2

اپنی مسلمان بہنوں کے نام

میری پیاری بہنو!

آپ جان لیں کہ آپ مرد کی بہنیں ہیں اور آدھی انسانی آبادی ہیں۔ آپ ماں، بہن، بیوی، بیٹی، خالہ، پوتی، نواسی، اور دادی وغیرہ کے رو پ میں موجود ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا: ’’یقینا عورتیں مردوں کی معاون ہیں۔‘‘ (ابوداؤد)۔ آپ ملت اسلامیہ کی ارکان ہیں، وہ ملت جسے انسانوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ دنیا کی کوئی قوم ملت اسلامیہ کی مانند عظیم ہیرو، قائدین اور فاتح نہیں رکھتی۔ یہ راہ نما اور سچے مذہب کی مالک قوم ہے اور بنی نوع انسان کی پرہیزگاری اور صداقت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ یہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی بندگی میں لاتی ہے۔ انہیں زندگی کے دباؤ سے نجات دلا کر اخروی زندگی کے دباؤ سے نجات دلا کر اخروی بشارتوں سے نوازتی ہے اور دیگر مذاہب کی بے انصافیوں سے چھٹکارا دلا کر اسلام کے نظام عدل سے وابستہ کرتی ہے۔

آپ کے اسلاف بالخصوص خواتین اسلام آپ کی قوم کو دیگر اقوام سے ممتاز کرنے کا ذریعہ بنے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم خواتین کو اعلیٰ درجات سے نوازا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’وہ (یعنی آپ) حق کے پھیلاؤ، باطل کی روک تھام اور اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ پھر فرمایا : ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں، اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔ یقینا وہ جاننے والا اور قادر ہے۔‘‘ (۹:۶۷)

اللہ تعالیٰ نے مسلم خواتین کے حقوق و فرائض بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ خدا ہے جو اپنی تخلیق کو جانتا ہے۔ کیا وہ اس سے بے خبر ہوگا، جسے اس نے تخلیق کیا؟ اور مہربان اور جاننے والا ہے۔‘‘ (۱۴:۶۷)

میری بہنو! آج آپ کو مسلم امت کی اہم رکن بننا ہے اور اللہ کے فرمان، قرآن کے نفاذ اور ایک مومن نسل کی تشکیل میں مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

آپ کے دشمن کیا چاہتے ہیں؟

کچھ لوگ آپ کو آپ کے فرائض سے غافل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو آپ کے مقدس مشن یعنی دین اسلام کے دفاع اور کلمۃ اللہ کے اظہار سے روکنا چاہتے ہیں۔ ان دشمنوں کے کئی طریقے ہیں:

(۱) وہ آپ کو عبادت، ایمان اور دعوت سے ہٹانا چاہتے ہیں جس کے لیے خدا نے آپ کو پیدا کیا۔ وہ اس مادی دنیا کی تحریص یعنی زیورات، فیشن، بھوک اور دیگر خواہشوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے حصول کے لیے مقابلہ بازی پر اکساتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں اس لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ ہم ان معاملات میں وقت اور سرمایہ ضائع کریں اور امیرو غریب کے مابین مسابقت، دشمنی اور حسد کو پروان چڑھائیں۔

(۲) وہ آپ کے اور مردوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں۔ ان شیطانوں کے نزدیک آپ مغلوب بیٹی، ذلیل ماں، بداعتماد بیوی، اور بے وقعت بہن ہیں اور مرد ہمیشہ ظالم، ریاکار، آمر، آزادی کے دشمن اور غاصب ہوتے ہیں۔ ایک خاموش جنگ ہے جسے یہ شیطان شروع کرکے آپ کو اپنے باپ کے خلاف بغاوت، بھائی پر جارحیت اور خاوند کی نافرمانی پر آمادہ کرتے ہیں۔ وہ ہرگز عدل، رحم اور اتحاد کی بات نہیں کرتے۔ بلکہ نفرت، جارحیت اور تباہی کے نعرے بلند کرتے ہیں۔

(۳) وہ صرف والدین، بھائیوں اور خاوندوں کے خلاف بغاوت کو ہوا دے کر نہیں رہ جاتے بلکہ اسلام کے خلاف سازشیں کرتے پھرتے ہیں، وہ آپ کو اسلام کے عائد کردہ فرائض اور اللہ علیم و خبیر کے احکامات کی بغاوت پر تیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام ظالم اور اسلامی قوانین ناقص اور سخت ہیں۔ وہ دن رات آپ کو اس مذہب کی نافرمانی اور بغاوت پر اکساتے رہتے ہیں۔ وہ آپ کو والدین کے زیر سایہ میسر سکون و تحفظ، خوش کن ازدواجی زندگی اور بہن بھائی کے انمول رشتوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔

یہ شیطان عزت اور پاکیزگی کو آزادی کی زنجیروں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حجاب سر ہی نہیں ڈھانپتا بلکہ دماغی صلاحیتوں کو چھین لیتا ہے۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ وقت کا ضیاع ہیں اور شوہروں کی اطاعت غلامی اور پتھروں کے زمانہ کی طرف واپسی ہے۔ انھوں نے تمام حقیقتوں کو چھپا کر اپنے خبیث مقاصد کے لیے تمام سچائیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

آپ کے اور آپ کے مذہب کے دشمنوں کے عزائم واضح ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب چاہیں آپ کو اپنی شیطانی خواہشات کے لیے استعمال کرسکیں۔ وہ آپ کو ’’محبوبہ‘‘ کا نام دینا چاہتے ہیں جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ آپ کو ہر جگہ عزت مذہب یا اخلاق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ سے کیا چاہتے ہیں اس کا جواب مغربی تہذیب سے بالکل واضح ہے۔ مغربی عورتیں اس معاشرہ کا حصہ ہیں جو بے ایمانی اور بے غیرتی کا دوسرا نام ہے۔ وہ آپ کو ان مردوں کی خواہشوں کا غلام بنانا چاہتے ہیں جو خوشیوں اور خواہشوں کے لیے اپنے گناہوں کے کسی قسم کے نتائج بھگتے بغیر اپنے شریک حیات بدلتے رہیں۔

اس لیے اے میری مسلم بہنو! ان عورتوں کے بارے میں جانو، ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرو، ان کی بدبختی اور رسوائی پر ایک نظر ڈالو جو شرم و حیا سے محروم ہوگئی تھیں۔ جنھوں نے ان کی ہر خواہش کی پیروی کی اور انھوں نے اس کا کیا نتیجہ بھگتا؟ کیا اس کا انجام باوقار اور مطلوب ہے یا قابل نفرت اور شرمسار کردینے والا؟

مسلم بہنوں کے لیے پیغام

اس لیے ہم اپنے اور اپنے اسلام کے دین پر فخر کریں۔ اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور اپنی ملت کے لیے ایک اچھی مثال بنیں۔ یاد رکھیں کہ عزت ہر ذی شعور کے لیے عزت اور بدکاری ہر قوم کے لیے ذلت ہے چاہے اسے آزادی کا نام ہی کیوں نہ دیا جائے۔ اور یہ بھی جان لیں کہ زنا آنکھوں، کانوں اور منہ کا بھی ہوتا ہے جیسے کہ امام مسلم کی روایت کردہ حدیث میں آتا ہے۔

آپ کی خوشی فرمانبردار بیٹی، وفادار بیوی اور نیک اور رحیم ماں بننے میں ہے۔ یاد رکھئے کہ نماز اسلام کا ستون ہے۔ روزہ رکھنا آپ کو دوزخ کی آگ سے ۷۰ سال جتنے فاصلے پر دور لے جاتا ہے۔ (بخاری و مسلم) زکوٰۃ و خیرات کو ندامت و معافی کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ وہ عورتیں جو اپنے جسم کے اعضاء مردوں کو دکھا رہی ہیں، جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی نہ پاسکیں گی الٹا ان پر لعنت کی جائے گی۔ (مسلم) حجاب آپ کے لیے وقار اور تحفظ ہے۔ حجاب کو سادہ، کھلا اور موٹا ہونا چاہیے نہ کہ رنگین اور باریک تاکہ اس سے مسلم اور غیر مسلم عورت کی تمیز ہوسکے۔

میری عزیز بہنو!

شیطان کے ان ایجنٹوں سے باخبر رہیں جو آپ کو بہکاناچاہتا ہے۔ اللہ کی بندگی اختیار کرکے متقی اور بامثال خواتین بنیں اور اس عظیم ملت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنا فرض ادا کریں اور تباہی و بربادی کا سبب نہ بنیں۔ ایک ایسی پرہیز گار نسل کی تشکیل کریں جو حق یعنی عظیم مذہب اسلام کی طرف دوبارہ انسانیت کی راہنمائی کرے۔

تمہاری مخلص

کنیزہ امۃ الوحید

شیئر کیجیے
Default image
کنیزہ امۃ الوحید