5

جگر کا خون اور آنکھ کے آنسو

وہ کون تھی؟ کوئی نہیں جانتا تھا، کہاں سے آئی تھی؟ یہ بھی معلوم نہیں۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ پچیس چھبیس سال کی سانولے رنگ کی عورت تھی۔ اس نے ایک خوبصورت سا بچہ اپنی گود میں لے رکھا تھا۔

کوئی ساڑھے بارہ بجے رات کا وقت تھا۔ یہ ایک عجیب بات تھیکہ اپنے سفر کے دوران جو کہ میں نے صبح آٹھ بجے سے شروع کیا تھا، کوئی بھی لڑکی یا عورت اس کمپارٹمنٹ میں نہیں آئی تھی۔ میں کمپارٹمنٹ کی اوپری برتھ پر سویا ہوا تھا۔ شاید کوئی چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ اس وقت نہ معلوم کیسے میری نیند اُچٹ گئی۔ اسی درمیان جب میری نظر اپنے برتھ کے سامنے نیچے والی سیٹ پر پڑی تو وہ عورت اس سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی اور اسی وقت میں نے اسے غور سے دیکھا تھا۔ سانولا رنگ، معصوم چہرا اور گالوں پر ہلکی سی پاؤڈر کی پرت۔

اس کے گلے میں سنہرے رنگ کا لاکیٹ تھا جو چھاتی پر لٹک رہا تھا اور جو اس کے اٹھے ہوئے سینے کا احساس دلارہا تھا۔ ہلکے آسمانی رنگ کی ساڑی میں وہ عورت کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔ کپڑے، لتے سے وہ عورت اچھی حیثیت والی معلوم ہورہی تھی۔

وہ اپنی گود میں لیٹے ہوئے بچے کو کھلا رہی تھی، میں نے سوچا اس بچے کی ماں ہوگی۔

شاید اس عورت کی نظریں مجھ پر نہیں پڑی تھیں۔ وہ بچے کو کھلانے میں مگن تھی۔ رہ رہ کر اس بچے کو چومے جارہی تھی۔ ہاں ایک بات ضرورت تھی جو مجھے حیرت میں ڈال رہی تھی وہ یہ تھی کہ اس کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ اور اتنی رات کو کسی عورت کا اکیلے سفر کرنا میرے نزدیک واقعی حیرت کی بات تھی۔ ویسے اس کا پراعتماد لہجہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سفر کرنے کی عادی ہو۔

میں سوچ رہا تھا کہ اس سے کچھ بات کروں لیکن نہ جانے کیوں میں اس اجنبی عورت سے بات کرنے میں اپنے آپ کو ناکام سا پا رہا تھا۔ شاید کوئی خوف تھا یا کسی بات کا اندیشہ۔

ٹرین اپنی پوری رفتار سے چل رہی تھی۔ میرے اور اس عورت کے علاوہ کمپارٹمنٹ میں صرف دو آدمی اور تھے۔ شکل سے گجراتی نظر آرہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی بہت دور سے سفر کرتے ہوئے آرہے ہوں اور شاید اسی وجہ سے ان دونوں پر نیند حاوی تھی۔

نیند تو مجھے بھی آرہی تھی لیکن سامنے ایک اکیلی عورت کو دیکھ کر نہ جانے کیوں نیند مجھ سے دور بھاگتی چلی گئی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ نیند آجائے لیکن نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ تھک ہار کر میں نے اس عورت کی گود میں لیٹے ہوئے بچے پر نظریں جمادیں۔

بچہ واقعی بڑا پیارا تھا، رہ رہ کر مسکرائے جارہا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا اُس عورت کی نظریں بچے پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں ممتا کا ساگر لہریں لے رہا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے اپنی ماں کی یاد آگئی جو بچپن میں ہی چھوڑ کر سدھار گئی تھیں۔ مجھے تو اب اپنی ماں کی شکل بھی یاد نہیں تھی۔

میں نے آنکھیں بند کیں اور ذہن میں ماں کا خیالی روپ سنوارنے لگا، کافی دیر تک میں اسی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے پڑا رہا، اس درمیان اس عورت نے میری طرف دیکھا یا نہیں، مجھے نہیں معلوم۔ میں نے آنکھیں کھول کر ایک بار پھر نیچے کی برتھ پر دیکھا۔ وہ عورت اس بچے کے کپڑے بدل رہی تھی۔ شاید اس بچے نے پیشاب کیا ہوگا! میں نے سوچا۔

بچے کو نئے کپڑے پہنا کر وہ اسے دیکھنے لگی۔ میں نے دیکھا اب اس کے چہرے سے وہ مسکان غائب ہوچکی تھی جو کچھ دیر پہلے بچے کو دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر موجود تھی۔ اب اس کی آنکھوں میں عجیب طرح کی اداسی پھیلتی جارہی تھی۔

اچانک وہ اٹھی، اس نے ایک لمحے کے لیے نیچے دوسری برتھ پر سوئے ہوئے ان دو مسافروں کو دیکھا۔ میں نے سوچا شاید اب میری طرف دیکھنے ہی والی ہے لیکن اس نے میری طرف ذرا بھی نہ دیکھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے کمپارٹمنٹ میں میرے ہونے کا احساس شاید اسے نہیں ہوا ہے۔ صرف کچھ ہی لمحوں کے لیے اس نے ان مسافروں کی طرف دیکھا اور بچے کو اپنے سینے سے لگائے کمپارٹمنٹ کے دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئی۔

میں سوچنے لگا شاید کوئی اسٹیشن آنے والا ہے جہاں وہ اترنا چاہتی ہو، سیدھے لیٹے لیٹے کمر میں کچھ دردہونے لگا تھا میں نے ایک کروٹ لی اور اس عورت کی طرف پیٹھ کرکے لیٹ گیا۔

یکایک ایک بہت ہی عجیب اور مدھم سی آواز مجھے سنائی دی میں واپس چت ہوکر اس آواز کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے دیکھا وہ عورت تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنی جگہ پر آچکی تھی۔

لیکن اس کے دونوں ہاتھ اب خالی تھے۔ وہ بچہ اب مجھے اس کے پاس نظر نہیں آیا۔ میں نے لیٹے لیٹے ہی گردن گھما کر دروازے کی طرف دیکھ، وہ بچہ وہاں بھی نہیں تھا۔ اور پھر میرے پورے جسم میں بجلی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ میں نے اس عورت پر نظریں جمادیں وہ عورت اس بچے کی اتری ہوئی پہلے والی پوشاک کو ہاتھوں میں لیے ایک ٹک گھورے جارہی تھی۔ اور اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہے جارہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
مشکور جاوید

تبصرہ کیجیے