BOOST

رشتوں کی مٹھاس

’’ہماری اور بھی تو ساری انٹیاں ہیں، مگر سب سے اچھی آپ کیوں لگتی ہیں انٹی—؟‘‘

چار سالہ ڈبو نے قمر آپا کے گلے لپٹتے ہوئے پوچھا۔

اس لیے کہ میں تمہاری انٹی نہیں — پھوپھی ہوں بیٹی۔

پھوپھی—؟ وہ کیا ہوتا ہے—؟ ’’مگر میں آپ سے اداس ہوجاتی ہوں۔‘‘ اور امی سے جب بھی کہتی ہوں کہ قمر انٹی کے پاس جانا ہے، تو وہ کہتی ہیں، کیا ضرورت ہے؟ اور بھی تو انٹیاں ہیں، ان کے گھر چلی جاؤ— مگر میں آپ کو انٹی نہیں کہوں گی — پھوپھی کہوں گی — میری قمر پھوپھی — ننھی ڈبو قمر آپا کے گلے سے لپٹ کر سینے پر سر رکھ کر رو دی۔

’’یہ ہوتا ہے خون کا رشتہ‘‘ — قمر آپا اسے پیار سے سہلاتے ہوئے بولیں۔ اس میں تیرا قصور نہیں ڈبو، یہ سارا قصور تو ہمارے نئے معاشرے کا ہے، جس میں رشتوں کے نام بدل جانے سے نئی نسل دوراہے پر کھڑی پوچھ رہی ہے کہ ’’جاؤں کدھر کو میں‘‘۔

خون جوش میں آتا ہے تو عزیزوں کے گلے سے لپٹ کر پیار ملتا ہے۔ مگر نئی تہذیب کہتی ہے کہ ان رشتوں کی ضرورت ہی نہیں۔ یہاں ماں کی ہر ملنے والی ’’انٹی‘‘ اور باپ کا ہر دوست انکل ہے۔ مگر بچے یہ تو محسوس کرتے ہی ہیں کہ حقیقی پیار اور انس کیا ہوتا ہے۔ ہم کتنے ظالم ہیں کہ معصوم نسل سے حقیقی رشتے چھین کر اسے فریب میں مبتلا کردیا۔ قمر آپا بھتیجی کو گلے لگا کر جذبات میں جانے کیا کچھ کہتی چلی گئیں۔ اور یوں ڈبو نئے رشتوں کی علامت بن کر میرے سامنے آن کر مستقبل کا سوال بن گئی۔ اس میں سب سے زیادہ قصوروار مجھے ماں نظر آئی۔

قمر آپا کی بھابی ہی کو لیجیے، وہ کس چاؤ سے بیاہ کر لائی گئی تھی۔ مگر ابھی ولیمہ کی دعوت پر لائی گئی قناتیں اور سائبان بھی واپس نہیں ہوپائے تھے کہ انھوں نے میاں سے مطالبہ کردیا علیحدہ گھر کا۔ اور نندیں ابھی پورے چاؤ سے انہیں بے تکلفی سے بھابی کہہ کر پکار بھی نہ سکی تھیں کہ وہ علیحدہ گھر میں چلی گئیں۔ اور وہ بھی یوں کہ پلٹ کر سسرال میں آنا تک گوارا نہ کیا۔ پہلے پہل نندیں اور ساس خود ہی ملنے چلی گئیں تو بھابھی کو یہ بھی پسند نہ آیا اور پھر کھلے لفظوں میں کہہ ہی دیا کہ میرا علیحدہ ہونے کا مطلب یہ نہ تھا کہ یہاں بھی آپ دوسرے چوتھے روز سر پر سوار ہوجائیں آن کر۔ اور اس کے بعد پورے پانچ برس ہوگئے۔ میں جانتی ہوں کہ کبھی ساس نندوں نے ان کے گھر قدم رکھا ہو۔ بھیا اور بھابی خود کبھی مہمان بن کر آئے، گھنٹہ آدھ گھنٹہ بیٹھے، چائے کی پیالی یا کوک کی بوتل پی اور اٹھ کر چلے گئے۔

میں یہ بھی جانتی ہوں کہ کبھی قمر آپا کا امی، ابا یا بہن بھائی بیمار ہوا، گاڑی کی سخت ضرورت پڑی، مگر انھوں نے کبھی اس بلند مرتبہ بھائی کا خیال بھی نہ کیا۔ ٹیکسی لی یا کسی سہیلی کے ہاں سے گاڑی منگوائییا غیروں سے مدد لی اور اپنا کام نکال لیا۔ یوں بھی ہوا کہ امی بیمار ہیں۔ بھیا بھابی اچانک آگئے کے پکچر کے ٹکٹ لیے جاچکے ہیں۔ ہم گھر سے آدھ گھنٹہ قبل نکل آئے کہ چلو امی سے ملتے چلیں اور پھر امی کو اس حالت میں چھوڑ کر، وقت پر پکچر چل دئیے۔ امی تکیے میں منہ چھپا کر رتی رہیں۔

ایسے سرد والدین کی اولاد سے کسی انس کے احساس کا یوں اچانک پھٹ پڑنا۔ حیرت کی بات سہی۔ مگر اس حقیقت سے انکار کیسے کیا جائے کہ نئی نسل کو معاشرے سے اجنبی رکھنے کی ذمہ داری خود آج کے والدین کے سر ہے۔ خصوصاً وہ بیوی جو خاوند کو اس کے والدین سے جدا رکھتی ہے، اپنی اولاد سے کیسے توقع رکھ سکتی ہے کہ وہ اس کی ہمدرد ہوگی۔ اور پھر ابھی اس اولاد میں خون کے ناتے ہی سے سہی دادی اور پھوپھی کا پیار باقی ہے۔ مگر آنے والی نسل کن قدروں کی حامل ہوگی اسے تہذیب کے کس نام سے پکارا جائے گا یہ بڑے سوال ہیں۔

ننھی ڈبو قمر آپا کی گود میں کیسی پُرسکون سی ہوگئی تھی۔ وہ اداس بھی تھی، روئی بھی تھی۔ مگر اس کی حرکات میں سکون تھا۔ وہ محسوس کررہی تھی کر یہاں اجنبیت نہیں، اپنائیت ہے۔ جانے کیوں مجھے احساس ہونے لگا ۔ جیسے ننھی کے ہاتھوں سے سستے پلاسٹک کے بنے ہوئے دو کھلونے ’’انٹی‘‘ اور ’’انکل‘‘ گر کر ٹوٹ گئے ہیں۔ مگر جب آنے والی نسل سے خون و خوشبو کا ناطہ بھی چھن جائے گا تو اسے کیسے سکون ملے گا؟

کاش! ہر ماں پورے خلوص سے سوچ کر اس کا حل تلاش کرسکے! کہ آج کی عورت نئی نسل کی ہی نہیں۔ نئی قدروں، نئی تہذیب اور نئے معاشرے کی بھی ماں ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
رفعت جہاں

تبصرہ کیجیے