4

خواتین کی حالت زار

موجودہ دور میں خواتین نے جو ’’تیز رفتار ترقی‘‘کی ہے اس نے خواتین کے وقار میں بھی اضافہ کیا اور انہیں وسیع سماجی، معاشرتی اور معاشی کردار کے لیے بھی تیار کیا۔ انہیں اب ہر سطح پر تعلیم، روزگار اور ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ حتی کہ ان معاشروں میں بھی جہاں عورت کو دبا کر رکھا جاتا تھا اور اسے حق ملکیت اور شخصی آزادی تک حاصل نہ تھی اب خواتین کے رول اور ان کی شخصی آزادی کی اہمیت کا اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔

لیکن عصر حاضر کا المیہ یہ ہے کہ اس نے خواتین کو شخصی آزادی اور سماج و معاشرے کی ترقی میں ہمہ جہت رول ادا کرنے کے نام پر بہت سی ایسی ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیا جو فطری اعتبار سے ان کے ذمہ نہ تھیں اور یہ وہ بہت بڑی نا انصافی ہے جو گذشتہ صدی میں دنیا کی خواتین کے ساتھ کی گئی اور آج بھی اس کو روا رکھا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر سوویت سوشلسٹ ریپبلک (سابقہ) کو لے سکتے ہیں جس نے آزادی خواتین اور مساوات مردوزن کے ’’حسین نعرے‘‘ کو عملی جامہ پہنایا اور اس کی شکل یہ تھی کہ فیکڑیوں میں مردو خواتین یکساں کاموں پر ناموراورمساوی تنخواہ لیتے تھے۔ مرد اپنی پیٹھوں پر بھاری بوجھ لادتے تھے تو عورتیں بھی وزنی بورے اپنی کمر پرلادنے کے لیے مجبور تھیں اور آزادی و مساوات کے نام پر جاری اس ظلم کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھا سکتا تھا۔ بالآخر وہ مملکت خود اپنے ظلم و جبر کے نیچے دب کر تباہ ہوگئی اور دنیا نے مساوات مردو زن کے کھوکھلے نعرے کا ایک انجام دیکھ لیا۔

اگر عورت کے خلاف جرائم اور اس پر جاری تشدد کا سبب تعلیمی ترقی و بیداری کو قرار دیا جائے تو ناانصافی ہے۔ اس کا اصل سبب تو وہ نظریۂ تعلیم ہے جو آج کے زمانے کی عورتوں کوپرانی سماجی قدروں سے بغاوت سکھارہا ہے اور مادہ پرستی کی دوڑ میں اندھا دھند شامل ہونے کے لیے اسے آمادہ کررہا ہے۔ یہ نظام تعلیم اسے ہر قیمت پر زندگی کی لذتوں اور عیش کوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے تیار کررہا ہے اور اس کام کے لیے اسے ہر جائز و ناجائزمیں کسی بھی قباحت کے تصور سے آزاد کررہا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے شہروں میں قحبہ گری کا پیشہ کرنے والی لڑکیوں میں بڑی تعداد ان خاندانوں سے آتی ہے جو ڈگریوں سے آراستہ اور دولت کی فراوانی سے ہمکنار ہیں۔

اس وقت سماج میں مالدار اور نام نہاد تعلیم یافتہ گھروں کی خواتین سے لے کر غریب اور مفلوک الحال دلت خواتین تک سبھی مختلف قسم کے مظالم اور تشدد کا شکار ہیں۔ ایک طبقہ اپنی تعلیم یافتگی، جدیدیت پسندی اور عریانیت و بے دینی کی سبب اور دوسرا اپنی غربت و مفلوک الحالی اور کمزوری و پسماندگی کے سبب ظلم و جبر کی چکی میں پس رہا ہے۔ دوسرا طبقہ یعنی دلت و پسماندہ خواتین ان مہذب، بااقتدار اور اونچے طبقہ کے افراد کے ظلم کا نشانہ بنتی ہیں جو کمزوروں اور غریبوں سے زندگی کا بنیادی حق چھین لینا چاہتا ہے اور انہیں غلام بنا کر رکھنے کی سوچ کے سبب من چاہے طریقے سے انہیں استعمال کرنا چاہتا ہے۔

چنانچہ ہمارے ملک میں ۱۹۹۸ء؁ کے اعداد و شمار کے مطابق دلت اور آدی باسی خواتین پر (صرف ریاست اترپردیش میں) پورے ملک کے جرائم کا 25.4جرائم رجسٹر ہوئے۔ ایک وکیل کے مطابق یہ صرف جملہ جرائم کا 20%ہی تھے جبکہ دلت خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کا 5%ہی رجسٹر ہوپاتا ہے۔ ریاست راجستھان میں جہاں ذات پات کا بول بالا ہے، آدی باسی خواتین کے خلاف تشدد و جرائم کے جو واقعات رجسٹر ہوئے وہ پورے ملک کا 26.5%تھے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق کل خواتین کے خلاف جرائم 58,655میں سے 83%جرائم پینڈنگ رہے جبکہ صرف16%ہی عدالتی کارروائیوں میں آسکے۔

خواتین کے خلاف جرائم کی یہ صورت حال افسوسناک ہے اور اس سے زیادہ افسوسناک عدالتی کارروائی کی صورت حال ہے جس میں یا تو مجرمین کے خلاف عدالتی کارروائی ہو ہی نہیں پاتی یا مجرمین چھوٹ کر آزادی کے ساتھ سماج میں گھومتے رہتے ہیں۔

ہمارے ملک ہندوستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور جرائم کی صورت حال دھماکہ خیز ہے اور اس میں سماج کا ہر طبقہ اور ہر علاقہ شامل ہے۔ کیا کسی پرامن مملکت اور مہذب سماج میں ہم اس بات کا تصور کرسکتے ہیں کہ ہر ۲۶ منٹ میں ایک عورت کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہو، ہر ۵۴ منٹ میں ایک زنا بالجبر ہوتا ہو، ہر چار منٹ میں ایک عورت اغواء کی جاتی ہو، ہر دس منٹ میں ایک عورت کو جہیز کے سبب زندہ جلادیا جاتا ہو اور ہر سات منٹ میں عورت کے خلاف کسی نہ کسی نوعیت کا ایک جرم ہوتا ہو — مگر ایسا ہی ہے۔ یہ ہمارے اپنے ملک کی تصویر ہے جہاں ہر سال پندرہ ہزار سے زائد خواتین زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں، اکتالیس ہزار سے زیادہ عورتیں گھروں میں ٹارچر کی جاتی ہیں اور آٹھ ہزار سے زیادہ خواتین جنسی تشدد کا شکار بنتی ہیں۔

آپ سماج کے تعلیم یافتہ اور دولت مند طبقہ کے گھروں میں جھانک کر دیکھیں تو صورت حال اس سے زیادہ خراب نظر آئے گی جو درمیانی اور غریب طبقہ کے افراد کے گھروں میں ہے۔ یہاں سب کچھ ہونے کے باوجود عورتیں عجیب و غریب بے چینی اور گھٹن کا شکار رہتی ہیں جس کے سبب اونچے طبقہ کی خواتین کے درمیان خود کشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان مہذب اور نام نہاد تعلیم یافتہ گھروں میں بھی عورتیں مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور مختلف انداز میں جسمانی و ذہنی طور پر ٹارچر ہوتی ہیں مگر کوئی ان کے گھٹے ہوئے دلوں کے اندر جھانک کر دیکھنے والا نہیں اور کسی ادارے کو اس بات کی فکر نہیں کہ وہ ان روشن اور خوبصورت گھروں کے اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کی فکر کرے۔ پورا سماج اور پوری دنیا بس ’’ترقی اور تہذیب‘‘ کے کوہِ طور کی طرف بھاگی چلی جارہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پورے سماج پر تاریکی کی فضا چھانے کو ہے، گھروں اور انسانوں کے دلوں کو گھٹا ٹوپ اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ لوگ جو اندھیرے دلوں کو روشنی سے ہمکنار کرسکتے تھے خود اندھیروں کی زد میں ہیںاور گم کردہ راہ ہوگئے ہیں۔ اور اس بات کا شعور اور احساس ہی کھوبیٹھے ہیں کہ وہ روشنی کے پیامبر تھے۔

جن لوگوں میں اس بات کا شعور ہے بھی تو وہ زندگی کے ڈائنامکس اور اس کے حرکی اور انقلابی تصور سے محروم محض فکری موشگافیوں میںپڑے ہیں اور اس صورتحال کے تذکرے اور اس پر بحث و تمحیص کو ہی حاصل جدوجہد تصور کرتے ہیں۔

اسلام نے انسانوں کو زندگی گزارنے کا شاندار اور متوازن طریقہ دیا ہے۔ اس نے ہمیشہ مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے ہیں۔ چودہ سو سال سے پہلے بھی عورت اسی طرح مظلوم تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، مگر اسلام نے اس کے خلاف ہرظلم کا خاتمہ کردیا اور اسے عزت و وقارفراہم کیا۔ مگر ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ وہی کردار آج ادا کرنے کے لیے ہم خود کو کیسے تیار کریں۔ انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ

گہرا ہوا ہے رنگ اندھیروں کا جب حفیظؔ

امکان روشنی کے بھی روشن بہت ملے

مگر امکانات کے یہ دروازے اسی وقت ہمارے لیے کھل سکتے ہیں جب ہم عزم جواں، اور انقلابی فکر لے کر آگے بڑھیں اور ہمارے دل میں جہیز کے سبب جلادی جانے والی ہر عورت کے لیے اتنا ہی درد امڈ پڑے جتنا اس کے ماں باپ اور اہل خاندان کے دل میں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور عورت کے خلاف ہر تشدد اور جرم پر ہمیں ایسا ہی محسوس ہو جیسے یہ حادثہ خود ہمارے ساتھ پیش آیا ہے۔ اور ہمارے دل میں انسانیت اور اس کی فلاح کے لیے اتنا درد اور سوز پیدا ہوجائے کہ:

خنجر چلے کسی پے تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے