3

صرف پندرہ منٹ

۲۶؍دسمبر ۲۰۰۴ء کو جو زلزلے کی شکل میں خدائے ذوالجلال کا عذاب نازل ہوا اس سے ہم تمام بخوبی واقف ہیں۔ صرف پندرہ منٹ میں کیا سے کیا ہوگیا یہ ہم نے اپنی آنکھوں سے ٹی وی اور اخبارات میں دیکھا۔ آخر یہ زلزلہ اور یہ عذاب کیوں آیا؟کیا ہم نے کبھی غور وفکر کیا؟ یہ زلزلہ ہمارے لیے کیا چھوڑ گیا، کیا ہم نے کبھی سوچا؟ نہیں بالکل نہیں ہم نے صرف ظاہری تباہی و بربادی کو دیکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کرلیا اور بس حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس سے عبرت حاصل کرتے اس سے نصیحت قبول کرتے۔ کیونکہ کسی بھی قوم پر اسی وقت خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے جب وہ بداعمالیوں میں اس قدر آگے بڑھ جاتی ہیں کہ اسے خدا کی مقرر کردہ حدود کا بھی خیال نہیں رہتا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی دراز رسی کو کھینچتا ہے اور وہ اس طرح کے انجام سے دوچار ہوجاتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ سنبھل جائیں اور اپنے اعمال کو سدھارتے ہوئے سچے دل سے توبہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ اور وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۔

’’اور جب سمندر بھڑکا دئیے جائیں گے… اور جب سمندر ابل پڑیں گے۔‘‘

بے شک یہ تو قیامت میں ہوگا ہی مگر ابھی جو سمندری زلزلہ آیا یہ قیامت کی ایک جھلک تھا کہ لوگ اس دن کا یقین کرلیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ سورئہ طور آیت نمبر ۴۷ میں واضح طور پر یہ فرمادیا کہ:

وَإِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَاباً دُوْنَ ذٰلِکَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔

’’اور اس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔‘‘

یعنی اس بڑے عذاب سے پہلے قیامت برپا ہونے سے پہلے ہم اس دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے شاید کہ یہ لوگ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ یعنی اللہ دنیا میں مختلف قسم کی آفات اور مصیبتیں نازل کرکے ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ اوپر کوئی بالا تر طاقت ہماری قسموں کے فیصلے کررہی ہے اور کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَنْ یُؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْساً إِذَا جَآئَ اَجَلُہَا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔

’’اور جب کسی کی مہلت عمل ختم ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اس کو مزید مہلت نہیں دیتا۔‘‘

اس کی تازہ مثال ہمارے سامنے سے گزری کہ اللہ نے ان لوگوں کو اتنی بھی مہلت نہیں دی کہ وہ اپنے آپ کو بچا سکتے اور سمندر اللہ کے حکم سے ابل پڑا۔ مگر ہم اس سے نصیحت حاصل کے بجائے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ جو لوگ خدا کی ان نشانیوں سے سبق حاصل نہیں کرتے ان کی مثال ایک حدیث میں آپؐ نے اس طرح بیان کی ہے کہ:

’’منافق جب بیمار پڑتا ہے اور پھر اچھا ہوجاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے مالک نے باندھا تو اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں باندھا ہے اور جب کھول دیا تو وہ کچھ نہ سمجھا کہ کیوں کھول دیا ہے۔‘‘(ابودوأد، کتاب الجنائز)

بالکل اسی طرح منافق مسلمانوں کا حال ہے کہ اتنا بڑا سمندری عذاب آیا ہزاروں نہیں لاکھوںلوگوں کو تباہ و برباد کرگیا مگر ہم مسلمان ہیں کہ ہم نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا۔ ہم نے دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کے معنی نہیں سمجھے اور ایسی ایسی تاویلیں کرنے لگے جو حقیقت کی فہم سے ہمیں اور زیادہ دور لے جانے والی ہیں اور ہمارا ذہن کسی ایسی تاویل کی طرف کبھی مائل نہیں ہوتا جس سے اپنی دہریت، اپنی کوتاہیاں، اپنی برائیاں ہم پر واضح ہوجائیں۔ ہم نے یہ نہیں سوچا کہ جس طرح اللہ نے ان لوگوں پر ایسا عذاب نازل کیا کہ انہیں ایک سیکنڈ کی بھی مہلت نہیں دی، بالکل اسی طرح اللہ جب چاہے ، جہاں چاہے جس وقت چاہے اپنا عذاب کسی بھی ایسی شکل میں ایسی جگہ سے نازل کرسکتا ہے جہاں سے ہمارا وہم و گمان بھی نہ ہو۔ کیونکہ ہم سے پہلے کے سرکش و نافرمان لوگوں کو بھی اللہ نے طرح طرح کے عذاب نازل کرکے تباہ کردیا۔ کاش ہم ان واقعات سے عبرت حاصل کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
بی بی عائشہ ، اکولہ

تبصرہ کیجیے