2

فلسطین اسرائیل امن مذاکرات

گذشتہ سال پی ایل او کے رہنما اور فلسطینی مملکت کے ’’غیر مختار‘‘ صدر یاسر عرفات کی موت کے بعد حالات تیزی سے نئے رخ پر تبدیل ہوئے ہیں۔ خاص طور پر محمود عباس کے صدر بننے کے بعد میڈیا کے ذریعہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ امن کی طرف تیز رفتار پیش قدمی کے حامی ہیں۔ ان کے صدر بنتے ہی اسرائیلی وزیر اعظم شیرون نے جس خوشی و مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا ہے وہ واضح طور پر اس بات کا اشارہ ہے کہ فلسطینی عوام اب کچھ پانے کے بجائے کھونے کے لیے اور زیادہ مجبور ہونے والے ہیں۔ اور فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف اسرائیل سے سودے بازی کی تیاری ہے۔

فلسطین کا مسئلہ عالم اسلامی کے لیے بڑا اہم بلکہ اس کے جسم کا رستا ہوا ناسور ہے جو گذشتہ تقریباً ایک صدی سے اسے سخت تکلیف میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ مرحوم یاسر عرفات جو ایک حوصلہ مند فلسطینی قائد کی حیثیت سے ابھرے تھے بہت جلد ریت کی دیوار کی مانند بیٹھ گئے اور انھوں نے یکے بعد دیگرے کئی ایک ایسے معاہدے کرڈالے جنھیں فلسطینی سرزمین کی فروخت سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انھوں نے اپنے زمانے میں یا فلسطینی عوام نے ان کے دور اقتدار میں کچھ پانے بجائے صرف کھویا ہی ہے۔ ہزاروں شہیدوں کے رنگین خون کے بدلے بھی انہیں آزادی نصیب نہ ہوئی اور حد تویہ ہے کہ خود یاسر عرفات فلسطین کے سربراہ ہونے کے باوجود آزادی کی سانس نہ لے سکے۔ گذشتہ سال ان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اپنے دفتر میں قید ہوکر رہ گئے اور اسرائیلی اقتدار نے ان کی بجلی پانی تک کی سہولت منقطع کردی۔ اور اس حالت میں وہ کئی روز رہے۔ اس سے ان کی بے بسی، فلسطینی عوام کی لاچاری اور اسرائیلی جارحیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں ان کی حیثیت یا کسی بھی فلسطینی قائد کی حیثیت محض ایک علامتی کردار کی ہے جو مغرب اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل کے لیے محض مذاکرات کی ’’خدمت‘‘ انجام دے سکے۔ اور یہود اس کے ذریعہ اپنے غاصبانہ قبضہ اور توسیع پسندانہ عزائم کو قانونی شکل دے کر پورا کرسکیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ نئے صدر محمود عباس کی قیادت بھی امریکہ اور اسرائیل کی یہی ’’خدمت‘‘ انجام دے گی۔ اور فی الواقع وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتی خواہ اسے آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کا خواب ہی کیوں نہ دکھایا جائے۔

اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر وہی کچھ ہوا ہے جو اسرائیل نے چاہا ہے۔ بعض اوقات مذاکرات اور معاہدوں کی شکل میں ہوا ہے اور کبھی جارحیت اور تشدد کے ذریعہ انجام دیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لاکھوں عرب فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کے لیے مجبور نہ ہوتے، سیکڑوں نہیں ہزاروں گھر اور بلڈنگیں بولڈوزروں سے مسمار نہ کی جاتیں اور درجنوں پناہ گزیں کیمپوں پر اسرائیلی افواج ٹینکوں اور میزائیلوں سے حملہ کرکے سیکڑوں افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو معذور نہ کرتیں۔

یہی وجہ ہے کہ عین اس وقت جب امن مذاکرات چل رہے تھے اور عباس شیرون باہمی گفت و شنید کے لیے جمع تھے ہزاروں فلسطینی یہ نعرے لگا رہے ہوتے کہ ’’ابومازن تم امن معاہدہ کرو مگر ہماری قیمت پر نہیں!‘‘ ایسا اس لیے ہے کہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ جو بھی معاہدے ہوں گے وہ یک طرفہ اور فلسطینی سرزمین اور عوام کی قیمت پر انجام پائیں گے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینی لیڈروں اور عوام کی کوئی معقول شرط ماننے کے لیے تیار نہیں۔ فلسطینی عوام کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل قیام امن اگر چاہتا ہے تو ان آٹھ ہزار عرب قیدیوں کو رہا کرے جو سالوں سے اس کی قید میں ہیں اور ان میں دراز عمر اور ایسے افرادبھی بہت ہیں جو محض شک و شبہ کی بنیاد پر جیلوں میں ٹھونس دئے گئے ہیں جبکہ اس کے جواب میں وہ محض نو سو افراد کو رہا کرکے ہی اپنا دامن چھڑا لینا چاہتا ہے اور بااثر لیڈران کو لالچ کے ٹکڑے پھینک کر مطمئن کرنا چاہتا ہے مثلاً برغونی کے بیٹے کو رہا کرنے کا وعدہ اور یہ کہ وہ جنگ جو جماعتوں کی قیادت کو نشانہ نہیں بنائے گا اور مغربی کنارے کے کچھ شہروں سے اپنی فوجیں ہٹا لے گا۔

جبکہ محمود عباس کا موقف یہ ہے کہ غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کے تمام علاقے فلسطین کو واپس ملنے چاہئیں۔ اسرائیل اس بات کے لیے آمادہ نہیں کیوں کہ وہ مغربی کنارے کے زیادہ تر حصے کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے اور مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنائے رکھنے کے لیے مصر ہے۔

اسی طرح فلسطینی عوام کا اہم مسئلہ وہ دیوار بھی ہے جس نے عرب مسلمانوں کو عجیب و غریب اور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ان کے خاندان منقسم ہوگئے ہیں، ان کی کھیتیاں جو صرف چند قدم کی دوری پر ہوا کرتی تھیں میلوں دور ہوگئی ہیں اور بنیادی انسانی ضرورتوں مثلاً دوا علاج اور بچوں کے اسکول جانے تک لیے انہیں دسیوں کلو میٹر کا طویل چکر کاٹ کر جانا پڑتا ہے۔ اس پر اسرائیلی افواج کے تفتیشی چینلوں سے گزرنے کی تکلیف اضافی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل محض ضد، ہٹ دھرمی اور مکاری کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھی اس دیوار کی تعمیر کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اور اسے منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا مگر اسرائیل ہٹ دھرم پر اس فیصلہ کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اس نے نہ صرف یہ کہ اسے منہدم کرنے سے انکار کردیا بلکہ اس کے لیے منصوبے میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی اور اس کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گذشتہ ادوار کی طرح اب بھی اسرائیل امن مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر اپنے مقاصد کو حاصل کرلے گا اور اپنے عزائم کی تکمیل میں چند قدم اور آگے بڑھ جائے گا۔

اگرچہ حماس اور اسلامی جہاد نامی گروپوں نے محمود عباس کے کہنے پر جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ان کے مطالبات کو اگر تسلیم نہ کیا گیا تو ان کا اس جنگ بندی سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اسرائیل کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی معقول مطالبہ کو تسلیم کرلے۔ بلکہ جنگ بندی کے چند ہی دنوں کے بعد اسرائیلی افواج کی گولی سے ایک معصوم بچی کی ہلاکت کے بعد یہ جنگ بندی ہوا ہوگئی اور جوابی کارروائی شروع ہوگئی۔ اب محمود عباس جنگ جو گروپوں کو منانے کی بھی کوشش کررہے ہیں اور اپنے مغربی اور یہودی آقاؤں کو بھی خوش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صورت حال تا حال غیر یقینی بنی ہوئی ہے اور کسی مثبت نتیجہ اور انصاف پر مبنی حل کا نکلنا فی الحال مشکل نظر آرہا ہے۔

دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا؟

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی