سکون کا سانس لیا۔ لیکن پریشانی عود کر آئی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ فیکٹری سے کسی بریک ڈاؤن کی اطلاع آجائے۔ مینٹیننس انجینئر کی حیثیت سے اسے جانا ہی پڑے گا۔ اس کا بوس مائیکل بھی عجیب تھا۔ تنخواہ تو بڑھاتا نہ تھا لیکن کام کولہو کے بیل کی طرح لیتا تھا۔ چھٹی کے دن بھی۔ اور وہ بھی بغیر اوورٹائم کے۔ اس نے کئی بار نوکری بدلنے کا سوچا لیکن دوسری اتنی آسانی سے کہاں ملتی ہے۔ بعض وقت تو ذہنی عذاب سے چھٹکارے کے لیے اس نے استعفیٰ بھی لکھ مارا لیکن دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جس کے سر پر ذمہ داریوں کا بوجھ ہو ان کے اندر کا ’’میں‘‘ مر جاتا ہے۔ یہ عزت نفس اورخودی وغیرہ کا فلسفہ بھی ایک ذہنی عیاشی ہے، شاعرانہ تخیل ہے وہ بڑبڑایا۔
کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کرگئے: بی اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی اور مرگئے۔
یہ بھی ایک سچائی ہے جس سے فرار کی ہم کوشش کرتے رہتے ہیں، اس کا ذہن پھر ہچکولے کھانے لگا۔ ہم اپنی فکری لغزشوں کا ہی شکار ہیں۔
شہاب کو پھر اپنے استاد کی کہی ہوئی بات یاد آنے لگی: ’’انسان اپنی فکرو دانش کے ابتدائی مراحل سے لے کر بظاہر تکمیل کے موجودہ مقامات تک ہر سطح پر کچھ فکری لغزشوں اور مغالطوں کا شکار رہا ہے۔ اس کی توجیہات کیا ہیں، کج بینی و کج روی یا کوتاہ نظری اور غلط فہمی، تعصب و جہالت یا خود پسندی و خود نمائی۔ یہ مغالطے حوصلہ شکن بھی ہیں اور حوصلہ افزا بھی۔ ٹھوکروں اور لغزشوں کے دامن سے ہی راستہ نکلتا ہے۔ انہی الجھنوں کے سلجھ جانے سے حقیقت کا چہرہ بے غبار ہوجاتا ہے۔ اسی فکری کشاکش سے طلب اور جستجو کی نئی راہیں کھلتی ہیں، بسا اوقات کسی ٹھوکر سے ایسا شعور ابھرتا ہے کہ ہزاروں گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔‘‘
شہاب کے ارادوں کو تقویت ملی، وہ عام سطح سے بلند ہوکر سوچنا چاہتا تھا، موٹی موٹی کتابوں میں لکھی ہر بات کو وہ پرکھنا چاہتا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جھوٹ سے وہ کبھی زچ نہیں ہوگا اور نہ وہ اپنی نسل میں اس کو داخل ہونے دے گا۔ کم سے کم گھر والوں پر تو اختیار حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مزاج میں ایک شدت سی پیدا ہوچلی تھی۔ وہ ہر جھوٹ کو سختی سے کچلنے کا ارادہ کرچکا تھا اور آج اپنے دلارے بیٹے کی پٹائی بھی اس کے ارادوں کی غماز تھی۔ وہ اس جھوٹ کی بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کا حامی تھا۔ وہ ان ہی خیالات کے تانے بانے میں الجھا ہوا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ٹرن ٹرن…… فون اس کے بیٹے عامر نے اٹھایا اور پھروہ دوسرے کمرے سے دوڑتا ہوا شہاب کی طرف آیا۔ ابو ابو مائیکل صاحب فون پر ہیں۔
اف پھر یہ شخص… آج چھٹی کا دن بھی غارت گیا۔ ضرور کوئی کام نکل آیا ہوگا…!
کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں… وہ دھاڑا…! عامر ٹھٹک سا گیا۔ وہ سوالیہ نظر وں سے شہاب کو تک رہا تھا۔ اس کے ننھے ہاتھ ابھی تک اپنے گالوں پر ابھرے سرخ سچائی کے نشان سہلارہے تھے۔ شہاب کی نظریں عامر سے ملیں۔ تڑاخ… شہاب کو ایسا لگا کہ عامر کے گالوں کے نشان اس کے گالوں پر ابھر آئے ہیں۔ اور اس کا ہاتھ بے اختیار اپنا گال سہلانے لگا۔ اس کا بلند و بالا قد گھٹ کر اپنے چھ سالہ بچے عامر کے گھٹنوں سے آلگا تھا … اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں …… آج اسے اپنی پہچان ہوئی تھی!!

شیئر کیجیے
Default image
حشام احمد سید