4

غریبوں کا میوہ – مونگ پھلی

اچھی صحت کے لیے متوازن اور اچھی غذا کی بات کہی جاتی ہے۔ جہاں تک صحت مند غذا کا سوال ہے تو لوگوں کا دھیان مہنگے میووں اور دیسی گھی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہر موسم کے لحاظ سے خدا نے پھل پھول سبزیاں اور میوے پیدا کیے ہیں جو مہنگے پھلوں اور میووں کی طرح ہی غذائیت سے بھر پور ہیں۔ صحت کے لیے ضروری نہیں کہ آپ پستہ، بادام اور کاجو ہی استعمال کریں۔ موسم سرما میں مونگ پھلی بھی ایک سستا اور غذائیت سے بھر پور میوہ ہے اور اسے غریبوں کا بادام کہا جاتا ہے۔ حالانکہ مونگ پھلی سردیوں میں پیدا ہوتی ہے لیکن یہ پورے سال آسانی سے مل جاتی ہے۔ سردیوں میں اس کے تازے رس بھرے دانے اور خوشبو سبھی کو اچھی لگتی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں اسے چینیا بادام کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آیوروید میں مونگ پھلی کے بارے میں جلد ہضم ہونے والی، شیریں اور گرم بتایا گیا ہے۔ خاص طور پر اس سے خون اور نظام ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کئی غذائیت سے بھر پور عناصر مثلاً آرتھاٹون، بیسی ڈین، لائسن سسٹن، ٹائروسن ، ٹوٹو فین پائے جاتے ہیں۔ مونگ پھلی میں اتنا پروٹین ہوتا ہے کہ غذائیت کے نقطہ نظر سے یہ ہمارے جسم کی حفاظت کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی میں وٹامن بی اور وٹامن ای بھی پایا جاتا ہے۔

استعمال

مونگ پھلی کا استعمال کئی طرح سے کیا جاتا ہے۔ اس سے حاصل شدہ تیل کا استعمال ڈبل روٹی، کیک، سینڈوچ وغیرہ تیار کرنے میں ہوتا ہے۔ اس میں موجود چربی زود ہضم ہوتی ہے۔ اس میں کیلوری کی مقدار کافی ہوتی ہے۔ اس سے حاصل شدہ پروٹین مکھن، دودھ، پنیر یا سویا بین اور بادام سے حاصل ہونے والے پروٹین کے مقابلے زیادہ مفید ہے۔ آیوروید کے مطابق اس کے تیل کے فوائد زیتون کے تیل کی طرح مانے گئے ہیں۔ ہاتھ ، پیر اور جوڑوں کے درد میں اس کے تیل کی مالش فائدے مند ہوتی ہے۔ دودھ پلانے والی خواتین مونگ پھلی کا استعمال کریں تو ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کو روزانہ محدود مقدار میں اس کا استعمال کرایا جائے تو ان کی بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔ مونگ پھلی ان کو عدم تغذیہ کی مصیبت سے بچاتی ہے۔ سردیوں میں اس کے استعمال سے ہاتھ پاؤں نہیں پھٹتے اور جلد کی خشکی بھی دور ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی کا تیل گرم کرکے کھانے سے جلدی امراض میں فائدہ ہوتا ہے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اس کے زیادہ استعمال سے دست اور پیچش ہوسکتی ہے۔ اگر کبھی زیادہ مقدار میں مونگ پھلی کھا لی جائے تو اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے تھوڑا سا گڑ کھا لینا چاہیے۔ اس لیے مونگ پھلی کا استعمال تو روزانہ کریں لیکن محدود مقدار میں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے