6

راز حیات

تکمیل حیات کے لیے مقصد حیات کا تعین اشد ضروری ہے۔ مقصدِ حیات، منزل کی مانند اور ذریعۂ حصولِ مقصد راستے کی طرح ہے۔ اس لیے زندگی میں تعمیرِ حیات کے لیے کسی مقصد کا ہونا لازمی ہے۔ کار لائل تعین مقصد کی تلقین ان الفاظ میں کرتا ہے کہ ’’زندگی کا ایک مقصد بنا لیجیے۔ پھر مقصد متعین کرنے کے بعد اپنی پوری طاقت اور تمام توجہ اس پر لگا دیجیے۔ آپ یقینا کامیاب ہوں گے۔‘‘

زندگی کی کامیابی کا راز تعین منزل و جادہ کے ساتھ جہد مسلسل میں مضمر ہے۔ لاسن کا قول ہے کہ ’’جب تک اپنی زندگی کا کوئی مقصد متعین نہ کرلو ایک قدم بھی نہ چلو، اور جب چل پڑو تو ایک قدم بھی نہ رکو۔ تاوقتیکہ مقصدِ حیات حاصل ہوجائے۔‘‘

فطرت انسانی کے رمز شناس تین کلیدی حقائق پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اول یہ کہ انسانی وجود خیروشر کا سنگم ہے، جس کی طرف یاس یگانہ چنگیزی نے اپنے ایک شہر میں اشارہ کیا ہے کہ ؎

شیطان کا شیطان فرشتے کا فرشتہ

انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی

دوم یہ کہ انسان کا وجود مجموعۂ اضداد ہے۔ اس لیے فطرتاً تلون مزاج ہے۔ تنوع پسند اور جدّت پسند ہے۔ دوسرے لفظوں میں فطرتِ انسانی کی یہ سیمابیت انقلاب پسند ہے اور ہر لمحہ تغیر کی آرزو مند ہے اور سوم یہ کہ ہر فرد بے مثل ہے۔ کسی کا کوئی جواب نہیں۔ بنیادی حقائق کی اس تثلیث کی روشنی میں شخصی یا انفرادی مقاصد اور جماعتی یا سماجی مقاصد کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں بڑی رنگا رنگی اور انوکھا پن ہے۔ اسی لیے افراد کے مجموعی مقاصد کے علاوہ فرداً فرداً نجی مقاصد کا بھی قوی امکان ہے۔

اس کے باوجود بقول ڈاکٹر نپولین ہلؔ ’’انسان جب تک ایک واضح مقصد حیات نہیں بناتا، اس کا ذہن یکسوئی سے ایک طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ ہر طرف بھٹکتا رہتا ہے اور اس میں اس قدر مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ اس سے کوئی قوت پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ انسان کی قوتِ فیصلہ کو کمزور اور بے کار بنا دیتا ہے۔‘‘

اس ذہنی انتشار سے بچنے کے لیے اور بے عملی سے دامن بچانے کے لیے مقصدِ حیات کا تعین ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ مقصد اور اس کے حصول کے ذرائع میں مطابقت ہونا بھی ضروری ہے۔

مقصد کے تعین کے بعد اس کے حصول کی سچی لگن کامیابی کی ضامن ہے۔ سوامی سارشبدانند کا قول ہے کہ ’’مقصد کی سچی لگن مشکلات میں بھی مایوس نہیں ہونے دیتی۔‘‘

مقصد کے تعین میں تین باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بقول شیکسپئر ’’ہر مقصد میں خدا کی بڑائی، ملک کی بھلائی اور حق کی تلاش مدِّ نظر رکھو۔‘‘

عزم و ہمت کے بغیر حصول مقصد ناممکن ہے۔ حکیم ابوعلی حسین کا مقولہ ہے کہ ’’انسان اسی وقت اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتا ہے، جب اس کے ارادوں میں پختگی اور بلند ہمتی ہو۔‘‘

شعورِ زندگی سے ہی منزل زندگی ہاتھ آتی ہے۔ سیماب اکبر آبادی نے خوب کہا ہے کہ ؎

زندگی علم و ہنر، عزم و عمل کا نام ہے

زندگی اس کی ہے جس کو ہے شعورِ زندگی

بے مقصد زندگی جگرؔ مرادآبادی کی نظروں میں زندگی کا کفن ہے۔ جگرؔ کا شعر ہے ؎

خلوص عشق، نہ جوش عمل، نہ درد وطن

یہ زندی ہے خدایا کہ زندگی کا کفن

اور نیوکیجرؔ کا قول ہے کہ ’’مقصد کا صحیح علم اس کے حصول سے پہلے اہم ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
جاوید وششٹ

تبصرہ کیجیے