3

رمضان المبارک

شریعت کی اصطلاح میں ’’کسی ایسے شخص کا جو احکام شریعت کا مکلف ہو، طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزے کی نیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے قصدا کھانے ، پینے جنسی عمل اور ہر قسم کی لغویات سے پرہیز کرنا روزہ ہے۔‘‘

روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ہے۔ اس کے مقاصد میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس پر حاکم ہوکر پاکیزگی کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جائے۔ روزے کی فرضیت کا ذکر قرآن مجید کی سورہ بقرہ آیات ۱۸۳ تا ۱۸۵ میں آیا ہے۔ ترجمہ:

ـ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم متقی بن جاؤ، وہ بھی گنتی کے چند روز ہیں۔ اس پر بھی جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے، اور جن بیماروں اور مسافروں کو کھانا دینے کا مقدور ہے، ان پر ایک روزے کا بدلہ ایک محتاج کو کھانا کھلا دینا ہے۔ اس پر بھی جو شخص اپنی خوشی سے نیک کام کرنا چاہے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور سمجھو تو روزہ رکھنا بہرحال تمہارے حق میں بہتر ہے۔ رمضان کا مہینہ تو ایسا بابرکت ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا ہے جو لوگوں کا رہنما ہے اور اس میں ہدایت اور فرقان کے کھلے کھلے احکام موجود ہیں۔ تو تم میں سے جو شخص اس مہینے میں زندہ موجود ہو تو وہ ضرور اس مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو، تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا، اور چاہیے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ نے جو تم کو راہ راست دکھا دی ہے، اس کے لیے اس کی بڑائی کرو تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘

ان آیات سے معلوم ہوا کہ روزے کے تین بڑے مقاصد ہیں: تقویٰ، اللہ کی تکبیر و تعظیم کا جذبہ پیدا کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا۔ روزے کی سب حکمتیں اور فضیلتیں اسی کے گرد گھومتی ہیں۔

احادیث میں روزے کے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا:

٭ جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت (یا بہ روایت دیگر جنت) کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (مشکوۃ)

٭ جس شخص نے ایمان اور حصولِ ثواب کے لیے رمضان کے روزے رکھے، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوگئے۔ (مشکوٰۃ)

٭ انسان کی ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے روزے کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بندہ روزہ میرے لیے رکھتا ہے اور اس کا اجر میں ہی اسے دوں گا۔ (مشکوٰۃ)

٭ حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کے آخری دن آں حضورؐ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو ایک عظمت والا اور برکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے میں قیام لیل نفلی ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم گساری کامہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے، جس نے روزے دار کو روزہ افطار کرایا، اس کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں اور اسے جہنم سے نجات مل جاتی ہے۔ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا دوزخ کی آگ سے نجات کا، جس نے اپنے خادم اور نوکر سے اس مہینے میں ہلکا کام لیا، اللہ اس کے گناہ معاف کردے گا اور اسے دوزخ کی آگ سے بچا لے گا۔‘‘

صحیح بخاری میں ہے کہ حضورؐ رمضان کے مہینے کو عید کا مہینہ کہا کرتے تھے۔ روزے کے ترک کرنے پر بہت وعید آئی ہے۔ ترمذی شریف میں ایک حدیث شامل ہے کہ ’’جو شخص رمضان میں شرعی عذر کے بغیر ایک دن بھی روزہ نہ رکھے تو اس روزے کے بدلے اگر تمام عمر روزے رکھے تو کافی نہ ہوگا۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جو شخص ماہ رمضان میں گناہوں کی معافی حاصل نہ کرسکے، وہ اللہ کی رحمت سے محروم اور دور ہوگیا۔

اسلام نے روزے کے ساتھ جو فدیہ اور کفارہ کے احکام دیے ہیں، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب مواقع پر روزے کا بدل غریبوں کو کھانا کھلانا قرار دیا گیا ہے۔ دراصل یہ بھی اسلام کی اس معاشی کفالت کا ایک حصہ ہے جو عدل اجتماعی اور فلاحِ عامہ کے سلسلے میں ضرورت مندوں کی امداد اور تحفظ کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ غربا کے ساتھ نیکی کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ روزے دار کی افطار اور اسے کھانا کھلانا بھی اسی معاشی کفالت کا ایک حصہ ہے اور اس کا بڑا اجر بیان کیا گیا ہے۔ آں حضور نے فرمایا کہ روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار جتنا ثواب ملے گا۔ یہ بھی فرمایا کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

قرآن مجید میں صوم کو صبر کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔ حدیث میں رمضان کو ’شہر الصبر‘ کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ مہینہ ضبط نفس کی تربیت اور قوم کے ناداروں سے ہمدردی کا مہینہ ہے۔ طبی مشاہدات بتاتے ہیں کہ بسا اوقات انسان کا بھوکا رہنا اس کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ بعض بیماریوں کا یہ حتمی علاج ہے۔ روزے کے ذریعے اس کے مواقع مل جاتے ہیں اور یہ چیز بہت سے جسمانی فضلوں کی تخفیف کا ذریعہ بن جاتی ہے، جس طرح زمین کو ایک عرصہ بغیر کاشت رکھنے سے وہ زیادہ زرخیز ہوجاتی ہے، اسی طرح نظام ہضم کو ایک ماہ آرام دینے سے وہ زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔

عبادات میں یکسوئی کے لیے بھی صوم مفید ہے۔ جب انسان کا معدہ ہضم کے فتور سے محفوظ اور دل و دماغ تبخیر سے پاک ہو تو یہ چیز روحانی یکسوئی اور صفائی کے لیے اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ روزے کے دوران دن بھر کی بھوک ہمارے گرم اور مشتعل قویٰ کو ٹھڈا کرنے کا کام دیتی ہے۔ اس طرح روزہ دراصل ایک روحانی تربیت ہے۔

قبولیت دعا کا بھی صوم سے گہرا تعلق ہے۔ اس لیے قرآن میں رمضان کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر قرب الٰہی اور دعاؤں کی قبولیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ میں آیا ہے:

’’جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق دریافت کریں تو انہیں بتا دو کہ میں قریب ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا کو، جب وہ مجھے پکارتا ہے، قبول کرتا ہوں۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ میری فرماں برداری کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایات پائیں۔‘‘

احادیث میں رمضان کی برکات کے سلسلے میں قبولیت دعا کا بکثرت ذکر آتا ہے۔ خاص طور پر افطار کے وقت اور رات کے پچھلے حصے میں۔ اللہ تعالیٰ کا حاضر و ناظر ہونا، جو دوسروں کے لیے شاید محض ایک اعتقادی چیز ہو، روزہ دار کے لیے ایک حقیقت بن جاتی ہے اور انسان کے اندر ایک اعلیٰ و ارفع زندگی کا شعور پیدا ہو جاتا ہے جو اس زندگی سے بالاتر ہے، جس کا قیام کھانے پینے سے وابستہ ہے، اور یہی روحانی زندگی ہے۔ پس روزہ صرف ظاہری بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ در حقیقت قلب و روح کی غذا اور تسکین کا ذریعہ ہے۔ آں حضور فرماتے ہیں؛ ’’جو شخص جھوٹ اور برے کام نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الصوم)۔

روزوں کے لیے رمضان کا مہینہ مخصوص کرنا بھی حکمت سے خالی نہیں۔ اس مہینے کو اس خاص ریاضت کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا ہے کہ اس مہینے میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا، اور یہ رمضان ہی کا مہینہ ہے، جس میں انوار الٰہی کی پہلی تجلی آںحضور کے قلب مطہر پر جلوہ ریز ہوئی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روزے پورے مہینے کے لیے فرض ہوئے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے ثابت ہوتا ہے۔

روزوں کے لیے قمری مہینے کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قمری مہینہ موسموں کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے، کبھی سردیوں میں آتا ہے، اور کبھی گرمیوں میں۔ اس طرح تمام موسموں کے فوائد اور مضرتوں میں ساری دنیا برابر کی شریک رہتی ہے نیز یہ قمری مہینہ اسلام کی عالمگیر تعلیم کی روح کا آئینہ دار ہے۔ پھر اگر ایک خاص مہینہ مقرر نہ کر دیا جاتا تو امت تنظیم کی روح سے محروم ہو جاتی۔ خاص مہینے کے تعین ہی کا نتیجہ ہے کہ اس کی آمد کے ساتھ ہی تمام دنیائے اسلام ایک سرے سے دوسرے سرے تک عبادت میں مصروف ہوجاتی ہے۔ جب یہ عمارت اجتماعی صورت میں ادا کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں روزے کے وقت کی حد بندی کردی گئی ہے۔ (ترجمہ)

’’اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ رات کی کالی دھاری سے صبح کی سفیدی دھاری تمہیں صاف دکھائی دینے لگے۔ پھر رات تک روزہ پورا کرو۔‘‘ روزے کے سلسلے میں سحری اور افطار کے خاص آداب ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میری امت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی، جب تک سحری تاخیر سے اور افطار بلا تاخیر کرتی رہے گی۔‘‘ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ جب آں حضورؐ روزہ افطار کرتے تو یہ دعاپڑھتے؛

’’اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر روزہ افطار کرتا ہوں۔‘‘

روزوں میں عذر کی بنا پر کئی لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کا اصولی حکم ہے؛ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا۔ نیز مسافر اور بیمار کو رخصت عطا فرمائی ہے، جن لوگوں کو رخصت عطا کی گئی ہے، انہیں چاہیے کہ بیماری کے رفع اور سفر ختم ہوجانے کے بعد روزے رکھیں۔ ایسا ضعیف شخص جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا یا ایسا بیمار یا معذور جسے روزہ رکھنے سے شدید بیمارہوجانے یا مرجانے کا خطرہ ہو تو وہ فدیہ ادا کردے، یعنی وہ کسی روزہ دار مسکین کو مہینہ بھر صبح و شام کھانا کھلا دے اور اگر مرض سے صحت یاب ہونے کے بعد جسانی طاقت اجازت دے تو بعد میں قضا بھی کرے۔

ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک بابرکت رات آتی ہے جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں، جس کی فضیلت قرآن مجید میں آئی ہے۔ سورہ قدر کی آیت تین میں آیا ہے ’’شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ اس رات بڑے خشوع سے عبادت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت طلب کی جاتی ہے۔ ایک متفق علیہ حدیث میں اس رات کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے ’’جس شخص نے ایمان اور ثواب کی خاطر شب قدر کو قیام کیا، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔‘‘

رمضان میں ایک خاص نماز تراویح بھی ہے، جس میں اکثر مکمل قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سے حفظ قرآن کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ نماز تراویح عام طور پر عشا کی نماز کے فرض ادا کرنے کے بعد باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ احناف کے نزدیک اس کی بیس رکعتیں ہیں اور اہل حدیث آٹھ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ شیعہ حضرات کے نزدیک تراویح ثابت نہیں۔

شوال کا چاند نظر آجانے کے بعد روزے ختم ہو جاتے ہیں اور دوسری صبح عید الفطر ہوتی ہے۔ عید کی نماز کے لیے گھر سے نکلنے سے پہلے ذی استطاعت کے لیے صدقہ فطر دینا واجب ہے اور یہ گھر کے ہر فرد کی طرف سے ہوگا۔ صاحب استطاعت اگر یہ صدقہ ادا نہ کرے تو اس کے روزے نامکمل رہتے ہیں۔ نادار، غریب اور مسکین لوگوں کی سہولت کے پیش نظر صدقہ فطر عید سے کچھ دن پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ عید کے لیے اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللہ شرجیل

تبصرہ کیجیے