4

اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف۔۔۔

خواتین کی پسماندگی ہندوستانی میڈیا میں اکثر و بیشتر بحث کا موضوع رہتی ہے۔ لیکن گذشتہ ہفتوں میں پسماندگی کی ایک بدترین مثال جموں وکشمیر کی ملکہ حسن انارہ گپتا کے واقعہ میں ملی ہے۔ پولس کا الزام ہے کہ انارہ گپتا ’’مقابلہ حسن‘‘ کا تاج جیتنے کے بعد عریاں سی ڈی بنانے میں ملوث ہے۔ پولس نے سی ڈی کو ضبط کرکے حیدرآباد اور چنڈی گڑھ فارنسک لیبارٹری کو بھیجا۔ حیدرآباد کی رپورٹ میں سی ڈی میں دکھائی گئی لڑکی انارہ گپتا نہیں ہے جبکہ چنڈی گڑھ رپورٹ اور ایک دوسری رپورٹ میں یہ لڑکی انارہ گپتا ہے۔ بہر حال معاملہ میں کہیں نہ کہیں انارہ گپتا کا کردار مشکوک قرار دیا جارہا ہے۔ یہ واقعہ اخلاقی پسماندگی کی مثال ہے۔ اس پورے واقعہ کو کروڑوں افراد نے گھنٹوں تک ٹیلی ویژن پر دیکھا اور سنا۔ اس معاملہ کے دو پہلو ایسے ہیں جن پر جان بوجھ کر اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنی زبان بند رکھی۔

پہلی چیز یہ کہ مذکورہ معاملہ ملک میں اخلاقی گراوٹ کی ایک مثال ہے لیکن کسی چینل نے اپنی رپورٹ میں اسے اخلاقی پسماندگی کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک نیوز آئٹم کی طرح مرچ مسالہ کے ساتھ پیش کیا۔ واقعہ کو اس طرح چٹخارے لے کر بیان کیا جاتا رہا کہ جرم کی سنگینی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی بات پس پردہ ہوگئی اور صرف انارہ گپتا کو بچا لینے میں رہ گئی۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے صحافتی اداروں کی دلچسپی ملک کو اخلاقی گراوٹ کے بارے میں باخبر کرنے میں نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک معاشرے کے زوال پذیر اخلاقی اقدار بھی محض نیوز آئٹم بن کر رہ گئے ہیں جسے ایک مخصوص طریقے سے بار بار دکھا کر لوگوں کی ’’حساسیت‘‘ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

واقعہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پہلے مقابلہ حسن کے ذریعہ کھولے گئے حسن مارکیٹ میں ملک کے نام نہاد، روشن خیال اور ماڈرن طبقے کی خواتین اور طالبات کو اپنے حسن کی بنیاد پر طبع آزمائی کے لیے آمادہ کرلیا گیاپھر فلم، موسیقی، رقص اور ماڈلنگ کے ذریعہ حسن کی بڑی بڑی قیمتیں ادا کی گئیں۔ لیکن انارہ گپتا واقعہ نے اس طبقے میں موجودہ خواتین کی حالت زار کی پول کھول دی۔ جو خواتین آج لامحدود آزادی اور غیر فطری انسانی حقوق کی مہم چلا رہی ہیں اور جو مرد حضرات پوری بے باکی سے ملک میں مقابلہ حسن اور حسن کے بازار کا بزنس کررہے ہیں۔ یہ واقعہ ان کے بدترین کردار اور ان کے استحصال کی بدترین مثال ہے۔ لیکن ہمارا میڈیا اس طبقے کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے کہانی کو الجھاتا رہا۔

یہ ہزاروں واقعات میں سے صرف ایک واقعہ ہے لیکن نہ جانے کتنی ملکہ حسن اور کتنی ماڈلس اور فلم انڈسٹری کی خواتین جنسی، جسمانی اور ذہنی استحصال سے دوچار ہیں لیکن ان جرائم پر کوئی بھی زبان کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے ان کی نام نہاد جدیدیت اور تہذیب خراب ہوجائے گی۔

یہ واقعہ اہل ایمان خواتین کے لیے غوروفکر کاموقع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے سلسلے میں جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل کرکے وہ زیادہ محفوظ ہیں۔ قرآن مجیدنے صرف بدکاری پر سخت سزا متعین نہیں کی ہے بلکہ فحاشی کی طرف جانے والے ہر راستے کو ہی ختم کردیا اور مرد و خواتین کے درمیان شرعی فاصلوں کو اس حکمت کے ساتھ طے کیا گیا ہے کہ لباس، حجاب کے طور طریقے، نگاہیں نیچی رکھنے اور آواز پست رکھنے کی ہدایات و عریانیت کے چھوٹے سے چھوٹے امکان کو بھی ختم کردیتے ہیں۔ کاش ہمارے ملک میں اسلام کے اس پہلو کو اس حیثیت سے سمجھا جاتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام نے صرف پابندیاں لگانے اور محافظت کرنے پر اکتفا نہیں کیا ہے۔ اگر صرف پابندیوں اور ممانعتوں کو دیکھا جائے تو کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اسلام نے تعمیر معاشرہ میں عورت کے رول کو پوری طرح ختم کردیا ہے لیکن اس کے برعکس قرآن نے خواتین کو معاشرے میں سرگرم رول ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔ اور اس معاملے میں انہیں مرد حضرات کے شانہ بشانہ جدوجہد کرنے کا حکم دیا ہے۔

انما المؤمنون والمؤمنات اولیاء بعضم بعضا۔ یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر۔

’’بے شک مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔‘‘

آیت نے اسلام میں خواتین کے مطلوبہ کردار کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ دعوت الی اللہ کی تحریک میں، میدان جہاد میں، میدان تعلیم میں اور اسلامی معاشرے کے تشکیل میں خواتین کو سرگرم رول ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک انتہا پر نام نہاد جدیدیت کی شکار خواتین ہیں، جنہیں آزادی اور حسن کی نمائش کا نشہ پلایا گیا ہے تو دوسری طرف دین دار طبقے میں مسلم خواتین کی اکثریت دعوت الی اللہ کے کام میں بے حد پیچھے ہے۔ بلکہ اس کی شرکت صفر کے برابر ہے۔ ایسے میں ملک میں خواتین کو ان کا صحیح مقام دلانے کی ذمہ داری ادا کرے تو کون کرے؟ یہ ایک چیلنج ہے اور اسے مسلم خواتین کو قبول کرنا پڑے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس ندوی

تبصرہ کیجیے