2

طہارت اسلام کی نظر میں

صفائی ستھرائی کا اہتمام تہذیب و ثقافت اور پاک فطرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اہل ایمان اپنے مزاج، اپنے طرز زندگی اور اپنی سوچ و فکر اور فطرت میں بھی پاکی پسند اور طہارت کے خوگر ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسول نے طہارت و پاکیزگی کو ایمان کی علامت اور ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

اَلطَّہُوْرُ شَطْرُ الاِیْمَانِ۔ (ترمذی)

’’طہارت نصف ایمان ہے۔‘‘

اللہ کے رسولؐ کایہ ارشاد صاف بتارہا ہے کہ اسلام نے طہارت کو کتنا بلند درجہ دیا ہے۔ طہور یعنی پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ شارحین نے لکھا ہے کہ طہارت عبادت کے لیے بنیادی شرط ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطَّہُوْرُ۔ (ترمذی)

’’طہارت نماز کی کنجی ہے۔‘‘

وضو جو نماز کے لیے بنیادی شرط ہے اس بات کی علامت بھی ہے اور متقاضی بھی کہ مومن جہاں جسمانی اور ظاہری طور پر پاک و صاف ہوا ہے وہیں دل و ذہن اور سوچ و فکر کوبھی صاف ستھرا کرے۔ چنانچہ وضو کرنے کے بعد ایک مومن کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوتے ہیں:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔

’’اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور اچھی طرح پاکی و صفائی کرنے والوں میں سے بنا۔‘‘

یہ دعا اس بات کا اعلان ہے کہ مومن وضو کرکے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے پاکی و صفائی کا خوگر بناتا ہے اور رب العالمین سے اس بات کی دعا کرتا ہے کہ رب العالمین پاکی وصفائی کو جسم اور میری روح دونوں کا حصہ بنادے اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کی جدوجہد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے وہی بندے پسند ہیں جو طہارت کو محبوب رکھتے ہیں:

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔

’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اب ذرا غور کریں وضومیں جو اعضا دھوئے جاتے ہیں، وہی اعضاء ہیں جو زیادہ تر کھلے رہتے ہیں اور یاد رکھیں کہ جو حصہ کھلا رہتا ہے وہ آلودہ ہوتا ہے۔ وضومیں ہم وہی حصے دھوتے ہیں جو عام طور سے کھلے رہتے ہیں جس میں خاص کر ناک اور منھ ہیں کہ اس کے ذریعہ گندگی کے پیٹ تک پہنچ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ جراثیم سانس کے ذریعہ سے اندر جاتے ہیں اس لیے منہ کے اندرونی حصوں اور ناک کے اندرون کی صفائی بہت اہمیت رکھتی ہے اور وضو میں اسلام نے کہا کہ آپ کلی کیجیے اور ناک صاف کیجیے بلکہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اگر روزہ نہیں ہے تو ناک کی صفائی میں مبالغہ سے کام لو، اس طرح ایک مسلمان کم از کم پانچ مرتبہ تو اپنے منھ اور ناک کی صفائی اچھی طرح کر ہی لیتا ہے۔

یہ تو وضو کا ظاہری پاکی و صفائی کا پہلو ہے۔ اس کاایک بڑا اور اہم پہلو باطنی اور روحانی پاکیزگی کا بھی ہے جو دنیا کی کسی قوم میں نہیں پایا جاتا۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:’’جب بندہ مسلم وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو آنکھوں سے سرزد ہونے والے تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑجاتے ہیں اور جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھ سے سرزد ہونے والے سارے گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں اس طرح وہ گناہوں سے پاک و صاف نکلتا ہے۔‘‘ (ترمذی) اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وضو ظاہری پاکی کے ساتھ روحانی پاکیزگی کا بھی باعث ہے۔ اور وہ شخص جو وضو کرتا ہے اور دن میں پانچ مرتبہ اس عمل کو دہرا کر اپنے رب کے حضور عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اگر اللہ کے رسول کی اس حدیث کو سامنے رکھے تو نہ صرف یہ کہ اس کا ظاہر اور باطن پاک ہوجائے گا بلکہ اس کی پوری زندگی پاکیزگی و طہارت سے ہم کنار ہوجائے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
قانتہ ارم بنت عبدالمغنی

تبصرہ کیجیے