5

پتھر دل اور اندھی آنکھیں

نوکدار جوتے کی ایک زور دار ٹھوکر کھاتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور گھٹی گھٹی آواز میں کراہنے لگا۔ پھر ایک ہاتھ سے کمر کو سہلاتے اور دوسرے ہاتھ سے آنکھیں ملتے ہوئے وہ بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔
’’دفع ہوجا، مردود! کتنی بار کہاہے کہ میری دکان کے سامنے چبوتری پر مت سویا کر۔ صبح صبح اپنی صورت نہ دکھایا کر لیکن تو باز ہی نہیں آتا۔‘‘ غصے سے کانپتی ہوئی آواز اس نے سنی اور اس کے چہرے پر درد سے پیدا ہونے والی کیفیت میں کمی آگئی، جیسے یہ اس کا معمول ہو۔اس نے بڑے اطمینان سے بڑھی ہوئی داڑھی کھجاتے ہوئے ادھ کھلی آنکھیں پوری طرح کھول دیں۔ دکاندار کو اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا، پوٹلی اور چھڑی اٹھائی اور جمائیاں لیتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے پہلا قدم اٹھایا تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا ہے۔ وہ رک کر کچھ سوچنے لگا۔
’’منحوس انسان! اب جائے گا بھی یا نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے دکاندار نے ایک اور ٹھوکر رسید کی۔
وہ لڑکھڑایا اور سڑک پر گر پڑا۔ سڑک گیلی تھی کیونکہ پوری رات موسلا دھار بارش ہوئی تھی۔ درد کی شدت سے اس کا جسم اینٹھنے لگا اور اس نے اپنے بازو سڑک پر اس طرح پھیلا دئیے جیسے وہ اس سے لپٹنا چاہتا ہو۔ ایک بار پھر اس نے اپنی انگارہ نما آنکھوں سے دکاندار کو گھورا جو ان کی تاب نہ لا کر، جیب سے چابیوں کا گچھا نکال کر تالے پر جھک گیا تھا۔ پھر اس نے آسمان پر نظریں گاڑدیں اور جب وہ تھگ گیا تو سڑک پر سر رکھ کر بڑبڑانے لگا۔
’’ماں! تم یہ سب کچھ دیکھ رہی ہو نا؟‘‘
سڑک کی ٹھنڈک اور صبح کی خوشگوار ہوا سے اسے بڑی تسکین مل رہی تھی اسے درد کی شدت بھی یاد نہ رہی، آنکھیں موند لیں اور جسم کو یوں ڈھیلا چھوڑ دیا جیسے وہ اپنی ماں کی نرم گرم آغوش میں سما گیا ہو۔
’’بابا …… سڑک پر کیوں پڑے ہو؟‘‘ ایک معصوم، خلوص اور پیار سے چھلکتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو ایک لمحے کے لیے اسے اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا۔
’’بابا یہاں سے اٹھو، چوٹ لگ جائے گی۔‘‘ آواز اب اور زیادہ قریب سے آئی۔ اس نے بڑی آہستگی سے سر اٹھایا اور اپنے سامنے دیکھنے لگا۔ ایک معصوم سا، ننھا منا بچہ … کندھے سے بستہ لٹکائے بڑی ’’مشفقانہ‘‘ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا… اس کا ذہن ماضی کے اوراق الٹنے لگا۔
کبھی وہ بھی بچہ تھا۔ غریب ماں باپ کا اکلوتا بیٹا، جسے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر تعلیم دلوا رہے تھے پھر یکے بعد دیگرے دونوں اس کا ساتھ چھوڑ گئے اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے باقی رہ گیا اور آج بھی وہ اکیلا تھا۔ زندگی نے اسے ناکامیوں اور نامرادیوں کے سوا کچھ نہیں دیا تھا۔ وہ دھرتی کا بوجھ بن چکا تھا۔ بچے نے اسے اپنی جانب مسلسل گھورتے دیکھا تو اس کے ننھے سے ذہن میں اپنی ماں کے الفاظ گونجنے لگے۔ ’’لوگ بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں کوئی تمہیں بلائے بھی تو اس کے قریب مت جانا۔‘‘ اور پھر بچہ بغیر کچھ سوچے سمجھے تیزی سے بھاگ کھڑا ہوا۔اس کی نظریں دور تک بچے کاتقاقب کرتی رہیں۔ جب وہ بہت دور پہنچ گیا تو اس کی نظریں دھندلانے لگیں اور آنکھوں میں بے اختیار نمی پھیل گئی۔
اسی اثناء میں ’’صبح کی سیر‘‘ کرتے ہوئے ایک صاحب اپنے یوریشین کتے کے ہمراہ اس کے قریب سے گزرے۔ انھوں نے ایک نظر سڑک پر پڑے اس مفلوک الحال شخص کو دیکھا اور آگے بڑھ گئے۔ البتہ ان کے کتے نے اسے سونگھا اور پھر جب اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا تو تیزی سے بھاگتا ہوا اپنے آقا سے جاملا۔ دور سے کار کے ہارن کی آواز آئی تو اس نے ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا پھر یک لخت اٹھ کھڑا ہوا۔ پوٹلی بغل میں دابی اور چھڑی ہاتھ میں لیے ایک جانب کو گھسٹنے لگا۔
اس کا نحیف و نزار اور سوکھا ہوا جسم… پھٹے ہوئے کپڑوں میں سے واضح طور پر جھلک رہا تھا۔ جسم پر میل کی تہیں اس قدر گہری تھیں کہ اس کا اصل رنگ چھپ گیا تھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی اور چہرے پر بے تحاشا بال بڑھے ہوئے تھے۔ چلتے ہوئے اس کی ٹانگیں اور سارا جسم لرز رہا تھا اور دور سے تو وہ انسان نہیں کوئی اور مخلوق دکھائی دیتا تھا۔ اس کی نہ کوئی منزل تھی نہ کوئی ٹھکانہ۔ وہ ایک ایسے مسافر کی طرح تھا جس کو اپنی منزل کی خبر ہی نہ ہو۔
وہ جس علاقے میں داخل ہوتاوہاں کے ’’مستقل فقیر‘‘ اسے ’’اپنے علاقے‘‘ سے جانے کو کہتے اور چونکہ وہ ان کے مقابلے میں بہت کمزور اور ناتواں تھا اس لیے وہاں سے نکل جانے ہی میں اپنی عافیت سمجھتا۔ دوسرے فقیر شاید اس وجہ سے اسے حسد کی نظروں سے دیکھتے کہ وہ ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل رحم لگتا تھا۔
دوپہر ہونے تک وہ ایک طویل فاصلے طے کرچکا تھا۔ راستے میں کئی جگہ سستایا بھی تھا اور اب تک کسی نے ایک کھوٹا پیسہ بھی اس کو نہیں دیا تھا۔ اس بات پر اسے بے حد حیرت ہورہی تھی، کیونکہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور اب اس کی بھوک بھڑک اٹھی تھی۔ تھک ہار کر وہ فٹ پاتھ کے ایک سایہ دار حصہ میں بیٹھ گیا اور جب اس کی برداشت کی حد ختم ہوگئی تو اس نے مجبوراً اپنا ہاتھ پھیلا دیا۔ آہستہ آہستہ اس میں ہاتھ اٹھائے رکھنے کی سکت بھی نہ رہی اور اس کا ہاتھ دھرتی کا سینہ چھونے لگا۔
دو کھلنڈرے نوجوان اس کے قریب سے گزرے۔ ان میں سے ایک اس کے قریب جاکر تمسخر آمیز لہجے میں بولا ’’روپے کی قیمت کم ہوگئی ہے بابا! تمہیں خبر ہے کہ نہیں‘‘ وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔ دونوں اس کا جواب سنے بغیر آگے بڑھ گئے اور اس کی نظریں ان کا یوں تعاقب کرنے لگیں جیسے انھوں نے کوئی بڑی انوکھی بات کہی ہو۔
کہتے ہیں کہ خالی پیٹ انسان زیادہ سوچتا ہے۔ وہ بھی سوچنے لگا۔ جھوٹ کہا ہے اس نے۔ بھلا روپے کی قیمت کم ہوسکتی ہے؟ وہ ہنسنے کی کوشش کرنے لگا۔ آج تک کبھی ایسا ہوا بھی ہے؟ ہاں اگر وہ کہتا کہ انسان کی قیمت اور بھی کم ہوگئی ہے تو کوئی بات بھی تھی! اور یہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس نے اپنا بڑھا ہوا ہاتھ کھینچ لیا۔ ’’تو یہ بات ہے جو آج مجھے اس وقت تک کچھ بھی نہیں ملا ہے۔‘‘ وہ سوچنے لگا ’’خیر کوئی بات نہیں۔ رات تک کچھ نہ کچھ بندوبست تو ہو ہی جائے گا۔ اللہ نے منہ دیا ہے تو کھانے کو بھی ضرور دے گا۔ شاید اس نے مجھے پیدا ہی اس لیے کیا ہے؟‘‘
لوگ افراتفری کے عالم میں اس کے قریب سے گزر رہے تھے۔ کسی کو بھی اس کی حالت زار پر رحم نہیں آرہا تھا اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی اس کی جانب متوجہ ہی نہیں ہوا تھا سبھی اپنے آپ میں گم تھے۔ اسی اثنا میں اس علاقے کا ایک ہٹا کٹا ’’مستقل فقیر‘‘ آگیا۔ شاید وہ لوگوں کی بے اعتنائی کی وجہ سے پہلے ہی سے بھرا بیٹھا تھا اسی لیے جب اس نے اسے دیکھا تو اپنی پوری قوت سے اس پر برس پڑا۔ ’’تم یہاں پھر آگئے۔ میں کہتا ہوں چلے جاؤ یہاں سے۔‘‘ بے بسی کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’… میں کہاں جاؤں۔‘‘ اس نے سسکی لی اور کراہتا ہوا اٹھنے لگا۔ ’’جارہا ہوں بیٹے۔ میں تو سستانے کے لیے ذرادیر بیٹھ گیا تھا۔‘‘ اس نے دوسرے فقیر کو سمجھایا اور لرزتا، کانپتا، ایک بار پھر گھسٹنے لگا۔
’’واقعی کسی نے سچ کہا ہے کہ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو ہڑپ کرجاتی ہے۔‘‘ وہ اسی سوچ میں محو جب ایک ہجوم کے قریب پہنچا تو روتی ہوئی نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا۔ وہ آگے بڑھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ کار فٹ پاتھ پر چڑھ گئی تھی۔ ایک جانے پہچانے اپاہج فقیر کی مسخ شدہ لاش اسے دکھائی دی اور اسے حیرت ہوئی کہ ایک اچھی بھلی الٹرا ماڈرن لڑکی رو رہی ہے۔ وہ اس لڑکی کی طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو۔
’’بیٹی! یوں سر عام نہیں رویا کرتے۔‘‘ کسی بزرگ نے لڑکی کو سمجھایا تو وہ منہ بسورتی ہوئی بولی: ’’میرا اتنا پیارا جمی مرگیا۔ میں اسے بڑا پیار کرتی تھی، بڑے شوق سے کھلاتی تھی اسے‘‘ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ وہ لرز گیا۔ فقیر کی لاش کے ساتھ ہی ایک جانب کتے کی لاش پڑی تھی۔ لڑکی اسی کے لیے رو رہی تھی۔ اور فقیر کے لیے کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں آئے تھے۔
’’واقعی انسان کی قیمت گھٹ گئی ہے۔‘‘ اس نے سوچا۔
رات گئے تک وہ شہر کے کچھ نیک صفت لوگوں کے ساتھ مل کر اس فقیر کی تجہیز و تکفین میں مصروف رہا اور اس تمام عرصے میں اس کی بھوک اڑی رہی۔ بھول کر بھی اسے اپنے خالی پیٹ کا احساس نہ ہوا۔ اور جب وہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ فقیر کو دفنا کر قبرستان سے لوٹ رہا تھا تو اس کے لیے قدم اٹھانا بھی دشوار ہوگیا تھا۔ نقاہت نے ایک بار پھر اس کے جسم کو پنجوں میں جکڑ لیا۔ قبرستان کے دروازے سے باہر چند ہی قدم چل کر اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ کسی بے جان لاش کی طرح زمین پر ڈھیر ہوگیا۔ اسے وہاں بیٹھے ابھی چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ قبرستان سے ایک عورت ایک مرد اور دو بچے باہر نکلے۔ قریب سے گزرتے ہوئے انھوں نے آٹھ آنے کے دو سکے اس کی جانب اچھال دئیے۔ ’’چھن‘‘ کی آواز کے ساتھ سکّے اس کے برتن میں گرے تو اسے یوں لگا جیسے اس کے بدن میں لہو ابلنے لگا ہے۔ اس نے پیسے مٹھی میں بھینچ لیے جیسے کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہو اور اپنی پوری قوت سے چلنے لگا۔
بازار سے گزرتے ہوئے ایک خوشنما قمقموں سے مزین ہوٹل سے اس نے ایک روٹی لی اور کسی پرسکون جگہ کی تلاش میں چند قدم آگے نکل گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ایک مناسب جگہ پر بیٹھ کر اس نے روٹی نکالی۔ ابھی اس نے پہلا لقمہ ہی توڑا تھا کہ ایک پلا اس کے قریب آیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر پلے کو گود میں لے لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ پلے کا پیٹ پسلیوں سے لگا ہوا تھا۔ ’’تو تم بھی بھوکے ہو؟‘‘ اس نے نرم لہجے میں کہا۔
پلا اس کا محبت آمیز لمس محسوس کرتے ہوئے پھنسی آواز میں رونے لگا۔’’رو مت، صبر کر، دیکھ! میں نے آج تک کتنا صبر کیا ہے۔‘‘ وہ بڑی تلخی سے پلے کے کان میں بڑبڑایا۔
پلے نے اور زیادہ زور سے رونا شروع کردیا۔ نمی کا غلاف اس کی آنکھوں پر اور زیادہ گہرا ہوگیا۔ ’’میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔‘‘ اس نے غصے میں آکر پلے کو ایک طرف دھکیل دیا۔ رات کے سناٹے میں پلے کی دلخراش چیخیں گونجنے لگیں۔ ایک دو لمحے کے لیے تو وہ بالکل ساکت و جامد رہا۔ پھر اس کا چہرہ جوش سے سرخ ہوگیا۔ سارا بدن کانپنے لگا اور وہ لرزتی ہوئی لیکن رواں آواز میں چیخنے لگا۔
’’میں نے کب انکار کیا ہے۔ میں نے تو تمہارے ساتھ مذاق کیا ہے۔ میں تمہیں سب کچھ دے سکتا ہوں۔ اس لیے کہ میں انسان ہوں۔ اشرف المخلوقات ہوں اور تم… وہ پاگلوں کی طرح ہنسا، تم کتے ہو! تم مجبور ہوسکتے ہو، بے بس ہوسکتے ہو لیکن میں نہیں۔ میں شکست نہیں کھاسکتا۔ میں تم سے ہار نہیں سکتا۔ ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اس نے پوری روٹی پلے کے منھ میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے ڈال دی۔ اگلی صبح لوگوں نے سڑک کے کنارے اس کی اکڑی اور مٹی میں لتھڑی ہوئی لاش پائی اور انھوں نے دیکھا کہ ایک ننھا سا پلا اس کے تلوے چاٹ رہا ہے۔
ڈ

شیئر کیجیے
Default image
مظفر محمد علی

تبصرہ کیجیے