6

شفاعت

اللہ رب العزت نے رسول اکرمؐ پر جب اس آیت کا نزول فرمایا:’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الاَقْرَبِیْنَ‘‘ (اپنے قرابت داروں کو (دوزخ کی آگ سے) خبردار کرو۔ ) تو آپؐ نے اپنے خاندان والوں کی دعوت کی۔ پھرضیافت کے بعد ان سے خطاب کیا۔ اے بنی کعب! اے بنی ہاشم! اے بنی قریش وغیرہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ میں تم کو دوزخ سے بچانے کی ذرا بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اے محمدؐ کی پھوپھی صفیہؓ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ میں وہاں تمہیں دوزخ سے بچانے کی ذرا طاقت نہیں رکھتا۔ اے محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ اپنے خاندان، اپنی پھوپھی اور اپنی صاحبزادی کی سفارش کرنے میں بھی بے بس نظر آتے ہیں اور علی الاعلان فرماتے ہیں کہ میں ذرا بھی طاقت نہیں رکھتا کہ کسی کی بخشش کا اختیار میرے پاس ہو۔

ایک بار حضرت عائشہؓ صدیقہ نے آپؐ سے سوال کیا کہ کیا آپ قیامت کے دن اپنی بیویوں کو یاد رکھیں گے۔ آپؐ نے جواباً عرض کیا ’’اے عائشہ قیامت کے دن تین مقامات ایسے ہوں گے جہاں کوئی کسی کو یاد نہ رکھے گا۔ پل صراط پر گزرتے وقت، جہاں نامۂ اعمال تقسیم کیے جارہے ہوں گے اور تیسری وہ جگہ جہاں میزان میں اعمال نامے وزن کیے جارہے ہوں گے۔‘‘ اور پھر قرآن مجید میں واضح طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ متعدد بار ارشاد فرماتا ہے:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْریٰ۔

’’قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‘‘

حدیث کی صحت سے اگر کسی کو انکار ہے تو قرآن کی کھلی ہوئی آیت کو تاویل کے کس پردے میں چھپانے کی جرأت رکھتا ہے۔ جو لوگ عمل صالح پر کاربند رہنے کے بجائے من گھڑت معبودوں، زندہ مردہ انسانوں، جنات و پیشواؤں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں، اور ان کی سفارش کے سہارے مجرمانہ و باغیانہ زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔

’’ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے؟‘‘

یہ آیت الکرسی کا فقرہ ہے۔ اس آیت کے ذریعہ اللہ رب العزت نے ان نادان لوگوں کے خیالات کی تردید کی ہے جو مالک کا ئنات کا دنیاوی بادشاہوں سے موازنہ کرتے ہیں کہ ان کی طرح فرشتے، جن،پیغمبر، بزرگ و اولیاء اللہ تعالیٰ کے مقرب درباری ہیں۔ اپنی قربت کی بنا پر جس کو بخشوانا چاہیں بخشوا دیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آیت الکرسی کے ذریعہ دو ٹوک انداز میں واضح کردیا کہ جب زمین و آسمان کے سارے اختیارات، سارے قانون ، ساری مخلوق اور ساری نگہبانی کا تن تنہا مالک وہی ہے تو کسی کو یہ اختیار کیسے مل گیا کہ اس کے معاملات میں دخل اندازی کرسکے۔

نظریہ شفاعت کے بارے میں مولانا صدر الدین اصلاحیؒ رقم طراز ہیں: ’’اس کے اذن کے بغیر‘‘ کی قید یہ بتاتی ہے کہ جہاں قرآن نے اس نظریۂ شفاعت کی تردید کی ہے ، جس کے مشرکین قائل تھے۔ وہیں شفاعت کا اثبات بھی کیا ہے۔ اگر قرآنی تعلیمات کے بنیادی تصورات سامنے رکھ لیے جائیں اور شفاعت کی آیات جمع کرلی جائیں تو حقیقت بالکل آئینہ ہوجاتی ہے۔ یقینا قرآن اس نظریۂ شفاعت کی سخت تردید کرتا ہے جو انسان کو عقیدتاً اور عملاً خدا کے مقابلے میں کسی مخلوق کے قریب لے جائے۔ جو غیر محسوس طریقے سے شرک میں آلودہ کردیتا ہے کہ تیری فلاح و بخشش فلاں بزرگ و فرشتے یا مخلوق کے ہاتھ میں ہے اور وہ صاحب امر (اللہ تعالیٰ) کے دربار میں بڑا زور اور اثر رکھتا ہے۔ اس نظریے کا انسان پر یہ اثر پڑتا ہے کہ اس کی ساری عملی عقیدتیں اور رضا جوئیاں اس ہستی سے وابستہ ہورہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اصل مالک ہونے کا خیال بس ایک خشک فلسفیانہ نکتہ کی حیثیت سے اس کے ذہن کے کسی گوشے میں پڑا رہتا ہے۔ جس کا کوئی اثر اس کی زندگی اور اس کے افکار و اعمال پر نہیں پڑتا۔ اور نہ اسے فکر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام و مرضیات معلوم کرے اور اس کی خوشنودیاں حاصل کرے۔ بس اس کے دل میں یہ خیال دامن گیر رہتا ہے کہ کس طرح اس ہستی کو راضی رکھوں۔ جس سے میری نجات وابستہ ہے۔ اب چونکہ یہ ہستی حقیقتاً معبود تو ہے نہیں کہ اس نے اپنی بندگی کا کوئی ضابطہ اور اپنی رضا جوئی کا کوئی طریقہ بھی نہیں بتایا ہوگا۔ اس لیے اس کو راضی رکھنے کا طریقہ بھی خود ہی ایجاد کرتا ہے۔ اور اس ’’ایجاد‘‘ میں اپنے نفس کو جو بڑی سے بڑی رعایتیں دے سکتا ہے، دیئے بغیر نہیں رہتا۔ چنانچہ وہ ان کے نام پر ہفتہ وار، ماہانہ یا سالانہ نذریں چڑھا کر، ان سے دعائیں مانگ کر ان کی رضا جوئی کا حق ادا کردیتا ہے۔ اس کے بعد جنگل کے بے قید جانوروں کی طرح اپنی خواہشوں کے مرغزاروں میں آزادانہ چگتا چرتا رہتا ہے۔

اس کے برعکس قرآن اس تصور شفاعت کی توثیق کرتا ہے۔ جو خدا سے بندے کو قریب سے قریب ترکردے۔ یہ نظریہ انسان کو اس ٹھوس حقیقت سے دوچار کرتا ہے کہ سارا اقتدار اور فیصلے کا پورا حق صرف خدا کو ہے۔ سب اس کے سامنے مجبور محض ہیں۔ اس کے سامنے زبان کھولنے کی دو شرطیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ خدا زبان کھولنے کی اجازت دے۔ دوسرے یہ کہ جو بات کہی جائے ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہو:

لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہٗ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً۔ (النباء)

’’کوئی نہیں بول سکے گا۔ سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک کہے۔‘‘

اس لیے جو بھی باذن خدا روزِ محشر کسی کی شفاعت کرے گا تو اس کی حیثیت دعا اور التجا کی ہوگی۔ اس عقیدے کے تحت انسان خدا کی نظر میں خود کو کرم فرمائی کا مستحق بنانے کی کوشش کرے گا کہ کس طرح وہ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوجائے جن کے بارے میں وہ اپنے صالح بندوں کو شافع بننے کی اجازت دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے اور بلا استحقاق کسی کو نہ مغفرت یافتگان میں شامل کرے گا، نہ سزا یافتگان میں اور نہ ان میں جنھیں شفاعت کی رعایت نصیب ہونے والے ہے۔

اس طرح اس شفاعت کا انحصار بھی ایمان باللہ اور عمل صالح پر آن ٹھہرتا ہے۔ اس شفاعت کی صورت یہ ہوگی کہ جن لوگوں کا ایمان و عمل میزانِ خداوندی میں کچھ ہلکا ٹھہرے گا۔ ان کے بارے میں وہ اپنے مخصوص بندوں کو شفاعت کی اجازت دے گا اور جو بندگانِ خاص وکالت کے لیے کھڑے ہوں گے وہ کچھ اس طرح لب کشا ہوں گے کہ ’’مالک یہ تیری رحمت کا بھکاری ہے۔ اس کے اعمال میں جو خامیاں ہیں وہ تیرے علم میں ہیں۔ ہماری التجا ہے کہ تو ان خامیوں سے درگذر فرما۔ اور اسے بخش دے۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صدائے قبولیت بلند ہوگی۔ اور اس کی بخشش کا اعلان ہوجائے گا۔ اس انداز بخشش میں جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت فرمائیوں کا اظہار ہوگا وہیں تمام مخلوق کے مجمع میں ان بندگانِ شافع کی توقیر اور عزت افزائی بھی ہوگی۔ یہی سب سے بڑا مقصد ہے اس شفاعت کا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جن لوگوں کو اس شفاعت کے بعد بخشے گا ان کے بخشنے کافیصلہ تو وہ پہلے ہی سے کرچکا ہوگا۔ اس بحث سے جو دونوں قسم کے نظریات شفاعت میں جو فرق ہے ، نیز انسانی رویے پر جو اثر ہے، دونوں پہلو اچھی طرح واضح ہوجاتے ہیں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
تسنیم نزہت اعظمی

تبصرہ کیجیے